امن اور ادب


Peace_dove_svgاس وقت دنیا نئے سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کی لپیٹ میں آنے والی ہے سرمایہ داری کے تیروں نے تیسری دنیا کے خوابوں تک کو چھلنی چھلنی کرنے میںکوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ انسان دوستی ، اخوت ، رواداری اور مروت کے جذبوں کی امانت کے لیے ’’سمجھوتہ ایکسپریس ‘‘ کو کچھ عرصہ قبل سلگتی ، سسکتی کراہوں اور بھیانک اندھیروں میں جھونک دینے کے دلدوز سانحے پر بھی شرپسندوں کو تسلی نہیں ہوئی تو انہوں نے نئے محاذ کھول دیئے اور اب ہند پاک کے ایک گہرے سماجی ، ادبی اور ثقافتی معانقے کے بعد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کچھ وحشی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے پھر سے انہیں جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں۔
میرٹ ہوٹل اسلام آباد اور تاج ہوٹل بمبئی میں لگی آگ کو پورے برصغیر میں پھیلانے کے خطرناک عزائم اب سیاست کی زبان پر کھل کر آنے لگے ہیں۔ ایسے میں ادیب پر ایک بہت بڑی ذمہ داری آ پڑی ہے ۔ اسے ایک ایسے انقلاب کی طرف لوگوں کو لے جانا ہے جہاں ہم آہنگی ، پرانی قدروں اور مشترکہ روایات کا اتہاسک سنگھم ہو یعنی اس راستے کی طرف پیش قدمی جہاں انقلابی طاقتیں امن کی داعی ہیں اور جن کے دل میں درد اور انسانیت پر گہرا اعتقاد ہے اور ادیب تو دراصل ابتداء ہی سے جنگ کے مقابلے میں امن کے کیمپ کا علم لہرائے کھڑا ہے اس کی زبان تو ہمیشہ انسانیت کے گیت گنگناتی رہی تو ہمیشہ محبت کے جگنوؤں سے دلوں میں رشتوں کے تقدس کے دیپ جلاتا رہا ۔
انہی حوالوں کو لے کر 28 دسمبر 2008ء کو علامہ اقبال ہاسٹل کمرہ نمبر 77 جامعہ پشاور میں آہنگ ادب کے اہتمام ’’ادب و امن ‘‘ کے موضوع پر ایک مذاکرہ منعقد ہوا ۔ جس کی صدارت امین خان تنہا نے کی ۔ اس موقع پر آہنگ ادب کے سیکرٹری وہاب اعجاز خان نے ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادب چونکہ زندگی کا آئینہ ہے اور زندگی کے ساتھ جتنے بھی المیے جڑے ہوئے ہیں وہ اس آئینے میں منعکس ہوتے ہیں یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم جس خطے میں زندگی سے نبرد آزما ہیں وہ مدتوں سے جنگ و جدل اور مختلف قسم کی محاذ آرائیوں کا مرکز رہا ہے اور جس کا براہ راست نشانہ ہمیں بنایا جا رہا ہے لیکن نائن الیون کے بعد ہر گزرتا ہوا لمحہ ہمارے مسائل میں اضافہ کر تا چلا آ رہا ہے آج یہ سوال دور حاضر کے ہر حساس ذہن کے لیے سوہان روح ہوا ہے کہ س عہد کے بڑھتے ہوئے انتشار کا انجام کیا ہوگا؟ تہذیبوں کے تصادم میں بڑی سیاسی طاقتوں اور اتحادیوں نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ آج ادیب اپنے کردار اپنے عمل اور قلم کے ذریعے زندگی کے دھارے کو پلٹ سکتا ہے۔
