عالمی اردو کانفرنس کراچی


یہ کراچی ہے ، طرح طرح کی البیلی روشنیوں ، رنگوں اور انسان کی محنت کی دھڑکنوں میں بسی امنگوں کا شہر ، یہاں کے ساحل پر ہر روز نئی کہانیوں کے جہاز لنگر انداز ہوتے ہیں یہ پانی یہاں کے ملاحوں کو ایک دن بہت دور سے کھینچ لایا تھا شاید اس وقت جب انسان کو اس بات کا احساس ہو چلا تھا کہ پانی کے بغیر وجود کی کشتی زندگی کے جزیرے پر زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکے گی۔
میں اب سے کچھ ہی دیر پہلے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترا ہوں جہاں بال بکھیرے شوخ ہوائیں نگاہوں پر سے سپنوں کی طرح گزر رہی ہیں۔
دیکھا جائے تو یہاں بڑی لگن لگتی دکھائی دیتی ہے لیکن دراصل مجھے یہاں عالمی اردو کانفرنس میں شریک ہونا ہے ۔۔۔۔ایک منٹ۔۔۔ میں ذرا انتظار حسین صاحب سے مل لوں جو ابھی ابھی لاہور سے پہنچے ہیں۔ انتظار صاحب کو تو آپ جانتے ہوں گے جو اردو افسانے میں گنگا جمنی تہذیب کے سب سے بڑے امین ہیں ان کے ہمراہ حمید اختر صاحب ہیں، وہ حمید اختر جن کے قلم سے غیر منقسم ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کا دفتر حرکت و عمل کی سرخیاں کشید کرتا تھا ۔ ہمیں لینے کے لیے پروفیسر انیس زیدی اور مختیار احمد ائیرپورٹ پر پہلے سے موجود ہیں۔
اس وقت ہمیں کراچی آرٹس کونسل پہنچ کر اس تقریب کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں شرکت کرنی ہے کراچی کی وسیع اور طویل و عریض سڑکوں سےہوتے ہوئے آرٹس کونسل کے دروازے تک پہنچے ہی تھے کہ اس یادگار سبھا کے ایک محبوب کردار کالا چشمہ چمکائے ہر دم مستعد اور جاذب نظر محمد احمد شاہ پرتپاک قہقہے اور سگریٹ کا دھواں بکھیرتے بکھیرتے گلے لگ گئے۔
اسی دوران کجلائی ہوئی سندرتا کے نین جھکاتی شایدہ کنول نے احمد شاہ کے دفتر تک ساتھ دیتے ہوئے کانفرنس کے لیے ہونے والی تیاریوں کے سلسلے میں آرٹس کونسل کے رت جگوں سے اجمالاً سیڑھی سیڑھی آگاہی بخشی۔
لنچ کے بعد ہمیں ’’قصر ناز‘‘ لے جایا گیا جہاں ہمارے قیام کا بندوبست کیا گیا تھا ۔ ابھی ٹھیک طرح سے سانس بھی لینے نہ پائے تھے کہ فون کی مسکراتی ہوئی گھنٹی باقاعدہ کھلکھلانے لگی۔ دوسری جانب سے ایک نسوانی آواز میں بے تحاشا میٹھی سلوتیں سننے کو ملیں بعد میں پتہ چلا تو وہ ہما بیگ نکلیں جو عرصہ ہوا پشاور کو الوداع کہہ کر کراچی سے بندھن جوڑ چکی ہیں لیکن ان کو میرے یہاں آنے ، قصر ناز اور کمرہ نمبر کا پتہ اور وہ بھی اتنی جلدی ۔۔۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے، کچھ لمحے حیرت کی دھوپ چھاؤں میں گزارنے کے بعد کراچی والوں کی تیزی کی داد دینی پڑی۔
ہما کی لمبی کھتا سننے ، کچھ اپنی اچھائیاں ، کچھ دوسروں کی برائیاں ، کھی کھی ہی ہاہپ (یہ ہنسنے کا ایک پوز ہے) کے بعد دوبارہ آرٹس کونسل کی راہ لی جہاں کتابوں کا ایک جگمگاتا ہوا شہر آباد ہو چکا تھا۔
