کرشن چندر کی انشائیہ نگاری: بنیادی مباحث کی روشنی میں


Krishan-Chander

کرشن چندر

اردو انشائیہ نے بہت قلیل عرصے میں انتہائی برق رفتاری کے ساتھ اپنے تخلیقی سفر کو کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ اس نووارد صنفِ ادب پر ہر طرف سے فنی سانچوں اور ضابطوں کی توڑ پھوڑ کے الزامات لگا کر انشائیے کے سراپے کو انشایئے کا سیاپا کہہ کر رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں کی گئیں۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ انشائیہ نے جس توانائی کے ساتھ انسانی شعور کی توسیع اور فرد کی شخصیت کی داخلی تفہیم میں جو کردار ادا کیا وہ اس سے پہلے اتنے دلچسپ، معتدل اور شگفتہ اسلوب میں کسی بھی صنف سے نہ ہوسکا۔
انشائیہ اپنی قامت اور قیمت کو منوانے کے سلسلے میں بڑا ہی منہ زور ثابت ہوا اور اس نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت پر مہرِ تصدیق ثبت کرواتے ہوئے عصر حاضر کے رویوں کو آئینہ دکھا کر اس حقیقت کا پھر سے اعادہ کیا کہ ادب سڑے ہوئے پانی کی جھیل نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو جیون دھارے کے رستخیز کا ساتھ دیتا ہوا وہ ہمزاد ہے جو ہر دور میں زندگی کے موج میلے کے متنوع رنگوں کی شراب کو نئے سے نئے پیمانوں میں ڈھال کر اس کی دلاویزیوں میں اضافہ کرتا آیا ہے۔ اردو انشائیہ کی کامرانی کے اس سفر میں دور جدید کے تقریباً سبھی متحرک ادیبوں نے اپنی فکر کے چراغ فروزاں رکھ کر اس صنف کو وقار و اعتبار بخشا۔
بیسویں صدی کے اوائل میں اس سلسلے میں جو اولین نگارشات ہمیں ملتی ہیں ان میں کرشن چندر کا نام اور کام کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر بشیر سیفی نے اپنے تحقیقی مقالے میں ممتاز مفتی کی کتاب “غبارے” (۱۹۵۴ء) کو اولیت کا مستحق ٹھہرانے کی کوشش کی ہے لیکن اردو انشائیے کے پورے منظر نامے پر نظر دوڑائی جائے تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے۔ کہ کرشن چندر کی کتاب “ہوائی قلعے” ممتاز مفتی کی کتاب “غبارے” کی اشاعت سے ٹھیک چودہ سال پہلے یعنی ۱۹۴۰ء میں اپنے انشائیوں کی وجہ سے قبول خواص و عوام ہوچکی تھی۔
ڈاکٹر بشیر سیفی کا بیان کئی مقامات پر الجھنیں پیدا کرتا ہوا بعض اوقات باور کرا دیتا ہے کہ مقالہ لکھتے وقت وہ چند ایک مباحث کے حوالے سے تذبذب کی حالت میں تھے اور یا پھر بعض حقیقتیں ابھی پورے طور پر سامنے نہیں آئی تھیں۔ وہ لکھتے ہیں:
“کرشن چندر بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں اور اسی حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن ہوائی قلعے کے مضامین کے مصنف کی حیثیت سے وہ طنز و مزاح نگاروں کی صف میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔”۱
لیکن آگے جاکر ان کے رائے بدل جاتی ہے۔
“ہوائی قلعے کے بیشتر مضامین میں انشائیہ کا مزاج بھی موجود ہے یوں کرشن چندر انشائیہ نگاروں کی صف میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ خصوصاً بدصورتی، رونا، آنکھیں، ہوائی قلعے وغیرہ ایسے ہیں جنہیں انشائیہ کہنے میں تامل نہیں ہونا چاہیے۔ غلط فہمی، گانا، جان پہچان، باون ہاتھی میں بھی انشائیہ کی خوبیاں موجود ہیں۔ ان مضامین میں مزاح کے ساتھ موضوع کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور یہی چیز ان مضامین کو مزاحیہ مضامین کے دائرے سے نکال کر انشائیہ کی سرحد میں لے جاتی ہیں۔” ۲
بشیر سیفی نے ایک ایک کرکے کرشن جی کے انشایئے گنوانے اور اس بات کا اعتراف کرنے کے باوجود کہ وہ انشائیہ نگاروں کی صف میں شامل ہیں اپنی رائے کو بلاوجہ مبہم بناتے ہوئے انشائیہ کے قاری کے ذہن میں ایک کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرشن چندر بنیادی طور پر افسانہ نگار تھے لیکن اس عہد میں کئی ایک ایسے قلمکاروں نے (جنہوں نے پہلی بار اس صنف میں طبع آزمائی کی تھی) کمال کے انشایئے لکھ کر ثابت کر دیا کہ قلم کی کاٹ کسے کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں افسانہ نگار منشایاد کا نام لیا جاسکتا ہے جن کے انشائیوں میں افسانوی رنگوں کی آمیزش ہی اس کی امتیازی خصوصیت کا سبب بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا “دوسرا کنارا” کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:
“انشائیہ کی کوئی مخصوص ہیئت نہیں ہے حتٰی کہ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اسے لازمی طور پر مضمون ہی کے اسلوب میں لکھا جائے”۔ ۳

“انگریزی ادب میں انشائے لطیف Essay کی صنف کو نہایت وقعت کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ اردو میں خالص Essay انشائے لطیف ہنوز ابتدائی حالت میں ہے اور اس کی طرف بہت کم ادیبوں نے توجہ کی۔ ان ادیبوں میں پطرس، رشید احمد صدیقی، حسرت اور کرشن چندر کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔” ۴
اس ضمن میں ڈاکٹر سلیم اختر اپنی کتاب “انشائیہ کی بنیاد” کے پانچویں باب میں رقمطراز ہیں:

