فراز کے نام


احمد فراز

احمد فراز

اب اگر تمہارے بارے میں نہ لکھوں تو کس کے بارے میں لکھوں جب بھی تم ہی نے قلم اٹھایا تھا جب غنیم کے لشکر تمہارے گرد محاصرہ تنگ کیے ہوئے تھے اور جب ہنروروں نے اپنے ہنر کا سودا کیا تب بھی تم امید لطف میں کجکلا ہوں کے درباروں میں جانے کے بجائے اپنے ضمیر کا فیصلہ اپنے قلم کی عدالت میں لے گئے تم نے اس بھوکی مخلوق کی آزادی کے جشن میں ان کے ہاتھوں مں کچکول اور ان کے سینوں پر غیروں کی بندوق دیکھ کر انقلاب کا نعرہ بلند لگایا۔ تم نے اس محصور شہر میں اپنی آواز کو گداگری نہیں سیکھائی اور جب ہر چہرہ دو دو ٹکڑوں اور دہرے نقابوں میں تقسیم ہونے لگا اور زندگی کی تصویر جلتے جلتے بالکل کالی ہوگئی تو ایک دن وہ بھی آیا جب تم اس ملک کو چھوڑ کر جلاوطن ہوگئے دیار غیر میں بھی تم بس ایک قلم کی حرمت کو اپنا اثاثہ بنائے رکھا۔
یاد ہے ایک دن جب موسم بدلیوں سے ڈھکا ہو ا تھا مین نے تم سے تمہارے رونے کی بابت پوچھا تھا اور تمہارا جواب تھا۔۔۔
’’میں بہت رویا‘‘
یقیناً جلاوطنی کے ایسے ہی لمحوں میں تمہاری اکیلی راتیں بہت روئی ہوں گی ۔ تم نے شاید ایسی ہی ایک اکیلی رات میں کہا تھا۔


روم کا حسن بہت دامن دل کھینچتا ہے
اے مرے شہر پشاور تیری یاد آئی بہت
تم نے دنیا دیکھی تم ملکوں ملکوں گھومے لیکن پلے پڑھے تو اسی شہر کے گود میں تھے یہ رشتے تم کب چھوڑ سکتے تھے لیکن جب تم جسموں کو پنجروں ، روحوں کو زنجیروں اور کلائیوں کو ہتھکڑیوں کے زخموں میں جکڑا ہوا پایا تو تمہاری آواز روح کے نہاں خانوں سے نکلی اور سبھی محکوم اور مظلوم ستم نصیبیوں کی آواز بن گئی جن کی آنکھوں کے خوابوں کو بھوک کا عفریت چاٹ چکا تھا تم نے افریقہ کے جلاوطن شاعروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر انسانی توقیر کے لیے آواز آٹھائی تم نے ایمسٹر ڈیم میں اذیتوں کے سائے میں لپٹے تاریک وطن سیاہ فام حریت پسندوں کے ساتھ انسان کی تکریم کے ترانوں کو نیا آہنگ بخشا اور بوڑھے نیلسن کے کاندھے پر اپنی آواز کے ہاتھ رکھ کر انہیں حوصلہ دیا کہ یہی درد کی امانت شاید تمہیں بھی وراثت میں ملی تھی ۔۔۔
یہ سچ ہے کہ ہر بھٹکی ہوئی روح کو ایک نہ ایک دن وطن کی مٹی واپس بلا لیتی ہے لیکن یہاں آکر بھی تم نے آمریت کی مہربانیوں کے دھبوں سے اپنے دامن کو صاف رکھا تم نے اپنے زخموں کی نمائش کا بازار نہیں لگایا اور یہی وجہ تھی کہ تم نے عمر بھی کی کھٹنائیوں اور ناآسودگیوں کا سودا کرنے سے انکار کر دیا اس لیے آج ایک تم ہی ہو جو یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہو۔


میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقین ہے مجھے
کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
میرے قلم کا سفر رائگاں نہ جائے گا