>کتاب جو ہماری تہذیب کا بے لوث نذرانہ ہے جو جنگ کے مقابلے میں امن کے پجاریوں کا سب سے بڑا اور سب سے موثر ہتھیار ہے ۔ کتابوں کا ایک ایسا شہر جس میں شالامار ، تاج محل اور پانچ ہزار سالہ تمدن کی تمکنت جنت نظیر کشمیر کے گیتوں میں ڈھل کر پوتر سنگم کا روپ اختیار کر گئی۔ کتابوں کے انہی ایوانوں میں ’’اللہ ہو‘‘ کی وہ صدائیں اور ’’حق ہو‘‘ کے وہ نعرے تھے جو بادشاہی مسجد کے احاطے سے ہوکے رنجیت سنگھ کی بارہ دری میں گونجتے اور دہلی کے لال قلعے پر سے گزرتے ہوئے شیخ معین الدین اجمیری کے آستانہ مبارک تک بنا کسی رکاوٹ کے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کتابیں جن میں رگ وید کے منتروں ، گرنتھ صاحب کے دوہوں ، کیتا کے اشلوکوں ، اجنتا کی تصویروں ، ایلورا کے صنم زاروں اور اشوک کے کتبوں کی خوشبو ہے وہی خوشبو جو جہلم ، راوی اور اباسین کے پانیوں میں ہے ، وہی مہکار جو گنگا اور جمنا کی چھپاکوں میں ہے ، ہڑپہ کے آثار اور ’’پورن کمبھ‘‘ کے میلے میں ہے ، مریم اور سیتا کی عفت میں ہے ابوالکلام آزاد کے بانکپن اور شورش کاشمیری کے ضمیر کے آہنگ میں ہے۔ انتظار کی کہانیوں اور کرشن کے افسانوں میں ہے ۔ نوشاد کی ریاضتوں اور گلزار کی نظموں کی اذیت ناکی میں ہے۔
پریس کانفرنس جاری رہی ، پاکستان ، ہندوستان ، برطانیہ ، کینڈا اور دنیا کے متعدد خطوں سے زبان و ادب کی محنت کا مخملی پرچم لیے آشفتہ سروں کے قافلے کسی شفاف جھرنے کی سرمستی بن کر دلوں کو سیراب کرتے رہے۔ آج شام شاعر آتش مغنی حسن و جمال حضرت جون ایلیا کے نام تھی۔ اس وقت جون ایلیا کے یادگار مشاعروں کی جھلکیاں بری سکرین پر دکھائی جا رہی ہیں جون کی آواز میں غضب کی گودائی ہے ان کے انداز میں آسمانی بلندی ہے ، یہ وہ لہجہ ہے جس سے آنسو جھر سکتے ہیں اور ہنسی کے پھول بھی کھل سکتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی نے جون کی شاعری کا حق ادا کرنا ہو تو اسے جون کی آواز میں سنے۔ یہ کیسا روگ ہے جو جون کی جان کے ساتھ لگا ہوا ہے بقول نارنگ صاحب اس آگ نے تو جون کی ہڈیوں کے گودے تک کو گلا کر راکھ کر دیا ہے۔ اردو تنقید کے ناخن پر جون کی تفہیم ایک گرہ نیم باز ہے ابھی معاصر تنقید جون کی مقروض ہے ان کی شاعری کی بھی اور شخصیت و علمیت کی بھی۔
جون کو یاد کرتے ہوئے انور مقصود نے عالم جاودانی سے آیا ہوا جون کا مکتوب بنام انور مقصود پڑھ کر سنایا جس میں ان سبھی احباب کا تذکرہ تھا جو ان کے ہمسائے تھے ، میر تقی میر ، ناصر کاظمی اور ابن انشاء ۔ بیچ میں منیر نیازی اور احمد فراز بھی زیر عتاب آئے صدر محفل مشتاق احمد یوسف زئی نے جون کے بارے بڑی چلبلی قسم کی تحریر سنا کر اس بزم کو مہربان مسکراہٹوں کی آغوش میں جھلا دیا۔ رات گئے تک شاعری کے کھنکھتے ہوئے پیمانوں کی مہک موسموں کی روح میں انگڑائیاں لیتی رہی۔
اگلے روز ۔۔۔۔ سویرے ہی ساحل کی بہاریں نظاروں کی سلامی لینے چل دئیے جہاں سمندر کی نیلگوں نگاہیں خود سپردگی کے عالم میں ساحل کی راہوں میں بچھ رہی تھیں۔ ساحلوں کے گیت من میں لیے آرٹس کونسل آڈیٹوریم پہنچے تو تین بج رہے تھے اور شعر و سخن کے متوالے کانفرنس کے افتتاحی جلسے کی تیاریوں اور بنانے سنوارنے میں یوں کھوئے ہوئے تھے گویا عروس نو بہار کی مشاطگی کا فریضہ ادا کرنے میں مگن ہوں
