فیض امن میلہ 2009


فیض احمد فیض

گاگ اڑاتی ایسی کئی راتوں سے زندگی شبنم اور شعلے کی ملی جلی شدت اور لذت اندوزی سے گزری تھی۔۔جب زندگی کی نبضیں تیر تیز چلنی شروع ہو جایا کرتیں۔۔۔وقت کے پیمانوں کی چھلکاہٹ اپنی گردش کے مدار سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی اور رندوں کی راہوں میں بنجاروں کے استقبالیہ نغمے بلند ہوتے ہوئے میخانے کے غرور کو سہ آتشہ بنا دیتے تھے۔
اس رات بھی دھومیں مچی ہوئی تھیں تغزل کی بینا الاپتے الاپتے لاہور اپنی سرمستی اور قلندری پر نازاں شہر ادب کے ستاروں سے خراج لے رہا تھا اشعار کے جگنوؤں نے شبنمستان فیض کو بقعہ نور بنا دیا تھا ۔۔۔ زینہ زینہ اترتے صلح محبت اور وفا کے دیئے باد نو بہار کی نوید سناتے گلوں میں رنگ بھر رہے تھے ایسا لگا جیسے مدتوں بعد آوازوں کی تنہائی سایوں کے دشت سے نکل آئی ہو۔ ہونٹوں کے سراب پیاس کے دریا کو سمندروں کی وسعتیں دے چکے تھے۔
ابھی ہجر کے غم کا نغمہ اپنے سوز کا فسانہ مکمل نہ کر پایا تھا کہ یکبارگی تاریک راہوں سے پھر کچھ بانکوں کی جی دار چیخیں ابھر آئیں تب بزم آرائی نے ایک ثانیے کے لیے خاموشی کا ہنگام اوڑھ لیا اوراس مختصر سے وقفے میں نگاہوں نے دن بھر کی دیکھی ہوئی تصویروں کو ذہن کے پردے سے جھٹکنے کی پھر سے کوششیں شروع کیں دن جس کے سحر کے لیے مدتوں انتظار کی سولیوں پر لٹکنا پڑ گیا ۔ جس کی آرزو میں یاروں نے رات کے پنجوں سے پنجہ لڑایا لیکن اب جب دن ، رات کے پنجے سے نکلی تو اس شب گزیدہ حالت میں کہ رات اور دن کے فرق کو مٹانا ممکن نہ رہا۔
لیکن اس مختصر سے وقفے کے فوراً بعد لارنس باغ کے کھلے میدان میں گزری ہوئی رات ہر اک اولی الامر کو صدا دو کہ اپنی فرد عمل سنبھالے کے ترانے پر تھرکنے لگی تھی۔
میں نے دن بھر کے جلتے سلگتے احساسات کو انہی صداؤں کے لے میں چھوڑ دیا تو آس پاس کے خوف میں بھٹکے ہوئے تصورات پھر سے مستقبل کی تصویریں بنانے لگے۔ لیکن جلد ہی وہ تلخ احساس پھر سے عود کر آ گیا کیسے زندگی سے اس کا تبسم چھین کر اسے زندانی کر دیا گیا کس طرح جوان جہان آزادی کو بھیک کی بیڑیوں میں کھینچا گیا کس کس کی زندگی کو موت کی تمنا میں تلملایا گیا کس کے ضمیر کے زخموں پر نئے نشتروں کے پھاہے رکھے گئے کن کن سڑکوں نے لہو چاٹ چاٹ کر اپنی خوراک کا سامان کیا اور کس کس کے چٹور پنے نے چچوریوں کے تھیلے بھر بھر کر اپنی مسرتوں کا ایندھن جمع کیا کتنے ہی ریشم کمخواب کے ملبوس انصاف کے ماپ سے ہو کے پہلے چھوتے پڑ گئے اور کتنے ہی لباس اپنی خاک نشینی سے اٹھنے کی امنگ میں خون سے رنگی ہوئی شامیں ٹھہر گئیں۔ تب سبھی سوچیں ایک نکتے پر مرتکز ہوتی گئیں کہ اے میرے دمساز و غمگسار محبوب تیرے چہرے سے عالم میں لاکھ بہاریں سہی پر ابھی وہ نغمہ بہار سنانے والی دیوی یہاں نہیں آئی جس کی شبنمی روح کی غنائیت ان جانگداز دکھوں کو ، اس بڑھتی ہوئی افسردگی اور اضمحلال کو اور خود فریبی کے اس صحرا میں صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم کو توڑ کر آہنگ نو کی تخلیق کر دے۔
اوپن ائیر تھیٹر لاہور کی یہ یادگار رات اپنے آنچل میں کئی داستانیں لیے محو رقص تھی میں نے قریب بیٹھے ہوئے راحت سعید صاحب سے کہا کہ ایسی جنوں خیز وارفتگی پہلے تو کبھی نہیں آئی لیکن راحت صاحب اسوقت اس نغمے کی لے میں کھوئے گئے تھے جس کے سر دلوں کے کھواڑ کھول دیتے ہیں، نہ پوچھو میرے دوستو ! مرلی کی تانوں پررقص کس طرح رات بھر جاگتا رہا میں حیران و ششدر بانسری بجانے والے کے کمال فن پر خاموشی سے داد دے رہا تھا کہ یہاں الفاظ بے کار سے بے کار تر ہوتے جارہے تھے سانسوں کی لطافتوں سے بنسری حرکت میں آکر نغموں کو مزید گہرائیوں کے طلسم میں ڈبو کر سسک اور تڑپ کو بڑھاوا دے رہی تھی ۔ ارشاد امین جیسے بوڑھے جوانوں کو بے تاب کرنے کے لیے مرلی کے شعلوں نے بڑا کام دکھایا اور پھر ۔۔۔۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے ۔۔۔۔ کے ساتھ ڈھول کی تھاپ پڑی تو رات کا پچھلا پہر انقلاب کے نعروں سے گونج رہا تھا فسردہ روحیں کھل اٹھی تھیں۔ ہم آس پاس سے بے نیاز ہو چکے تھے ۔ خبر آئی کہ وکلاء لانگ مارچ اختتامی مراحل میں داخل ہو چکی ہے لیکن اس خبر کے ساتھ جڑی یہ بھی سنی کہ مردان ، پشاور اور اسلام آباد جانے والے سبھی راستوں پر چوراہوں پر راتوں رات دیواریں اگ آئی ہیں اور شاید ہی کل کوئی اپنے گھر نکل سکے۔ ابھی اسی ادھیڑ بن میں کانوں سے کان مل رہے تھے کہ مرلی سے ایک اور تھرکتا ہوا نغمہ بلند ہوا۔


