ڈاکٹر وزیر آغا سے انٹرویو


فطرت سے میری دوستی بہت پرانی ہے ، میں نے اپنی کہانی فطرت کی زبانی سنی ہے اور مجھے معلوم ہے کہ ہر

wazir agha

ڈاکٹر وزیر آغا

کہانی کا آخری تار اس مٹی کے خمیر میں گندھا ہوتا ہے جہاں سے انسان کے اندر کی کائنات کی تعمیر ہوتی ہے ۔۔۔۔ کائنات کی مخفی طاقتوں کے اسرار میرے دل کے اندر یونہی ہولے ہولے بسیرا کرتے گئے اور انہوں نے مجھے تخلیق کی شکتی دی ۔ اس شکتی نے میرے ہاتھوں میں قلم اور میرے ذہن کو اجالے دیئے ۔۔۔ میں میلوں چلا ۔ کبھی راستے اپنی منزلوں سے گزرگئے تو کبھی منزلیں ہی اپنے راستوں کا تعین نہیں کرپائیں میں نے نفس کے صحراﺅں میں عرفان کے دریاﺅں کی کھوج لگاتے ہوئے کبھی اطمینان کے سرابوں پر دھیان نہیں دیا ۔۔ کہ میں تو ایک ایسا گیانی تھا جس کی ریاضت اس سنسار میں آنے سے پہلے ہی مدتوں ذات اور لاذات کے عمیق ساگروں کی شناور رہی تھی ۔

ایک دن اپنی جنم پتری دیکھتے دیکھتے وہ زریں وادی مل ہی گئی جہاں میرا جنم ہوا تھا اور یہ بالکل وہی استھان تھا جہاں پہلی بار دھوپ چمکی تھی اور کرنوں کا اترتا پگھلتا سونا نگاہوں میں سکھ کے سپنے بوگیا تھا ۔ اس سفر میں میرے ہم قافلہ نے جگہ جگہ پڑاؤ ڈالے اور ہر پڑاؤ پر اگلی منزل کےلئے تیاری کی ۔

کچھ دوست جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے اور جنہوں نے ابھی بھی درد کے اس رشتے کو ٹوٹنے نہیں دیا میری تنہائیوں کے ازلی رفیق ہیں ۔۔۔ہر روز سورج کی پہلی کرن صبح صبح میری دہلیز پر آکر مجھ پر ایک نئے دن کا انکشاف کرتی ہے ۔۔ شام کے آوارہ پنچھی ہر تھکے ہوئے جھونکے کے ساتھ مجھے کچھ بیتے دنوں کی یاد دلاتے ہیں ۔

شفق کے پیلے مٹیالے بادل تو میرے دیرینہ دوستی کا حق آج تک ادا کرتے آئے ہیں ۔۔۔۔۔ سمندروں پر برسنے کے بعد میری اور آتے ہوئے کبھی میں نے ان بدلیوں سے شکایت نہیں کی کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ سمندروں کی پیاس بڑی خوفناک ہوتی ہے ۔۔۔۔وقت کے ”اوراق“ پر زمانے نے میرا نام کندہ کراتے سمے ”وزیر آغا “ لکھا تو میں نے کسی شاعرانہ سابقے لاحقے کی ضرورت اس لئے محسوس نہیں کی کہ مجھے نام اور دام سے زیادہ کام کے پیرہن میں اپنی صدائیں اچھی لگیں ۔ اور آج جبکہ زندگی نے میرے خدو خال پر واقعات کے اساطیر آباد کرلئے ہیں میرا عقیدہ اس حوالے سے مستحکم ہو چلا ہے کہ مجھے صرف اور صرف تخلیق کی آبیاری کرنی ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔

٭میرے سامنے آپ کی ایک تحریر ہے جس پر 1970ءکا زمانہ درج ہے یہاں لکھا ملا کہ ادباءنے تخلقیات ہی کو نہیں چھوڑا بلکہ مطالعہ کو بھی خیرباد کہہ دیا آج اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد اس سوال کی اہمیت کئی حوالوں سے بڑھ گئی ہے کیا آپ تفصیل میں جانا پسند کریں گے ۔

