ڈاکٹر وزیر آغا سے انٹرویو


فطرت سے میری دوستی بہت پرانی ہے ، میں نے اپنی کہانی فطرت کی زبانی سنی ہے اور مجھے معلوم ہے کہ ہر

wazir agha

ڈاکٹر وزیر آغا

کہانی کا آخری تار اس مٹی کے خمیر میں گندھا ہوتا ہے جہاں سے انسان کے اندر کی کائنات کی تعمیر ہوتی ہے ۔۔۔۔ کائنات کی مخفی طاقتوں کے اسرار میرے دل کے اندر یونہی ہولے ہولے بسیرا کرتے گئے اور انہوں نے مجھے تخلیق کی شکتی دی ۔ اس شکتی نے میرے ہاتھوں میں قلم اور میرے ذہن کو اجالے دیئے ۔۔۔ میں میلوں چلا ۔ کبھی راستے اپنی منزلوں سے گزرگئے تو کبھی منزلیں ہی اپنے راستوں کا تعین نہیں کرپائیں میں نے نفس کے صحراﺅں میں عرفان کے دریاﺅں کی کھوج لگاتے ہوئے کبھی اطمینان کے سرابوں پر دھیان نہیں دیا ۔۔ کہ میں تو ایک ایسا گیانی تھا جس کی ریاضت اس سنسار میں آنے سے پہلے ہی مدتوں ذات اور لاذات کے عمیق ساگروں کی شناور رہی تھی ۔

ایک دن اپنی جنم پتری دیکھتے دیکھتے وہ زریں وادی مل ہی گئی جہاں میرا جنم ہوا تھا اور یہ بالکل وہی استھان تھا جہاں پہلی بار دھوپ چمکی تھی اور کرنوں کا اترتا پگھلتا سونا نگاہوں میں سکھ کے سپنے بوگیا تھا ۔ اس سفر میں میرے ہم قافلہ نے جگہ جگہ پڑاؤ ڈالے اور ہر پڑاؤ پر اگلی منزل کےلئے تیاری کی ۔

کچھ دوست جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے اور جنہوں نے ابھی بھی درد کے اس رشتے کو ٹوٹنے نہیں دیا میری تنہائیوں کے ازلی رفیق ہیں ۔۔۔ہر روز سورج کی پہلی کرن صبح صبح میری دہلیز پر آکر مجھ پر ایک نئے دن کا انکشاف کرتی ہے ۔۔ شام کے آوارہ پنچھی ہر تھکے ہوئے جھونکے کے ساتھ مجھے کچھ بیتے دنوں کی یاد دلاتے ہیں ۔

شفق کے پیلے مٹیالے بادل تو میرے دیرینہ دوستی کا حق آج تک ادا کرتے آئے ہیں ۔۔۔۔۔ سمندروں پر برسنے کے بعد میری اور آتے ہوئے کبھی میں نے ان بدلیوں سے شکایت نہیں کی کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ سمندروں کی پیاس بڑی خوفناک ہوتی ہے ۔۔۔۔وقت کے ”اوراق“ پر زمانے نے میرا نام کندہ کراتے سمے ”وزیر آغا “ لکھا تو میں نے کسی شاعرانہ سابقے لاحقے کی ضرورت اس لئے محسوس نہیں کی کہ مجھے نام اور دام سے زیادہ کام کے پیرہن میں اپنی صدائیں اچھی لگیں ۔ اور آج جبکہ زندگی نے میرے خدو خال پر واقعات کے اساطیر آباد کرلئے ہیں میرا عقیدہ اس حوالے سے مستحکم ہو چلا ہے کہ مجھے صرف اور صرف تخلیق کی آبیاری کرنی ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔ پڑھنا جاری رکھیں→

ہمیں یہ امید وہ پکاریں


کراچی کے ڈاکٹر۔۔۔۔۔ کانفرنس ہال میں دو گھنٹے کی تاخیر سے پہنچے تو دروازے پر ان سے مدبھیڑ ہوتے خیریت پوچھی کہنے لگے ”جس روٹ سے آتاہوں اس طرف آپ بہت۔۔۔ہیں آج مجبوراً راستہ بدلناپڑا اس لئے دیر ہوگئی“ ۔۔۔پتہ نہیں اس وقت میں نے دل کے اندر اٹھتے سلگتے سوالات کے شعلوں کو کس طرح قابو میں رکھا بہرحال دوسرے ہی لمحے اپنے جملے کی وضاحت، معافی اور ان کے چہرے پر ہوائیاں دیکھ کر جانا کہ قصور ان کا بھی نہیں اس وقت میڈیا بھی کراچی کو یوں پیش کررہا تھا جیسے کراچی ہاتھوں سے نکلا کہ نکلا۔
پھر بمبئی بم دھماکوں پر وہ اودھم مچا کہ اس کے سامنے ٹریڈ سنٹروں کی تباہی کا شور دب کر رہ گیا۔۔۔۔ اگلے روز میریٹ ہوٹل کی باری تھی اس کے بعد ہوتے ہوتے بدی کے راگ نے مکمل طور پر آسمان کو گھیر لیا ۔اور نیکی کے بادل پتہ نہیں کس دیس سدھار گئے۔۔۔۔ کالی رات کی تو ہر بات کالی ہی ہوتی ہے اس سیلاب آہن و آتش میں مخلوق خدا امن چین اور سکون کا نام تک بھول گئی کیونکہ بہت جلد وہ لمحہ بھی آیا جب اس مٹی کا حسن اس کا فن بھی محفوظ نہیں رہا۔۔۔۔ وہ اس سرزمین پر برے دن تھے جس میں سب سے زیادہ مزاحمت ہمارے قلمکاروں نے کی تھی اور شاید سب سے زیادہ نقصان بھی انہیں کو اٹھانا پڑا وہ بدستور کتاب محبت کو سینے سے لگائے ایسے عالم میں انسانیت کے نغمے ترتیب دینے میں مصروف تھے جب انسانیت کی تذلیل اپنی انتہاؤں کو چھونے لگی تھی دوسری جانب صورتحال بد سے بد تر ہوتی گئی اور ایک دن کچھ پیغامات سے یو ں لگا جیسے بالآخر پشاور کے ادبی ادارے بھی اس آگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں صبیح احمد کے پیغام میں ”ادبی بےٹخ“ کی سرگرمیاں معطل ہونے کی طرف واضح اشارہ تھا۔ پڑھنا جاری رکھیں→