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
جمیل الدین عالی ، ڈاکٹر جمیل جالبی ، حاجرہ مسرور ، ڈاکٹر صدیق الرحمان قدوائی ، حمید اختر ، فاطمہ ثریا بجیا ، انتظار حسین ، یوسف سندھی ، لطف اللہ خان ، کشور ناہید ، راحت سعید شاہد ماحولی ، علی احمد فاطمی ، شمیم حنفی ، سحر انصاری ، آفتاب احمد خان ، احمد شاہ ، سید مسعود ہاشمی ، شہزاد احمد ، سیف الرحمان گرامی ، اقبال مرزا ، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ ، ڈاکٹر منظور احمد ، پروفیسر خلیق انجم اور کئی دوسرے سربرآوردہ قلمکاروں اور دانشوروں کی کہکشاں سدا سہاگن اردو کی مانگ ستاروں سے بھرنے کے لیے اس مان بھری چنچل کے سرے آب رودگنگا اور مے حجازی کے گل بوٹوں سے سجا کر لائے ہیں
آرزوؤں کی سنہری پالکی درد کے کہاروں نےدل کے کاندھوں پر اٹھا رکھی تھی ، یہ مہکیلی شام جھومتی تھرکتی ہواؤں کی تھالی میں چراغوں کو سجائے دلوں کے آنگن میں یوں اتر رہی تھی جیسے دور کسی گاؤں سے مہوا کی بھینی بھینی خوشبو بھولی بسری یادوں کی کہانی لیے پھیرے لیتے لیتے اچانک تن بدن سے لپٹ جائے۔
سحرانصاری صاحب کا استقبالیہ خطبہ ہماری تہذیب کے نام جذبات ، احساسات اور اپنائیت کا ایسا دو شالہ تھا جس میں ہماری تمدنی روایات کے ہزاروں جلوؤں کی روح اپنی ریت اور پریت ، معاشرت ، رسم و رواج ، تیوہاروں ، ماہیوں اورٹپوں ، دوہوں ، تریوینیوں اور سرتال کی سبھی رعنائیوں سمیت تحلیل ہو چکی تھی۔ اس مقام پر اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے زندگی بھر مصروف کار رہنے والے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی یاد نگاری کے عمل میں مولوی صاحب کی بردباری ، توکل ، تحمل ، اور جرات اظہار کو زبردست خراج عقیدت و تحیسن پیش کیا گیا ۔
اس کے بعد ملیح آباد کے جوشیلے شاعر رومان و انقلاب کی حثیت سے خود کو منوانے والے شبیر حسن خان جوش کی شخصیت اور فن پر مقالوں کا دور چلا ۔ ڈاکٹر شاداب احسانی ، ڈاکٹر شازیہ عنبرین ، یحییٰ احمد اور ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے اس طلسمی گھر کے راستوں کا تعین کرنے کی جرعہ جرعہ کوشش کی خیر مقدمی عشائیے سے قبل پھولوں کی بارش میں گلے ملتے ملتے انتظار حیسن اور گوپی چند نارنگ ، خلیق انجم ، حمید اختر اور خوشبیر سنگھ کی آنکھیں چھلک پڑیں تو یوں لگا جیسے کسی نے برکھا رت میں دیپک راگ چھیڑ کر دلوں میں فرقتوں کی طویل داستانوں کو اچانک تازہ کرتے ہوئے پوری محفل کو درد و گداز کی ایک ہی لے میں مسحور و مخمور کرکے رکھ دیا ہو۔زبان و ادب کیاس درمندی اور بے لوث اخلاص و محبت پر سیاست کی ہزاروں فرزانگیاں قربان ہوں۔
