کُرم


جب کبھی کوئی مسرت زا نغمہ ہواؤں کے دوش پر گنگناتے ہوئے ، دل کی وادیوں میں آکر بسیرا کرتا ہے تو سپنوں کے موسم آنکھیں کھول کر گویا اپنی تعبیروں کے درشن کرنے نکل پڑتے ہیں۔۔۔۔ خواب سے حقیقت تک کے اس سفر میں جن حالات اور سمستیائیوں سے گزرنا پڑتا ہے منزل قریب ہونے پر اس سفر کی سبھی کھٹنائیاں خوشبوؤں کے استعاروں میں ڈھل جاتی ہیں اور دراصل یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس نے جینے کو گوارا بنا رکھا ہے۔ خود میرے اندر مسرت کا یہ نغمہ اس وقت موجزن ہوتا ہے جب کسی موڑ پر لفظ سے محبت کرنے والے ملتے ہیں۔۔۔۔ جن کے احساسات کی ڈوری از ابتدا تا انتہاء محبت کے دھاگوں سے بندھی رہتی ہے۔
جہانِ محبت کے آبادکاروں کے بینر تلے علمی و ادبی ذوق کا ترجمان مجلہ کرم طباعت کے مراحل سے گزر کر اس وقت مطالعے کی میز پر پہنچ چکا ہے۔ ۔۔۔ اپنے دیدہ زیب رنگوں کی بدولت یہ کاوش قابل استحسا ٹھہرتی ہے ۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں کے بہاروں کی اس انجمن میں پروفیسر اشفاق علی خان، ، شوکت محمود اور وہاب اعجاز نے انمول اور یادگار رنگ بکھیرے ہیں پروفیسر اشفاق علی خان کی سرپرستی میں علم و ادب کا یہ نگار خانہ اردو پشتو انگریزی کے سہ رنگی شیرازے پر استوار ہے۔ پروفیسر انور بابر ، محمد اقبال، ،پروفیسر عثمان علی۔ حیدر زمان ، خالد نوازساقی ۔ رافید اللہ۔ پروفیسر سردراز خان، پروفیسر وہاب ، شاہد اسلام ، شوکت محمود ، عرفان اللہ خٹک ، شوکت اللہ، عمر قیاز ، ثنا اللہ خان ، محمد جمشید ، افتخار درانی ایڈوکیٹ ، محمد علی عثمان ، رئیس خان مروت ، پروفیسر محمد شریف۔ فہد جمال ، پروفیسر عطا اللہ خان اور کئی دوسرے قلم کاروں کی کہکشاں نے اجالوں کے نئے در وا کیے ہیں۔ ۔۔۔گوشہ مہمان کے تحت خوبصورت لہجے کے شاعر شاہد زمان شاہد کے ساتھ ایک ادبی نشست رکھی گئی ہے جس میں ان کی شخصیت اور فن کے علاوہ دور حاضر میں ادب اور ادیب کے کردار پر سیر حاصل گفتگو نے  کرم کی افادیت میں اضافہ کیا ہے۔
بنوں سے گزرنے والے مشہور دریائے کرم پر سی ایل مغموم سرحدی کی رومانوی نظم چلیے سجنی کرم کنارے دلوں میں عہد رفتہ کے الاؤ روشن کر گئی ۔ یاد رہے کہ جناب سی ایل مغموم سرحدی 1947ء کے بٹوارے کے دوران بنوں چھوڑ کر بھارت جابسے ۔ ایک بھرپور معیاری مجلے کو بے حد منفرد اور خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ سامنے لانے پر مجلس ادارت کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے۔ سی ایل مغموم سرحدی کی نظم کرم کنارے سے ہٹ کر ذاتی پسندیدگی کے حساب سے پوچھا جائے تو مجھے مجلے میں شامل ایک تصویر نے مسلسل اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ یہ تصویر رئیس خان صاحب کی ہے خدا ان کی دستارِ فضیلت کوقائم و دائم رکھے۔


دور نیا ایک دیش بنائیں
مل کر گیت وطن کے گائیں
آپس میں ہم پریت بڑھائیں
آؤ سجنی شہر سے جائیں
جھگڑے ، دھندے چھوڑ کے سارے
چلئے سجنی کرم کنارے


