ہمیں یہ امید وہ پکاریں


کراچی کے ڈاکٹر۔۔۔۔۔ کانفرنس ہال میں دو گھنٹے کی تاخیر سے پہنچے تو دروازے پر ان سے مدبھیڑ ہوتے خیریت پوچھی کہنے لگے ”جس روٹ سے آتاہوں اس طرف آپ بہت۔۔۔ہیں آج مجبوراً راستہ بدلناپڑا اس لئے دیر ہوگئی“ ۔۔۔پتہ نہیں اس وقت میں نے دل کے اندر اٹھتے سلگتے سوالات کے شعلوں کو کس طرح قابو میں رکھا بہرحال دوسرے ہی لمحے اپنے جملے کی وضاحت، معافی اور ان کے چہرے پر ہوائیاں دیکھ کر جانا کہ قصور ان کا بھی نہیں اس وقت میڈیا بھی کراچی کو یوں پیش کررہا تھا جیسے کراچی ہاتھوں سے نکلا کہ نکلا۔
پھر بمبئی بم دھماکوں پر وہ اودھم مچا کہ اس کے سامنے ٹریڈ سنٹروں کی تباہی کا شور دب کر رہ گیا۔۔۔۔ اگلے روز میریٹ ہوٹل کی باری تھی اس کے بعد ہوتے ہوتے بدی کے راگ نے مکمل طور پر آسمان کو گھیر لیا ۔اور نیکی کے بادل پتہ نہیں کس دیس سدھار گئے۔۔۔۔ کالی رات کی تو ہر بات کالی ہی ہوتی ہے اس سیلاب آہن و آتش میں مخلوق خدا امن چین اور سکون کا نام تک بھول گئی کیونکہ بہت جلد وہ لمحہ بھی آیا جب اس مٹی کا حسن اس کا فن بھی محفوظ نہیں رہا۔۔۔۔ وہ اس سرزمین پر برے دن تھے جس میں سب سے زیادہ مزاحمت ہمارے قلمکاروں نے کی تھی اور شاید سب سے زیادہ نقصان بھی انہیں کو اٹھانا پڑا وہ بدستور کتاب محبت کو سینے سے لگائے ایسے عالم میں انسانیت کے نغمے ترتیب دینے میں مصروف تھے جب انسانیت کی تذلیل اپنی انتہاؤں کو چھونے لگی تھی دوسری جانب صورتحال بد سے بد تر ہوتی گئی اور ایک دن کچھ پیغامات سے یو ں لگا جیسے بالآخر پشاور کے ادبی ادارے بھی اس آگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں صبیح احمد کے پیغام میں ”ادبی بےٹخ“ کی سرگرمیاں معطل ہونے کی طرف واضح اشارہ تھا۔
اس کے بعداردو سائنس بورڈ کے در و دیوار بھی اس اندھیکار کی لپیٹ میں آگئے اور ادبی اداروں کو تالے لگنے شروع ہوگئے لیکن وحشی قوتوں کے آتنکی حملوں کا انت نہ ہوسکا اگلے روز حلقہ ارباب ذوق کے فرید کی ہمشیرہ اپنے معصوم سپنوں کی دھنک لئے دل کی آخری دھڑکن اور زندگی کی آخری سانسوں تک بچوں کوتہذیب کی الف ب سکھاتے اس مکروہ اور بھیانک طوفان کے ریلے میں گزر گئیں ابھی اس واقعہ کے زخم دیواروں پر تازہ تھے کہ اس معصوم روح کے جواں سال منگیتر کو بھی آسیہ گیٹ پر ہونے والی ہولی میں نہلا دیاگیا حلقہ کے رو دادنگار محمدیاسین کے کئی فیملی ممبر عورتیں اور بچے باڑہ گیٹ پر اسی گھناؤنی بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے اور جواں فکر شاعر زکریا امرکے چچازاد بھائی فیصل دارالخلافے کے سپیشل برانچ میں جان پر کھیل کر بہت سوں کی زندگیاں تو بچا گئے لیکن خود جیون کیفنشنگ لائن عبور کرتے ہوئے دلوں میں جانکاہ صدمے چھوڑ گئے اور ہمارے دوست حلقہ کے سیکرٹری اسحاق وردگ کے بھائی ارمان وردگ تاحال ہسپتال کی چھت کی کڑیوں کو گھورتے گھورتے اپنے حافظے کی کڑیاں درست نہیں کرپائےمغائرت مخاصمت اور درندگی کے اس جھکڑ میں انقلابی دانشور قلمکار اور قام پرست افضل خان لالاکے گھر ،حجرے اور خاندان پر جو گزری اس خونچکاں داستان کےلئے کوئی اور وقت اٹھا رکھئے ۔
اس بیچ کتنوں نے دیش چھوڑا اور کتنوں نے دنیا کو ۔۔۔۔کچھ پتہ نہیں چلا انہی دنوں سرحد کے اس پار ترقی پسند دانشور ڈاکٹر قمررئیس صاحب کے گزرجانے پر آہنگ ادب کے سیکرٹری وہاب اعجاز سے رابطہ کیا تو وہ بنوں کے بد ترین کرفیو سے نکلنے کی راہ ڈھونڈ تے پائے گئے وہ پشاور ضرور پہنچے لیکن واپسی کاسفر اس قدر آسان نہ تھا اسی شام ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر کو ڈھونڈا تووہ اسلام آباد کے ریسیکیو15 پر حملے سے چند ثانئے پہلے نکل آئے تھے لیکن حواس بحال کرنے میں انہیں بہت دیر لگی۔۔۔ دیرِ میں آہنگ کے دوستوں سے رابطہ کرنا چاہا تو جواب ندارد۔۔۔۔۔۔ میدانوں اور پہاڑوں میں یکساں سطح پر بر بریت نے اپنا خوفناک دہانہ کھول رکھا تھا بارشوں کے بعد بادلوں نے بھی اس سرزمین سے رخ پھیر لیا تھا کیا پشاور کیا مردان کیا ڈی آئی خان اور کیا وزیرستان ۔۔۔۔انہی دنوں سوات کے مرغزاروں کو چھوڑنے پر مجبور قافلے دکھوں کی گھٹڑیاں لئے لاکھوں کی تعداد میں راتوں رات نکل پڑے تو حالات اور بھی گمبھیر ہو گئے اب اگر کوئی چیز آسان تھی ارزاں تھی واضح تھی سامنے تھی تو وہ موت تھی۔۔۔۔۔ اور موت کہاں نہیں تھی اس گھاٹی کے پیچھے، اس منظر کے عقب میں، اس موڑ سے آگے ،اس گھر کی دہلیز پر ،اس ٹیلے کی اوٹ میں، اس گلی کے نکڑ پر ،اس کیمپ کی تنہائی میں ،اس چوراہے کے بیچ میں ،اس ہوٹل کی میز پر، اس سڑک کے سٹاپ پر ،اس اخبار کی سرخی میں ،اس رسالے کے سرورق پر، اس دن کی تاریکی میں ،اس رات کی سیاہی میں، اس جنگل میں اس صحرا میں ۔۔۔۔ہر جگہ سفاک جابر اور غیر مہذب توانائی کوبرا بنے پھن پھیلائے گلے کٹائے کلیوں کو شاخوںسے توڑتے خون چوستے کچلتے مسلتے اپنی پوری شقاوت کے ساتھ علم وفن قلم اور کتاب، تہذیب اور تمدن کا جنازہ نکالنے پر مصر تھی۔۔۔۔۔ اخلاق کی موت روحانیت کی موت سیاست کی موت تمدن کی موت۔۔۔۔۔۔۔۔ فضائیں مردہ گوشت کی بو ادھ جلی ہڈیوں اور خاکستر لاشوں کی سیلن سے متعفن ہوچکی تھیں اور سڑک پر سے گزرتے ہجرت کرتے قافلے کسی نامعلوم منزل کی آخری حد پر اپنے خوابوں کو زہر دے کر سلا چکی تھیں ایسے میں اگر احساس تھا تو صرف ایک حزن کا، ایک درد کا ایک خلا کا ،ایک جمود کا ،ایک گہری اداسی کا ،ایک یاسیت کا ،اور جب کوئی حوصلہ دینے والا نہ رہا تب ایک رات دل کو ٹٹولنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔خدا جانے دل کہاں تھا اور دماغ کہاں پر ۔۔درد کو دوا بناکر خون دل میں انگلیاں ڈبو کر تخلیق کی آبیاری کرنا پڑی کہ ابھی ادب کی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ میرے پاس کوئی لحاف نہیں تھا جس سے تہذیب کی اس برہنگی کو چھپاتا ،کوئی وارنش نہیںتھا جس سے چہروں کو انوپ روپ میں زمین زادوں کو پھر سے لوٹاتا، حتیٰ کہ رونے کےلئے آنسو بھی نہیں تھے صرف ایک سنتا پک روح تھی یا پھر ایک دکھدائک قلم ،اس بیچ اسی قلم سے” اگلی بار “ ”تصویر“ جنازوں کی موت  آخری قسط۔۔۔۔اور آئڈنٹفیکشن جیسے افسانے نکلے تو یہ دراصل ان ہی شاموں کی تحریر کردہ ہیں جنہوں نے دو ہفتے قبل” ہمیں یہ امید وہ پکاریں “جیسا مضمون ان صفحات کو دیا اور آج اسی مضمون کا ایک اورٹکڑا ادب نامے کا حصہ بننے جا رہا ہے۔
میرے دوستو! آؤ کہ درد کے اس طوفان کے آگے ہمیں نے بند باندھنا ہے۔
میرے رفیقو! آؤ کہ تم نے اور میں نے اس روز جنم لیا تھا جب محبت کے دریا نے دل کے صحراؤں میں پھول کھلائے تھے۔
میرے دوستو آؤکہ ہم مہکتے بادلوں کی آنکھوں سے ٹپکنے والے وہ قطرے ہیں جنہیں نفرت کے بیج کی تہہ میں سے کوند کر گزرنا ہے۔
آؤ کہ آگ کے اس دریا کو ہمیں نے عبور کرنا ہے۔
آج تک کسی سائنسدان نے یہ جنگ نہیں جیتی ابھی تک کسی سیاست نے ایٹم سے کم نعرہ نہیں لگایا ابھی تک کوئیفصل زمین زادوں کی سطح تک نہیں اتری۔
آؤکہ اس شہر کو پھر سے بسائیں یہاں کی کھیتیوں میں پھر سے ماہیوں کا رس اگائیں ہم ہی اس دھرتی کا احساس ہیں ہم ہی اس بستی کے نغمے ہیں۔

شہر پشاور

شہر پشاور

میں نے قلم ہاتھ میں لیا تو شہر کا شہر میرے ساتھ تھا تب ایک موڑ پر مجھے اور میرے ساتھیوں کو یاد آیا کہ اس شہر کے قہوہ خانوں میں جو قصے حیرت کے پیالوں میں گھوما کرتے تھے وہ قصے میرے ادیب اور میرے شاعر نے مجھے دیئے تھے وہ قصے اس نے میری روایت کی ہزاروں سال کی نیکیوں کے بعد مجھے بخشے تھے۔
آؤدوستو !ہم پھر سے انہیں کہانیوں کی تلاش میں نکلتے ہیں جنہیں دیس نکالا ملا تھا ہم انہیں پھر سے اس شہر کے حجروں میں ستاروں کی بارات میں لابٹھائیں گے۔
تم جانتے ہو دوستو ہماری زبانیں تو انہی ماہو ں کی ملگجی خوشبوؤں سے پھوٹی تھیں۔