انٹرویو


وقت کی کتاب سے گزرتے ہوئے ہر پنے پر کئی سوالات سے نمٹنا ہوتا ہے کئی مقامات پر الجھنا ہوتا ہے یہ سوالات بعض اوقات بڑے ہی تلخ ہوتے ہیں ایسا ہی ایک سوال اس وقت میرے من میں ایک الجھاوے کی صورت میں پڑا ہے کہ کیا اکیسویں صدی کا کوئی ضمیر ہے اور اگر کوئی عالمی ضمیر ہے تو آپ اس کو کس زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں ؟
احمدفراز : ۔ اکیسویں صدی میں بھی وہی کچھ ہورہا ہے جو پانچویں اور چھٹی صدی میں ہوتا تھا یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس سو امریکہ اس وقت ہولی سولی دنیا کے ضمیر کا مالک ہے اس کا اختیار ہے جدھر چاہے حالات کا رخ موڑ دے تو ضمیر کہاں ہے ؟ ایسے معاملوں میں ضمیر نہیں ہوتا وِل ہوتی ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ مجھے کیا چاہیے اور اس کےلئے مجھے کیا کرنا ہے تو کیا اکیسویں صدی اور کیا بیسویں صدی ہاں البتہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے کچھ ایسے نظام ابھر ے تھے خصوصاً بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں جس سے زندگی نے بہت کچھ لیا تھا کمیونزم کے نقصانات جو بھی تھے لیکن اس کے ٹوٹنے سے ان قوموں کو بہت نقصان پہنچا جن کےلئے یہی ایک آس تھی اور جب مزدوروں کسانوں پر ظلم ہوتے تو وہ روشنی کےلئے کسی پر اگریسیومومنٹ کی طرف دیکھتے اور اب تو لوگوں کے پاس امید کی آخری شمع بھی نہ رہی اس لئے اس وقت ہر طرف ایک گہری مایوسی پھیل چکی ہے ۔
٭ تو کیا اس راکھ میں امید کی کوئی چنگاری نہیں ہے ؟
احمد فراز :۔ انسان ہمیشہ سے امید کا دامن تھام کر آگے بڑھا ہے اور اس وقت بھی ایسا ہی ہے سو ایک امید بھی ہے کہ شاید خود ایسی قوتیں پھرتازہ ہوں جو وقت کا دھارا موڑ دے یہ پتہ نہیں کہ یہ لیبارٹری کہاں سے کام کرنا شروع کردے یہ لیبارٹری کہیں سے بھی اسٹبلش ہوکر اپنا کام شروع کرسکتی ہے تو ہوسکتا ہے ایسی کوئی صورت نکل آئے کہ حبس کا دم ہی ٹوٹ جائے ۔
٭ مستقبل قریب میں تو ہمیں اس قسم کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ؟
احمد فراز:۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ کچھ عرصے تک تو کچھ بھی نہیں ہوتا لول بی فور سٹروم والی کیفیت ہوتی ہے۔طوفان کس وقت آتا ہے اس کا کچھ پتہ نہیں ہمارے دور میں تو حالات دگرگوں ہی رہے ممکن ہے آنے والی نسلوں کو زمانے کے اوراق پر کچھ نئے نقوش مل سکیں ۔
٭ یہ جو ہمارا ذہنی ،معاشی اور سیاسی بحران ہے اس کی بنیادی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟
احمد فراز:۔ تقسیم ہند کے بعد دیکھئے تو سرحد کے دونوں جانب ایک اور سفر شروع ہوتا ہے لیکن انڈیا کی لیڈر شپ پھیلی ہوئی تھی وہاں ساری بات صرف ایک شخص پر مرکوز نہیں تھی گاندھی جی قوم کے لئے ایک سیمبل کے روپ میں سامنے آئے اسی طرح نہرو تھے اور گورنمنٹ میں جو نچلی سطح کے اختیارات تھے ان میں بھی ایسے بہت سارے لوگ تھے جو کام کرنے والے تھے اور جنہوں نے اس مٹی کےلئے قربانیاں دیں ہمارے ہاں تو پہلے دن سے ہی جاگیرداروں اور نوابوں کے نخرے شروع ہوگئے نواب زادہ لیاقت علی خان سے شروع کیجئے اور آج تک اندازہ لگاتے جایئے کہ اس ملک میں کیا کچھ نہیں ہوا ۔ دوسری بات یہ کہ یہاں کسی سسٹم کو منظور نہیں ہونے دیاگیا انٹروڈیوس ہی نہیں کیاگیا یہاں کانسٹی ٹیوشن بہت بعد میں آیا اور پھر اس کانسٹی ٹیوشن کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی آپ کے سامنے ہے ۔
