منٹو کی نئی تفہیم سیمینار


سعادت حسن منٹو

سعادت حسن منٹو

اکیس مارچ 2009 آہنگ ادب پشاور کی جانب سے ’’منٹو نئی تفہیم ‘‘کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس کی رونمائی پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم کے ہاتھوں ہوئی
اس پر کیف سبھا میں پروفیسر بادشاہ منیر بخاری نے منٹو کے افکار کی اجلی اور چمکتی دھوپ اور چمکتی روشنیوں کی راہ نمائی میں چلتے ہوئے منٹو کے کردار کی تفہیم کے لیے ایک ’’دفتر خاص‘‘ کے پریوگ پر زور دیا۔
اویس قرنی نے ٹوبہ ٹیک سنگھ اور تاریخ کے رخساروں پر لڑھکتے ہوئے آنسوں کے عنوان سے منٹو کے افسانوں کی سرحدوں پر آویزاں لالٹینوں کو بصیرت کی روشنی میں پرکھا اور خاردار جھاڑیوں کو پرانی علامت تصور کرتے ہوئے اس کے بار بار ’’نشانہ‘‘ بنتے اور ’’نشان‘‘ ٹھہرنے پر اس کے متروک ہونے کی طرف اشارہ کیا۔
سونیا بشیر نے منٹو کے کردار ’’ممد بھائی‘‘ کی ذہنی کیفیات اور مجموعی طور پر بننے والے نفسیات میں اس کی مونچھوں اور مرکیوں کے حوالے سے دلچسپ مطالعاتی جہتیں پیش کرتے ہوئے بمبئی کی دادا گیری کے بھید آشکار کیے۔
کراچی سے پروفیسر سحر انصاری نے ’’آہنگ‘‘ کی نئی تفہیم کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ آہنگ ادب کے نوجوانوں اور نوجوانیوں کے نام اپنے پیغام میں آپ نے کہا کہ سعادت حسن منٹو اردو کے ہی نہیں بلکہ بیسویں صدی کے عالمی سطح کے افسانہ نگاروں میں شمار ہونے کے لائق ہیں۔
منٹو کے کرداروں کو نظم کے موڑ دینے والے گلزار کی نظم ٹوبہ ٹیک سنگھ سنانے کے لیے امین خان تنہا نے اپنے لہجے کا اعجاز دکھایا ۔ منٹو کے تنقیدی شعور سے روشنی لیتے ہوئے ادب اور بالخصوص افسانے کے نئے ابعاد کی کامیاب نشاندہی کرنے پر اسما سحر کی نگارش قابل توجہ ٹھہری۔
ماضی سے حال تک اور حال سے استقبال تک سامراج کے پھیلائے ہوئے جال سے آگاہی بخشنے کے لیے منٹو کی کہانیوں اور مکاتیب کو وہاب اعجاز نے بطور پروجیکٹر یوں استعمال کیا کہ سبھی داستانیں اس المیہ کی پیشانی پر ابھری ہوئی نظر آنے لگیں۔
پروفیسر زبیدہ ذوالفقار نے بشن سنگھ کو منٹو کا سحر آفریں کردار قرار دیتے ہوئے اس کی دلنوازی کا خصوصیت کے ساتھ تذکرہ کیا اور بشن سنگھ کی موت کو ’’تاریخ ٹوبہ‘‘ کی معراج قرار دیا۔
منٹو کی آواز کو شردھانجلی دیتے ہوئے اسحاق وردگ نے اپنی وچار دھارا کو اتہاس کے پنوں پر مرکوز رکھا۔
ایوان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم کا خطبہ صدارت اس خوبصورت شام کی انتنگ کھڑی تھی ڈاکٹر صاحب کے مطابق


منٹو کے افسانے ہمارے احساسات پر شدید ضرب لگانے کے باوصف حالات کے ایسے نقیب بن کر سامنے آتے ہیں جن کا نعم البدل آج تک ہمیں نہیں مل سکا اردو کہانی منٹو کی انگلی پکڑ کر کہاں سے کہاں جا پہنچی کس قدر کامل اعتماد تھا اس شخص کو اپنے اوپر۔ اسی اعتماد نے ان کے قلم کو جمہور کے داخل کی آواز بنا دیا تھا میں اپنے شاگردوں کی اس بات سے متفق ہوں کہ بشن سنگھ ایک ایسی علامت ہے جو ہم سب کی نمائندگی کر رہی ہے کیا ہم سارے کے سارے آج بھی وہیں نہیں کھڑے جہاں پچاس سال پہلے یا سو سال پہلے کھڑے تھے یا شاید اس سے بھی زیادہ۔۔۔۔ سفاکی، جھوٹ ، چل کپٹ ، مکر اور بھوک کے اعتبار سے ہم شاید بہت پیچھے چلے گئے ہیں منٹو اپنے کردار کے حوالے سے منفرد رہا وہ کئی حوالوں سے لوگوں کو یاد آئے گا ان کو بھی جنہوں نے پیار دیا اور انہیں بھی جنہوں نے اس سے نفرت کی لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہر بار منٹو نئی تخلیقی تازگی کے ساتھ اپنی اہمیت کا احساس دلاتا رہے گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s