کب ظلمت ہستی میں تقریبِ سحر ہوگی :او مست نظر جوگی


داعی کبیر حضرت رحمان بابا کے مزار پر حملہ ۔۔۔۔ ادبی دنیا لرز اٹھی

رحمان بابا

رحمان بابا

لا موثر فی الوجود الا اللہ ۔۔۔۔کا ورد کرنے والے ایک گڈری نشین نے جب اس شام ٹوٹی ہوئی محرابوں سے جھکی ہوئی نظریں اٹھائیں تو اس کے آنسوؤں کے تار نگاہوں کی حدت سے ہوتے ہوئے دلوں کے تاروں سے پیوست ہو چکے تھے اسی استغراق کامل اور ذکر و فکر میں ڈوبا وہ مجذوب اگلے ہی لمحے کہیں ڈوبتے سورج کے سایوں میں گم ہو چکا تھا اور میں خیالوں کے محشرستان میں اس سے اتنا بھی نہ پوچھ سکا کہ بابا کے مزار تک کونسا راستہ رہنمائی کر سکتا ہے لیکن جیسے میرے بولنے سے پہلے ہی اس نے میرے سوالوں پر چپ کی مہر لگا رکھی ہو جیسے وہ کہہ رہا ہو ۔۔۔راستے تو ۔۔۔کب کے ۔۔۔اپنی منزلوں سے بھٹک چکے ۔اور پھر ۔۔۔تم لوگ کس بنیاد پر ۔۔۔اور کونسے راستوں کی تلاش میں نکلے ہو۔
تب ایک جگر پاش احساس ندامت نے آگھیرا اور مجھے لگا جیسے دھرتی کانپ رہی ہے ۔۔۔ جیسے توکل ، ایمان ، تخلیق اور اخلاص و محبت کی استہزاء پر وہ لرزہ براندام ہو چکی ہے۔۔۔ پھر یوں لگا جیسے وہ زمین زادوں کے زندہ لاشے دیکھ کر تڑپ رہی ہو جو اپنی تمدن ، تہذیب اور قدروں کی پائمالی میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ عرفان و آگہی کے جادہ پیماؤں کے مزاروں پر بھی شیطنیت اور حیوانیت کے ننگے ناچ سے باز نہیں آئے تب میں نے سوچا کہ زمین کیوں نہیں کانپے گی ۔۔۔۔ آسمان بھی تو کتنا بدل چکا ہے ۔۔۔ حضرت رحمان بابا کے مزار کی بے حرمتی پر پوری ادبی دنیا لر ز اٹھی ہے اس وقت جبکہ ہر بچہ ، بڑا ، نوجوان اور بوڑھا سراپا احتجاج ہے آہنگ اد ب پشاور اور قلم لٹریری مومنٹ مردان نے تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا اس اعلان کے بعد ملک بھر کے ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں نے آہنگ کے دوستوں سے برابر رابطہ رکھا اور حضرت رحمان بابا کی روح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے جذبات و احساسات سے آگاہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر سحر انصاری ۔کراچی

