کب ظلمت ہستی میں تقریبِ سحر ہوگی :او مست نظر جوگی


داعی کبیر حضرت رحمان بابا کے مزار پر حملہ ۔۔۔۔ ادبی دنیا لرز اٹھی

رحمان بابا

رحمان بابا

لا موثر فی الوجود الا اللہ ۔۔۔۔کا ورد کرنے والے ایک گڈری نشین نے جب اس شام ٹوٹی ہوئی محرابوں سے جھکی ہوئی نظریں اٹھائیں تو اس کے آنسوؤں کے تار نگاہوں کی حدت سے ہوتے ہوئے دلوں کے تاروں سے پیوست ہو چکے تھے اسی استغراق کامل اور ذکر و فکر میں ڈوبا وہ مجذوب اگلے ہی لمحے کہیں ڈوبتے سورج کے سایوں میں گم ہو چکا تھا اور میں خیالوں کے محشرستان میں اس سے اتنا بھی نہ پوچھ سکا کہ بابا کے مزار تک کونسا راستہ رہنمائی کر سکتا ہے لیکن جیسے میرے بولنے سے پہلے ہی اس نے میرے سوالوں پر چپ کی مہر لگا رکھی ہو جیسے وہ کہہ رہا ہو ۔۔۔راستے تو ۔۔۔کب کے ۔۔۔اپنی منزلوں سے بھٹک چکے ۔اور پھر ۔۔۔تم لوگ کس بنیاد پر ۔۔۔اور کونسے راستوں کی تلاش میں نکلے ہو۔
تب ایک جگر پاش احساس ندامت نے آگھیرا اور مجھے لگا جیسے دھرتی کانپ رہی ہے ۔۔۔ جیسے توکل ، ایمان ، تخلیق اور اخلاص و محبت کی استہزاء پر وہ لرزہ براندام ہو چکی ہے۔۔۔ پھر یوں لگا جیسے وہ زمین زادوں کے زندہ لاشے دیکھ کر تڑپ رہی ہو جو اپنی تمدن ، تہذیب اور قدروں کی پائمالی میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ عرفان و آگہی کے جادہ پیماؤں کے مزاروں پر بھی شیطنیت اور حیوانیت کے ننگے ناچ سے باز نہیں آئے تب میں نے سوچا کہ زمین کیوں نہیں کانپے گی ۔۔۔۔ آسمان بھی تو کتنا بدل چکا ہے ۔۔۔ حضرت رحمان بابا کے مزار کی بے حرمتی پر پوری ادبی دنیا لر ز اٹھی ہے اس وقت جبکہ ہر بچہ ، بڑا ، نوجوان اور بوڑھا سراپا احتجاج ہے آہنگ اد ب پشاور اور قلم لٹریری مومنٹ مردان نے تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا اس اعلان کے بعد ملک بھر کے ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں نے آہنگ کے دوستوں سے برابر رابطہ رکھا اور حضرت رحمان بابا کی روح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے جذبات و احساسات سے آگاہ کیا۔ پڑھنا جاری رکھیں→

نظامِ جہاں کس طرح چل رہا ہے؟


گلزار

گلزار

نظامِ جہاں پڑھ کے دیکھو تو کچھ اس طرح چل رہا ہے
عراق اور امریکہ کی جنگ چھڑنے کے امکان پھر بڑھ گئے ہیں
الف لیلہ کی داستان والا وہ شہر بغداد بالکل تبہ ہو چکا ہے
خبر ہے کسی شخص نے گنجے سر پر بھی اب بال اگانے کی اک پیسٹ ایجاد کی ہے
کپل دیو نے چار سو وکتوں کا اپنا ریکارڈ قائم کیا ہے
خبر ہے کہ شاہزادی ڈائینا اور چارلس اب کرسمس سے پہلے الگ ہو رہے ہیں
کروشا اور سلوانیا بھی الگ ہونے کے لیے لڑ رہے ہیں
پلاسٹک پہ دس فی صدی ٹیکس پھر بڑھ گیا ہے
یہ پہلی نومبر کی خبریں ہیں ساری
نظام جہاں اس طرح چل رہا ہے
مگر یہ خبر تو کہیں بھی نہیں ہے
کہ تم مجھ سے ناراض بیٹھی ہوئی ہو
نظام جہاں کس طرح چل رہا ہے؟


گلزار