یہی وہ شہر جہاں سے رحمان بابا نے عرفان کی شہنائیوں کو سرمدی چشموں میں ڈھالا تھا جب شہر میں نغمے بہتے تھے ان نغموںمیں قوس قزح کے کتنے رنگ یوں ٹھہر جاتے تھے کہ سبھی رنگ اورسبھی آوازیں گھوم پھر کر اےک ہی سرُ کے گداز کی تصویر بن جایا کرتی تھی اس شہر نے فارغ جیسے انقلابی کو سلاخوں کے پیچھے بھی اپنی آغوش میں لے رکھا تھا فارغ وہی تھا جس کے قلم نے ہند اور سندھ کے تنفس کو بحال رکھنے کےلئے شمال سے نئے خون کا نذرانہ پیش کیا تھا یہ وہی شہر ہے جس نے اپنا پردہ امیر حمزہ بابا سمندر خان سمندر یوسف رجاچشتی مختارعلی نیئر شوکت واسطی انصرلدھیانوی دوست محمد خان کامل رضا ہمدانی پریشان خٹک اور خاطر غزنوی جیسے گہرے اور گھنے ابر پاروں کی صورت میں ڈھک لیا تھا۔
یہیں پر غنی خان اجمل خٹک قلندر مومند احمد فراز جوہر میر اور سیف الرحمن سلیم نے غم حیات کی شفق میں گلگوں رنگ بھرے تھے۔
یہیں کہیں کسی کٹھیا کے قریب دائرہ ادبیہ کا وہ مہربان درخت ہمارا منتظر ہوگا جس کی چھاؤں میں ہم نے عہد رفتہ سے رشتہ جوڑنا ہے۔
یہیں کہیں کسی دریا میں اولسی ادبی جرگہ کا بجرہ محبت کی لہروں پر بہتا ہوا ملے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہی راہوں میں کہیں بائیں بازو پر کسی انقلابی کی آواز ابھرنے والی ہے ادھر کہیں دائیں کنارے پر صبر کی پٹیاں کرتے دوائے درد دل لئے مولوی جی کے محبوب ہاتھوں کا دلاسہ نئی پرواز کی طرف بڑھاوا دینے آئے گا۔

پشاور

پشاور

میرے دوستو! آؤ کہ ہم دھنک کے وہی رنگ ہیں جنہوں نے اس شہر کی صبحوں اور شاموں میں دلفریب ذائقے بانٹے ہیں۔
آؤاس یقین کے ساتھ کہ یہ شہر ہمیں جانتا ہے۔
میرے بزرگوں نے اس شہر کے پہلے دروازے پر ادیبوں اور شاعروں اور صوفیوں کی سنڈکیٹ بناکر مضبوط مورچوں کا شیرازہ استوار کیا تھا تو دوسری جانب میرے دوستوں نے انہی بزرگوں کی اشیربادسے پر یڑناپاتے ہوئے تخلیق کی ملائمت سے تہذیب کے نئے پرستان آباد کئے۔
یہی وہ دنیا ہے جس کے سینے میں ارباب ذوق کا دل محبت کی روح بن کر اس کے پورے وجود کو تابناک کروٹوں کی حرارت دئیے ہوئے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کل شام جب میرے دوست وردگ کا پیغام ملا کہ حلقہ کو حالات کھائیوں سے بچانے کےلئے پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا کہ کوئی بھی غلطی ہمارے احساس کا بھی گلا دبا سکتی ہے تو میں نے کہا قدم کتنا ہی آہستہ کیوں نہ ہو پر اس سفر کو رکنا نہیں ہے اور میرے لئے تو اس پیغام میں کوئی نئی بات بھی نہیں تھی کہ یہ فکر تو کافی عرصے سے میری پریشانیوں کی دامن گیر رہی تھی۔ شاید اس وقت سے جب میرے رفیق صبیح نے مجھے ”بیٹخ“کے دروازے بند رکھنے کو کہا تھا اور میں نے بناکسی وضاحت کے نامرادی کی آہ لے کر اس کے گھر کی دہلیز سے واپسی کا راستہ لیا تھا اور راہ ادب کے مسافر اپنی بوریا بستر لئے ”سخن سرائے“ کے مقامات تبدیل کرتے گئے۔