ڈاکٹر وزیر آغا

وزیر آغا

ڈاکٹر وزیر آغا :۔ دراصل تخلیق کار کے لئے جہاں مشاہدہ ضروری ہے وہاں مطالعہ بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے یہ مطالعہ کئی طرح کا ہوتا ہے یہ ایک تو کتابوں کا مطالعہ ، ادب ہے ،مذہب ہے ،علوم و فنون ہے اور دوسرا مطالعہ کائنات اور فطرت کا ہے ، یہ دیکھیں کہ جو کائنات کے اسرار ہیں اس کی تو ضیح کیسے ہوگی اور ان اسرار کے ساتھ ہم کس حد تک منسلک ہیں۔۔۔۔ پھر یہ کہ ہمارے علاوہ باقی جو چیزیں ہیں یہاں پر ان کی رسائی کائنات تک اس طرح نہیں ہوتی اور نہ ان کے اندر یہ روشنی ہے کہ وہ کائنات کے باب میں کوئی رائے قائم کرسکے بلکہ ان کا تو یہ ہے کہ وہ اپنا چہرہ اوپر کرکے آسمان پر ایک نظر بھی نہیں ڈال سکتے انسان نے جب آسمان پر نگاہ ڈالی تو اس کا نقطہ نظر اتنا وسیع ہوگیا کہ وہ سوال قائم کرنے لگا کہ یہ جو کائنات ہے یہ ایسے تو نہیں آگئی اس کا بنانے والا بھی کوئی تو ہوگا ۔ یہاں سے بات چلی اور چلتی گئی ۔

تو یہ تفکر کا خزانہ انسان کو ملا جو لوگ حیوانی طورپر زندگی بسر کرتے ہیں پیدا ہوتے ہیں ،کمائی کرتے ہیں ، اورزندگی گزار کر چلے جاتے ہیں وہ زندگی کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی دیکھ نہیں پاتے ۔۔۔۔

جیون کا یہ سارا سفر اتنا پیچدار ، اتنا تہہ در تہہ اور پرت در پرت ہے کہ اس عمل کےلئے ایک زندگی نہیں بلکہ کئی زندگیاں درکار ہیں نا بچہ ہر چیز کو حیرت سے دیکھتا ہے اور اس کے بارے میں جاننا چاہتا ہے لیکن جب ہم بڑے ہوجاتے ہیں تو حیرت منہا ہوجاتی ہے اور یہ چیزیں ہمیں اس طرح نظر آتی ہیں جیسے برسوں کی دیکھی ہوئی ہیں لیکن جو سیاح باہر سے آتا ہے اس کو وہ کچھ نظر آجاتا ہے جو ہمیں نظر نہیں آتا تو عالم یا شاعر ہر چیز کی کنہہ تک پہنچنا چاہتا ہے ،جاننا چاہتا ہے اور یہ سفر تیز رفتاری کا نہیں بلکہ آہستہ روی کا تقاضا کرتا ہے ۔

٭ کیا ابہام کا تعلق ایسے الفاظ کے استعمال سے ہے جن سے سوالات کے چشمے پھوٹیں یا پھر سوالات بھی شاید منطق کی سطح سے آگے نہ جانے دیں تو آیا ابہام کا تعلق ایسے لفظوں سے ہے جہاں سے قاری اور خود شاعر کو ایک چکا چوند کا احساس ہو اور کیا ابہام اور مبہم ہونے میں کوئی فرق بھی ہے ؟
ڈاکٹر وزیر آغا :۔ بہت فرق ہے اب دیکھئے نا کہ اگر پانی کا ایک گلاس ہے اس میں آپ گردوغبار ڈال کر اسے ہلاتے ہیں تو آپ کوتہہ نظر نہیں آئےگی اور اس کو ابہام کہہ کر یہ کہا جائے کہ اس میں بڑی گہرائی ہے گہرائی تو آپ نے خود ہی ختم کردی ۔ جتنا شفاف پانی ہوگا اتنا ہی آپ اس کی گہرائی میں جاسکیں گے تو ابہام کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جو گفتگو ہورہی ہے یا جو کچھ لکھا جارہا ہے اس میں ایک گنجلک کیفیت ہو۔۔ یہ نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کی تہہ تک پہنچنے اور اندر اتر نے کی کوشش کریں تواس ساری سچویشن کو ہم اپنی حسیات کی مدد سے گرفت میں لینے کی کوشش کرتے ہیں
٭ اور وہ سب کچھ ۔۔جوماؤرائے حسیات ہیں ؟
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ میں اس کی جانب آرہا تھا کہ بہت کچھ جو ماوارئے حسیات ہیں وہاں پر آپ کیسے پہنچیں گے اور وہ خود مبہم بھی ہے اب اس میں ایک مثبت انداز سے ابہام ہیں ایک وہ جو از خود پیدا کردہ ہے یہ جوبات آپ نے تخلیقات کے ضمن میں پوچھی ہے ہمارے ہاں بہت سے لوگ جدید حسیت کے نام پرجو کچھ لکھتے ہیں اسے جان بوجھ کر ابہام کی نذر کر دیتے ہیں ۔
٭ یعنی مبہم تر بنا دیتے ہیں
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ اور جناب یہ بتانے کی کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں تو گہرائی بہت زیادہ ہے ایسی گہرائی جس تک آپ نہیں پہنچ سکتے ۔ یہ ایک مصنوعی عمل ہے مسئلہ یہ ہے کہ تخلیق کو تو شفاف ہو نا چاہیے اور شفافیت بھی اس طرح کی کہ جیسے جیسے آپ اس کے اندر اپنے آپ کو مرکوز کریں آپ کےلئے دروازے کھلتے چلے جائیں ۔ ابہام پھر بھی موجود ہے ایک پردے کے بعددوسرا پردہ تیسرا پردہ چو تھا پردہ ۔۔۔۔ اور اگر آپ نے پردوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک گدلی فضاءقائم کرلی تو آپ کےلئے آگے جانا بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہوجائےگا ۔

