آج کے حالات کے تناظر میں شہر یار کی غزل


 

 سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے


دل ہے تو دھڑکنے کا بہانہ کوئی ڈھونڈے
پتھر کی طرح بے حس و بے جان سا کیوں ہے


کیا کوئی نئی بات نظر آئی ہے ہم میں
آئینہ ہمیں دیکھ کے حیران سا کیوں ہے


تنہائی کی یہ کون سی منزل ہے رفیقو
تا حد نظر ایک بیابان سا کیوں ہے

کرشن چندر کی انشائیہ نگاری: بنیادی مباحث کی روشنی میں


Krishan-Chander

کرشن چندر

اردو انشائیہ نے بہت قلیل عرصے میں انتہائی برق رفتاری کے ساتھ اپنے تخلیقی سفر کو کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ اس نووارد صنفِ ادب پر ہر طرف سے فنی سانچوں اور ضابطوں کی توڑ پھوڑ کے الزامات لگا کر انشائیے کے سراپے کو انشایئے کا سیاپا کہہ کر رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں کی گئیں۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ انشائیہ نے جس توانائی کے ساتھ انسانی شعور کی توسیع اور فرد کی شخصیت کی داخلی تفہیم میں جو کردار ادا کیا وہ اس سے پہلے اتنے دلچسپ، معتدل اور شگفتہ اسلوب میں کسی بھی صنف سے نہ ہوسکا۔
انشائیہ اپنی قامت اور قیمت کو منوانے کے سلسلے میں بڑا ہی منہ زور ثابت ہوا اور اس نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت پر مہرِ تصدیق ثبت کرواتے ہوئے عصر حاضر کے رویوں کو آئینہ دکھا کر اس حقیقت کا پھر سے اعادہ کیا کہ ادب سڑے ہوئے پانی کی جھیل نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو جیون دھارے کے رستخیز کا ساتھ دیتا ہوا وہ ہمزاد ہے جو ہر دور میں زندگی کے موج میلے کے متنوع رنگوں کی شراب کو نئے سے نئے پیمانوں میں ڈھال کر اس کی دلاویزیوں میں اضافہ کرتا آیا ہے۔ اردو انشائیہ کی کامرانی کے اس سفر میں دور جدید کے تقریباً سبھی متحرک ادیبوں نے اپنی فکر کے چراغ فروزاں رکھ کر اس صنف کو وقار و اعتبار بخشا۔ پڑھنا جاری رکھیں→

عورت کی روح کے زخموں کا اندمال کون کرے گا۔


idps-3رات اور دن کے اس سفاک سفر میں جب جب ماضی کی کہانیاں میرے قدموں کی ہجرتوں کی ماری دھول سے لپٹتی ہیں تو سوچ کی صلیبیں مجھے اندر سے توڑ دیتی ہیں۔ میری سوچوں کو آگے جانے کا کوئی راستہ نہیں ملتا کہ دنیا کی معلوم تاریخ میں جنگ و جدل وحشت، درندگی اور بہیمت کی بھینٹ چڑھنے کے حوالے جب بھی آئے تو ساری حیوانیت کی تان عورت ہی کے وجود پر ٹوٹی۔ وہ عورت جو آدم کی رفیق و دمساز بن کرجنگ سے نکلی تو صدیوں تک مرد کی ہم نشینی اور رفاقت کی شبنم کو پانے کے دکھ میں اپنے آپ کو جلاتی رہی۔ وہی عورت جب تاریخ کے جبر کا شکار ہوئی تو ہر موڑ پر اس کی روح کو وہ گھاؤ لگے ۔۔۔اس کے دل کو اس شدت سے زخمایا گیا ، اس کی تمناؤں اور اس کے ضمیر کی آواز کو اس گھناؤنے انداز سے کچلا گیا کہ خود زندگی شرماگئی۔
ہر ہجرت نے اس پر ستم کے عذاب توڑے ، اس کی گود دھرتی کی کوکھ کی طرح اجاڑی گئی ۔۔۔اس کی مامتا کو سنگلاخ پتھروں سے کوٹا گیا۔۔۔اسکی محبتوں کو بھری جوانی میں سنگسار کر دیا گیا۔ اس کی دبی دبی شکایتوں کو طعنوں کے زہر آگیں لپیٹوں میں جلایا گیا۔
یہ عورت کی فریاد دیبل کی بندرگاہوں میں آج بھی محبوس و محصور ہے یہ عورت جو آج بھی 1857ء کے غدر کی لوٹ کا شکار ہے۔ جس کے قلب و ذہن پر 1947ء کے فسادات کے ناسور ہیں جسے فسادات کے سیل آب میں مال غنیمت بنا کر سرحدوں کی مانند تقسیم کے عمل سے گزارا گیا۔ جس نے اپنے بھائیوں کو مدد کے لیے پکارا تو اس کی آواز پلٹ کر اس کا منہ چڑانے لگی۔ اپنے محبوب رشتوں کو آواز دی تو اس کے ماہیوں کے خون کے چہرے خون میں تتربتر دکھکائی دئیے۔ اپنی سکھی سہیلیوں اور ہمجولیوں کا ہاتھ تھامنا چاہا تو لٹی پٹی عصمتوں نے اس کی آنکھوں میں چنگاریاں اڑاتی سیلائیاں پھیریں۔ پڑھنا جاری رکھیں→