یا شاید اس سے بھی پہلے جب خبر ملی کہ پوری ”دس کہانیوں “کی راہ تکتی ڈولیوں کے باراتی حزن وملال کی مجسم پرچھائیاں بن کر لوٹ گئے تھے اور ”خانہ فرہنگ “کے دروازوں نے بھی ”اردو سائنس بورڈ “کی مانند اپنے لبوں کو سی لیا تھا اورادبی اکٹھ کے کہاروں نے برداشت کے حقے کھینچ اپنی بگھیا کووقت کی ندیا کے دھاروں میں ڈال کر سی حرفیوں کا بھرم قائم رکھا۔
یا شاید اس سے بھی آگے جب اٹک سے آگے ”امن میلے “کے شہر سے لوٹتے سمے شہر کے راستوں نے واپسی کے سفر کو کسی نہ ہونے والے کفارے کاگناہ بناکر ہر آس کو یاس میں بدل ڈالنے والے معبود جابجاکھڑے کر رکھے تھے اور مجھے اس جنونی معرکے میں جس کافیصلہ بہت جلد ہونے والا تھا(یہی زیادہ سے زیادہ صبح کاذب تک) اپنے شہر کے ماجد سرحد ی مرحوم یاد آئے جنہوں نے اس پوری تحریک کے دوران اپنے جذبوں کی صورت میں اپنے ہم قافلہ کا لہو گرمائے رکھا تھا اسی ادھیڑ بن اور افراتفری کے اندھیرے میں لاہور سٹیشن کی کشادگی او زندہ دلی کی خبر لینے گیا تو بے اختیار کرشن چندر کے دوست شاہد ٹی ٹی یاد آگئے جنہوں نے کرشن کی کہانی کے ایک ہندو کردار کو تقسیم کے فسادات میں پناہ دی تھی راوی کی لہروں کو وہ کہانی ضرور یاد ہوگی کیونکہ بیج ناتھ نے اسی راوی سے گزر کر سرحدوں سے بہت آگے خود کو موت کے منہ میں ڈال کر ایک مسلمان بچے کی جان بچائی تھی اس کوشش میں بیچ ناتھ کو اپنے ہم مذہبوں کی گولیاں ضرور لگی تھیںلیکن اس نے خود کو ڈھال بناکر بچے کو اپنے ہاتھوں میں یوں اٹھایا ہوا تھا جیسے بعد میں ابولکلام آزاد سجادظہیر راجندرسنگھ بیدی فیض ابراہیم جلیس منٹو کرشن اور ساحر نے فسادات کے ریلے میں سے بلندیوں کی طرف پرواز کرتے تخلیق کی خوشبوؤں کو قتل ہونے سے بچایا تھا اور دھرتی کی فضاؤں میں ”چاند اور ستاروں“ ”امنگوں اور ترنگوں“کی اندردھنش کو نئے رنگ اورنئے معانی عطا کئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن مجھے لگتا ہے جیسے یہ پیغام مجھے اس وقت ملا تھا جب میں نے ممبئی کی بھڑکتی ہوئی آگ کو بحیرہ عرب کے ساحلوں تک براہ راست پہنچنے والے سیل فونوں پر سنا تھا تب آلہ آباد دہلی اور علی گڑھ سے آتی ہوئی ہوائیں باوجود اپنی تھاپنا کے زیریں سطح پر صبر کی تلقین کرتی پائی گئیں اور مےں نے اس روز خوشبیر سنگھ شاد اور خلیق انجم قدوووائی علی احمدفاطمی اور ڈاکٹر نارنگ کو جس روپ میں دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ دروازے کھلے رہیں گے۔