٭ اب یہاں ایک سوال ابھرتا ہے کہ ایک پیچےدہ عمل جو فرد کے اندر یعنی انتہائی داخل میں ہورہا ہے اور خیال یا

wzir agha3

ڈاکٹر وزیر آغا

عمل کا یہی نظام دوسری جانب کائناتی اسرار کے ایک ایسے سلسلے سے جڑا ہوا ہے جو آسانی سے گرفت میں آنے کا نہیں اب اس کےلئے جن علامتوں کی تشکیل ہوگی وہ علامتیں ازخود اس پیچےدہ عمل کے نتیجے میں مبہم ہوتی چلی جائےنگی ۔
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ ابہام جیسا کہ میں نے کہا مثبت بھی ہے اور منفی بھی منفی وہ کہ جو آپ کے تجس کی تکمیل نہ کرسکے اور مثبت یہ کہ آپ کےلئے دروازے کھلتے چلے جائیں ۔
یہ جو اچھی تخلیق ہوتی ہے آپ کو روکتی نہیں ہے وہ آپ کا تناظر وسیع کرتی چلی جاتی ہے کسی بھی بڑے تخلیق کار کا کوئی شعر پڑھ لیں تو معنی نہیں بلکہ معانی کے سلسلے آپ کو نظر آئیں گے بڑے عالم یا دانشور جب بات کرتے ہو تو سطح پر ایک معنی ہوتا ہے لیکن زیر سطح بے شمار رنگ بکھرے ہوتے ہیں ۔
٭ اور یہاں ابہام کا وہ تصور سامنے آتا ہے جہاں سے حسن کی نئی سے نئی دھندلائی ہوئی وادیاں منتظر رہتی ہیں ۔
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ ویسے دیکھا جائے تو ہر چیز مبہم ہے کیونکہ اگر پوری طرح شفاف ہو جائے تو اس میں کچھ رہےگا نہیں ۔۔۔ یہ دھندلاہٹ ایک طرح سے ضروری ہے یہ مبہم ہونا اس کی خوبی اور خوبصورتی ہے یہی چیز تجسس کو بڑھاوا دیتی ہے اور آپ آگے جانے کےلئے ہمہ وقت بے قرار رہتے ہیں ۔
٭ یعنی ایک طرح سے قاری کےلئے بھی اپنے ذہن کو تھوڑا بہت تھکانا پڑتا ہے ۔
ڈاکٹر وزیر آغا:۔آپ نے بڑا اچھا کہا قاری کا ذہن کو تھکانا ۔۔ اور دراصل یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے تخلیق کار اورقاریایک دوسرے کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں
اب مثلاً شعر کے سطحی معنی سے گزر کر آپ شعر کے اندر سفر کرتے ہوئے معانی کے سلسلے آباد کرتے ہیں تو آپ کا سفر جاری ہوجاتا ہے یہ ابہام موجود ہے لیکن اس طرح کا ابہام جو راستے دکھاتا ہے اور آپ کو حتمیت کی طرز پر نہیں آنے دیتا دیکھا جائے تو کوئی چیز حتمی نہیں ہے انسان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ ہر سوال کا ایک جواب چاہتا ہے لیکن ایک جواب نہیں ہوتا ۔ جواب تو ان گنت ہیں ۔۔ کسی بھی زمانے میں اہم ترین کام سوال ہے ۔ آپ نے سوال اٹھایا اب جوابات تو آتے رہیں گے اور صدیوں تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا ۔
ادیب کی بقاءکس بات میں ہے ؟