پروفیسر سحر انصاری

پروفیسر سحر انصاری

مجھے وطن عزیز کے شمال مغربی خطے کے اہل قلم اور بزرگوں سے ہمیشہ محبت اور عقیدت رہی ہے ان بزرگوں میں رحمان بابااور خوشحال خان خٹگ سر فہرست ہیں رحمان بابا سترہویں صدی کے شاعر تھے لیکن ان کا کلام ہر دور میں انسانوں کی روحانی اور ذہنی تربیت کرتا رہا ہے ۔ انہوں نے اپنی زندگی اور اپنی شاعری میں کبھی تعصب فرقہ واریت اور انسان دشمنی کی بات نہیں کی۔
ایسے بزرگ کے مزار کو دہشت گردوں نے جس طرح نشانہ بنایا اس کا احوال معلوم کرکے مجھے سخت اذیت ہوئی میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور کراچی اور حیدر آباد سندھ کے تمام انسان دوست ادیبوں کی طرف سے اس غیر انسانی حرکت کی پر زور مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مجرموں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشتاق شباب ۔ سیکرٹری اباسین آرٹس کونسل پشاور
میں سمجھتا ہوں کہ آج جو کچھ ہوا اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ یہ کسی مسلمان کا کام نہیں ہے ایک مسلمان تو اپنے دشمن کے مقبرے کے ساتھ بھی ایسانہیں کر سکتا چہ جائیکہ ایک ولی اور قطب کا مزار اور رحمان بابا کی تو ساری زندگی قال اللہ اور قال رسول کی تفسیر و تشریح میں گزری ۔ یہ جو حج اورعمرہ کے موقع پر لوگ دراقدس پر حاضری دیتے ہیں کل کلاں کو اس پر خدانخواستہ کوئی انگلی اٹھائے تو کیا ہوگا اس غیر انسانی سلوک پر میں سمجھتا ہوں ۔۔۔ہم اس کی سزا کیا دیں گے ویسے مجرموں پر تو خدا کی جانب سے ہی پھٹکار پڑے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر وزیر آغا ۔ نقاد ، انشائیہ نگار ، شاعر ۔ لاہور

ڈاکٹر وزیر آغا

ڈاکٹر وزیر آغا

کسی بھی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے روحانی پیشوا ، عظیم رہنما اور بڑے شاعر ہوتے ہیں جن کے مزاروں پر خلق خدا ، اپنے لیے اور اپنے وطن کی بقاء اور خوش بختی کے لیے حاضر ہو کر دعا مانگتی ہے اور یہ عمال واقعتا ملک کے لیے رحمت اور عزت کا باعث بنتا ہے لیکن اگر ملک کے بعض عناصر ان مزاروں کی بے حرمتی کے مرتکب ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پورے ملک ، اس کے باشندوں ، نیز ملک کی ثقافتی اور روحانی بنیادوں کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ میں رحمان بابا کے مزار شریف پر بعض بے رحم اور جاہل افراد کے حملے کو اسی تناظر میں دیکھتاہوں اور دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی اندھی آنکھوں کو بصارت سے نوازے تاکہ وہ اچھے اور برے میں تمیز کر سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امجد اسلام امجد ۔ لاہور

امجد اسلام امجد

امجد اسلام امجد

میں تو اس واقعے کو بہمیت کی انتہا سمجھتاہوں کہ محبت کا پیغام دینے والے اور سارے انسانوں کو بلاتفریق مسلک و مذہب گلے لگانے والے رحمان بابا کے مزار کے ساتھ ایسا سلوک آخر کیوں کیا گیا ۔ میں نہیں مانتا کہ یہ اس خطے کے لوگ ہیں میری عقل نہیں مانتی کہ کوئی پختون اس طرح کر سکتا ہے ۔ آج ہمارے معاشرے کو جو خرابیاں تباہی کے دہانے پر لا چکی ہیں یقیناً سماجی انصاف کا پرچار کرنے والے عظیم صوفی شاعر رحمان بابا کے افکار پر عمل پیرا ہونے سے اس کا کوئی حل نکالا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالد سہیل ملک ، پروفیسر صبیح احمد ۔ ادبی بیٹخ پشاور
رحمان بابا ہم سب کا مشترکہ ورثہ ہے وہ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اس عظیم صوفی شاعر کے مزار کے احاطے میں اس گھناونی حرکت پر بیٹخ کے اراکین اور مجلس عاملہ کے ممبران گہرے تاسف اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر۔ علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد
رحمان بابا اپنے صوفیانہ اور شاعرانہ مسلک کے اعتبار سے ہماری تہذیبی زندگی کا استعارہ ہے وہ مھبت ، امن اور رواداری کےپیامبر ہیں ان کا کلام صدیوں سے ہمارے فکری اور روحانی جذبوں کا ترجمان ہے اور ان کا مزار مرجع خلائق ہے۔حالیہ بم دھماکے میں ان کے مزار کی بے حرمتی محض ایک عمارت کی بے ادبی نہیں ہے کہ رحمان بابا ایک شخص کا نام تو نہیں ہے وہ تو ایک تہذیب ہے ، ایک تحریک ہے ،ایک فکر اور ایک طرز زندگی کا نام ہے ان کے مزار پر حملہ ہماری تہذیب پر ، ہماری فکر اور ہماری طرز زندگی پر حملہ ہے ، حکومت کو چاہیے کہ ملوث عناصر کو گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا دے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا ظہور نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسحاق وردگ