اس روز پدم بھوشن پروفسیر گوپی چند نارنگ کی آواز سب پر بھاری تھی ان کا مانناتھا کہ” میں اس دھرتی کا بیٹا ہوں جہاں آنے کےلئے میرا من بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے کہ یہ محض ایک ٹریولنگ نہیں بلکہ یہ تو وہ سفر عشق ہے جسے اردوکے نام پر صدیوں نے میرے خمیر اور ضمیر میں آباد رکھا ہوا ہے یہ نظم کہ جو ابھی ناتمام ہے اور جسے آگے جاکر اپنی تکمیل کرنی ہے اس کے بیچ میں چھوٹے چھوٹے مصرعوںکی اصلاح کی گنجائش تو نکلا کرے گی کہیں لہجہ زیادہ ابھرا ہوگا تو اسے دبانا پڑے گا کہیں لفظوں کو گرانا ہوگا کہیں کوئی مصرعہ بہت آگے نکل گیا ہوگا تو اسے اپنے مقام پر دوبارہ لانا ہوگا کہیں کوئی سپنا کوئی خیال بہت پیچھے رہ گیا ہو تو اسے اپنا خون جگر دے کر سینچنا ہوگا کہیں کوئیحرف گر رہا ہو تو اسے کسی دوسری جگہ قرینے سے لانا ہوگااور کہیں کسی
ا فسانے کا انجام بے جان بے تاثیر اوربے معنی ہو تو اسے ایک خوبصور ت مو ڑ دے کر فوری کلائمکس کے بعد سمیٹنا ہوگا۔
دیکھو اس نظم کے دو مطلع ہیں بیچ میں وزن میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے لیکن اس نظم کا دل ایک ہے اس کی زبان ایک ہے اس کا آہنگ ایک ہے اور اس کے نغمات کا منبع ایک ہے اور جب تک یہ منبع ایک ہے تب تک گنگا اور جمنا اور راوی اور سندھ کے کناروں پر گلاب کھلتے رہیں گے اور یہ گلاب یہاں سے وہاں جاتے فضاؤں میں گھلتے حضرت امیر خسروؒ کے حلقے کو عقیدتوں کے تعطر میں لیں گے اور وہیں سے دیوالی کی دعاؤں کے دیپ جلائے دیوتاؤںکی ملاطفت کا دوشالہ لئے واپس آئیں گے اس لئے میرے دوستو! تم کبھی ملول و حزیں نہ ہوناکہ یہ آگ ہمیشہ ہمیں نے بجھائی ہے۔
ان آندھیوں کے مقابل ہمیشہ ہمیں نے چراغ جلائے ہیں اس وقت بھی جب جلیانوالہ میں جنرل ڈائر کی مشین گنوں نے نہتے ہندوستانیوں کو بھون ڈالا تھا اور ہمارے قلمکاروں نے شہید بھگت سنگھ کے خون کی حرمت کی قسم کھاتے ہوئے آنے والے دنوں میں ہر تخریب اور تناؤ کے ننگے پن کو اپنے خون جگر سے تخلیق اور تعمیر کی نئی پوشاک دے کر سیاست کے داغدار چہرے کو با حجاب بنایا تھا۔ اور پھر دوستو جب ہماری روحوں نے آزادی کا اظہار کےا ہے تو پھر ہم بند ہو کے کیو ںرہیں آؤبتادیں دنیا کو کہ یہ نغمے اب نہیں رک سکیں گے کہ یہی وہ شہر ہے جہاں لفظ سے محبت کرنے والوں کے جھمگٹ آیا کرتے تھے اپریل 1965ءکی وہ رات جب فیض جوش عندلیب شادانی ،زیڈاے بخاری ،قاسمی قتیل ،قمر جلالوی ،نظم اکبر آبادی، ناصر کاظمی ، ظفر اکبر آبادی ،حفیظ ،اختر انصاری اور صوفی تبسم اسی بستی میں اکٹھے ہوئے تھے اور چاندنی رات محو حیرت اپنے ستاروں کو زمین پر جگمگاتے ہوئے دیکھ کر فیصلہ نہیں کر پارہی تھی کہ حقیقی روشنی کہاں پر ہے اور یہ کہانی ایک شام ہمیں خاطر دانے سنائی تھی ۔۔۔
کچھ یاد ہے اس شہر کے چندن قہقہے کیسی کیسی خلاؤں کو پر کرتے رہتے تھے ایک ”دفعہ یوسفی“ کے قلمی خدو خال کو دیکھنے کےلئے مشتاق آنکھوں نے کتنے لمحے وقت سے کاٹ کاٹ کرداستان گو کے سنگ گزار ے تھے کتنی ہی بار طالع ”مسعود کو ”انور“ کی آواز نے بے تحاشا گداگدا کرحزن کی ہر لکیر کو پر امید مسکراہٹوں سے ہموار کےا تھا یہ انور کبھی دھوپ میں شطر نجی بنا کرتا تو کبھی شام کا لمس لے کر شفقی۔۔۔۔۔۔۔۔
باڑہ گلی کے بادل اسی موسم میں اسی شہر میں آکر ہمیں بلایا کرتے تھے میرے دوست وردگ ۔۔۔ تمہیں یقیناً صابر کلوروی صاحب یاد آئے ہونگے جنہوں نے انہی شاہراہوں پر ہماری پیٹھ تھپتپھائی تھی اور ہمیں صبر اور برداشت کے ڈیوے دے کر مستقبل کے راستے دکھائے تھے محبتوں کی انہی راہوں سے ہوکر ایک دن ”بھوپال کے محسن “ملے تو میں نے پوچھ ہی لیا ذراسنو تو ان کا جواب کیا تھا مسکراتے ہوئے کہنے لگے میں بھوپال کا نہیں ”احسان کا محسن“ ہوں میں نے کہا آپ پشاور کے احسان کی بات کررہے ہیں کہنے لگے آپ کے احسانات ہم پر بے تحاشا ہیں میں نہیں سمجھ پایا تو زینہ زینہ وہاں گئے جہاںسے قاسمی اور راشد اور خاطر اور حمزہ ہواؤں کے دوش پر پورے ایشیا کو نئی صبحوں کی سلامی دے رہے تھے ۔۔۔۔کہہ رہے تھے کہ تم لوگ کبھی فراز سے نشیب کی طرف آتے ہی نہیں کیونکہ تم پہاڑوں کی اولاد ہو تمہارے ابدال محض ہند اور سندھ کے شاہ نہیں تھے وہ تو دلوں پر راج کرتے رہے تھے مجھے ان کی باتوں سے بڑی تسلی ملی ۔۔۔۔۔وردگ تمہیں یاد ہے اسی شہر کی ایک شام تھی جب دلفریب ناصر کی من بھاون اداؤں نے لفظوں کی کیا ریوں سے خراماں خراماں گزرتے ہمیں نامعلوم مسرتوں کی دوستی میں لیا تھا اور وہ دن جب ہمارا قافلہ شہر کے مضافات میں سے ہوتا ہوا اس گاؤں پہنچا تھا جب ہم نے ان کی کتاب کا گھونگھٹ اٹھایا تھا اور شباب اور نذیر ،نذر عابد اور تنویر ،فاروق بابر اور تاجور ، عتیق اور صبیح ،سجاد اور حماد، رانی اور سنی ، اظہار اور اسماعیل ،عزیز اور سعید اور طارق اور شوکت نے پرندوں کے لوٹ آنے تک اپنی صبحوں اور شاموںکی سلامتی کیلئے دعائیں مانگی تھیں ۔