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ ادیب کی بقاءاس بات میں ہے کہ وہ اردگرد کے ماحول کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دے۔ (میں جس زاویے سے بات کررہا ہوں یقیناً آپ سمجھ رہے ہونگے ) ادیب کی اپنی خواہش ہے اپنے آپ کو دریافت کرنے کی ، کائنات کو دریافت کرنے کی ، اور وہ ایک جمالیاتی حظ کی تلاش میں ہے ۔۔۔۔۔ وہ بھول جائے کہ یہ چیزلکھو نگا تو پاپولر ہوگی وہ لکھونگا تو شہرت ملے گی ۔۔۔۔۔ یہ بات ادبی اقدار کے منافی ہے ۔ ادیب کو چاہیے کہ وہ لکھے اور اس لئے لکھے کہ لکھے بغیر وہ رہ نہیں سکتا ۔ ایک ایسی روشنی جو اس کے اندرہےجسے وہ خود اپنی گرفت میں لینے کےلئے سرگرداں ہیں وہ جاننا چاہتا ہے یہ طرح سے جیسے ہومر کی اوڈیسی ہے سفر ہے اندر کا بھی باہر کا بھی ۔
اب سائنس نے جو ترقی کی ہے اس میں کائنات اکبر اور کائنات اصغر دونوں کا مطالعہ شامل ہے اور دونوں کی کوئی حد نہیں ہے اور آپ کو دونوں طرف سفر کرنا چاہے۔۔۔۔۔ اگر ایک سوال کے ایک ہی جواب کے ساتھ خود کو باندھ لیا تو پھر آپ کی ترقی رک جائےگی ۔
٭شعر کی بات چلی تو جہاں تک شعر کا تعلق ہے کیا یہ سوالات کو جنبش دیتا ہے یا احساسات کو ۔۔۔۔ یہ بھی ایک مسئلہ ہے کبھی کبھی سننے میں آ جاتا ہے کہ یہ منطقی آزمائش کا نہیں بلکہ تخلیقی انکشاف کا ایک وسیلہ ہے ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ شعر آپ کو کئی سطحوں پر مطمئن کرتا ہے اور لطف دیتا ہے مثلاً ایک تو یہ تو یہ کہ تناظر کو وسیع کرتا ہے اب تناظر کے دو پہلو ہیں ایک خارجی اور دوسرا باطنی ۔۔۔ جو شعراءخارجی تناظر سے کام رکھتے ہیں جسے انگریزی میں ڈسکرپٹیو یعنی بیانیہ شاعری کہتے ہیں اور دوسرے وہ جہاں مکالمہ اندر سے پھوٹتا ہے یہ جو اندر کی دنیا ہے یہاں سے اسرار کھلتے چلے جاتے ہیں میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس ضمن میں کسی ایک طرف جھکنے سے صورت حال کا پوری طرح جائزہ نہیں لیا جاسکتا دونوں چیزیں درست ہیں کائنات اکبر بھی اور کائنات اصغر ہے ۔ آپ چیزیں دیکھیں ان کو مس کریں۔ اب اگر آپ مادی چیزوں سے بالکل الگ ہوتے ہیں تو تارک الدنیا ہوجائیں گے اس حوالے سے میرا خیال ہے کہ اسلام واحد مذہب ہے جو موجود یا موجودگی یا موجودیت کا اقرار کرتا ہے ورنہ لوگ تارک الدنیا ہوجائیں گے مثلاً اس بات کی طرف کھلے اشارے موجود ہیں کہ آسمان کی طرف دیکھو یا زمین پر جو پہاڑ نصب ہیں ان کا مشاہدہ کرو ۔ گویا ان اسرار کی تہہ تک پہنچنے کی بات مذہب نے سب سے پہلے کی ہے ۔
٭گویا دریافت اور بازیافت کا عمل مذہب و فلسفہ اور ادب میں قدر مشترک ہے ۔
ڈاکٹر وزیر آغا:۔شاعر او ر ادیب کی حس اس حوالے سے بڑی شدت کی حامل ہوتی ہے اور وہ اکثر ان تینوں کا احاطہ کرلےتا ہے یہ اس کا کمال کہ وہ چیز یں جو اوروں کو نظر نہیں آتیں اسے نظر آنی شروع ہوجاتی ہیں ۔
٭اور سب سے بڑی بات کہ وہ اسے اظہار کی آفاقیت میں سمو دیتا ہے ویسے کیا یہ درست ہے کہ شاعری سے اس وقت تک لطف اندوز نہیں ہوا جاسکتا جب تک اندر کی موسیقی نہ ہو۔