اسحاق وردگ

اسحاق وردگ۔ سیکرٹری حلقہ اربابِ ذوق پشاور

امن و محبت کے دئیے ، پیکر تصوف ، شاعر انسانیت ، رحمان بابا کے مزار کی بے حرمتی انسانیت ، مذہب اور تہذیب کی نظر میں مذموم اور بزدلانہ فعل ہے آج آسمان اداس ہے اور پوری دنیا کا قلم قبیلہ سوگوار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر انور سدید۔ نقاد ، انشائیہ نگار لاہور
یقین جانیے لاہور میں اس واقعے پر میں نے اپنے دوستوں کو روتے دیکھا ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان سے افغانستان تک یہ پورا بیلٹ امن و آشتی کے ایسے روشن میناروں کا مرکز رہا ہے جن کے فیض تربیت سے صدیاں جلا پاتی رہیں ، خواجہ معین الدین اجمیری ، حضرت داتا گنج بخش ، حضرت مجدد الف ثانی ، حضرت بہاء الدین ذکریا ملتانی اور حضرت رحمان بابا جیسے درویش خدا مست جن کی وجہ سے یہاں اسلام پھیلا ہے اور یہ انہی صاحبانِ کشف کرامات کی برکات ہیں کہ یہ سلسلہ ابھی تک قائم ہے۔۔۔ حکمرانوں کا کیا ہے ۔۔۔ وہ تو بہادر شاہ ظفر کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ جب حملہ ہو رہا تھا تو اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اسی طرح واجد علی شاہ کو دیکھ لیں یا محمد شاہ رنگیلا کو ۔ ان کی وجہ سے تو سلطنتیں تباہ ہو گئیں لیکن اولیاء نے نہایت خاموشی سے اپنا فریضہ ادا کرتے ہوئے زندگی کو زندگی کے معنی لوٹا دئیے ۔ ملک میں انارکی پھیلانے کے لیے رحمان بابا کے مزار کے حاطے میں یہ بیہودگی جس نے بھی کی ہے وہ ہماری تاریخ کا مجرم ہے اور اس مجرم سے نپٹنا حکومت وقت کا فرض اولین بنتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نذر محمد عابد ۔ آہنگ ادب پشاور
محبت اور امن اور انسانیت دوستی کا پیغام دینے والے عظیم صوفی شاعر رحمان بابا کے مزار کی بے حرمتی بے حد افسوسناک اورقابل مذمت ہے رحمان بابا کے فکری وارث انسانی جذبوں کے قاتلوں پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے قلم سے روشن قدروں کی حفاظت کرتے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر اسرار ۔ انشائیہ نگار ، نقاد ، شاعر
آدمیت سہ پہ دولت نہ دے رحمانہ
بت کہ جوڑ شی د سرو زرو انسان نہ دے

ڈاکٹر اسرار

ڈاکٹر اسرار

اس وقت پورے خطے کے وجود میں ایک کرب انگیز لہر دوڑ رہی ہے اور غم و یاس کا منظر نامہ جس میں آسمان لہو رنگ ہے اور فضاء خون آشامی میں ڈوبی ہوئی ہے دراصل اس دلخراش خبر سے صورت پذیر ہوا ہے جس نے ہمارے جذبات اور احساسات کا خون کیا ہے۔
رحمان بابا جیسے بزرگ جن سے لوگوں کی روحانی وابستگی رہی ہے بغیر کسی رنگ و نسل کے امتیاز کے ہمیشہ گمراہ انسانوں کو راہ ہدایت کی طرف بلاتے رہے اور سبھی کو اخلاقیات کا آفاق درس دیتے رہے ۔
آدم زاد پہ معنیٰ واڑہ یو صورت دی
ہر چہ بل ازار دی ھغہ ازار دی
میں سمجھتاہوں کہ اس واقعے کے بعد بابا کی مقبولیت اور ان سے عقیدت کے رشتے مضبوط اور دراز ہو جائیں گے اور ان کا پیغام ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی آب و تاب کے ساتھ دلوں کو روشنی دیتا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منشایاد ۔ افسانہ نگار ۔ ڈرامہ نگار اسلام آباد