صلاح الدین کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ’’ایٹمی دور ‘‘ نے اس عہد کے انسان کے خوابوں پر شدید ضرب لگائی ہے انسان اسلحے کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جب تک اسلحے کی فیکڑیاں چلتی رہیں گی امن کو خطرہ لاحق رہے گا۔ ادیب اور شاعر کا کام سیاستدان اور سائنسدان سے ہٹ کر احساس کی سطح پر سوچنے کا ہوتا ہے وہ ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی بجائے ہر واقعے کے مضمرات پر بھی نظر رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی معتصب نہیں ہو سکتا اگچہ کبھی کبھی اسے اس کی قمیت بھی چکانا پڑتی ہے تاہم وہ اپنے فرائض سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔
وہاب اعجاز نے مزید کہا کہ سرد جنگ ہو ، کورین وار ہو ویت نام کی جنگ ہو یا افغانستان پر حملہ دنیا غیر محفوظ ہوتی جارہی ہے ۔ ابتداء ہی سے سامراجی اور استعماری قوتوں نے نوآبادیاتی نظام کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے ۔ اس عہد کا فرد کئی دوسرے حوالوں سے بھی انتشار کا شکار ہے ۔ ایک طرف سے اس پر قدامت پرستی کا لیبل لگایا جارہا ہے تو دوسری جانب ماڈریشن کے نام پر طرح طرح کی چیزوں کو متعارف کرایا جارہا ہے لیکن کوئی بھی تصویر اپنی اصل شکل میں واضح نہیں ہے۔
خلیل الرحمن قاری کا اس موقع پر کہنا تھا کہ جس طرح مغرب اپنے لیے امن کی راہیں تلاشتے اور تراشنے لگا ہوا ہے اسی طرح ہمارا بھی تو حق بنتا ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرہ میں رہیں جہاں امن کے تارے آسمان کے جھروکوں سے یوں مسکرائے جیسے کسی کی بندیا کی ایک جھلک سے مستقبل کا شیش محل تصورات کے راج از خود تعمیر کر دے ۔ اگر امن کے سپنے انسانی زندگی سے نکال دئیے جائیں تو صرف درندگی رہ جاتی ہے نائن الیون کے بعد تحفظ اور بقاء کے مسائل سے لوگ دو چار رہے ان میں اکثریت مسلمنوں کی رہی ان حالات میں میڈیا کے ذریعے اور اپنی تحریروں کی روشنی میں اپنے تشخص کو اجاگر کرکے اپنا اعتبار دوبارہ قائم کرنا ہوگا۔ متحدہ ہندوستان میں ولیم میور نے ایک متنازعہ کتاب لکھی جس پر سارے مسلمان آگ بگولہ ہوگئے لیکن اس کا ایک خوبصورت جواب قلم کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے جس کو سرسید احمد خان نے محسوس کیا اور اس نے جوابا کتاب لکھ کر ولیم میور کی غلط فہمی اور کج بحثی کا مناسب جواب دیا۔ دور حاضر میں بھی قلم کو ہی ایک بھرپور طاقت اور توانائی کے ساتھ استعمال میں لانا ہوگا ہمیں تحریر اور تقریر دونوں سے کام لینا ہوگا جس کی ایک بڑی مثال اس وقت ڈاکٹر ذاکر نائیک ہیں جنہوں نے دنیا کوافکار تازہ کا ایک نیا باب فراہم کر دیا ہے۔
وہاب اعجاز نے بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا امن عالم کو اس وقت بڑا نقصان میڈیا نے بھی پہنچایا ہے ہم پر مغربی میڈیا کے ذریعے طرح طرح کے لیبل لگائے جارہے ہیں لیکن ہمیں اس کا ازالہ کرنا ہوگا ۔ ہماری جو غلط تصویر دنیا کے سامنے پیش ہورہی ہے ادب اور تخلیق کا عمل بھی ہماری اس تصویر کے خدوخال کو دوبارہ ایک روشن چہرہ دے سکتا ہے۔