ان طوق و سلاسل کو ہم تم سکھلائیں گے شورش بربط و نے
وہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامہ طبل قیصرو کے
یہ شام و سحر یہ شمس و قمر یہ اختر کوکب اپنے ہیں
یہ لوح و قلم یہ طبل و علم یہ مال و حشم سب اپنے ہیں


رشید مصباح ، یحییٰ احمد ، عابد حسن اور ارشاد امین کی دیکھا دیکھی پورے پنڈال کی تال میل بدل گئی تھی بقول فیض


دل عشاق کی خبر لینا
پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں


اس محفل سے ایک روز قبل الحمراء میں فیض امن میلا کی افتتاحی کاروائی بڑے ہی مدہم بہاؤ میں شروع ہوئی تھی لیکن رفتہ رفتہ میلہ جم ہی گیا۔ افتتاحی تقریب کی صدارت جناب حمید اختر نے کی اس موقع پر عالمی امن کو سامراج سے درپیش خطرات کے موضوع پر گراں بہا مقالے پڑھے گئے اپنے مقالے و مضامین میں حالات حاضرہ پر ڈاکٹر ضیا الحسن ، جمیل عمر ، پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن ، آئی اے رحمان ، ڈاکٹر یحییٰ احمد ، یوسف سندھی ، محمد اویس قرنی ، اسد مفتی ، عابد حسین ، ڈاکٹر ذوالفقار سیال ، زیب النساء زیبی ، اسلم گوداس پوری ، راحت سعید اور حمید اختر نےتاریخی ، سیاسی اور معاشی حوالون کو لے کر امن عالم کو درپیش خطرات کے پورے عالمی منظر نامے پر روشنی ڈالی جناب سلیم راز بوجو اس میلے میں شریک نہ ہو سکے راقم الحروف نے اپنا مضمون پیش کرنے سے قبل راز صاحب کا مقالہ سنایا اس خوبصورت محفل کی نظامت رشید مصباح اور بشریٰ خالق کے حصے میں آئی۔ اس روز الحمرا ہی میں حبیب جالب مرحوم کی یاد میں منعقدہ ایک پروگرام کو ایک مخصوص سیاسی گروپ کے سرکردہ افراد لے اڑے ، کھلے عام نعرہ بازی اور حبیب جالب کے اشعار کی نئی سیاسی تشریحات کے بعد اسد مفتی نے سرگوشی کے انداز میں مجھے باہر جانے کا مشورہ دیا ہم دونوں ہال سے نکلے و کچھ ہی دیر بعد بہت ساری خواتین و خوانین بھی مفتی صاحب کی تقلید میں ہال سے نکلنے شروع ہوئے اور تقریباً پانچ منٹ بعد پورا جلسہ باہر کے کیفے ٹیریا میں چائے کی چسکی ، پان کی پیک اور سگریٹ کے دھویں میں تحلیل ہو چکا تھا ۔
شام کو یحییٰ کے ساتھ کربلا گامے شاہ کی راہ لی جہاں مولانا محمد حسین آزاد کے مزار پر حاضری دی واپسی پر حضرت داتا گنج بخش کے مزار کے احاطے میں ہو حق کی صداؤں نے قدم روک لیے رات کے آخری پہر ہوٹل واپس آئے تو راحت سعید اور اسد مفتی فیض صاحب سے اپنی ملاقاتوں کے دئیے روشن کیے تالیف نسخہ ہائے وفا کر چکے تھے دئیے جلتے رہے یہاں تک کہ باد نسیم نے لطافتوں کے نئے دروا کئے


صبا کے ہاتھ مین نرمی ہے ان کے ہاتھوں کی
ٹھہر ٹھہر کے یہ ہوتا ہے آج دل کو گماں
وہ ہاتھ ڈھونڈ رہے ہیں بساط محفل میں
کہ دل کے داغ کہاں ہیں نشست درد کہاں


ہوٹل سے نکلے تو مزار فیض پر حاضری کے لیے ہفت روزہ ہم شہری کی وین کھڑی تھی ماڈن ٹاون کا راستہ لے کر سب سے پہلے فیض گھر کے درشن کیے جہاں موبی لنک والوں نے ڈیرا ڈالا ہوا تھا ۔فیض کی یادگار تصویروں کے نگار خانے میں کوئی گھنٹہ بھر گزارنے کے بعد مزار فیض کی سلامی لینے چل دئیے۔


دعا
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
ہم نہیں سوز محبت کے سوا
کوئی بت ، کوئی خدا یاد نہیں
آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی
زہر امروز میں شیرینی فردا بھر دے
وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیں
ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے
جن کی آنکھوں کو رخ صبح کا یارا بھی نہیں
ان کی راتوں میں کوئی شمع منور کر دے
جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہار بھی نہیں
ان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کر دے