“ہوائی قلعے کا سب سے پہلا مضمون “غلط فہمی”، “شیرازہ”، ۲۴ فروری ۱۹۳۷ء کا مطبوعہ ہے جبکہ ناشر ظہیر کے بقول کرشن چندر کا سب سے پہلا مضمون ۱۹۳۶ء میں ہمایون میں شائع ہوا تھا۔ با الفاظ دیگر جہاں تک ایسسز کے فنی تقاضوں کو ملحوظ رلکھنے کا تعلق ہے تو گو کرشن چندر ۱۹۳۶ء سے انشایئے لکھ رہا تھا لیکن Essay کے لیے ابھی انشائیہ کی اصطلاح وضع نہ ہوئی تھی۔ کہ یہاں اسے انشائے لطیف کہا گیا۔ ۔ ۔ ۔  (ملاحظہ ہو ستمبر ۱۹۵۷ء کے ادبِ لطیف لاہور میں ان کا مراسلہ بنام مرزا ادیب)۔” ۵
اردو انشائیہ نگاری میں کرشن چندر کے تقدم کو ڈاکٹر حسنین کے بیان سے اور بھی تقویت مل جاتی ہے۔

“ہوائی قلعے کرشن چندر کے انشائیوں کا پہلا مجموعہ ہے جو پہلی مرتبہ ۱۹۴۰ء میں لاہور سے طبع ہوا تھا۔ ہوائی قلعے ان کا پہلا انشائیہ  ہے جو رسالہ ہمایون ۱۹۳۶ء میں شائع ہوا تھا۔ اردو انشائیہ نگاری کی نئی وادی میں کرشن چندر اپنی زندگی کے بالکل اوائل دور میں داخل ہوئے۔ آمد اور اقدام نے یہ ثابت کردیا کہ مصنف کی قلمکاری کا ایک درخشاں رخ انشائیہ نگاری بھی ہے۔” ۶
انشائیہ کے حوالے سے ایک بات کی وضاحت یہاں ضروری ہے کہ ہمارے اکثر نقاد ایک طویل عرصے تک انشائیہ کے وجود، اس کی شناخت اور بعد میں اس کی تعریف کے سلسلے میں کسی ایک نقطے پر متفق نہ ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی دور کے اکثر ناقدین کے ہاں انشائیہ کے بنیادی مباحث کے باب میں تشنگی کا احساس ہوتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ان کو انشائیہ کے مبادیات سے کماحقہ آگاہی نہیں تھی۔ ڈاکٹر شفیق اعظمی جنہوں نے گھورکھپور یونیورسٹی سے کرشن چندر کی افسانہ نگاری پر کام کرتے ہوئے پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی بھی انہی نقادوں کی ذیل میں آتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
“ہوائی قلعے کے نام سے کرشن چندر کے طنزیہ و مزاحیہ افسانوں کا ایک مجموعہ چھپا ہے جس میں کل تیرہ طنزیہ و مزاحیہ افسانے شامل ہیں۔” ۷
اسی طرح جگدیش چندر و دھاون نے اپنی کتاب میں ہوائی قلعے کو “انشائیہ نما مضامین” کا پہلا مجموعہ قرار دیا ہے۔ (۸)
“انشائیہ نما مضامین” کی ترکیب وضع کرنے کی وجہ جگدیش کے مضمون کے ابتدائی حصے کو پڑھنے کے بعد سمجھ میں آجاتی ہے کہ شاید ابھی اردو ادب کے قاری اور نقاد اُس دھندلی فضا سے نہیں نکلے تھے جہاں سے انشائیہ کی کوئی واضح تصویر دکھائی دیتی۔ یہاں گویا وہی صورتِ حال بن جاتی ہے جو انشائیہ کے ایک اور نقاد محمد ارشاد کے ہاں نظر آتی ہے۔ محمد ارشاد نے انشائیہ کی اصطلاح کو وسیع تر “ایسے” پر محیط قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
“انگریزی اصطلاح “ایسے” کا صحیح ترجمہ اور اردو میں اس کا متبادل لفظ مضمون ہے تو اس صورت میں کوئی ایسی بنیاد نہیں رہتی جس کی روسے انشائیہ کے مضمون ہونے سے انکار کر سکیں۔” ۹
دیکھا جائے تو مضمون ایک بہت وسیع اصطلاح ہے جس کے شکم میں بڑے بڑے مقالے سما جاتے ہیں۔ جبکہ انشائیہ ایک ہلکی پھلکی رو کے ساتھ داخلی ثروت مندی لیے فرد کی ذات اور حیات و کائنات کے نئے گوشوں کو ایک مخصوص انداز میں بے نقاب کرتا چلا جاتا ہے جگدیش صاحب کے ہاں بھی انشائیہ کا مفہوم واضح نہیں ہے جبھی تو وہ رشید احمد صدیقی، پطرس بخاری اور فرحت اللہ بیگ کی تحریروں کو انشائیہ کی قلمرو میں خاص حوالوں کیساتھ لاتے ہیں۔
لیکن ان کی رائے بنانے میں ڈاکٹر محمد حسنین کے مضمون “کرشن چندر کی انشائیہ نگاری” کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ ڈاکٹر حسنین لکھتے ہیں:
“مضامینِ فرحت، مضامین رشید، اور مضامین پطرس ۔ ۔ ۔ ۔ ۔یہ
گراں قدر تصنیفات انشائیوں کا قابل قدر نمونہ ہیں۔” ۱۰
یہ تو سبھی مانتے ہیں کہ فرحت اللہ بیگ کی شوخی اور شگفتگی دراصل ایک خاص طرز کی یاد نگاری ہے جو ایک طرح سے دلی کی مٹتی ہوئی تہذیب کو اپنی تحریروں کے شیش محل میں بطور یادگار محفوظ رکھبے کی ایک بہترین کاوش ہے۔
لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہم اس یادگار پر انشائیہ کا لیبل چسپاں کریں۔
رشید احمد صدیقی کے ہاں کہیں نہ کہیں انشائیہ کے عناصر مل جاتے ہیں لیکن بنیادی طور پر وہ ایک مزاح نگار ہیں ایک ایسے نثر نگار جن کی اصطلاحات اور علائم کا محور و مرکز علی گڑھ اور وہاں سے فارغ التحصیل لوگ ہیں اور پطرس بخاری تو اول و آخر ایک بہت بڑے مزاح نگار ہیں۔
جہاں تک کرشن چندر کی کتاب ہوائی قلعے کا تعلق ہے یہ کتاب اردو بکسٹال لاہور سے پندرہ اکتوبر ۱۹۴۰ء کو شائع ہوئی۔ اس کتاب میں کرشن چندر ایک آزاد ذہنی ترنگ کے ساتھ اپنی فکر اور قلم کی ایسی سر مستیاں دکھاتے ہیں کہ شگفتگی ندرت کا ایک نیا لباس زیب تن کر لیتی ہے۔ اسی سوچ کو لے کر ہوائی قلع میں عرضِ ناشر کے تحت ان کے فن کو کچھ یوں خراج پیش کیا گیا ہے۔