ابھی تک یہاں زمینداری ختم نہیں ہوئی تو یہ تمام چیزیں اور یہ تمام بیماریاں سٹیٹ کے تشخص کو ختم کردیتی ہیں دوسرے یہ کہ اگر کانسٹی ٹیوشن بنا بھی ہے تو اس پر عمل کس نے کیا تو وہی بات ہے کہ جس کے پاس طاقت ہے وہی سب کچھ ہے اور یہاں سب سے بڑی بد قسمتی یہ رہی کہ چالیس پینتالیس سال ہوگئے ۔ فوج مفت میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے ٹیکس آپ دیتے ہیں میں دیتا ہوں پیسہ ہم سے لے کر بندوق خریدتے جاتے ہیں تو پ اور جہاز لئے جاتے ہیں آگے جاکر دشمن کے سامنے تو ہھتیار ڈال دیتے ہیں لیکن ہمارے جیسے لوگوں (فرنٹیئر ،بلوچستان اور ملحقہ علاقوں ) کو بمباری کانشانہ بنایا جاتا ہے ۔
اس وقت جو تھوڑی بہت امید پیدا ہوئی ہے وہ یہ کہ وکیل سرجوڑ کر بیٹھنے کے بعد ایک تحریک کی صورت میں اٹھے ہیں اور اب یہ ایک ہمہ گیر تحریک بن رہی ہے خدا کرے کہ موسم اور دوسری چیزیں راستے میں حائل نہ ہوں تو یقیناً یہ سلسلہ آگے جاکر رنگ لا سکتا ہے ۔
٭ اب کچھ بھی ہوجائے عدلیہ پر تو ضرب لگی ہے نا ؟
احمد فراز:۔موجودہ دور کی بنیاد توڑ پھوڑ پر ہے اور عدلیہ کے تو دونوں ستون ان لوگوں نے بالکل کرادیئے تھے یعنی مقننہ اور انتظامیہ تو ان کی جیب میں تھیں اب یہ جو حال ہی میں کبھی کبھی عدلیہ میں کوئی آواز اٹھتی تھی تو اقتدار کے ایوانوں میں خوف کے سائے پھیل جاتے اور پھر یہ سوچا گیا کہ مستقبل میں عدلیہ کی طرف سے ایسے فیصلے ضرور آسکتے ہیں جو حکومت کو ناگوار گزریں یوں انہوں نے حج ہی کو تختہ مشق بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ
”وہ شاخ ہی نہ رہے جس پہ آشیانہ ہے“
ایک اور بدقسمتی یہ کہ ہمارے ہاں تو لوگ قطار اور انتظار میں کھڑے رہتے ہیں ایک شخص کو اصولوں کی پاسداری کے جرم میں ہٹا دیا جاتا ہے وہ بے چارا جان دیتا ہے اور دوسرا سلوٹ کرکے اس کی جگہ لیتے ہوئے کھڑا ہوجاتا ہے ۔ دیکھئے کسی قوم کا کردار صرف اسی قوت بنتا ہے جس میں ہر شخص نہ سہی لیکن کچھ لوگ تو ایسے نکلیں جن کا ضمیر زندہ ہو جو حاکم وقت کے بے جا احکامات کے جواب میں یہ کہنے کی جرات کرسکتا ہو کہ دس از ناٹ یور جاب جو یہ بھی جانتا ہو کہ آج میرے ساتھی کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے کل میرے ساتھ بھی یہی کچھ ہوسکتا ہے لیکن اس کے برعکس یہاں سوچا جاتا ہے کہ کس طرح جمپ کرکے آگے آجائیں ۔
٭ کیا وجہ ہے کہ کئی عشروں سے صرف اسی خطہ یعنی قبائل اور بلوچستان کے ساتھ یہاں کے لوگوں کو بھی ٹارگٹ بنایا گیا ہے ؟