اسی رات اوپن ائیر تھیٹر لارنس باغ میں ایک مشاعرہ ہوا جس کی نظامت عابد حسین عابد جبکہ صدارت اسلم گورداس پوری نے کی امن مشاعرے میں سندھی پشتو ، پنجابی اور اردو کے شعراء نے شرکت کی۔ حسین مجروح ، ڈاکٹر جواد جعفری ، جاوید قاسم ، واجد امیر ، لطیف ساحل ، جمیل صادق ، زیب النساء ، زیبی ، اسد مفتی ، جبار ملاح ، کامران اشعر ، فاطمہ غزل ، اشرف سلیم ، اعظم منیر ، شہباز شفیق ، جاوید آفتاب ، محمد اویس قرنی ، ڈاکٹر ذوالفقار سیال ، ڈاکٹر افتخار بخاری ، کاظم جعفری ، عابد حسین عابد ، اسلم طارق ، رضی حیدر ، شبیر حسن ، نوید آکاشی ، افسر منہاس اور کئی دوسرے شعراء نے خوبصورت کلام سے محفل کو گرما دیا مشاعرے کے فوراً بعد محفل موسیقی میں فیض احمد فیض کے کلام سے سماں باندھا گیا ۔
بدھ کو لانگ مارچ کے بڑھتے ہوئے ریلے کے پیش نظر لاہور کے سارے راستے سیل کر دئیے گئے تھے اور میں یحییٰ احمد بچتے بچاتے راستہ بناتے سعادت حسن منٹو کے گھر پہنچ گئے جہاں ان کی بیٹی نگہت پٹیل نے ہمارا استقبال کیا۔
نگہت کے ساتھ دیر تک صفیہ مرحومہ اور سعادت حسن منٹو کی یادوں پر آدھارت قصے چلے وہاں سے واپس ہوئے تو ڈاکٹر وزیر آغا کا فون آیا جنہوں نے شہر کے حالات کی خرابی کے پیش نظر ہدایات دیں۔
اپنے کرم فرما جناب راحت سعید ، عابد حسین عابد اور رشید مصباح سے اجازت لینے کے بعد جونہی ہوٹل سے نکلے لانگ مارچ اپنے کلائمکس میں داخل ہونے جارہا تھا ماڈل ٹاون سے نکلنے والے قافلوں نے راستوں کے بند توڑ دئیے تھے ابھی اعتزاز تقریر کے لیے مائیک لے رہے تھے کہ ڈاکٹر وزیر آغآ نے پھر سے فون کھڑکا یا چنانچہ بیس پچیس منٹ بعد آغا صاحب کے گھر کی دہلیز سامنے تھی ایک لمبی کھتا چھڑی احمد ندیم قاسمی کے افسانے کپاس کا پھول پر میرے کیے گئے تبصرے کا بار بار ذکر کیا ڈاکٹر انور سدید کا فون نمبر گھمایا اور ان کو میرے آنے کی اطلاع دی ۔ ڈاکٹر صاحب نے واپسی پر ماہنامہ شبخون الہ آباد کے تازہ شمارے اور اپنی کتابوں کے نئے ایڈیشن عنایت کیے۔ ادھر سے نکلا ہوںتو راستوں میں ٹریفک ندارد شام کے ستارے چمک اٹھے ہیں اڈے میں سے بسیں غائب ہیں اور لاہور ریلوے سٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہیں وہ شور ہے ۔ دیکھتا ہوں کہ گاڑی کس وقت آئے گی۔ آئے گی بھی یا نہیں سوچتا ہوں یہ رات کس طرح کٹے گی کٹ بھی جائے گی یا نہیں


الم نصیبوں ، جگر فگاروں
کہ صبح افلاک پر نہیں ہے
جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں
سحر کا روشن افق یہیں ہے
یہیں پہ غم کے شرار کھل کر
شفق کا گلزار بن گئے ہیں
یہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشے
قطار اندر قطار کرنوں
کے آتشیں ہار بن گئے ہیں
یہ غم جو اس رات نے دیا ہے
یہ غم سحر کا یقین بنا ہے
یقین جو غم سے کریم تر ہے
سحر جو شب سے عظیم تر ہے


تحریر اویس قرنی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s