“مزاح ہلکی ہلکی چاشنی، طنزیہ اندازِ نگارش اور افسانوی تخیل ان کی تحریر اور اسلوب بیان کے خاص لوازم ہیں، وہ ایک جدت طرز ادیب ہیں، مفکر ہیں جو کچھ لکھتے ہیں دل کی گہرائیوں سے سوچتے ہیں اور پُر خلوص لہجے میں اسے بیان کرتے ہیں”۔ ۱۱
اب یہ تو بالکل سامنے کے بات ہے کہ کرشن چندر کی تحریر ہوگی تو وہ افسانوی تاثر سے کس طرح عاری ہوسکتی ہے۔ میری دانست میں تو ایک بہترین انشائیہ کے لیے بہت سارے مقامات پر ایک افسانہ نگار کا تخیل بھی ایک لازمی امر بن جاتا ہے۔ کرشن چندر کا ذہن انشائیہ کے رنگوں سے ایسا جڑا ہوا تھا کہ بعض اوقات افسانہ لکھتے لکھتے ان کا تخیل ایک ایسے بہاو میں نکل جاتا جس کی بے ساختگی خود بخود ایک رواں دواں انشایئے کا روپ دھار لیتی تھی۔ جیسے ان کے افسانے “پالنا” کا یہ اقتباس:
“میرے ہاتھ میں ایک عینک ہے۔ لوگ اسے عینک کہتے ہیں مگر میرے خیال میں یہ صرف کانچ کے ٹکڑے ہیں جو پلاسٹک کی کمانی میں اس طرح پھنسا دیئے گئے ہیں جس طرح سماج کی کمانی میں انسان کی زندگی پھنسادی جاتی ہے۔ یہ زندگی ٹوٹ تو سکتی ہے مگر اس کمانے سے ہوئے کانچ کے یہ دو ٹکڑے معمولی بھی نہیں ہوسکتے کیونکہ جب میں انہیں اپنی آنکھوں پر رکھتا ہوں تو میرے آنکھوں کو سب کچھ نظر آنے لگتا  ہے وہ سب کچھ جو اس سے پہلے نظر نہ آتا تھا۔ یا موہوم، مبہم اور پر اسرار دکھائی دیتا تھا۔ عینک لگانے پر یہ سب کچھ صاف صاف نظر آنے لگتا ہے جیسے دھند چھٹ گئی ہو ، غبار دھل گیا ہو اور ہر چیز فوکس میں ہو۔ میرے خیال میں کانچ کے ٹکڑوں کا اور کوئی فائدہ ہو نہ ہو یہ فائدہ تو ضرور ہے کہ یہ ٹکڑے انسانوں کی آنکھوں کو ٹھیک کر دیتے ہیں۔
اس اقتباس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کرشن چندر کے خیالات کا فطری بہاو صنف انشائیہ کے لوازمات سے کچھ ایسا لگا کھاتا تھا کہ وہ جس عنوان کے تحت بھی لکھتے ان کا اسلوب اس موضوع کو نکہت بیز روشنیاں عطا کرتا ہوا ایسی دنیائیں آباد کر لیتا کہ سننے یا پڑھنے والے ان کا ساتھ دینے کے لیے مجبور ہو جاتے۔ “اردو کا نیا قاعدہ” کے عنوان سے “صلح” کے باب میں کیسی کیسی گل افشانیاں کرتے نظر آتے ہیں:
“صلح دو جنگوں کے بیچ میں آتی ہے پہلے جنگ ہوتی ہے پھر صلح ہوتی ہے پھر جنگ ہوتی ہے اور اگر جنگ نہیں ہوتی تو جنگ کی تیاری ہوتی ہے آجکل بھی جنگ ہو رہی ہے اس کے بعد جب ہمارے دشمنوں کو شکستِ فاش ہوگی تو صلح ہوگی۔ صلح ہمیشہ دشمنوں کو شکست فاش ہونے کے بعد آتی ہے یاد رکھو کہ ہر صلح کے بعد جنگ ہوتی ہے یا جنگ کی تیاری ہوتی ہے۔ صلح کے لیے کاغذ کا ایک پرزہ درکار ہوتا ہے اور جنگ کے لیے انسانی خون، لیکن اب ہماری دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان جنہوں نے گیس، ٹینک، توپ اور جنگ کے دوسرے ہتھیار بنائے ہیں یہ کوشش کر رہے ہیں کہ صلح بھی کاغذ کے پرزے کی بجائے انسانی خون سے ہو۔ اس ترکیب سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ تیاری کا زمانہ بہت کم ہوجائے گا۔ اور ہم بڑی آسانی سے ایک جنگ کے بعد دوسری جنگ میں شامل ہوسکیں گے۔ جنگ اس لیے کی جاتی ہے کہ صلح ہوا اگر جنگ کے بعد ہی صلح نہ ہو تو جنگ کون کرے گا۔ اس لیے دنیا میں صلح جنگ سے بھی ضروری ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر جنگ اس لیے کی جاتی ہے کہ صلح ہو تو صلح بھی اس لیے کی جاتی ہے کہ جنگ ہو اور ہر اگلی پچھلی صلح کی شرطوں سے پیدا ہوتی ہے۔ صلح جنگ کی ماں ہے جس طرح ضرورت ایجاد کی ماں ہے”۔ (13)
فکروفن کی رعنائیوں سے بھرپور ایسی متعدد مثالیں کرشن چندر کی تحریروں میں سے انتخاب میں لائی جاسکتی ہیں۔ تاہم اس وقت ہم اپنی بحث ان کی کتاب “ہوائی قلعے” تک محدود رکھیں گے۔ جس کی معنی خیز نیرنگی صدرنگ جلوؤں میں ڈوب کر دعوت نظارہ دیتی ہے۔ انشائیہ “ہوائی قلعے” کی ابتداء کچھ یوں ہوتی ہے۔
“ہوائی قلعے کا موضوع وہی ہے جو ہندوستان میں خیالی پلاؤ کا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ خیالی پلاؤ ہندوستان کی مثالی بھوک کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے یہ ایک محدود سی اصلاح ہے جس کا مرجع محض پیٹ ہے۔ لیکن ہوائی قلعے ایک بلند اور وسیع اصطلاح ہے اور اس میں نہ صرف خیالی پلاؤ بلکہ کئی ایک اور دلکش چیزیں بھی شامل ہیں۔ ایک اور نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ خیالی پلاؤ میں ہوائی قلعے نہیں سماسکتے لیکن ہوائی قلعے میں بیٹھ کر خیالی پلاؤ پکائے جاسکتے ہیں”۔ (14)
اور اس کے بعد یہ جملہ:
“غور کیجیے تو سارا ہندوستان ایک ہوائی قلعہ معلوم ہوتا ہے”۔ (15)