منشایاد

منشایاد

ہمارے بزرگوں کی یہ توہین بے حد تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہے اگر اس حوالے سے مزید لاپرواہی برتی گئی تو اس طرح ہمارے دوسرے مشاہیر کی بھی توہین ہو سکتی ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قسم کی وارداتوں کا تدارک کرے لیکن روشنی کے ان میناروں کو زمین پر بسنے والوں کی مذموم حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ ان اولیاء کا مقام اپنی رفعتوں کے ساتھ قائم و دائم رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلیم راز۔ صوبائی صدر انجمن ترقی پسند مصنفین
زہ عاشق یم ، سریکار مے دلہ عشقہ
نہ خلیل ، نہ داؤد زئے نہ مہمند یم

سلیم راز

سلیم راز

اس حساب سے وہ آفاقیت کے اس مقام پر فائز نظر آتے ہیں جہاں دنیا کے سبھی انسان اخوت کے ایک ہی حاشیے میں بندھے نظر آتے ہیں رحمان بابا جس طرح اپنی زندگی میں کبھی متنازعہ نہیں رہے اسی طرح آج تین ساڑھے تین سو سال گزر جانے کے بعد بھی ان کی مقبولیت ، شہرت اور محبوبیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ آج ہمارا معاشرہ جن تکالیف و مصائب کا شکار ہے اس کو دیکھتے ہوئے سماج کی فکری رہنمائی کے لیے رحمان بابا ایک نسخہ کیمیا کا درجہ رکھتے ہیں رحمان بابا کے مزار کے احاطے میں کئے گئے اس بزدلانہ اور وحشیانہ حرکت کی توقع کم از کم کسی انسان سے تو نہیں ہو سکتی ۔
اس قسم کی انتہائی پسندی کسی بھی صورت قابل معافی نہیں ہے۔ ہماری ادبی برادری کا پر زور مطالبہ ہے کہ جس طرح گورا قبرستان کی چاردیواری کے حفاظت کا انتظام کیا گیا ہے اسی طرح ہمارے بزرگوں کے مزارات و مقابر کی حفاظت کے لیے بھی مضبوط سیکورٹی فراہم کی جائے تاکہ ان تاریخی ، تہذیبی اور ثقافتی ورثوں کا تقدس پائمال نہ ہونے پائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منظر نقوی ۔ حلقہ ارباب ِ ذوق اسلام آباد
ہم رحمان بابا کے مزار پر ہونے والے افسوسناک اقعہ کی شدید مذمت کرتے ہیں ، وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک قوم کو سیدھے راستے پر لگانے میں ان کا کردار روز روشن کی طرح واضح ہے وہ پشتون قوم کے کلاسیکی صوفی پوئیٹ ہیں اور صوفیا کا مذہب باہمی بھائی چارے اور فلاح و بہود کا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیض الوہاب ۔ ادبی دوستانو مرکہ مردان
عبدالروف عارف ۔ چیرمین مرکہ
سلیمان کامل ۔ سابق سیکرٹری

اس دل دہلا دینے والے سانحے سے کسی قوم یا کسی زبان ہی کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی توہین ہوئی ہے اور اس واقعے کی تحقیقات بین الاقوامی سطح پر ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں افغانستان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے لیکن بنیادی طور پر ہمارا مطالعہ یو این او سے ہے کہ اگر یہ واقعہ کسی انٹرنیشل گریٹ گیم کی کڑی ہو تو خدا کے لیے ان سیاہ کاروں کے چہروںکو بے نقاب کیا جائے اور ان کو فوری طور پر خصوصی عدالت کے ذریعے عبرت ناک سزا دی جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر فتح محمد ملک ۔ ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

