غزل



کمال آنکھیں تھیں اس کی ، عجیب لہجہ تھا
سکوت میں بھی وہ جیسے کلام کرتا تھا


میں اپنی ذات کی گہرائیوں میں اُترا تو
وجود اس کا سبھی راستوں میں پھیلا تھا


پھر اس کے بعد خود اپنی تلاش مشکل تھی
نہ جانے کونسے موسم میں تجھ سے بچھڑا تھا


اسے بھی پچھلی رتوں کا ملال تھا شاید
میرا بدن تو گئی ساعتوں کا نوحہ تھا


تیرے وجود کی منطق تلاش کرنے میں
ہجوم ساتھ تھا میرے میں پھر بھی تنہا تھا


سہیل یاد میں اس کی کچھ ایسی شدت تھی
میں اس کو خواب کے پیکر میں ڈھال آیا تھا


پروفیسر سہیل احمد شعبۂ اردو جامعہ پشاور

محاصرہ : احمد فراز


میرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے
کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اس کے
فصیلِ شہر کے ہر برج ، ہر منارے پر
کماں بدست ستادہ ہے عسکری اس کے
وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش
وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں
وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی
سبھی دریدہ دھن اب بدن دریدہ ہوئے
سپردِ دارورسن سارے سر کشیدہ ہوئے
تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام
امیدِ لطف پہ ایوانِ کج کلاہ میں ہیں
معززینِ عدالت حلف اٹھانے کو
مثالِ سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں
تم اہلِ حرف کے پندار کے ثناگر تھے
وہ آسمانِ ہنر کے نجوم سامنے ہیں
بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں
قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
تمہارے ساتھ ہے کون، آس پاس تو دیکھو
سو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو، سو غیرت کو راہ میں رکھ دو
یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
سو یہ جواب ہے میرا ،میرے عدو کے لئے
کہ مجھ کو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ
اسے ہے سطوتِ شمشیر پر گھمنڈ بہت
اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ
میرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کرکے ناز کرے
میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
میرا قلم نہیں اس دزدِ نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پے دھرا نقاب رکھتا ہے
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
اسی لئے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبیں پہ لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں ، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

اگلی بار


تحریر : اویس قرنی

ابھی رات شروع ہونے کو تھی جب اس نے میرا گلا دبا کر اس زور سے زمین پر گرا دیا کہ میری آنکھیں باہر نکل آئیں کچھ لمحوں تک تڑپنے پھڑکنے کے بعد بالآخر اس نے مجھے قتل کر ڈالا اپنے مرنے کا یہ منظر میں اس کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھتا رہا ۔ اس روز آسمان پردیر تک چیلیں ، گدھ اور ابابیلیں پہلی بار اتنی زور سے چیخی تھیں۔
غار سے کافی فاصلے پر آکر گھڑا کھودتے کھودتے جب وہ تھک کر دم بھر کے لیے رکا تو اچانک میری لاش پر نظر پڑتے ہی اسے جیسے ہوش آگیا ہو پھر وہ رات گئے تک بلک بلک کر بچوں کی طرح روتا رہا تب ڈوبتا سورج سلگتی ہوائیں اوردرخت اور دریا خون کے آنسو روئے تھے اور جب روتے روتے شفق کی آنکھیں بے تحاشا سرخ ہوگئیں تو پرندوں نے ڈر کے مارے جنگل کی شاخوں میں خود کو چھپا لیا او ر وہ دن اور آج کا دن ہر روز اسی وقت شفق خون روتی ہے اور سمندر گدلے ہوتے جاتے ہیں اور لمحوں کی مضراب سے تخلیق ہونے والے حیات کے سبھی نغمے سیاہ شال لپیٹے میری قبر پر روز آکر یوں کھڑے رہتے ہیں کہ ان کی حالت پر وقت کو رحم آنے لگتا ہے اور جب کائنات کی آنکھوں کے تارے ٹوٹ کر ان کے دامن میں آ گرتے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ اپنی شال سنبھالتے ہوئے رخصت ہو جاتے ہیں۔
کچھ دنوں تک زمین نے مجھے گلے سے لگائے رکھا لیکن پھر میںنے ہمت کی اور دھیرے سے اپنے قبر کی مٹی ہٹا کر دیکھا تو باہر بہت کچھ بدلا ہوا تھا اور میرے جیسے بہت سارے لوگ زمین پر چل پھررہے تھے ۔ میں نے بھی چند لوگوں کو ساتھ ملا کر زمین کے اسی حصے میں اپنا قبیلہ آباد کر لیا۔ پڑھنا جاری رکھیں→