کرشن چندر کی فنکاری کا وہ نمونہ ہے جہاں وہ نیست سے پاک کوہیست تک اور مزاح سے ہوتے ہوئے طنز کی سرحدوں تک جانے کے لیے جو وسیلہ کام میں لاتے ہیں اسی سے ان کی باریک بینی اور نکتہ رسی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ اس انشائیہ کو پڑھتے ہوئے احساس ہونے لگتا ہے جیسے زندگی بذات خود ایک ہوائی قلعہ ہے۔ از ابتداء تا انتہا سپنوں کے تاروں سے بندھی ہوئی۔ وہ خواب جو انسان کی پیدائش کے ساتھ شروع ہوتے ہیں اور آخری سانسوں تک آنکھوں میں اپنی تعبیروں کے دئیے جلائے رکھتے ہیں۔ وہ پرکیف تصورات جن کے سحر میں کھو کر ہمیں ڈھلتے ہوئے لمحوں کا احساس ہی نہیں ہوتا کب کوئی لمحہ وقت کی شاخ سے گرا اور ہماری زندگی کے جزیرے پر پھیلتا ہوا قوس قزح کی سی داستانیں چھوڑگیا۔ وہ لمحے جن میں سے کوئی بھی ہماری گرفت میں نہیں ہے۔ لمحے جو ریت کی طرح ہماری مٹھی سے پھسلتے جارہے ہیں اور ہم ہیں کہ انہی ریت کے ذروں پر بچپن سے لے کر بڑھاپے تک ہوائی قلعے بناتے جاتے ہیں۔ لیکن بالآخر انسانی حیات کی امنگیں سرابوں کی وادیوں میں گم ہوجاتی ہیں۔ مگر یہ سپنے نہ ہوں تو زندگی کا سفر کتنا کٹھن ہوجائے گا۔ ان راستوں پر چلتے ہوئے دن اور رات کے پھیر میں یہ ساری گہما گہمی اور یہ رونقیں انہیں جھوٹے سپنوں کے دم قدم سے تو قائم ہیں۔
“لیکن جہاں تم نے جوانی میں کئی پرانے قلعوں کو بہ چشم پرنم خیرباد کہا وہاں تم نے بہت سے نئے نئے قلعوں کی تخلیق بھی کی۔ تم نے اپنی سانولی محبوبہ کی رنگت کو چنبیلی کے پھولوں کی طرح حسین بنادیا۔ اپنی گرتی ہوئی پسماندہ قوم کو یکایک دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ طاقتور قوموں کے زمرے میں بٹھا دیا۔ اپنے غریب ملک کے جھنڈے کو اتنا بلند کردیا کہ کائنات کی کل وسعتیں اس کے سائے تلے آگئیں۔ اپنے ٹوٹے پھوٹے جھونپڑے کی جگہ ایک جگمگاتا ہوا زمردولعل کا محل تیار کیا اور اپنے کریکٹر کو اتنا سنوارا کہ نوع انسانیت نے متفقہ ووٹ سے تمہیں اپنا بادشاہ تسلیم کیا۔ تم دنیا کے سب سے بڑے شاعر، ادیب، افسانہ نویس، سیاستدان، سپاہی، حکیم اور مصلح کہلائے اور شہرت دوام کا تاج تمہارے سر پر رکھا گیا۔ لیکن ان سب باتون کے باوجود تمہاری آنکھ اس وقت کھلی جب تم ایک حقیر سے دفتر میں ایک حقیر سی نوکری حاصل کرکے ایک حقیر سے مشاہرے پر ملازم ہوئے۔ تمہارے ماں باپ اس دنیا سے کوچ کرگئے اور تہمارے پلے ایک چڑچڑی بے حد وفادار بیوی باندھ گئے۔ محبت کے سوتے خشک ہوگئے۔ پھونس کے جھونپڑے جل گئے اور تمہارے ملک و قوم غریب تر ہوگئے”۔ (16)
انسان زندگی کے تدریجی مراحل میں مستقبل کے خوش آئندہ منصوبوں کو عروج و زوال سے گزرتا ہوا ہمہ وقت ایک عمیق گہرائی میں ڈوبا رہتا ہے یہ تخلیق کار کا کمال ہے کہ اس نے فن اور زندگی دونوں کی فینٹسی کو اشائیے کے روپ میں یک جان کرکے ہمارے سامنے سے گزارا ہے۔
کرشن چندر کے انشائیہ “گانا” میں آج سے پچاس ساٹھ سال قبل کے ہندوستان کے متوسط طبقے کا ماحول بڑے خوبصورت انداز میں اجاگر کیا گیا ہے جہاں عموماً کسی مہمان کی خاطر مدارت کےلیے گھرانے ہی کی کسی لڑکی کو ہارمونیم کے سامنے بٹھا کر بے سرے قسم کے گانا سنانے کی فرمائش کی جاتی ہے۔ ایک طرف میزبان ہے جو اپنی بیٹی سے گانا سنانے کی فرمائش کرتا ہے اور دوسری جانب اس کی بیٹی بملا ہے جس کا چہرہ شرم و حیا سے سرخ ہوجاتا ہے۔
“بملا، جا ہارمونیم لے آنا وہ اس طاقچے میں دھرا ہے اور مہمان جس کی پلکیں نیند سے جھکی جارہی ہیں آہستہ سے ہمت بڑھانے کو کہہ دیتا ہے ہاں بہن بملا کچھ سنا دو تم بہت اچھا گاتی ہو (پھر جلدی سے یہ فقرہ جڑ دیتا ہے) رام بھروسے کی ماں سے سنا تھا اب یہ سب جھوٹ ہوتا ہے نہ بے چاری بملا اچھی طرح گاسکتی ہے اور نہ رام بھروسے کی ماں گانا سن سکتی ہے۔ کیونکہ وہ بےچاری تو بہری ہے اورپھر “بہن بملا” اس کا کیا کیا جائے کہ ہندوستان ہے جہاں عورتوں کی صرف دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم ماں اور دوسری بہن۔ اگر خوبصورت ہو جوان ہو تو بہن اور اگر بدصورت ادھیڑ یا بوڑھی ہو تو اماں۔ بس اور تیسری قسم کوئی نہیں۔ کیونکہ جب عورت کی شادی ہوجائے تو پھر وہ عورت نہیں رہتی بلکہ پاؤں کی جوتی بن جاتی ہے۔ اب بملا گاتی ہے باپ حقہ پی رہا ہے اماں مونڈے پر بیٹھی اپنے دونوں ہاتھوں کو گود میں لیے لڑکی کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کہیں بملا نگاہ اٹھا کر مہمان کی طرف دیکھ تو نہیں رہی”۔ (17)
یہاں گانے کی آڑلے کر کرشن چندر نے ہماری معاشرتی زندگی اور سماج پر جو طنزکیا ہے وہ اس اقتباس کی ہر سطر میں نمایاں ہے۔ متوسط طبقے سے آگے یہ گانا اپنا سروپ تبدیل کرلیتا ہے اور ہارمونیم کی جگہ ایک بہترین اور باوقار قسم کا آرگن لے لیتا ہے۔ جن کے سروں میں فضائیں ایک بڑے البیلے ارتعاش میں ڈوب جاتی ہیں۔ اب بملا کی جگہ ایک ایسی تتلی آموجود ہوتی ہے جس کی بانکی ادائین ٹھہرے ہوئے جذبات میں تلاطم پیدا کردیتی ہیں۔ اس بناوٹی ماحول کو انشائیہ نگار نے بڑے انوکھے انداز میں پیش کیا ہے۔ اسی طرح کلاسیکل میوزک جسے مصنف وائی۔ ایم۔ سی۔ اے ہال میں سنتا ہے کے متعلق انشائیہ نگار کا خیال ہے کہ ہر وہ شخص جو اس ہال میں بیٹھا رہتا ہے اپنے آپ کو کلاسیکل میوزک کا ماہر ثابت کرتے ہوئے عجیب و غریب اصطلاحات کے مدار میں گھومتے ہوئے بے طرح سرکھجاتا رہتا ہے۔