احمد فراز :۔ یہ ایک افسوسناک امر ہے جس کا جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے امریکہ (جو کہتا ہے کہ ہم بھیڑبکریوں کی طرح انسان بھی خریدتے ہیں ) سے سب زیادہ پیسے فوجیوں نے لئے ۔ ہمارے پیسوں سے ہتھیار لئے جاتے ہیں جن کو بعد میں اپنے ہی لوگوں پر آزمایا جاتا ہے اپنا سرمایہ باہر کراتے ہیں جبکہ ہم لوگ تو ہیں ہی گئے گزرے ۔ بھیڑ بکریوں کی طرح جہاں کسی نے چاہا بیچ دیا جہاں چاہا مار دیا جہاں چاہا کسی کے حوالے کردیا ۔آپ نے اگر ملا ضعیف کی کتاب پڑھی جو طالبان کے سفیر تھے اور جس کو پاکستان نے پکڑکر امریکہ کے حوالے کردیا ۔ ان کی کتاب پڑھئے تو رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس کتاب میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ مجھے اس کا دکھ نہیں کہ امریکہ نے میرے ساتھ کیا سلوک گیا گھاؤ تو اپنے لوگوں نے لگائے ہیں اور خصوصاً ان پاکستانی فوجیوں نے جو تماشبین بنے تھے تو اب بھی یہی صورتحال ہے پہلے لغاری ایمل کانسی کو ان کے حوالے کررہا تھا تو اب مشرف کے دور میں کتنے لوگ کیسے کیسے طریقوں سے غائب کردیئے گئے اس کے اختیار میں نہیں تھا ورنہ یہ تو اسامہ اور ملا عمر کو بھی امریکہ کو دے کر مال کھرا کرلیتے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کے سروں کی قیمتیں لگانے کا کاروبار آج پہلے سے بھی بڑھ کر ہورہا ہے ۔
٭ ماضی میں دیکھا جائے تو یہاں جس دور میں مارشل لاءجرنیلی بندوبست نہیں تھا اس میں بھی آرمڈ فورسز کا اثر جمہوری اداروں پر مسلط رہا ۔
احمد فراز :۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ
لرزے ہے موج مے تیری رفتار دیکھ کر
شروع میں جب آپ کسی چیز کو ہلادیں تو وہ کچھ وقت تک ہلتی رہتی ہے اس کا یہ مومنٹم تھوڑا بہت ضرور رہتا ہے اسی طرح فوج ابتداءہی سے ہمارے اداروں میں اس طرح گھس چکی ہے کہ لوگ ادارے اور وزرائے اعظم تک ان سے ڈرنے لگے کہ پتہ نہیں اندر سے کس وقت کیا ہوتا ہے اور لوگوں کا یہ خوف بجا بھی ہے جب تک اس ملک کی فضاءصاف نہیں ہوگی اور فوج اقتدار چھوڑ کر اپنے اصل مقام کو نہیں پہچانے گی اس وقت تک معاملات ابتر ہوتے جائیں گے اور میرے خیال میں یہ ملک اس حالت میں بھی نہیں رہے گا جیسا کہ اب ہے بلکہ اس کی شکست و ریخت کا پیمانہ وسیع تر ہوتا چلا جائے گا ۔بلوچستان اور صوبہ سرحد کے ان وزیری لوگوں نے اس ملک کی بقاءکےلئے لڑائیاں لڑی ہےں ۔ میں 1949ءمیں کشمیر میں تھا میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا آج اگر پاکستان آزاد کشمیر کا نام لے رہا ہے تو یہ انہی قبائل کی مرہون منت ہے میں نے مشاہدہ کیا کہ ہمارا اپرہیڈ قبائل کے بندوق کی وجہ سے تھا اور پھر جب فوج نے یہ اختیارات اپنے ہاتھ میں لئے تو پھر پیچھے ہی ہٹتے گئے اور بالآخر سیز فائر پر بات ختم کردی ۔
٭ اور اب انہی لوگوں کو اس خطے سے متنفر کیا جارہا ہے ؟
احمد فراز:۔ یہی باجوڑ کے لوگ تھے جنہوں نے قوم کی عزت اور ناموس کےلئے بندوق اٹھائی تھی اور آج ان کے بچوں کو ہوائی جہازوں سے نشانہ بنا کر آگ اور دھویں میں جھونکا جارہا ہے ادھر بلوچستان میں بگٹی پہلا آدمی تھا جو وہاں سے وطن کا پہلا سپاہی بنا تھا اور اس بگٹی کا حشر بھی لوگوں نے دیکھ لیا تو بے حسی کی ایک ایسی ہوا چل پڑی ہے کہ کسی کو یہ احساس ہی نہیں کہ یہ سب کیا ہورہا ہے ؟ ان حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے مستقبل بہت تاریک نظر آرہا ہے ۔
٭ بگٹی صاحب کے انتقال پر آپ نے وہاں کی انتظامیہ کے حوالے سے جو اشعار لکھے تھے کیا وہ ہمارے ساتھ شیئر کریں گے ؟