رات گئے اوپن ائیر تھیٹر میں مدھرتانیں فضاؤں میں تھرتھراتی رہیں۔ سینکڑوں کا مجمع تھا لیکن ایسا سلیقہ اور انہماک کہ موسیقی کے سنہرے بجرے میں سیر کرتے رسیلے موتیوں کی مالا پروتے پروتے رات بیت چلی۔ تو احساس ہوا جیسے عالم خواب میں کسی دوسرے زمانے میں کسی دوسرے زمانے کی سیر کرکے آرہے ہیں۔ نوشاد اعظم ، خواجہ خورشید انور ، ماسٹر غلام حیدر ، پیارو قوال ، استاد عبدالوحید خان ، شنکر جے کشن ، شیام سندر ، رشید عطرے ، کندن لال سہگل ، طلعت محمود ، محمد رفیع صاحب ، ہمنت کار ، گیتا دت ، ثریا ، آشا جی ، مہندر کپور ، لتا جی ، مکیش ، محمد علی ، وحید مراد ، مہدی حسن ، او پی نیر، کلیان جی آنند جی ، لکشمی کانت ، پیارے لال ، دلیپ ، راج کپور ، دیو آنند ، راجیش کھنہ ، بمل رائے کشور دا ، نوتن ، گلزار ، محمود ، احمد رشدی ، نور جہاں ، ناہید اختر، استاد امانت علی خان ، مدن موہن ، حسرت جے پوری ، شیلندر ، خیام ، جان نثار اختر ، کیفی اعظمی ، رومی ، ساحر لدھیانوی ، زہرہ بائی ، انبالے والی، امیر بائی کرناٹکی ، سمن کلیان پوری ، بیگم اختر ، ایس ڈی برمن اور فن کے مہان کلاکاروں اور چاند ستاروں کو اس رات شردھانجلی دی گئی۔ اگلے روز منظر اکبر ہال میں اردو ادب کے نئے تخلیقی و تنقیدی رجحانات پر مباحثہ میں صدیق الرحمان قدوائی ، خلیق انجم ، ڈاکٹر صدیقی ، فہمیدہ ریاض ، ڈاکٹر آصف فرخی ، ڈاکٹر نارنگ اور فاطمہ حسن نے اپنے مقالوں کے خلاصے پیش کیے اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر اقبال پیرزادہ نے کی۔
دوسری نشست نماز جمعہ کے بعد سہ پہر تین بجے شام سات بجے تک اردو شاعری کے نئے رجحانات کے لیے مختص رہی ۔ اس مباحثے میں شہزاد احمد ، سرشار صدیقی، خالد معین ، شاہد ہاہلی ، افتخار عارف ، اصغر ندیم سید، اور کئی دوسرے نقادوں اور شاعروں نے حصہ لیا۔
ہفتہ 29 نومبر کو اردو فکشن میں نئے رجحانات پرمقالات کا سلسلہ شروع ہوا۔ مجلس صدارت پر جناب انتظار حسین ، ڈاکٹر خلیق انجم ، ڈاکٹر شمیم حنفی اور ڈاکٹر انور سجاد رونق افروز تھے۔ نظامت صبا اکرام نے کی ۔ مقالات میں ڈاکٹر انور احمد ، اقبال مرزا (لندن) ، ڈاکٹر علی احمد فاطمی (الہ آباد) علی حیدر ملک ، مبین مرزا اور راقم الحروف نے اپنے خیالات پیش کیے۔
>اسی روز شام کو گنج معانی حضرت اسد اللہ خان غالب کی یادوں کی پروائی یوں چلی کہ گویا
شب ہوئی پھر نجم رخشندہ کا منظر کھلا
اور پھر
اس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا
دل سے بے اختیار صدا آئی۔
رکھیو یارب ! یہ در گنجینہ گوہر کھلا
صدیوں کے شاعر کے ہر سو دکھائی دینے والے جلوؤں کے گرد اس شام عقیدتوں کے چراغ جلتے ، صورت پیمانہ گردش کرتے رہے۔
دل کے کنول کھلتے ہی نرم ہواؤں کے لطیف جھونکوں نے مندروں ، مسجدوں اور کلیساؤں کی دعاؤں کو آسمان ادب کے اس مہا لیکھیک کی نذر کر دیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر نوازش علی شوق ، خواجہ رضی حیدر ، علی حسن ، یوسف جمال ، قمر علی عباس ، خلیق انجم ، اور قدوائی صاحب نے لیل و نہار پر نقش کا الحجر آبروئے سخن اسد اللہ خان غالب کو خراج پیش کیا۔