خلیل الرحمن نے مزید کہا کہ آج ادیب اپنی پوزیشن واضح نہیں کرے گا تو کچھ طاقتیں ہمارے رہے سہے خواب بھی غصب کر لیں گے ۔ اسرار خاموش نے اس موقع پر کہا کہ ادب برائے امن کی بات ایک ادیب تبھی کرسکتا ہے جب وہ سماج کی اجتماعی بے سکونی کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کرے گا ۔ آج کچھ لوگ خطے کو جنگ کی طرف لے جارہے ہیں لیکن نہ تو جنگ کا جواب جنگ ہے اور نہ ہی جنگ مسائل کا حل ہے ۔ ہمیں روحانیت کے سبھی اور نہ ہی جنگ مسائل کا حل ہے۔ ہمیں روحانیت کے سبھی حوالوں کو لے کرکتاب سے دوستی کرکے اور قلم کو رفیق بنا کے ارتقاء کے سفر کو جاری رکھنا ہوگا ۔ آج ہمیں انہی حالات کا سامنا ہے جو 1857ء کے بعد تھے ایسے میں ایک رہنما کی ضرورت ہے جو امن کا پرچم لے کر خطے میں لگی آگ کو بجھا دے۔
نیاز انور سید کا کہنا تھا کہ آج ہم جس جنگی صورتحال سے دوچار ہیں اس سے نمٹنے کے لیے جہاں علما کرام ، سیاستدانوں اور فوجی افسروں پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہیں تحریر و تقریر سے جڑے ہر شخص کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ ہمارے بچے سہمے ہوئے ہیں اور نوجوانوں کے چہرے مایوسی کے غبار میں ڈوب چکے ہیں ، سارا سار دن قتل کی گردان چلتی رہتی ہے ہمارے بچے ہم سے سوال کرتے ہیں ان جگر پاش سانحات کے حوالے سے جو روزانہ رونما ہوتے ہیں لیکن ہر بار انہیں ہماری نگاہوں کی خاموشی اور افسردگی اور بھی اداس کر دیتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جہاں ہم عدم تشدد کا نعرہ لگاتے ہیں وہاں کبھی کبھی امن قائم کرنے کے لیے تلوار کی ضرورت بھی پڑتی ہے ۔ آج کے اس سہمے ہوئے بچے اس ڈرے ہوئے نوجوان کو حوصلہ دینے کے لیے ادیب کا فرض ہے کہ آگے بڑھے اور معاشرے کو نئی منزلوں کے راستے دکھا دے ۔
اویس قرنی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادب جذبات کی تہذیب اور جذباتیت سے گریز کا نام ہے اور یہی سلیقہ دراصل ادیب کو زندگی کا وہ چہرہ دکھاتا ہے جہاں جمال آگیں درد کے آب و رنگ میں ڈوبی فطرت کی تصویریں ہیں۔ دلنواز پھولوں کے رقص اور مسافروں کے گیت ہیں۔ امن ، محبت اور انسانیت کے بہاریں نغمے ہیں رشتوں کی پہچان اور اقدار حیات پر ایمان ہے۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق کا زینہ زینہ پلٹتے جائیں اورسو چیں کہ جنگ نے انسان کو کیا دیاتو سوائے افسوس کے اور کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
پہلی جنگ عظیم میں کونسی خوشی تھی؟ ہیروشیما ، عراق اور افغانستان میں کھوپڑیوں کے مینار بنانے سے انسان کو کس بات کی تسلی ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم کے شعلوں نے دھرتی کی ارتھی پر کونسے پھول نچھاور کیے۔ 1947ء کے فسادات نے کس کے گھر میں دیوالی کے چراغ فروازں کیے؟