ڈاکٹر وزیر آغا:۔یہ جتنے فنون ہیں ان کی اپنی ایک موسیقی ہوتی ہے بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ کائنات کی بھی ایک رِدھم ہے اور یہ درست ہے ۔۔۔ ہم باتیں کررہے ہیں لیکن ہمارے اندر کا رِدھم اس میں بھر پور طورپر شریک ہیں ہماری نبضیں ایک خاص رتھمک حالت میں چل رہی ہیں دل کا اپنا رِدھم ہے وہ خون شریانوں میں بھیجتا پھر واپس کھینچتا ہے پھر لحظہ بھر کےلئے رک جاتا ہے پھر شروع ہوتا ہے ۔ پوری کائنات میں یہ عمل ہورہا ہے اور شاعری کی تو بنیاد ہی آہنگ پر استوار ہوتی ہے شاعری تو تخلیق ہی رِدھم سے ہوتی ہے آپ کے اندر ایک موسیقی جنم لیتی ہے اور اس پر پھر الفاظ اترتے چلے جاتے ہیں اور اس کےلئے اس اندرونی آہنگ کا ہونا بہت ضروری ہے نثر کا اپنا آہنگ ہے نظم کا اپنا ۔ میں یہاں مثال دیتا ہوں وہ جو کہتے ہیں کہ کرکٹ کا کوئی کھلاڑی آج کل فارم میں نہیں ہے رنز بنا ہی نہیں رہا تو فارم میں نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ رِدھم میں نہیں ہے آپ ایک خاص ایک رِدھم سے چل رہے ہیں اچانک آپ کا رِدھم ٹوٹ گیا اور آپ گر پڑے بعض لوگوں کو نیند میں چلنے کی عادت ہوتی ہے وہ اوپر سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آتے ہیں اور پھر واپس ہوتے ہیں ۔
ایک دفعہ یہ ہوا کہ ایک سیڑھی کا پتھر سرک گیا تھا اور وہ آدمی جو رات کو نیند میں اترتا تھا اترتے وقت اوپر سے گرا اور موت کے منہ میں چلا گیا دراصل اس کے معمول کا رِدھم ٹوٹ گیا تھا ۔
٭ یہاں مجھے آپ کا انشائیہ ”بارہواں کھلاڑی “یاد آرہا ہے کہ جس میں تماشائی بھی رِدھم میں ہوتے ہیں بگل، ڈھول ڈھمکا ، باجے تاشے بج رہے ہیں بیٹسمین بھی اپنا رنگ جما رہا ہے باﺅلر بھی اپنے کرتب دکھا رہا ہے ۔ فیلڈر، کمنٹریٹر گویا سب ایک دوسرے کے ساتھ اےک مکمل رِدھم کی صورت میں جڑے ہوئے ہیں اور جونہی یہ رِدھم ٹوٹ جاتا ہے تو سب اونگھنے لگتے ہیں ۔
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ قوموں کا بھی یہی مسئلہ ہے مثلاً پاکستانی لوگ ہم آہنگ نہیں ہیں کوئی کچھ کہہ رہا ہے تو کوئی کچھ ۔آہنگ میں آئیں گے تو بات بنے گی ۔
٭ ایک وقت تھا جب مولانا صلاح الدین احمد صاحب کے دم سے آپ کی محفلیں آباد رہا کرتی تھیں آپ کو ان کی ہمنشینی کا شرف حاصل رہا جب وہ چلے گئے تو اس المیے نے آپ کے احساسات کو کچلا تھا اور آپ نے اس موقع پر ایک خط میں لکھا تھا کہ یہ زخم اس قدر گہرا ہے کہ اس کا بھر جانا ایک معجزہ ہوگا اور یہ بھی کہ میں تھک سا گیا ہوں اس اکتاہٹ بھرے لہجے میں آپ نے زندگی کے بے مصرف اور لایعنی ہونے کا بھی کہا تھا ۔۔۔۔ کیا واقعی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ بھی آتا ہے کہ آپ جیسی قدقامت کی شخصیت بھی زندگی کو بے مصرف اور لایعنی خیال کرے ۔