اے چوبدار میر سپاہ ستم گراں
صد حیف خون یوسف کنعاں فروختی
فرزند خانوادہ نشتر بدی ولے
پندار خویش و دین بزرگاں فروختی
تف بر تواے حریف قباو کلائے زر
خود رافروختی وچہ ارزاں فروختی


٭ سائنس کا شعبہ ہو ،ادب کا یا پریس اور میڈیا کا اس وقت تقریباً تمام بڑی شخصیتیں اور بڑے ادارے معتوب و محبوس ہیں ۔ کیا آپ کسی ادارے کو آزاد پاتے ہیں ؟
احمد فراز: ۔ دراصل 71 ءکے حالات کو بہت جلدیبھلا دیا گیا ۔ جس قسم کے حالات ہیں ان میں یہ لاوا پھوٹے گا اور پھوٹ رہا ہے جرنیلوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک خانہ جنگی کی طرف جارہا ہے اور جنگ تو ہوگی لیکن عوا اور فو ج کے درمیان ۔عالمی منڈی میں طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ دو ایک جرنیلوں کو خریدار جاتا ہے تاکہ ڈھائی تین سو لوگوں پر مشتمل پارلیمنٹ کو ان کے ذریعے خریدا جاسکے ۔
٭ تو کیا لوگ اسی طرح ظلم سہتے رہیں گے ؟
احمد فراز:۔ جب تک کوئی بڑی تحریک نہیں چلے گی اسی طرح ہوتا رہے گا تحریک سے مراد محض مومنٹ نہیں تحریک وہ ہے جس میں مستقل طور پر اپنی دھرتی سے ہمدردی اور محبت کا حوالہ موجود رہتا ہو۔ پہلے زمانے میں تو پےغمبر رہنمائی کیلئے آیا کرتے تھے پھر دیگر مصلحین آئے اس کے بعد مختلف صدیوں میں حالات نے انقلابی شخصیات کو جنما ۔ ان قافلوں میں شعراءبھی شامل رہے اور دانشور طبقہ بھی بیسویں صدی کی سیاست میں ذرا ماؤزے تنگ کے کردار کو دیکھئے 1947ءمیں تقسیم ہند کا عمل ہوتا ہے یہاں لوگ آزادی کی خوشیوں میں مگن ہیں اور ماوزے تنگ شنگھائی میں لڑائی لڑرہے ہیں ۔لیکن دیکھئے آج چائنہ کس مقام پر کھڑا ہے ۔
٭ مذاہب عالم کو دیکھتے ہوئے اگر میں آپ سے مذہب کے حوالے سے کوئی سوال پوچھوں تو ؟
احمد فراز :۔ انسان کی زندگی میں مذہب کا بہت بڑا رول ہے غور سے دیکھئے تو اکثر مذاہب کے بنیادی اصولوں میں بہت ساری باتیں مشترک نکلیں گی مثلاً کون سامذہب کہتا ہے کہ جھوٹ اچھی چیز ہے دنیا کے سارے مذاہب سچائی کی تلقین کرتے ہیں دیانتداری کی بات کرتے ہیں آپ خدا کو مانتے ہیں ٹھیک ہے اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے کیونکہ اب تو آپ کو سمجھدار ہونا چاہیے یہ نہ ہو کہ خدا کا نام لے کر دھوکہ دہی سے کام لیا جائے لیکن دیکھا جائے تو دنیا میں کسی بھی ملک میں ہمارے لوگ جاتے ہیں تو فراڈ ، اورقانون شکنی میں پکڑے جاتے ہیں یہ اس لئے کہ ہم نے کیر یکٹر کی تعمیر نہیں کی صرف دو چار کاجلز یا یونیورسٹیوں کے بنانے سے قومیں نہیں بنتیںاس کے لئے سسٹم ہوتا ہے جیسے گھر ایک تربیت گاہ ہے اسی طرح ملک بھی ایک ماں کی گود جیسا ہوتا ہے جہاں سے آدمی سیکھنا شروع کرتا ہے ۔
٭ تقسیم ہند کے وقت بہت سارے لکھنے والوں کی ایسی تحریریں سامنے آئیں جیسے وہ اس عمل سے خوش نہیں تھے جیسے فیض صاحب ،انتظار حسین ،ناصر کاظمی ، سعادت حسن منٹو وغیرہ آپ کو ایسا لگتا ہے ؟