انشائیہ نگارے کے مطابق کلاسیکی موسیقی میں فنکار مدتوں کی ریاضتوں اور مشقتوں سے گزرتا ہے۔ لیکن اس کے سامنے بیٹھے ہوئے داد دینے والے کچھ اس مخصوص قسم کا دانشوارانہ انداز اختیار کر لیتے ہیں جیسے وہ بھی برسوں کی پہیم ریاضتوں سے گزر کر محفل میں آن بیٹھے ہوں۔
گانے کی ایک اور قسم انسان کے اندر سے پھوٹنے والے وہ سر ہیں جن کا تعلق خالصتاً انسانی روح سے ہے اس میں کسی آرگن ستار، راگ یا ریاضت کی بھی ضرورت نہیں پڑتی یہ گانا دن کو جوں توں شام کرنے والوں کی غریبی اور بے چارگی کی ایک ایسی تصور ہے جس میں مزدور مردوں اور عورتوں کی ایک ٹولی اور ننگ دھڑگ بچے ایک میلے سے آنگن میں تاروں کی بارات میں ایک والہانہ کیفیت کے عالم میں یوں گائے جاتے ہیں کہ آسمان کے تارے زمین کے ستاروں سے ملنے کے لیے بے چین ہو جاتے ہیں۔ اور یہی اس انشایئے کا کلائمکس بھی ہے:
“چھوٹی سی ڈھولک اور پچاس ساٹھ مزدور ان کی عورتیں اور لڑکے لڑکیاں
اور ننگ دھڑنگ بچے تالیاں بجاتے پاوں ہلاتے “نجریا توری پہ بلہار “ملی
جلی آوازیں موٹی، پتلی، ملبی کوئی گاتے گاتے کھانسنے لگ جاتا ہے درمیان
میں ڈھولک بجتی ہے کوئی پاوں میں گھنگرو باندھ کر جھنجنا رہا ہے تو کئی
کھانسی کے کٹورے پر پیسہ رکھ بجا رہا ہے۔ کھلا سا گندا صحن ہے آسماں پر
ستارے ان گھنگرووں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں جو کسی مست رقاصہ کے
تختنوں سے اتر کر ادھر ادھر فرش پر بکھر گئے ہوں۔ ان کے درمیان میں چاند
ہے جو کانسی کے کٹورے کی طرح چمک رہا ہے۔ گاتے ہوئے مزدور چمکتا
ہوا چاند بے ہنگم لیکن پر مسرت نغمہ، دل کو خوش کرنے والا، دن بھرکی
تھکن اتارنے والا، سیانوں نے سچ کہا ہے کہ گانا روح کی غذا ہے۔”(۱۸)
یہاں کرشن جی بڑے غیر محسوس طریقے سے ہمیں زندگی کے ان جاں گسل دکھوں کے میلے میں لے آتے ہیں جہاں سے ان کی نظریاتی کمٹمنٹ کے گیت ابھرتے ہیں انشائیہ نگار فن کے سبھی لوازمات کا خیال رکھتے ہوئے اپنے دلنشین اسلوب میں ایسے ایسے جہانوں کی سیر کراتے ہیں کہ ہم بے اختیار اس کے تخیل کے گھوڑے کے ہمرکاب ہو جاتے ہیں۔
“بدصورتی” کے عنوان سے انشائیہ لکھنے والا قلمکار بھی وہی کرشن چندر ہے جن کی کہانیوں میں کشمیر کی لہلہاتی وادیوں، بمبئی کی جگمگاتی سڑکوں، یورپ کی رقص گاہوں، بلند بالا پہاڑوں کے دامن میں بہنے والے گنگناتے چشموں، پر سحر جھیلوں اور تاحد نظر پھیلے ہوئے مرغزاروں کی متحرک وادیوں کو ہم نے اپنی روح میں اترتے ہوئے محسوس کیا۔ وہ کرشن چندر جو فطرت کے رنگوں میں ڈوبا تو زعفران کے کھیت، شفق کی سرخی، شمع کا رقص، چاند کا ٹوٹا ہوا کنگن اور کسی مہوش ساقی کا دستِ سمیں سبھی مل کر ان کے فن کی قوس قزح میں یوں مل گئے کہ اردو افسانے کو جمالیات کا ایک نیا قرینہ میسر آگیا۔ وہی کرشن جب بدصورتی پر قلم اٹھاتا ہے تو ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر، دیکھ کر، سوچنا پڑتا ہے کہ کیا کرشن چندر جیسا حسن پرست بدصورتی پر بھی لکھ سکتا ہے۔ لیکن وہ ابتداء سے آخر تک ایک جینوین تخلیق کار ہیں اور تخلیقی لمحوں میں بعض اوقات نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پائے رکاب میں۔ والی کیفیت بھی ہوجاتی ہے۔ اور یہی رنگ انشائیہ کی تعریف کے ضمن بالخصوص ملحوظ رکھی جانی چاہیے۔ جگدیش چندر ودھاون لکھتے ہیں:
“جائے حیرت ہے کہ کرشن چندر خوبصورتی کے مقابل بدصورتی کے حق میں رطب اللسان ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے اماوس کی رات کو شبِ ماہتاب سے زیادہ روشن اور تاباں کہنا، تعفن کو خوشبو اور تعطر پر ترجیح دینا، یا جہل اور کم عقلی کو فہم و ذکا پر فوقیت عطا کرنا۔ مگر کرشن چندر نے اپنے حسنِ تحریر، حسنِ استدلال اور تاریخی شعور کے بل بوتے پر قاری کو اپنے موقف کا قائل کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ کچھ اس طرح کہ ان کی تحریر کے سامنے قاری بے دست و پا ہوجاتا ہے اور حرفِ اول ہی سے سردھندتا ہوا ایک معصوم بچے کی طرح ان کی انگلی پکڑے ساتھ ہو لیتا ہے۔ اور مڑ کر نہیں دیکھتا۔”(۱۹)
“اسے میری بدذوقی سمجھیے یا عامیانہ روش سے بچنے کی عادت بہر صورت یہ ایک حقیقت ہے کہ میں بدصورتی کو ہمیشہ خوبصورتی پر ترجیح دیتا ہوں۔ خوبصورت چیزیں دیکھ کر میں ہمیشہ اپنے دل میں سوچتا ہوں کہ خوبصورتی تو ایک عارضی شے ہے۔ شفق کی طرح جلد مٹ جانے والی۔” (۲۰)