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ جس سے آپ کو بہت زیادہ لگاﺅ ہوتاہے اس کی ناگہانی موت سے آپ کے اندر جو بڑے پیمانے پر شکست و ریخت ہوتی ہے اس سے آپ خود بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور اس کے کافی عرصہ بعد کہیں جاکر اپنے آپ کو مرتب کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں وہی آہنگ والی بات ہے آپ کا اپنا آہنگ ٹوٹ جاتا ہے ۔ مولانا صلاح الدین صاحب سے ایک عجیب قسم کا رشتہ تھا ان کے گزر جانے کی اطلاع مجھے سرگودھا میں ملی اور کیا بتاؤں کہ وہ جو سفر میں نے کیا سرگودھا سے لاہور تک وہ ایک بے حد کربناک سفر تھا بہت سی باتیں مولانا کی یاد آرہی تھیں بہت اونچے آدمی تھے فکر کے اعتبار سے بھی اور کردار کے حوالے سے بھی ۔
ایک دفعہ سرگودھا میں کوئی تقریب تھی وہ میری کار میں بیٹھ گئے تو ہم چل پڑے جب شاہدرہ سے آگے نکلے تو مولانا ڈرائیور سے کہتے ہیں کار کھڑی کردو اور موڑ دو اس کو کار واپس چل پڑی میں نے سوچا شاید کوئی کاغذ بھول آئے ہوں مال روڈ پر ان کا دفتر تھا ۔
٭ ”ادبی دنیا “کا ؟
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ جی ہاں ادبی دنیا کا ۔۔ مولانا صاحب نے کار سے اتر کر دفتر کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہونے کے بعد روشن دانوں میں سے ایک روشن دان کو کھولا اور کہنے لگے آﺅ جی چلیں میں نے کہا تھا کہ ایک روشن دان کھولنے کےلئے آپ نے واپسی کا اتنا لمبا سفر کھینچا کہنے لگے اس کمرے میں ایک چڑیا اپنے بچوں سمیت رہتی ہے تو اگر چڑیا گئی ہو اور روشن دان بند تو بچے مرجائیں گے اور اگر چڑیا بھی اندر ہو تو سب کے سب مر جائیں گے کیونکہ ہمیں تین چار دن بعد آنا ہوگا ۔۔ اس قسم کی شخصیت تھی ان کی اصل میں بات یہ ہوتی ہے کہ دوسرے کے رخصت ہونے کا جو سانحہ ہے اس کےلئے آپ آہستہ آہستہ تیار ہوتے ہیں لیکن جب تیاری نہ ہو اور اچانک کوئی ایسا سانحہ ہو جائے تو سنبھلنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔
جب سمندر میں سمندری جہاز جارہا ہوتا ہے اور طوفان آ جاتا ہے تو طوفان کے گزر جانے پر وہ جہاز اسی طرح نہیں رہتا جو طوفان سے پہلے تھا اس طرح زندگی میں جتنے طوفان آتے ہیں آپ بدلتے چلے جاتے ہیں ۔
٭ کیا اجزاءکی تبدیلی سے کلٍ پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ دیکھئے کلٍ کیا ہے اجزاءکی ترکیب۔۔۔۔۔ اب ایک تو یہ کہ اجزاءاگر بدلیں گے تو کلُ کی صورت بھی بدل جائے گی ۔ صوفیا ءتو اس کو کسی اور نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں یعنی قطرہ اور دجلہ کا تعلق لیکن دوسری جانب دیکھئے کلُ بھی تو متعین تو نہیں ہے اور اجزاءبھی نہیں تو اﷲ تعالیٰ کے بارے میں ایک تصور۔۔۔۔۔ لیکن تصور سے تو وہ ماو را ہے کوئی تصور نہیں ۔۔ ہزارصفات پیش کریں وہ سب سے ماورا ہے آپ کا باطن جتنا روشن ہوگا اتنا ہی قدرت کی وسعتیں اور گہرائیاں آپ پر منکشف ہوتی جائےنگی ۔
٭ کیا جوڑنے کےلئے توڑنا ضروری ہوتا ہے ؟
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ ایک اعتبارسے تو ضروری ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کسی چیز کو توڑ کر دوبارہ جوڑتے ہے تو اس کی ماہیت تبدیل ہوجاتی ہے مثال کے طو رپر آپ نے ایک نظریہ وضع کیا ہے اور وہ نظر یہ آپ پر حاوی ہوگیا جب تک اس نظریہ سے باہر نہیں نکلیں گے باہر نکلنے کا مطلب یہ کہ اس کو توڑتے ہیں اس میں کشادگی لاتے ہیں تو پھر آپ سمجھتے ہیں کہ ایک سطح اوپر اٹھ آیا ہوں ۔
تصوف میں وحدت الشہود کے سلسلے میں یہی بات کی جاتی ہے کہ یہ جوزندگی کے حوالے سے نظریات کی جکڑ ہے اس سے باہر آئیں گے تو ایک نئی سطح پر جڑ جائیں گے ۔
٭اور تخلیقی سطح پر بھی توڑنے جوڑنے کے حساب سے ایک جو کیمیائی عمل ہو تا ہے ۔۔۔۔۔
ڈاکٹروزیر آغا:۔ تخلیقی طو رپر دیکھئے تو اجزاءسامنے کے مشاہدات ہیں اور اندر کی چیزیں آپ کے محسوسات ہیں جب تخلیقی عمل کے دوران آپ جست بھرتے ہیں (جست کا ہونا بہت ضروری ہے )جست کا مطلب ہے پنجرے سے باہر نکل کر پرواز کرنا اور اس وسیع تر دنیا سے تخلیقی عمل کے ذریعے جڑنا یہ جو تخلیق کار ہوتے ہیں ان کے ساتھ اکثر یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک سطح کو توڑ کر دوسری سطح سے رشتہ قائم کرتے ہیں ورنہ دوسرے لوگوں میں تو اکثریت ان کی ہے جن کے اندر کی کی دنےا مکمل طو رپر منجمد ہو چکی ہے ۔
٭ آپ نے اپنی آٹو بائیو گرافی میں اپنے ہمزاد کے ساتھ تصوف کی باریکیوں کو بالکل نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے کچھ گفتگو اس مکالمے کے حوالے سے ہو جائے ؟
ڈاکٹر وزیر آغا:۔میں نے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے سلسلے میں اپنی آٹو بائیو گرافی میں لکھا ہے میراہمزاد یاہمدم مجھ سے سوال کرتا ہے یہ وحدت الوجود کیا چیز ہے میں اس سے کہتا ہوں کہ آسمان سے اگر بارش کا قطرہ گرتا ہے اور سمندر میں جذب ہوتا ہے تو یہ وحدت الوجود ہے پھر وہ کہتا ہے کہ جز کلُ کے اندر جا کر خود کو ضم کر دیتا ہے ۔۔۔ وحدت الشہود کی یہ صورت ہے کہ آسمان سے بارش کا قطرہ گرتا ہے اور وہ سمندر کی تہہ میں تیرنے والےسیپ میں پڑتا ہے اور موتی بن جاتا ہے اب موتی سمندر میں جذب نہیں ہوتا وہ الگ ہی رہیگا اور پورا سمندر اس موتی میں منعکس ہوگا اس لئے وحدت الشہود والے کہتے ہیں کہ ہم گدلے آئینے ہیں عبادت سے ، ریاضت سے اپنے آپ کو تنزیہی طور پر اتنا آگے لے جائیں کہ پوری کائنات منعکس ہوجائے تخلیق کار کو بھی اس سانچے میں ڈھال لیں تو وہ بھی صرف جذب نہیں ہوتا کیونکہ اس کے حصول کا طریقہ کار ہی الگ ہے ایک بہترین مثال یہاں واقعہ معراج کی دی جاسکتی ہے کہ درمیان میں دو کمانوں کا فاصلہ رہا لیکن جذب نہیں ہوئے وہاں سے اکتاب نور کر کے واپسی ہوئی اور دنیا کو بدل کر رکھ دیا ۔