احمد فراز :۔ ان کی بات اپنی جگہ درست ہے کیونکہ ان لوگوں نے اس پورے سانحے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن جو لوگ یہاں تھے مثلاً میں پٹھان ہوں اس علاقے کا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ میرا علاقہ تو نہیں بانٹا گیا تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں اس پوری صورتحال کے بارے میں لیکن ہم دوسروں کو الزام ضرور دیتے ہیں ہم جو اپنی اچھائی اور برائی پر کبھی نہیں سوچتے تو باہر والوں پر الزام کیوں دھریں ایک تو یہ کہ خدارا دوسروں کو الزام نہ دو ۔اپنے آپ کو بلیم کریں ۔طاقتور دوسرا نہیں ہوتا آپ کمزور ہوتے ہیں اگر آپ کا کردار اونچا ہے تو خاموشی سے اپنے کردار کو آگے لے جائیں میں نے پہلے بھی بتایا کہ چائنہ نے آزادی کے بعد خاموشی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا نہ کسی ملک سے لڑائی کی خواہش ظاہر کی اور نہ کہیں فوج بھیجنے کے جنون میں مبتلا ہوئے وہ اپنا کام اور اپنے مقاصد کا حصول کرتا رہالیکن ہم نے کیا کیا یہ جو کمزور آدمی ہوتا ہے یہ بڑھکیں بہت مارتا ہے اور یہی حال ہمارا بھی ہے نتیجہ آج سب کے سامنے ہے پاکستان جیتے گا اور ٹیم ہار رہی ہوتی ہے پاکستان جیتے گا اور ہار کے کاغذوں پر سائن ہورہے ہیں تو یہ بڑھکیں چھوڑ دیں اس سے کچھ نہیں بنے گا خاموشی سے بیٹھ کر ہم کوئی تعمیری کام کیوں نہ کریں یہ وژن ہونا چاہیے کہ 2020 ءتک مجھے کیا کرنا ہے اور کیا بننا ہے اور 2020 ءاور پچیس کے درمیان کونسے نئے راستوں کا سفر اخیتار کرنا ہے یہ ہوگا تو بات بنے گی ؟
٭ جس وقت ایک خاص قسم کی مزاحمتی شاعری ہورہی تھی اس دور میں بہت سے لوگ جیلوں میں ڈالے گئے اور کچھ لوگوں پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد فراز :۔ کچھ لوگ جلا وطن ہوگئے ،جیلوں میں ڈالے گئے کسی نے کوڑے کھائے ۔ وہ بھی آمریت ہی کا دور تھا تو جب ہمیں کراچی سے آرڈر ملا کہ سندھ بدر کردیئے گئے ہیں تو میں ہوٹل میں تھا پولیس نے آکے آرڈر دیا او رصبح مجھے ساتھ بٹھا یا تو میں اس وقت سوچ رہا تھا کہ جب اپنے ملک میں ایک کمرے سے دوسرے کمر ے تک جانے پر پابندی ہوجائے وہاں کل کو کچھ بھی ہوسکتا ہے تو وہ وقت تھا جب میں نے سوچا کہ اس ملک کو چھوڑدوں اور میری طرح اور بھی بہت سے دکھی لوگ تھے ایسے بہت سے غریب الوطن لوگ ہوں گے جنہوں نے ان حالات میں ایسا ہی سوچا ہوگا آپ نے مزاحمتی شاعری کی بات چھیڑی تو اب وہ مزاحمتی شاعری بھی نہ رہی اور یہ تو ہم دوچار پاگل لوگ تھے جنہوں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلئے یہ ایک لمبا قصہ ہے ۔
٭ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لفظ ان محسوسات کو پورے طور پر ادا کرنے پر قادر ہوتا ہے جو ہمارے من میں ہوتے ہیں یا ان کیفیات کو گرفت میں نہیں لایا جاسکتاجن کی وجہ سے ہم باربار تشبیہات ، استعارات ،اسلوبیات اور ڈکشن کے جال بچھاتے ہیں ۔