رات گئے ہند پاک جشن غالب مشاعرہ میں ہندوستان اور پاکستان کے پرچم ہواؤں کے دوش پر آسمان کے ستاروں کو چھوتے ہوئے ایک ساتھ لہراتے رہے ۔ اچانک رات کے پہلو سے لگے سائے کے ساتھ ہی خبروں اور افواہوں کے ایک تیز اور کسیلے نوکیلے دھویں نے آڈیٹویم کا محاصرہ کر لیا ۔ شہر میں کچھ مسلح گروپوں کے بیج جواب در جواب اشتعال انگیز کاروائیوں سے زیادہ پولیس اور رینجرز کی گاڑیوں پر نصب مشین گنوں اور ہواؤں میں پھیلتی آنسو گیس کے بھبھوکوں سے خود کو بچاتے ، روٹ پہ روٹ تبدیل کرتے اور دیر سے پہنچنے والے احباب کے حواس بحال ہونے میں بہت وقت لگا۔ پتہ نہیں اس پورے دورانیے کو باہر سے آئے مہمانوں نے کیسے لیا ہوگا؟
میں تو یہ منظر نامہ دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ افواہیں چاہے خبروں کے ذریعے اڑیں یا ٹیلی ویژن سکرین کے وسیلے سے پھیلیں اس میں بلاشبہ بڑی طاقت ہوتی ہے کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی خبر کو کسی سے اجازت یا مصدقہ انفارمیشن کے بغیر کئی دن تک ایک بڑی خبر کے طور پر چلا بلکہ چِلّا بھی سکتے ہیں۔ نہ صرف خبر بلکہ اس پر تبصرے ، ڈائیلاگز ، تصویریں اور خطرناک قسم کا شورش زدہ میوزک بنا چلا کے شریف شہریوں کو گھروں میں محبوس و محصور کر سکتے ہیں ۔ یہی جدید ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی دین ہے اس جدت نے ہمیں ایسے اینکرز اور دانشور بھی فراہم کر دئیے ہیں جو زیرو کو ہیرو بنانے میں اپنا جواب نہیں رکھتے جن کا کام ہی یہ ہے کہ تھرلنگ سے بھرپور خبریں جوڑ جوڑ کے سنسنی خیزی کے نئے سے نئے ریکارڈ قائم کیے جائیں یہی کچھ برصغیر کے دلوں کی دھڑکن فراز کے جیتے جی ان کی موت کا اعلان نامہ تیار کرنے کے سلسلے میں بھی ہوا اور بمبئی کے تاج ہوٹل میں لگی آگ کے حوالے سے بھی۔
تاج ہوٹل کے واقعے پر سرحد کے دونوں جانب عقل و دانائی اور فہم و فراست کے جو محیر العقول مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں اس میں روزانہ دانش و بینش کی نئی پیوند کاریوں کو پوری دنیا کے سامنے بڑے تفاخر کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ یہ گرما گرم تبصرے ، مصالحے اور ٹیبل ٹاک اور یہ بار بار وہی قصہ کو صبح سے شام ہوگئی اور ٹیلی وژن پر کسی ایسی خبر سننے ، کوئی ایسا راستہ دیکھنے کو سماعتیں اور بصارتیں ترس کر رہ گئیں جہاں آسمان صاف ہو ، کوئی ایسی خبر جس میں کوئی دھواں ، کوئی آگ ، کہیں بھڑکتا بھڑکاتا ہوا شعلہ نہ ہو ، کوئی ایسا گیت جس کے شبنمی سرا ان شعلوں کو بجھا کر یخ کر دے ۔۔۔۔۔
کاش! یہ چینلز یہ بھی دکھاتے کہ جشن غالب پر جو مشاعرہ غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی اور بزم غالب کراچی کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں ہورہا ہے اور جس کی صدارت جامعہ دہلی سے تعلق رکھنے والے غالب انسٹی ٹیوٹ کے قدوائیصاحب کررہے ہیں کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ کیا اچھا ہوتا اگر بریکنگ نیوز کے طور پر خوشبیر سنگھ شاد کے اشعار پر ان سینکڑوں حاضرین محفل کے جوش و جذبات اور داد و تحسین کا منطر بار بار دکھایا جاتا جو اس رات سندھ اسمبلی کے پہلو میں پورے کراچی پر محیط ہو کے چاندی کی شطرنجی بچھا رہا تھا۔