٭ آپ نے سمندر اور دریا کا حوالہ دیاقاسمی صاحب نے کہا تھا ”میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاﺅنگا “ لیکن ایک طرح سے گویا آپ کا ماننا ہے کہ ”جہاں دریا سمندر میں ملے دریا نہیں رہتا “۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ آپ بلندی سے دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ ساری دنیا کے دریا سمندر میں جارہے ہیں لیکن بیک وقت دریا بھی جارہے ہیں اور سمندر بھی انہیں لے رہا ہے ۔ سمندر بھی اپنی جگہ پر قائم ہے لیکن دریا نے بھی اپنی شناخت نہیں کھوئی۔
٭ بہت بڑی بات کررہے ہیں آپ ۔۔۔۔
ڈاکٹر وزیر آغا:۔ اور کبھی کبھی تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ دریا سمندر کے ہاتھ ہیں ۔
٭ ڈاکٹر صاحب بہت خوبصورت گفتگو ہورہی ہے ایک آخری سوال ۔۔ جس سٹیج پر اس وقت آپ موجود ہیں یہاں سے آپ زندگی کو کس زاویے سے لے رہے ہیں میرا مطلب پوری کائنات کی زندگی سے ہے ؟
ڈاکٹر وزیر آغا :۔میں سمجھتا ہوں کہ زندگی ایک بہت ہی حسین تجربہ ہے اور انسان کو اسے قبول کرنا ہوگا ،کرنا چاہیے اس کے سارے دکھوں اور خوشیوں سمیت ۔۔۔۔۔ اور یہ تجربہ کسی کسی کو حاصل ہوتا ہے انسان جو تخلیق ہوتا ہے تو یہ ہزاروں سپرمز میں ایک ریس لگی رہتی ہے کوئی ایک سپرم اس ریس میں اپنی منزل کو پہنچتا ہے یہ محض اتفاق ہے کہ ہم اور آپ یہاں موجود ہیں اور یہ بحیثیت مسلمان ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا فیصلہ اوپر ہوا ہے لیکن ہے تو یہ میرا تھن دوڑ اس دوڑ میں ہم کہاں پہنچتے ہیں کچھ پتہ نہیں ۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ بہت ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں زندگی ملی لیکن جب کہیں کشت وخوں کے مناظر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ زندگی کو کتنا ارزاں کردیاگیا ہے حالانکہ اتنی قیمتی چیز ہے کہ اس کو کیا نام دیا جائے میرے ایک عزیز دوست تھے شمس آغا ۔ ہم عمر بھی تھے اُس وقت میرے خیال میں ان کی عمر 22 برس تھی وہ بہت حساس تھے ایک دن کہنے لگے کہ یہ زندگی بسر کرنے کے قابل نہیں اور اب خودکشی ہی اس کا حل ہے ۔۔۔ میں نے اسے بڑا سمجھایا بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کا ساتھ دونگا لیکن دس سال بعد مطلب یہ تھا کہ دس سال بعد اس کو سمجھ آجائےگی تو یہ خودکشی کی بات نہیں کرےگا ۔ میں نے اس سے یہی کہا کہ یہ اتنی خوبصورت چیز ہے اور آج بھی کہتا ہوں کہ اتنا حسین تجربہ ہے اگر اس کو آپ ایک میکانکی روبوٹ کی طرح گزاریں تو الگ بات ہے لیکن اگر ایک زندہ شخصیت کے طور پر گزاریں تو اس کے پرت بہت ہیں لوگ کہتے ہیں ہم نے زندگی دیکھی بھئی زندگی کو کون دیکھ سکتا ہے زندگی تو اتنی بے انت ہے صرف یہ زندگی نہیں جو آپ کو عمر حاصل ہے بلکہ ایسے کروڑوں بھی ملے تو آپ بہت ساری چیزوں کا احاطہ نہیں کرسکتے جو موقع اﷲ تعالیٰ نے عطاءکیا ہے اس لمحے کو ضائع کرنا نہیں ہے ۔ اور میں تو کہتا ہوں کہ جسٹ ٹو لائف۔


انٹرویو: اویس قرنی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s