ڈاکٹر فتح محمد ملک

ڈاکٹر فتح محمد ملک

میں نے تو یقین جانیے جب سے یہ خبر سنی ہے اس شدید صدمے سے نہیں نکلا جس نے دل کو فوری طور پر جکڑ لیا تھا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو ان لوگوں کی حرکت ہو سکتی ہے جو نہ تو رحمان بابا کو سمجھتے ہیں نہ تو تصوف کی روایت کو نہ شعر و ادب کو اور نہ ہی انسانیت کی معراج کو۔
اب یہ کہ یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ قبائل کے ساتھ ملا کے ان علاقوں میں جن میں بلوچستان بھی شامل ہے غیر ملکی ایجنیساں بھی کام کر رہی ہیں ایسے میں کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ بابا کے مزار پر حملہ کوئی مسلمان یا کسی پاکستانی کی حرکت ہے ہمیں ان مشکل حالات سے نکلنے کے لیے اس صورتحال میں کوئی راہ نکالنی ہوگی نہیں تو حالات بد سے بد تر ہوتے جائیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکمل نعیم ۔ سخن سرائے لاہور
کچھ لوگ عذاب کی ذد میں ہوتے ہیں اور کچھ خود عذاب ہوتے ہیں وطن عزیز آج کل ان عذاب نما لوگوں کی ذد میں ہے جو نہ صرف دین بلکہ علم و ادب کے بھی دشمن ہیں ۔ حضرت رحمان بابا کے مرقد فیض رساں کی بے حرمتی اہل قلم و دانش کےلیے کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشتاق مجروح یوسف زئی ۔ ڈاکٹر محمد زبیر حسرت
پہ سبب د ظالمانو حاکمانو
او او گورا د پیخور دری واڑہ یو دی
آج رحمان بابا کے اشعار کس طرح نئی معنویت میں ڈھل کر سامنے آرہے ہیں وہ شاعر جن کے افکار اور اشعار کے خیابانوں میں منتشر اور پریشان خیال انسانوں کے ذہنوں میں سرور آمیز لہریں نفوذ کر جاتی تھیں جن کے آستانے پر ہمیشہ دریشوں اور فقیروں کا بھیڑ جھمیلا لگا رہتا اور جہاں آکر روح جذب و کیف کی نئی دنیاؤں کی دریافت اور بازیافت کے زینے طے کرتی آج بربریت کے ہاتھوں اس چوکھٹ اور ان دروازوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں لیکن ہمارا ماننا ہے کہ بابا شاید اس وقت بھی عفو درگزر کی ایک گہری مسکان اور شان استغنا کے ساتھ قرب اور وصال کے درجات طے کررہے ہوں گے ۔ یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد حماد حسن۔ سخن سرائے پشاور
یہ ایک عمارت کی تباہی نہیں بلکہ اس نظریے کے مقابل آنا ہے جو محبت و انسانیت اور امن کا نظریہ ہے اب یہ تجزیہ کرنا زیادہ مشکل کام نہیں کہ ہمیں ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جو مذکورہ نظریے کا منکر ہے ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کا دارمدار اس جنگ کے نتیجے سے جڑا ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نذیر تبسم ۔ چیئر مین شعبہ اردو جامعہ پشاور

