عورت کی روح کے زخموں کا اندمال کون کرے گا۔


idps-3رات اور دن کے اس سفاک سفر میں جب جب ماضی کی کہانیاں میرے قدموں کی ہجرتوں کی ماری دھول سے لپٹتی ہیں تو سوچ کی صلیبیں مجھے اندر سے توڑ دیتی ہیں۔ میری سوچوں کو آگے جانے کا کوئی راستہ نہیں ملتا کہ دنیا کی معلوم تاریخ میں جنگ و جدل وحشت، درندگی اور بہیمت کی بھینٹ چڑھنے کے حوالے جب بھی آئے تو ساری حیوانیت کی تان عورت ہی کے وجود پر ٹوٹی۔ وہ عورت جو آدم کی رفیق و دمساز بن کرجنگ سے نکلی تو صدیوں تک مرد کی ہم نشینی اور رفاقت کی شبنم کو پانے کے دکھ میں اپنے آپ کو جلاتی رہی۔ وہی عورت جب تاریخ کے جبر کا شکار ہوئی تو ہر موڑ پر اس کی روح کو وہ گھاؤ لگے ۔۔۔اس کے دل کو اس شدت سے زخمایا گیا ، اس کی تمناؤں اور اس کے ضمیر کی آواز کو اس گھناؤنے انداز سے کچلا گیا کہ خود زندگی شرماگئی۔
ہر ہجرت نے اس پر ستم کے عذاب توڑے ، اس کی گود دھرتی کی کوکھ کی طرح اجاڑی گئی ۔۔۔اس کی مامتا کو سنگلاخ پتھروں سے کوٹا گیا۔۔۔اسکی محبتوں کو بھری جوانی میں سنگسار کر دیا گیا۔ اس کی دبی دبی شکایتوں کو طعنوں کے زہر آگیں لپیٹوں میں جلایا گیا۔
یہ عورت کی فریاد دیبل کی بندرگاہوں میں آج بھی محبوس و محصور ہے یہ عورت جو آج بھی 1857ء کے غدر کی لوٹ کا شکار ہے۔ جس کے قلب و ذہن پر 1947ء کے فسادات کے ناسور ہیں جسے فسادات کے سیل آب میں مال غنیمت بنا کر سرحدوں کی مانند تقسیم کے عمل سے گزارا گیا۔ جس نے اپنے بھائیوں کو مدد کے لیے پکارا تو اس کی آواز پلٹ کر اس کا منہ چڑانے لگی۔ اپنے محبوب رشتوں کو آواز دی تو اس کے ماہیوں کے خون کے چہرے خون میں تتربتر دکھکائی دئیے۔ اپنی سکھی سہیلیوں اور ہمجولیوں کا ہاتھ تھامنا چاہا تو لٹی پٹی عصمتوں نے اس کی آنکھوں میں چنگاریاں اڑاتی سیلائیاں پھیریں۔
عورت جو لاہور میں تھی، دلی میں تھی ، عورت جو امرتسر میں تھی، لکھنو میں تھی اور عورت جو دراصل کہیں بھی نہیں تھی۔ عورت جو مشرقی پاکستان میں تھی، مغربی پاکستان میں تھی۔ لیکن جسے مشرق و مغرب دونوں سے ایک ہی قسم کا خراج ملا۔ ۔۔ظلم و بربریت کی آخری حدوں تک پہنچنے والے انسانوں کی سفاکیت میں عورت آج بھی حالات کے جبر کا شکار ہو کے ہجرتوں پر مجبور ہے۔ قدیم قدم پر باردو کے بچھائے گئے جال ، دندناتی گولیوں اور آگ اور دھویں کی بارش میں آج وہ پھر کس کو مدد کے لیے پکارے ، کس کا ہاتھ تھام کر زندگی کی کھٹنائیوں سے گزرے۔
کس کشتی کا سوار بن جائے کہ ہر کشتی کا ناخدا کسی بھی وقت ناؤ کو بیچ مجدھار میں ڈبو سکتا ہے۔ اس کا سوالیہ چہرہ آج کے مہذب سماج پر ایک طمانچہ ہے اس کاشکوہ دراصل دھرتی کا شکوہ ہے۔ دھرتی کا وہ چہرہ جس کی پھیلی ہوئی نگاہیں لا متناہی مظالم کی داستانوں کا احتساب چاہتی ہیں۔ اس احتساب کا سامنا کرنے کے لیے کون تیار ہے؟ کون ہے آگے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس مظلوم مخلوق کے آنسوؤں کو اپنے دامن میں چھپا لے؟ کون ہے جو اس کی آہوں اور کراہوں کو مسکراہٹوں کے موتی عنایت کرے ۔ کون ہے جو اس دھرتی کو اس کے مچلتے ہوئے قہقہے لوٹا کر انسان کی اجڑی ہوئی کائنات کو بہاروں کا سندیسہ سنا دے۔؟

(اویس قرنی کی تحریر سوات کے تناظر میں)۔

نوٹ: یہ تحریر روزنامہ مشرق میں (کیمپ کی ایک عورت کا نوحہ)۔ کے عنوان سے لکھے گئے مضمون کی تمہید میں لکھی گئی تھی۔


ایک خیال “عورت کی روح کے زخموں کا اندمال کون کرے گا۔” پہ

  1. waqae aap ki tehreer nay jhanjor kar rakh diya , halat ki manzer kashi say say ayesa maloom hota hai k abhi sab ankhoin k samnay say guzra hai, mager aql ab bhi preshan hai

    koin karay ka in zakhmoin ka madawa, suna hai k waqt k saath har zaqm bher jata hai , mager shyad ayesay zaqm waqt k saath nasoor ban jatay hain….!!

    Jazakallah kher!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s