اور کاوش یہ چینلز آنسوؤں میں بھیگی ان مسکراہٹوں کو ، گلے ملتے ان لمحوں کو محسوس کر سکتے جنہیں وقت نے انتظار حسین اور ڈاکٹر نارنگ کے روپ میں امر کر دیا تھا لیکن میڈیا کو چاہت دیس کی ان کہانیوں سے کیا سروکار ، وہ جوابی طور پر اشتعال انگیز کاروائی کیوں نہ کرے تاکہ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے پیمانے پر بات بنی رہے کیونکہ اخبار کو چینلز کو اور ہجوم کو تو وہی فارمولا فلم چاہیے جس میں ایک دوسرے پر غرانے اور مارکٹائی کے بے تحاشا سین ہوں مہذب سماج، مہذب تصویریں ، مہذب رشتے اور رابطے شاید کسی اور دنیا کی داستانیں تھی جو اب ایک قصہ پارینہ میں بدل چکی۔
اور میں تو سوچ رہا ہوں تو اس زمانے کے بارے میں جب محبت کے معانی کتابوں میں بھی نہیں ملیں گے۔
ٹورنٹو سے آئے اشفاق حسین نے احمد فراز پر لکھی ہوئی کتاب پیش کرتے وقت افسوس کے ساتھ کہا تو میں سوچ میں پڑ گیا کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے ؟ اور دفتعاً مجھے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے بعد ہال سے باہر آتے ہوئے وہ لمحہ یاد آیا جب ایک معروف ٹیوی کے بھیجے ہوئے ایک لونڈے نے مجھ سے پوچھا تھا کہ انڈیا سے کون صاحب آئے ہیں؟ میں نے نارنگ صاحب سے ملواتے وقت یونہی اس لڑکے سے کہا کہ اگر سیاسی سوالات سے گریز کیا جائے تو بہتر رہے گا لیکن ہال سے باہر قدم رکھنے والے نارنگ صاحب ، شمیم حنفی ، اور خلیق انجم کیساتھ سلام کلام کا خیال رکھے بغیر پہلا سوال داغا گیا۔ ’’بمبئی میں ابھی جو حملے ہوئے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ اس وقت جو کوفت مجھے ہوئی اس سے شاید ہزار درجے ذہنی اذیت اور کرب سے وہ مہمان گزرے ہوں گے جو تھے تو کراچی میں لیکن جن سے پوچھا جا رہا تھا ان بمم حملوں کے متعلق جس کے بارے میں کچھ کہنا نہ صرف قبل از وقت بلکہ بعید از فہم بھی تھا۔اب ذرا نارنگ صاحب کا جواب ملاحظہ کیجیے۔
میں تو یہاں اپنی مٹی کو سلام کرنے آیا ہوں ، میں تو اسی وطن کا باسی ہوں جہاں تم لوگ رہتے ہو ، میرے لیے تو کراچی اور بمبئی ایک ہے ، دہلی کی وہ مٹی جس کے ذرے ذرے میں اسلاف کا لہو خوابیدہ ہے اور حضرت علی ہیجویری داتا گنج بخش کی نگری لاہور کی خاک تو میری آنکھوں کا سرمہ ہے اور صرف میری آنکھوں کا سرمہ ہی نہیں اس نے مجھے دل کی وہ بینائی بھی دی ہے جو کسی بھی انسان کو انسان پر ظلم ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی
لیکن یہ باتیں اس اینکر کے سر پر یوں گزر گئیں جیسے نارنگ صاحب نے کوئی انوکھی زبان بولی ہو۔ سو اس کا سوال بدستور اس کی زبان سے چمٹا ہوا تھا کہ ۔
اور میں سمجھتا ہوں کہ نارنگ صآحب کی زبان واقعی کوئی دوسری زبان تھی وہ زبان جس سے صرف محبت کی امرت اور انسانیت کی خوشبو ٹپکتی ہے۔ ڈاکی بلوچستان کے دھنوان خطے میں جنم لینے والے ڈاکٹر نارنگ اس لونڈے کو حیرانی کے دریا میں چھوڑ کر بہت آگے جا چکے تھے اور وہ اینکر کسی ناکارہ بنائے گئے بم کی طرح اپنے سوال کی سڑاندا میں سر تاپا ڈوبا سر کھجاتا رہ گیا تھا۔میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ مشاعرہ میں نئے آنے والوں کے چہروں پر ہوائیاں دیکھ کر میرے بائیں جانب بیٹھی کشور ناہید نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