ڈاکٹر نذیر تبسم

ڈاکٹر نذیر تبسم

رحمان بابا کا شمار رنگ ، نسل ، زبان اور جغرافیائی خطے سے ہٹ کر انسانیت کی ان علمبرداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے محبت ، اخوت اور رواداری کی تبلیغ کی ۔ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا کے باضمیر ادیبوں کے لیے ایک لمحہ فکر یہ ہے کہ محبت اور امن کے سفیروں کو بھی بارود کی خوشبو کا تحفہ دیا جارہا ہے اس سانحے پر صرف شاعر اور ادیب ہی نہیں بلکہ ہر باضمیر انسان کا دل لہو رو رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاروق جان بابر آزاد ۔ صدر تخلیق انٹرنیشنل پشاور
یہ یقیناً ان لوگوں کا کام ہے جو مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی مذموم سازشوں میں پہلے سے مصروف ہو۔ صوفی شاعر رحمان بابا بلاشبہ انسان دوستی کا درس دیتے رہے اور ان کے مزار پر حملہ انسانیت دشمن عناصر کی ایک مذموم کوشش ہے۔ ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا حکومت وقت کا فرض بنتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر طارق ہاشمی ۔ حلقہ ارباب ذوق فیصل آباد
کل سے میرا دل مٹھی میں آیا ہوا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے زندگی بھر انسانیت کی تعمیر کے لیے اپنے قلم کو وقف کیا اور انسان کے ذہنی شعور کے لیے اپنی ذاتی افادیت کی تگ و دو کو ترک کیا انسان کا خدا سے تعلق جوڑنے کےلیے زمانے کے فلسفوں پر غور کرکے ایک نیا فلسفہ دیا تو انسان کی تعمیر کا انہیں ہم یہ صلہ دے رہے ہیں کہ آج ان کے مزارات پر تخریب کا سامان ہورہا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اتنے محسن کش واقع ہوئے ہیں اور یہ جو ہم بہانے بنا رہے ہیں کہ وہاں تو غیر شرعی کام ہو رہا تھا تو یہ عمل جو ہوا یہ شریعت کی کونسی تشریح ہے ؟ یا پھر کیا یہ شریعت اس مزار کی نہیں بلکہ ہمارے ذہنی تخریب کی عکاسی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوسف عزیز زاہد ۔ افسانہ نگار
جو لوگ اس گستاخی کے مرتکب ہوئے ہیں وہ اسلام کو یا کسی بھی مذہب کو چھو کر بھی نہیں گزرے ۔ مزار پر جانا نہ جانا علیحدہ بات ہے لیکن کسی کی اقامت گاہ کو اس بربریت کے ساتھ نشانہ بنانا کسی آدمی کا کام ہرگزر نہیں ۔ یہ پتہ نہیں کونسی ذہنیت تھی جس نے یہ حرکت کی وہاں جاکر لوگ تو وظائف ہی پڑھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہمارے ہاں بھی ایسے بزرگ گزرے ہیں جن کے مزاروں پر آکر آج بھی ایک گونہ تسلی ملتی ہے لیکن ہمارے اس جذبے کو اندر کی اس تسکین کو بڑے بہیمانہ طریقے نقصان پہنچایا گیا۔ بہادر بابا کے مزار پر جو حملہ ہوا اس کی بھی مذمت کرتے ہیں پختونوں کو کم از کم اس شعور کو اجاگر کرنا ہوگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ہمارے باپ دادا کی قبروں ، ہمارے جد امجد کے ورثے اور ہماری تہذیب کے ساتھ جو کھلواڑ ہورہا ہے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے تشخص کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور وقت کے آئینے سے گرد ہٹا کر اور مستقبل کے خطرات سے آگاہ ہو کر اس کے لیے اپنے کو تیار لر لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک۔ پشتو اکیڈیمی پشاور

ڈاکٹر راج ولی شاہ

ڈاکٹر راج ولی شاہ

ہمارے سبھی پشتون قبائل اگر کسی بات پر متفق ہیں تو یہ کہ رحمان بابا تقریباً پشتونوں کے ہر قبیلے کے بابا ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ رحمان بابا اس خطے کے اخلاقی فلسفے کے معمار ہیں وہ اخلاقیات ، بھائی چارے ، محبت خاکساری اور امن کی علامت بن کر ابھرے ، ہماری زبان اور ہماری سیاست اورسماج و معاش تو پہلے ہی سے سیاسی سازشوں کی آگ میں بھسم ہو رہے ہیں لیکن اب بابا کے مزار پر حملہ کیا گیا ہے ۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ یہ تو کوئی عالمی سازش ہے جس کے ذریعے ہمارے نقوش ، ملی آثار اور ہمارا تشخص سب کچھ مٹایا جارہا ہے اپنے وجود کی بقاء اور تشخص کی خاطر اب ہمیں اٹھنا ہوگا کیونکہ مزید سستی یا کاہلی کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم مرچکے ہیں۔

نوٹ: یہ تمام پیغامات مارچ 2009 میں رحمان بابا کے مزار پر حملے کے بعد روزنامہ مشرق میں آہنگ ادب پشاور کی جانب سے شائع ہوئے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s