اس انشائیہ میں جس منطقی استدلال کے ساتھ تغیر زمانہ اور حسن کے مٹ جانے کا تذکرہ کیا گیا ہے یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ جس سے پردہ اٹھاتے ہوئے انشائیہ نگار پر لطف پیرائے میں لکھتے ہیں:
“بدصورتی زندگی اور کائنات کا جزو لاینفک ہے اس کے بغیر خوبصورتی ایک لمحہ نہیں جی سکتی۔ حسن کی بنیادیں بدصورتی پر استوار ہیں اور اس طرح سے بدصورتی بھی ایک طرح کا حسن ہی ہے۔ ۔ ” (۲۱)


“خوبصورتی فساد کا جڑ ہے۔ پتھر اور دھات کے زمانے سے لے کر آج تک خوبصورتی دنیا کے امن کو تباہ و برباد کرتی چالی آئی ہے۔ خوبصورت چیزوں کے حصول کے لیے لوگوں نے اپنی جانیں گنوادیں، تہذیبیں مٹ گئیں اور قومیں فنا ہوگئیں لیکن ہم ہیں کہ اسی جنوں خیز وارفتگی سے پرانے راستے پر لڑھکے جا رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خوبصورتی کے مضر خواص سے واقف ہوجائیں اور لڑنا جھگڑنا چھوڑ دیں۔ آخر ہماری زندگی کی اساس خوبصورتی پر تو نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی بدصورت قسم کی چیزوں پر قائم ہے۔ مثلاً روٹی، پانی، کپڑا۔”(۲۲)
یہ اقتباس کرشن چندر کے عمیق مشاہدے اور خلاقانہ جزئیات نگاری کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ خصوصاً اس کا آخری جملہ کہ ہماری انسانی زندگی کی اساس خوبصورتی پر نہیں کرشن چندر کی اس فکر انگیز باریک بینی اور حقیقت نگاری کے روشن تصور پر استوار ہے۔ جو ترقی پسند نظریے کی دین ہے اور کمالِ فن یہ کہ انشائیہ کی روح کو کہیں بھی مجروح نہیں ہونے دیا۔ ڈاکٹر بشیر سیفی اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
“اس انشائیہ میں بدصورتی کے بارے میں جس انوکھے انداز سے اظہار کیا گیا ہے وہ جدید انشائیہ سے خاص ربط رکھتا ہے۔ شگفتگی کی ایک لہر بھی سارے انشایئے میں جاری و ساری ہے۔ اختصار اور شخصی زاویہ نگاہ بھی نمایاں ہے۔ اپنی ان خوبیوں کی بنا پر بدصورتی جدید انشائیہ سے خاصا قریب ہے۔(۲۳)
بشیر سیفی کے متذکرہ بالا تجزیے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کرشن چندر کو جدید انشائیہ کے تکنیکی امور کا پورا ادراک تھا جبھی تو بشیر سیفی بھی جدید انشائیہ کے باب میں کرشن چندر کے فن کا اعتراف کرتے ہیں۔ کرشن چندر لکھتے ہیں:
“مثال کے طور پر آپ دنیا کے بڑے آدمیوں کی صورتوں کی طرف توجہ کیجیے آپ دیکھیں گے کہ صرف بدصورت آدمی ہی دنیا کے بڑے آدمی بنتے ہیں۔ بے چارے خوبصورت آدمی تو عام طور پر فوج میں سپاہی بھرتی ہوتے ہیں اور بدصورت ان پر حکومت کرتے ہیں۔ دور کیوں جایئے ہندوستان کے گیارہ صوبوں کی اسمبلیوں کے ممبروں کی صورتیں ملاحظہ کیجیے۔ سوائے چند مستثنیات کے باقی سب وہ ہیں جنہیں دیکھ کر بے اختیار خدا کی قدرت یاد آتی ہے۔” (۲۴)۔
انشائیہ “بیچلر آف آرٹس” میں انشائیہ نگار بیچلر آف آرٹس کے بظاہر باوقار نام کو مخففات کی ذیل میں لاکر بی۔ اے کردیتے ہیں۔ تو یہ غیر معمولی نام اچانک معمولی سا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اب جناب بیچلر آف آرٹس کی ڈگری ہے کہ وقت کی گردش میں آکر اپنی اہمیت کھو بیٹھی ہے۔ وقت وقت کی بات ہے سو جب بیچلر آف آرٹس کی ڈگری لیے کوئی نوکری پانے کے لیے شہروں کی خاک پھانکتا ہوا کبھی اپنی ڈگری اور کبھی اپنی قسمت کو کوستا ہے تو بیچلر آف آرٹس خودبخود سکڑ کر محض بے۔اے تک محدود ہوکر رہ جاتا ہے۔
“اجی صاحب ! یہ آپ کیا کہتے ہیں کہاں بیچلر آف آرٹس جیسے حسین و قبول صورت نام کہاں بے چارہ بی۔اے ان دونوں میں کیا خاک مطابقت ہوسکتی ہے۔ کہاں راجا بھوج، کہاں گنگو تیلی۔ اونہہ!۔”(۲۵)