لگتا ہے حالات قابو سے باہر ہو گئے ہیں
لیکن عین اسی لمحے محمد احمد شاہ ڈائس پر آئے اور فاطمہ حسن سے مائیک لے کر پرجوش انداز میں گویا ہوئے ’’دوستو! ان اندھیروں کے مقابل ہمیں مورچہ لگانا ہوگا ، ہم امن و محبت کے داعی ہیں ، یہ تقریب اگر حالات کی ستم ظریفیوں کا شکار ہوگئی تو غالب اور میر ، مولوی عبدالحق ، پریم چند اور کرشن چندر کی روحوں کو جو صدمہ پہنچے گا اس کا اندمال ہم کیسے کریں گے ؟ اندھیرے اور اجالے اور خیر اور شر کی یہ لڑائی جو ہر دور میں لڑی گئی آج بھی اپنے جوبن پر ہے لیکن آج ۔۔۔۔ آج ہم ۔۔۔۔ یہ دیئے نہیں بھجنے دیں گےاور میں سوچ رہا تھا کہ یہ تو ادب کی وہ شمعیں ہیں جنہیں غدر کی مسموم آندھیاں بھی نہ بھجا سکیں یہ تو تخلیق کی وہی روشنی ہے جسے فسادات کی درشتی اور تلخ نوائی کملا نہ سکی ، آفاقیت کی وہ اکائی ہے جسے سمندروں دوریاں بھی نہ تڑوا سکیں۔ پھر اس اجالے سے ٹکرا کر آج کس نے عدم آباد کی راہ لینی ہے کہ آج کے کسی سیاسی کھلواڑ کے نتیجے میں پیدا کردہ مکروہ تناؤ کے مقابلے میں تو وہ دئیے روشن تھے جو تخیل کے نور اور تعزل کی چاندنی سے بنے تھے ۔ احمد شاہ کی آواز میں اس رات وہ گونج اور گرج تھی کہ لگا جیسے کسی غیبی طاقت نے اس آواز میں طوفانی بجلیاں بھر دی ہوں ۔ اور دراصل یہی جرات مندانہ اور بے باکانہ آواز ہر شاعر اور ادیب کی آواز تھی یوں لگا جیسے اس رات ان کے سیل ’’خطبہ‘‘ میں گردوں کف سیلاب تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے سحر انصاری ، راحت آفرین راحت سعید ، افتخار عارف ، کشور ناہید ، اشفاق حسین ، خوشبیر سنگھ ، انور شعور ، نسیم سید ، پدم پھوشن ، گوپی چند نارنگ ، خلیق انجم ، مسعود ہاشمی ، حمید اختر اور ہند پاک کے سبھی ادیبوں نے دھرتی ماں کی سوگند کھائی ہو کہ اب ۔۔۔یا پھر۔۔۔کبھی نہیں۔چنانچہ بندوقوں کی گولیوں کی شورا شوری اورایمرجنسی چلنے والی گاڑیوں کی آتشیں سائرنوں کے سامنے ماہیے کے گیت ، محبت اور انسانیت کے ترانے اور زندگی کے مانجھیوں کے نغمے فتح وظفر کی نوید سناتے رہے اور پھر ایک گھڑی وہ بھی آئی جب وہ یادگار ور انمول لمحے اپنے ادب کے سامنے سرخرو ہو کر ایک اجلی صبح کے دروازے پر دستک دینے لگے۔


حصار ظلم کے نرغے میں سرخرو ترے لوگ
حدود وقت معین سے ماورا ترا غم


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترے کرم کی بارشوں سے سارے باغ کھل اٹھیں
ہوائے مہر ۔۔۔۔۔ نفرتوں کا سارا زہر مار دے
میرے امین آنسوؤں کی نذر ہے قبول کر
میرے کریم اور کیا ترا گناہ گار دے
قیامتیں گزررہی ہیں جو کوئی شہسوار بھیج
وہ شہسوار جو لہو میں روشنی اتار دے
وہ آفتاب بھیج جس کی تابشیں ابد تھلک
میں داد خواہ اجر ہوں جزائے انتظار دے
(افتخار عارف)


پھول مرجھا نہ جائیں بجروں میں ۔۔۔ مانجھیوں کوئی گیت ساحل کا ‘‘ کے مصداق شعر و سخن کے دلدادگان ، بارود کے گہرے گھنے اور کڑکتے بادلوں کو ۔۔۔ دھنک کی چوڑیاں پہنانے کی کوششوں میں لگے رہے اور پھر ۔۔۔سویرا ہو ہی گیا ۔۔۔۔تاروں کے موتی چنتے چنتے یہ رات نور کے تڑکے پنکھڑیوں پر شبنم کی صورت طہارت اور پاکیزگیکی علامت بن کر جھلملا رہی تھی۔