انہی راستوں میں ہمارے استاد ڈاکٹر ظہور احمد اعوان نے لکھتے لکھتے اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو رقص پےہم سکھایا اور اس کی تصویر کو جمال اور کمال کے نرم ونازک گیتوں کے رنگ دے کر ایسا متحرک رکھا کہ وہ خود ہی اپنے کمال کی مثال بن گئے ۔
آؤ میرے دوست ،اپنے سبھی بچھڑے ہوئے بکھرے ہوئے دوستوں کو آوازیں دے دے کر بلائیں آؤ وہاں چلتے ہیں جہاں آج سے عشروں پہلے شاعری کے جھرنوں میں ڈاکٹر اسرار شیر علی باچا اور سلیم راز نے سماج کی لڑھکتی ہوئی وادی کو خشک ہونے سے بچایا تھا اور سیف الرحمان سلیم اور قلندر مومند کی شاعری کی مہجبنیوں نے چیڑھ کے جھومروں کو اپنی کنواری آرزوؤں کے کانوں میں پہنایا تھا آؤ وہاں چلیں جہاں ڈاکٹر اعظم کے گیت سائل کے ترانے اور ہمارے آوارہ گرد دوست زبیر حسرت کے فسانے نئے روپ میں جلوہ گر ہونے والے ہیں ۔
میرے دوستو آؤ ۔۔ سبھی روٹھے ہوؤں کے ماتھوں کو بوسہ دیں میں مانتا ہوں کہ رات بہت گہری ہے مانتا ہوں کہ ابھی ہماری خواہشوں کی آگے خوف کا تےز دھار خنجر لہرارہا ہے مانتا ہوں کہ پے در پے سانحوں کے آنسوؤں سے ہماری آنکھیں بھر چکی ہیں مانتا ہوں کہ ابھی ہمیں بہت سے کنوؤں کو جھانکتے رہتے گزرنا پڑے گا ۔۔یہ بھی مانتا ہوں کہ بہت سارے پھول جواس اندھیکار کی نذر ہوگئے ہیں انہیں اس دھرتی کو سےنچنا تھا لیکن ہمیں مستقبل کی کلیوں کا تحفظ کرنا ہے اور یہ بات مجھے ایک دن کیفی نے بتائی تھی کہ انہیں کلیاں نہ کہو کیونکہ یہی کلیاں تو چمن ساز ہیں ۔
میں نے بھی کچھ پھول اپنے سینے پہ سجا رکھے ہیں تم نے بھی کچھ پھول اپنے دامن میں اٹھا رکھے ہیں آؤ خوشبوؤں کے سفیروں ہم تم ساتھ ساتھ چلیں گے ۔۔۔ آؤ یہ تالے کھول دیں یہ زنجیریں توڑ دیں۔۔۔۔۔ اپنے رفیقوں اور غمگساروں اپنے دوستوں اور بزرگوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر محبت اور امن کی ڈولی لئے وہاں جائیں جہاں کچھ اور پھول کچھ اور شہزادے ہمارے منتظر ہیں ان کے کان ایک نئے آہنگ کے منتظر ہیں وہ آہنگ جو تعزل کی روح اور شعریت کا سازہے وہ آہنگ جس میں دلوں کا سوز اور انسانیت کا درد ہے
آؤ ۔۔۔۔۔ ابھی دیر نہیں ہوئی ان پربتوں کے اس پار شاید ہمیں اسی روشنی کے نئے امین ملیں مجھے یقین ہے یہ تلاش تلاش لا حاصل نہیں ہوگی ۔۔۔۔کہ تخلیق حسن اور ارتقا کے نئے پرستان اور نئی دنیائیں ہمارا انتظار کررہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تحریر : اویس قرنی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s