“اگر زمانے کے چکر سے بیچلر آف آرٹس سمٹ کر اور سکڑ کر صرف بی۔اے رہ جائے تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے۔ غربت میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔”(۲۶)


“آج کل بے۔اے عورتوں کی حالت اتنی نا گفتہ بے ہے جتنی بے اے مردوں کی وہ زیادہ سے زیادہ کسی گرل سکول میں ملازم ہو جاتی ہیں اور دن بھر لڑکے لڑکیوں کو کھلاتی پڑھاتی رہتی ہیں۔ ننھے ننھے لڑکے بسورتی ہوئی لڑکیاں اور وہی الف۔ ب، ت، کی مہارانی بس انہیں دھندوں میں پھنس کر بیچلر آف آرٹس ہوکر رہ جاتی ہیں۔”(۲۷)
متعدد جگہوں پر انٹرویو دیتے دیتے مستقبل کے وہ خواب جو بی۔اے ڈگری ہولڈر نے دیکھے ہوتے ہیں سراب ہو کر رہ جاتے ہیں اور جیون کی نیا اسے بیچ مندھار میں ڈولتی دکھائی دینے لگتی ہیں۔
“دس نومبر ۱۹۳۶ء کی سہانی صبح تھی اور یونیورسٹی ہال کے پرانے کلاک سے لے کر تانگے والے کی آواز تک دنیا کی ہر چیز حسین نظر آرہی تھی۔ یہاں تک کہ انار کلی کے دکاندار ہمیں دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے تھے اور بے اختیار ہنس رہے تھے۔ ہم لوگ ٹولیاں بنائے ریشمی گونوں کی سر سراہٹ کی موسیقی کو سنتے ہوئے انار کلی بازار گئے اور فوٹو کھینچنے والوں کی دکانوں میں گھستے گئے۔ یہاں کتنی بھیڑ تھی کتنا شوروغل، ہر طرف سیاہ گون، دلچسپ باتیں اور بلند قہقہے، چیریو، اور مائی ڈئیر کی آوازیں۔ تصویر کھنچوائی، پھر راستے میں ایک رائٹنگ پیڈ کے لیے بھی آرڈر دیا گیا۔ لالہ پیڑارام بی۔اے، ملک االٰہ بخش بی۔اے سردار لچھمن سنگھ بی۔اے، غرض نام سے نہیں بلکہ لفظ بی۔اے کی نمائش سے تھی۔”(۲۸)
یہاں کرشن چندر نے انسان کی اس وقتی خوشی کو لفظوں کی مالا پہنائی ہے، مسرت کے وہ چھوٹے چھوٹے لمحے جو اپنی ہلکی سی کرن دکھا کر ہمیں چند ثانیوں کے لیے مسحور کرکے رکھ دیتے ہیں لیکن بہت جلد ہمیں احساس ہونے لگتا ہے کہ یہ خوشی کتنی عارضی اور نا پائیدار تھی۔
“باون ہاتھی” میں لکھتے ہیں:
“ہاتھی بطور ایک ذریعہ آمد و رفت ایک نا کارہ شے ہے۔ سست رفتار بھی اور غیر معمولی اَن ڈیموکریٹک بھی۔ ہندوستان کے اکثر رہنماوں کی طرح ہاتھی کا جسم بڑا اور دماغ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ اسے یہ پتا نہیں ہوتا کہ اس کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستانی رہنماوں کی طرح وہ ہمیشہ اپنے آپ کو اندھیرے میں پاتا ہے اور روشنی کی تلاش میں بھٹکتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے دماغ میں روشنی کی کرن آجاتی ہے لیکن پھر جس سرعت سے اندر آتی ہے اسی سرعت سے واپس چلی جاتی ہے اور دماغ کو بدستور تنگ و تاریک چھوڑ جاتی ہے اور ہاتھی بے چارہ یہ سمجھ نہیں سکا کہ اسے کیا کرنا چاہیے اور کیوں؟ اور بے چارے مہاوتوں اور آدمیوں کو بھی یہ اندازہ نہیں ہوسکتا کہ اب ہاتھی کیا کرے گا اور کب”(۲۹)


“رونا ایک فن ہے، ایک ورزش ہے ایک آرٹ ہے، موخرالذکر کو بچوں اور عورتوں نے خوب سمجھا ہے اور اپنایا ہے۔ رونے کے آرٹ کو اگر دنیا میں کسی نے بہترین صورت میں پیش کیا ہے تو وہ عورت ہے۔ عورت کے رونے، ملکوں اور قوموں کی تاریخ میں انقلاب پیدا کردیتے ہیں۔ ایک قلوپطرہ، ایک ہلین، ایک مسزسمپسن، آنسو سے بھری ہوئی ایک ملتجی نگاہ! شاید آج دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی اگر تاریخ کے ہر صفحے پر کسی عورت کے دو چار آنسو ٹپک پڑتے۔ یوں بھی عورت کے آنسووں کی بدولت کروڑوں گھروں میں ہر ساتویں دن ایک معاشرت انقلاب آجاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ کم بخت مرد رونا نہیں جانتے اور عورتیں آنسو بہاکر انھیں اپنا غلام بنالیتی ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ دنیا کے مرد اٹھیں اور اپنی آزادی کے لیے جدو جہد کریں۔”(۳۰)