اگلے روز اتوار تھا ۔ یہ دن جوش ملیح آبادی کی نثر اور شاعری میں تہذیبی ، فکری ، جمالیاتی ، سماجیاتی عصری عناصر اور فنی محاسن پر گفتگو کرتے گزرا ۔ پنکی جسٹن ، حمید اختر ، علی جاوید ، اقبال حیدر ، انیس زیدی ، نزہت عباسی ، ڈاکٹر انیس عالم ، ڈاکٹر تقی عابدی ، ابراہیم رضوی اور کئی دوسرے نقادوں نے تفصیلاً جوش کی فکر و فن کا محاکمہ کیا۔ اس بیچ جوش کی شاعری کے جمالیاتی پیکروں کی پینٹنگز سے مزین آرٹ گیلری کا افتتاح بھی ہوا۔ پیر کا دن مخدوم محی الدین کے لیے وقف تھا وہ مخدوم جنہوں نے کہا تھا


کتنے سہمے ہوئے ہیں نظارے
کیسے ڈر ڈر کے چلتے ہیں تارے
کیا جوانی کا خوں ہو رہا ہے
سرخ ہے آنچلوں کے ستارے
جانے والے سپاہی سے پوچھو
پوچھ لو ! وہ کہاں جا رہا ہے


تو دوسری جانب یہ انداز بھی ملاحظہ ہو


آپ کا ساتھ ، ساتھ پھولوں کا
آپ کی بات ، بات پھولوں کی
میرے دل میں سرور صبح بہار
تیری آنکھوں میں رات پھولوں کی


اس تقریب کی نظامت برفات مآب ہما میر کےحصے میں آئی ، حمید اختر ، محمد احمد سبزواری، واحد بشیر ، پروفیسر میر حامد علی ، وکیل انصاری ، زاہد علی خان اورمخدوم کے بیٹے نصرت محی الدین کے علاوہ علی جاوید ، انوار احسن صدیقی ، ڈاکٹر محمد علی صدیقی ، مظہر جمیل ، نے مخدوم کے نام اور کام کا چرچا کیا۔

منگل کو کراچی یونیورسٹی کے آرٹس آڈیٹوریم میں اردو تنقید کے امکانات پر نہایت دل خوش کن اور گرما گرم بحثیں رہیں جس میں ڈاکٹر جمیل جالبی ، انصاری صاحب ، شمشیم حنفی ، شاہد ماہلی ، ڈاکٹر نارنگ ، قدوائی صاحب ، ڈاکٹر ظفر اقبال ، ڈاکٹر صدیقی اور متعدد نقادوں نے معاصر تنقید پر افکار کے تازہ ابواب کھول دئیے۔
اسی اثنا میں سٹی کلب کراچی سے سرور جاوید کا فون آیا جہاں ایک شام افسانہ کا اہتمام ہوا تھا ۔ ایسی ہی ایک تقریب اکادمی ادبیات کراچی کے آغا نور محمد پٹھان نے بھی دو دن قبل منعقد کی تھی جو بوجودہ تعطل میں پڑ گئی۔ سٹی کلب جاتے جاتے پانچ چھ دن سے خبروں اور افواہوں کے بخار میں تپتے طاہر آفریدی کو گھر سے باہر لا کر ، شام افسانہ کی دھنک رنگ فسوں کاری میں دھڑکنیں درست کرنے پر آمادہ کیا ۔ رات تقریباً بارہ بجے تک افسانے کی محفل جمی رہی۔ آج بدھ کو اہل دل کا قافلہ زندہ دلوں کے شہر لاہور روانہ ہوگیا۔ پھر ملنے کے وعدوں میں یہ کاروان آنکھوں میں کچھ شکوے ، ذہن میں کچھ سوالات اور دل میں بہت ساری امیدوں کے چراغ جلا کر ہولے ہولے پگ دھرتی رخصتی کی صورت ہاتھ ہلاتے ہم سے جدا ہوگیا۔ ابھی شام کے پہلے ستارے کے ساتھ ہی کچھ دوستوں کی دعوت پر حیدر آباد (سندھ) کی گاڑی پکڑی ہے گاڑی اندھیرے کی فصیلوں کو چیرتے ہوئے بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے لیکن یوں لگ رہا ہے جیسے منزل ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی بہت دور ہے۔


تحریر:اویس قرنی

ایک خیال “عالمی اردو کانفرنس کراچی” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s