تحریر اویس قرنی

ممتاز مفتی کا نفسیاتی تجزیہ


mumtaz mufti

ممتاز مفتی

مفتی ممتاز حسین 11 ستمبر1905ءبمقام بٹالہ (ضلع گورداسپور) پنجاب میں مفتی محمد حسین کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر ، میانوالی ، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں پائی، میٹر ک ڈیرہ غازی خان سے اور ایف اے امرتسر سے کیا۔ اسلامیہ کالج لاہور سے بی ۔ اے کرنے کے بعد سنٹرل ٹیچرز ٹریننگ کالج میں داخلہ لیا۔ جہاں سے ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد محکمہ تعلیم پنجاب کے سینئر انگلش ٹیچر کے طور تعیناتی ہوئی۔ راشد سے ملاقات میں لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی۔ پہلے دو مضامین رسالہ ”نخلستان“ لاہور میں شائع ہوئے۔ میں بطور اسٹاف آرٹسٹ اسکرپٹ رائٹر آل انڈیا ریڈیو لاہور کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ کچھ عرصے تک فلمی صنعت سے بھی وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور آئے ۔کئی رسالہ کے ساتھ وابستہ رہے۔ پاکستان ائیر فورس کے سائیکالوجسٹ بھی رہے۔ کچھ عرصے تک ریڈیو کشمیر کے ساتھ وابستہ رہے۔ میں ان کا تبادلہ ڈائریکٹر وزارتِ اطلاعات ، راولپنڈی کر دیا گیا۔ ریٹائرمنٹ تک اسی محکمے سے وابستہ رہے۔
ان کا پہلا افسانہ ”جھکی جھکی آنکھیں“ ادبی دنیا لاہور میں شائع ہوااوراس طرح وہ مفتی ممتاز حسین سے ممتاز مفتی بن گئے۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے شائع ہوئے جن میں ان کہی ، گہماگہمی ، چپ ، روغنی پتلے، سمے کا بندھن اور اسمارائیں شامل ہیں۔علی پور کا ایلی اور الکھ نگری سوانحی ناول میں شمار ہو تے ہیں۔ جبکہ ہند یاترا ، لبیک جیسے سفر نامے بھی تحریر کیے اورخاکہ نگاری میں اوکھے لوگ ، پیاز کے چھلکے جیسی کتابوں کے خالق ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں→

فیض امن میلہ 2009


فیض احمد فیض

گاگ اڑاتی ایسی کئی راتوں سے زندگی شبنم اور شعلے کی ملی جلی شدت اور لذت اندوزی سے گزری تھی۔۔جب زندگی کی نبضیں تیر تیز چلنی شروع ہو جایا کرتیں۔۔۔وقت کے پیمانوں کی چھلکاہٹ اپنی گردش کے مدار سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی اور رندوں کی راہوں میں بنجاروں کے استقبالیہ نغمے بلند ہوتے ہوئے میخانے کے غرور کو سہ آتشہ بنا دیتے تھے۔
اس رات بھی دھومیں مچی ہوئی تھیں تغزل کی بینا الاپتے الاپتے لاہور اپنی سرمستی اور قلندری پر نازاں شہر ادب کے ستاروں سے خراج لے رہا تھا اشعار کے جگنوؤں نے شبنمستان فیض کو بقعہ نور بنا دیا تھا ۔۔۔ زینہ زینہ اترتے صلح محبت اور وفا کے دیئے باد نو بہار کی نوید سناتے گلوں میں رنگ بھر رہے تھے ایسا لگا جیسے مدتوں بعد آوازوں کی تنہائی سایوں کے دشت سے نکل آئی ہو۔ ہونٹوں کے سراب پیاس کے دریا کو سمندروں کی وسعتیں دے چکے تھے۔
ابھی ہجر کے غم کا نغمہ اپنے سوز کا فسانہ مکمل نہ کر پایا تھا کہ یکبارگی تاریک راہوں سے پھر کچھ بانکوں کی جی دار چیخیں ابھر آئیں تب بزم آرائی نے ایک ثانیے کے لیے خاموشی کا ہنگام اوڑھ لیا اوراس مختصر سے وقفے میں نگاہوں نے دن بھر کی دیکھی ہوئی تصویروں کو ذہن کے پردے سے جھٹکنے کی پھر سے کوششیں شروع کیں دن جس کے سحر کے لیے مدتوں انتظار کی سولیوں پر لٹکنا پڑ گیا ۔ جس کی آرزو میں یاروں نے رات کے پنجوں سے پنجہ لڑایا لیکن اب جب دن ، رات کے پنجے سے نکلی تو اس شب گزیدہ حالت میں کہ رات اور دن کے فرق کو مٹانا ممکن نہ رہا۔ پڑھنا جاری رکھیں→