“خوبصورتی کا منبع بھی بے وقوفی ہے۔ عورت جتنی خوبصورت ہو اتنی بے وقوف ہوتی ہے۔ حسن اور عقل کا ہمیشہ بیر رہا ہے۔ حسن، ہنسی، مسرت، سچائی، دنیا کی کسی اچھی چیز میں عقل نہیں ہوتی۔ پھر بھی یہ لوگ ہیں کہ عقل کے پیچھے دیوانے ہیں۔ احمق کہیں کے۔ میرا مطلب ہے عقل مند کہیں کے۔”(۳۲)
کرشن چندر کے ذہنی لہروں کی یہ خوش خرامی ان کے انشائیوں میں تخلیقی و فور کے ساتھ آگے بڑھتی نظر آتی ہے۔ ان کے قلم کی انہی بے محابا جولانیوں سے متعلقہ تمام مباحث کی روشنی میں اردو ادب کے پیش رو انشائیہ نگاروں میں ان کی اولیت مسلم ہو جاتی ہے اور ہم بجا طور پر ان کو کاروانِ انشائیہ کے سرخیلوں میں شمار کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات
۱۔         اردو میں انشائیہ نگاری                  ڈاکٹر بشیر سیفی               ص: ۲۱۰
۲۔         ایضاً
۳۔         دوسرا کنارا                                 وزیر آغا                         ص: ۱۴
۴۔         ہوائی قلعے                                  کرشن چندر                     ص:  ۷
۵۔         انشائیہ کی بنیاد                             ڈاکٹر سلیم اختر                ص: ۱۵۵
۶۔         کرشن چندر کی انشائیہ نگاری         ڈاکٹر سید حسنین مشمولہ کرشن چندر کا تنقیدی مطالعہ ص: ۳۴۵
۷۔         کرشن چندر کی افسانہ نگاری کا ارتقاء مشمولہ کرشن چندر کی افسانہ نگاری ص: ۱۷۶۔۱۷۷
۸۔         کرشن چندر شخصیت اور فن           جگدیش چندر ودھاون        ص: ۵۱۹
۹۔         مونتین۔ انشائیہ اور اردو انشائیہ نگار محمد ارشاد مشمولہ فنون لاہور جولائی اگست ۱۹۸۲ء ص: ۴۷
۱۰۔       کرشن چندر کی انشائیہ نگاری مشمولہ کرشن چندر کا تنقیدی مطالعہ         ص: ۳۳۱
۱۱۔       ہوائی قلعے          عرضِ ناشر                                                        ص: ۷
۱۲۔       پالنا مجموعہ        کرشن چندر کی سو افسانے                                     ص: ۳۶۱۔۳۶۲
۱۳۔       اردو کا نیا قاعدہ   کرشن چندر مجموعہ شکست کے بعد                         ص: ۲۸۔۲۹
۱۴۔       ہوائی قلعے          کرشن چندر                                                         ص: ۲۵۰
۱۵۔       ایضاً
۱۶۔       ایضاً
۱۷۔       گانا                    ہوائی قلعے کرشن چندر                                          ص: ۲۶۔۲۷
۱۸۔       ایضاً                                                                                          ص: ۳۲۔۳۳
۱۹۔       کرشن چندر شخصیت اور فن           جگدیش چندر ودھاون                    ص: ۵۲۵
۲۰۔       بدصورتی           ہوائی قلعے          کرشن چندر                                 ص: ۵۸
۲۱۔       ایضاً                                                                                          ص: ۴۵۔۴۶
۲۲۔       ایضاً                                                                                          ص: ۶۲
۲۳۔       اردو میں انشائیہ نگاری                  ڈاکٹر بشیر سیفی                           ص: ۲۱۲
۲۴۔       بدصورتی           ہوائی قلعے          کرشن چندر                                 ص: ۴۷
۲۵۔       بیچلر آف آرٹس    ایضاً                                                                  ص: ۷۶
۲۶۔       ایضاً                                                                                          ص: ۷۷
۲۷۔       ایضاً
۲۸۔       ایضاً                                                                                          ص: ۸۰
۲۹۔       باون ہاتھی           ایضاً                                                                  ص: ۱۵۴۔۱۵۵
۳۰۔       رونا                  ایضاً                                                                  ص: ۵۶
۳۱۔       ایضاً                                                                                          ص: ۵۳
۳۲۔       بے وقوفی مجموعہ کرشن چندر کے سو افسانے                                  ص: ۲۹۲۔۲۹۳

کتابیات
۱۔         بشیر سیف ڈاکٹر   اردو میں انشائیہ نگار        نذیر سنز پبلشرز لاہور ۱۹۸۹ء
۲۔         اکبر حمیدی         جدید اردو انشائیہ اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد ۱۹۹۱ء
۳۔         جگدیش چندر ودھاون        کرشن چندرع شخصیت اور فن نگار شات لاہور ۱۹۹۳ء
۴۔         سلیم اختر ڈاکٹر    انشائیہ کی بنیاد     سنگ میل پبلی کشنز لاہور ۲۰۰۲ء
۵۔         سید محمد حسنین ڈاکٹر       کرشن چندر کی انشائیہ نگاری  مشمولہ کرشن چندر کا تنقیدی مطالعہ نفیس اکیڈمی اردو بازار کراچی ۱۹۸۸ء
۶۔         شفیق اعظمی ڈاکٹر  کرشن چندر کی افسانہ نگاری       نصرت پبلشرز امین آباد لکھنو  ۱۹۹۰ء
۷۔         کرشن چندر         ہوائی قلعے          اردو بک سٹال لاہور ۱۹۴۰ء
۸۔         ایضاً                  کرشن چندر کے سو افسانے چودھری اکیڈمی لاہور س۔ ن
۹۔         ایضاً                  شکست کے بعد    انار کلی کتاب گھر لاہور ۱۹۵۱ء
۱۰۔       وزیر آغا ڈاکٹر     دوسرا کنارا         مکتبہ اردو زبان سر گودھا  ۱۹۸۲ء


رسائل:۔
۱۔         فنون لاہور          شمارہ جولائی اگست ۱۹۸۲ء


نوٹ: یہ مضمون رسالہ خیابان کے خزاں 2007 شمارے میں شائع ہوا

تحریر: محمد اویس قرنی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s