دراصل انسان کی شقاوت اور بہمیت کی اس آگ کا کچھ پتہ نہیں کہ کس وقت بھڑک اٹھے ۔ کبھی تہذیب کے نام پر تو کبھی مذہب کے نام پر ، کبھی رنگ تو کبھی نسلی امتیاز کو لے کر وہ جنون کی آخری حد تک چلا گیا اور نتیجے میں صرف بھوک ، بیکاری ، بیماری اور بے گھری کے نوحے رہ گئے لیکن ادیب اس ہجوم کا اس طرح حصہ نہیں جس طرح کی بھیڑ کی چال میں ایک عام فرد جذباتیت کے ریلے میں بہتا چلا جاتا ہے ۔ ادیب نے ہمیشہ محبتوں کا سنسار آباد رکھا اور انسان کو کائنات کی روح کو سمجھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ ہمارے ادب میں جنگ اور امن کے موضوع پر ٹالسٹائی کا ’’وار اینڈ پیس‘‘ خاصے کی چیز ہے ۔ مغربی دانش میں برٹرینڈرسل نے اس موضوع پر خصوصاً تہذیبوں کے تصادم کے حوالے سے کھل کر لکھا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران ہرمن ہیسے نے جرمن قوم کی جنگ پسندی کے خلاف احتجاج کیا اورجرمنی سے نقل مکانی کرکے سوئٹزرلینڈ چلا گیا جہاں وہ 1962ء میں فوت ہوا۔ اقبال نے بہت پہلے پورے ایشیاء کو خبردار کرتے ہوئے کہاتھا


آسیا یک پیکر آب و گل است
ملت افغاں درآن پیکر دل است
از کشاد اور کشاد آسیا
از فساد او فاد آسیا


سعادت حسن منٹو نے ’’تماشا‘‘ جیسا افسانہ لکھ کر بتایا کہ انفرادی سطح پر جنگی صورتحال سے بچوں کی نفسیات پر کیا اثر پڑسکتا ہے ۔ کرشن چندر نے اپنے ناول ’’آسمان روشن ہے‘‘ کا انتساب ان روشن ضمیر لوگوں کے نام رکھا جو ہندوستان اور پاکستان کے بیچ آسمان روشن دیکھنا چاہتے ہیں۔کرشن جی نے کہا تھا
کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کیپٹلزم کے نام پر یا سوشلزم کے نام پر کسی مذہبی یا غیر ملکی مفاد کے نام پر لوگوں کے سر پر بندوق لے چڑھ دوڑے ۔ دراصل سوال یہ ہے کہ کس طرح انسان کے ہاتھ سے بندوق چھین لی جائے اور اس کے ہاتھ میں ایک پھول دیا جائے۔
اس عہد کے انسان کو اپنی ساری دانائیوں کو مجتمع کرتے ہوئے ہوش کے ناخن لینے ہوں گے بصورت دیگر صورتحال ساحر کے اس شعر سے مختلف نہ ہوگی۔


گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں


محفل کے صدر امین تنہا نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اس اہم مذاکرے میں جتنی گفتگو ہوئی میں دوستوں سے متفق ہوں ۔ ان حالات میں اس قسم کے مکالموں کی اہمیت اور ضرورت کو پورے ملک میں پہلی بار محسوس کرنے اور مل بیٹھنے پر ’’آہنگ ادب‘‘ کو اس مبارک قدم پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادیبوں کے تصورات کو عملی جامہ پہنایا جائے اس وقت میڈیا پر کچھ مخصوص طبقوں کا تسلط ہے اس طبقے کو اپنی پسند اور کام کے اینکرز اور نام نہاد دانشور بڑی آسانی سے میسر آ جائے ہیں جو نہیں چاہتے کہ حالات بہتر ہو جائیں ۔ ان کا کام سوائے اشتعال پھیلانے کے اور کچھ نہیں ہوتا لیکن ہمیں اس منفی امیج کو مثبت رخ دینے کے لیے مل کر صحت مند ادب تخلیق کرنا ہے کہ ادب کے حرکیاتی نظام میں صرف ان لوگوں کو زندہ رہنا ہے جو زندگی کے نغمہ گر ہیں نہ کہ موت کے شعبدہ گر ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s