احمد فراز :۔ہر لفظ کے مختلف شیڈز ہوتے ہیں اور ہر زمانے میں وہ اپنے کنٹکسٹ بدلتے رہتے ہیں مقتل ،قاتل اور بسمل وہی لفظ ہیں لیکن غالب کے ہاں ان کے معنی کچھ اور ہوجاتے ہیں اورفیض ان کو الگ رنگوں میں باندھ رہے ہیں ۔ یہ تمام چیزیں حالات کے زیر اثر ہوتی ہیں اور بڑا شاعر وہی ہے جو حالات کے مطابق الفاظ میں نئے معنی پیدا کرتا ہے اور وہی اس کے تلازمات بن جاتے ہیں وہی اس کی تشبیہ اور استعارات بن جاتے ہیں ۔ پھر یہ کہ شاعری میں جو تجربے ہوتے ہیں وہ بری چیز نہیں ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان تجربوں سے زیادہ اپنے مقصد پر نظر رکھنی چاہیے ۔
”آنکھ طائر کی نشیمن پر رہے پرواز میں “
سعادت حسن منٹو نے ایک طرح لکھا تو کرشن چندر نے ایک اور انداز اپنایا لیکن دونوں نے بنیادی طو رپر معاشرتی برائیوں پر قلم اٹھایا تھا ۔ بہر حال ہر شخص کا اپنا نظریہ ہوتا ہے اپنا سٹائل ہوتا ہے اپنی سوچ اور اپنا تجربہ ،اپنی کٹمنٹ اور قابلیت ہوتی ہے اور تمام چیزیں اس کی فکر کے مرکزی نکتے کی تشکیل میں مدد فراہم کرتے ہیں ۔
٭ آپ نے لفظوں ،تراکیب یا موضوعات کے باب میں غالب کی جدت پسندی کا حوالہ دیا جن کو بعد میں آنے والے آگے لے گئے یہ بحث بڑی دلچسپ ہے کیونکہ غالب کے ہاں ہمیں بہت ساری ایسی چیزیں مل جاتی ہیں جو بعد میں دوسروں کے ہاں پھیلی ہوئی شکل میں نظر آتی ہے جیسے فیض صاحب نے لکھا اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ لیکن ترقی پسند تحریک سے بہت پہلے انیسویں صدی میں غالب غزل کے ایک شعر میں مکمل طور پر ایک باغی کے روپ میں نظر آتے ہیں ۔
تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم یہ بہت سے ستم ہوئے
اور یا پھر
کب تک خیال طرہ لیلیٰ کرے کوئی
احمد فراز :۔آپ کی بات درست ہے غالب تو وہ شاعر ہے جنہیں صدیاں تلاش کرتی ہیں وہ کل بھی غالب تھا اور آج بھی غالب ہے بعض لو گ اپنے علاقوں میں اپنی زندگی ہی میں مر جاتے ہیں سانس چلتی رہتی ہے لیکن کوئی ان کو پوچھتا تک نہیں اور یہ لوگ ختم ہو جاتے ہیں یہ جو بڑا شاعر ہوتا ہے اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے کیونکہ ٹائم از دی ٹیسٹ آف کریٹویٹی تو غالب کی کریٹویٹی اتنی زیادہ تھی کہ انہیں اندازہ تھا اور ان کا ماننا تھا کہ میرا چمن تو ابھی بنا ہی نہیں ابھی پتہ نہیں کتنا آگے چل کر ہم غالب کو صحیح معنوں میں دریافت کریں گے ۔
٭ کیا اقبال بھی ان سے انسپائریشن لے رہا ہے ؟
احمد فراز :۔ اقبال بھی بہت بڑا شاعر ہے ان میں پویٹک سنسبلٹی بہت زیادہ تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے ماضی کو زیادہ لیا اور غالب نے مستقبل کو لیکن اقبال ماضی کے ساتھ ایک صحت مند تعلق رکھتا ہے اور اس دور کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس نے ماضی کی عظمت کو یاد کرکے ٹھیک ہی کیا ۔
٭ غالب نے کہا تھا


لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
مانا کہ ایک بزرگ ہمیں ہمسفر ملے


اقبال نے بعد میں آکر کہا


رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑدے


غالب کا خیال تھا کہ


دیر نہیں ،حرم نہیں ،درنہیں آستاں نہیں
بیٹھے ہیں رہگز ر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں


اقبال کہتے ہیں


تنگ آکے میں نے آخر دیر وحرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا ،چھوڑے تیرے افسانے


احمد فراز :۔ہوتا یہی ہے کہ شعراءکا قبیلہ دراصل ایک ہی فیزسے تعلق رکھتا ہے غالب اقبال کے فیز میں بھی آیا اور اقبال غالب کے ہاں ۔ یہ کیفیتیں آتی رہتی ہیں ۔ اپنی اپنی وژن اور طاقت ہوتی ہے اس میں شک نہیں کہ غالب کو ہر ایک نے تسلیم کیا لیکن عبدالقادر بیدل کو دیکھئے تو وہ سب سے بڑا شاعر نظر آئے گا بس یہ کہ وہ اپنی خالص شاعری کے استعاروں میں گم رہاپٹنہ میں ایک نشست کے دوران میں نے بیدل کے حوالے سے کہا تھا کہ ہماری سو کالڈ آزادی پر بہت سارے شاعروں نے نظمیں لکھیں فیض صاحب ،قاسمی صاحب ، اختر الاایمان اور دوسرے شعراءاورسبھی کا مقصد تھا کہ جس صبح کی ہمیں تلاش تھی وہ ابھی نہیں آئی بیدل کہتا ہے
شب رفت ،سحرنہ شد، شب آمد
اب اردو کی وہ ساری نظمیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسری طرف یہ ایک لائن رکھ دیں چونکہ فارسی کا اب وہ چلن نہیں رہا اس لئے بیدل کی وہ توقیر نہیں ہوئی جس کے وہ مستحق تھے ۔
٭ ایک دور طالبعلمی کا بھی ہوتا ہے آپ نے جامعہ پشاور کے شعبہ اردو میں بھی زندگی کے کچھ لمحے گزارے اس دور میں کچھ اپنے بارے میں سوچا تھا کہ آگے جاکر کیا کرنا ہے ؟
احمد فراز :۔ ایک سٹوڈنٹ کی حیثیت سے کہوں تو شروع ہی سے ہم باغی تھے کبھی کبھی استادوں سے بھی لڑ پڑتے تھے وہ کہتے تھے یہ سبق یوں ہے ہم کہتے یوں نہیں یوں ہے تو کلاس سے نکال دیئے جاتے تھے۔ میرے کسی کلاس فیلو سے پوچھئے تو وہ آپ کو بتائے گا کہ زمانہ طالب علمی میں کیا کیا تماشے ہوئے لیکن میں خوش ہوں کہ میں نے شعبہ اردو میں پڑھا ایک باغ میں مختلف پھول ہوتے ہیں شاخیں ہوتی ہیں وہی ہوا آتی ہے وہی پانی ہے لیکن ہر پھول اپنے رنگ رکھتا ہے اور کبھی کبھی صحراؤں میں بھی آپ کو گل لالہ نظر آجاتا ہے۔
کم سو چا لیکن کچھ تو کیا کم پڑھا مگر کچھ تو پڑھا اگر افسوس ہے تو یہ کہ زندگی کو ہم نے ضائع بھی بہت کیا اس کی بجائے اگر پڑھتے تو ۔۔۔۔۔ لیکن لگتا ہے اگر پڑھتے تو ممکن ہے اور زیادہ خراب ہو جاتے ۔
میراخیال تھا کہ پائلٹ بنوں گا ا اور جہاز اڑاؤں گا ۔
٭ ایک شاعر کے تخیل کی کرشمہ سازیاں اڑن کھٹولوں سے آگے ہوتی ہے تخیل کے آسمانوں پر کمندیں ڈالتے ہوئے بھی آپ نے زمین زادوں سے رشتہ جوڑے رکھا یہی آپ کی رفعت ہے اور اسی نے آپ کو سرفرازی عطاءکی ۔ ایک آخری سوال اسے دل پشوری ہی سمجھ لےجئے ۔
”مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے“ ”کتنی حقیت کتنا فسانہ “ اگر افسانہ ہے تو یہ افسانہ کب تک رہے گا ؟
احمد فراز :۔ یار میں نے تو کچھ نہیں کہا اگر افسانہ ہے تو بننے دو افسانے کو یہ شگفتہ افسانے تو ہر دور میں بنتے رہتے ہیں ۔
٭٭٭گویا خلقت شہر تو
احمد فراز :۔ کہنے کو فسانے مانگے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے حد سر پھرا آدمی ہے اچھا ہے تو بہت اچھا ضد میں آگیا توساری بساط الٹ دیتا ہے وہ وقت کو سلام نہیں کرتا اس لئے کج کلاہوں کی آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرتا ہے ۔(رحیم گل)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فراز سے بہت سے لوگ دراصل اس لئے خفا ہیں جن میں بھی شامل رہا کہ یہ آتش فشاں کیوں ہے ایش ٹرے کیوں نہیں ۔ موم بتی کیوں نہیں ۔ اس کے بعض نظریات سے نظریاتی بنیادوں پر اختلاف بھی ہو تو کم ازکم اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے مقام پر بڑی استقامت کیساتھ کھڑا رہا اور بولنے کے وقت خاموش نہیں رہا ۔ ایسے لوگوں کو اختلافات کے باوجود ۔۔۔۔۔۔ احترام کا خراج دینا پڑتا ہے ۔(سید ضمیر جعفری


اویس قرنی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s