ادب اور مقصدیت


آہنگ ادب پشاور کا اجلاس 23 مارچ 2009 کو علامہ اقبال ہاسٹل کمرہ نمبر 76 میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت جناب حماد نے کی۔ اجلاس میں مضمون ادب اور مقصدیت پڑھا گیا اس کے بعد ادب اور مقصدیت کے حوالے سے عام بحث ہوئی۔ جناب اویس قرنی ، جناب وہاب اعجاز خان اور جناب امین تنہا اور صدر محفل نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس کے بعد جناب ڈاکٹر صابر کلوروی کی پہلی برسی کے موقع پر ان کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی ۔ ساتھ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ گزرے ماہ سال کی یاد بھی تازہ کی گئی۔ اور ان کی شخصیت اور خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

منٹو کی نئی تفہیم سیمینار


سعادت حسن منٹو

سعادت حسن منٹو

اکیس مارچ 2009 آہنگ ادب پشاور کی جانب سے ’’منٹو نئی تفہیم ‘‘کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس کی رونمائی پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم کے ہاتھوں ہوئی
اس پر کیف سبھا میں پروفیسر بادشاہ منیر بخاری نے منٹو کے افکار کی اجلی اور چمکتی دھوپ اور چمکتی روشنیوں کی راہ نمائی میں چلتے ہوئے منٹو کے کردار کی تفہیم کے لیے ایک ’’دفتر خاص‘‘ کے پریوگ پر زور دیا۔
اویس قرنی نے ٹوبہ ٹیک سنگھ اور تاریخ کے رخساروں پر لڑھکتے ہوئے آنسوں کے عنوان سے منٹو کے افسانوں کی سرحدوں پر آویزاں لالٹینوں کو بصیرت کی روشنی میں پرکھا اور خاردار جھاڑیوں کو پرانی علامت تصور کرتے ہوئے اس کے بار بار ’’نشانہ‘‘ بنتے اور ’’نشان‘‘ ٹھہرنے پر اس کے متروک ہونے کی طرف اشارہ کیا۔
سونیا بشیر نے منٹو کے کردار ’’ممد بھائی‘‘ کی ذہنی کیفیات اور مجموعی طور پر بننے والے نفسیات میں اس کی مونچھوں اور مرکیوں کے حوالے سے دلچسپ مطالعاتی جہتیں پیش کرتے ہوئے بمبئی کی دادا گیری کے بھید آشکار کیے۔
کراچی سے پروفیسر سحر انصاری نے ’’آہنگ‘‘ کی نئی تفہیم کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ آہنگ ادب کے نوجوانوں اور نوجوانیوں کے نام اپنے پیغام میں آپ نے کہا کہ سعادت حسن منٹو اردو کے ہی نہیں بلکہ بیسویں صدی کے عالمی سطح کے افسانہ نگاروں میں شمار ہونے کے لائق ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں→