منٹو مغربی استعمار کے خلاف ایک توانا آواز


آج تک بیشتر نقادوں کی نظر میں سعادت حسن منٹو صحت مند جنسی اور نفسیاتی شعور رکھنے والا افسانہ نگار ہے۔ ۔ کبھی کبھار تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے نقادوں نے انھیں جنس اور نفسیات جیسے انفرادی اور داخلی رجحانات تک محدود کردیا ہے۔ حالانکہ انھوں نے خارجی اور اجتماعی موضوعات کو بھی اپنی تحریروں میں جگہ دی ہے۔ دوسرے ترقی پسند مصنفین کے مقابلے میں انہوں نے ہنگامی موضوعات کے بجائے آفاقی اور بین الاقوامی مسائل کو اپنی فکر کا حصہ بنایا۔ منٹو نے تیسرے دنیا کے فرد کی آواز بن کر مغربی استعمار کی اس سوچ کی نشاندہی کی جس نے نو آبادیاتی نظام کے ذریعے سے لاکھوں ذہنوں کی آزادی سلب کرکے انھیں جینے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا تھا۔ ان کا ابتدائی افسانہ تماشہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جس میں ان استعماری قوتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو اپنے مفاد کی خاط تیسری دنیا کے اقوام کی آزادی کو سلب کرکے اپنے مزموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے انھیں غلامی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ اس افسانے میں موجود بادشاہ کا کردار اس مگربی استحصالی اور استعماری قوت کی علامت ہے جن نے انسانی سوچ پر پہرے لگا دئیے ہیں اور اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو وہ بے دردی سے کچل دیتا ہے۔ حامد کے باپ کی صورت میں تیسری دنیا کے عوام کی اجتماعی بے حسی کا بھی ذکر ہے جو کہ ان تمام مظالم کے باجود حالات سے سمجھوتہ کیے بیٹھے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں→

عالمی اردو کانفرنس کراچی


یہ کراچی ہے ، طرح طرح کی البیلی روشنیوں ، رنگوں اور انسان کی محنت کی دھڑکنوں میں بسی امنگوں کا شہر ، یہاں کے ساحل پر ہر روز نئی کہانیوں کے جہاز لنگر انداز ہوتے ہیں یہ پانی یہاں کے ملاحوں کو ایک دن بہت دور سے کھینچ لایا تھا شاید اس وقت جب انسان کو اس بات کا احساس ہو چلا تھا کہ پانی کے بغیر وجود کی کشتی زندگی کے جزیرے پر زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکے گی۔
میں اب سے کچھ ہی دیر پہلے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترا ہوں جہاں بال بکھیرے شوخ ہوائیں نگاہوں پر سے سپنوں کی طرح گزر رہی ہیں۔
دیکھا جائے تو یہاں بڑی لگن لگتی دکھائی دیتی ہے لیکن دراصل مجھے یہاں عالمی اردو کانفرنس میں شریک ہونا ہے ۔۔۔۔ایک منٹ۔۔۔ میں ذرا انتظار حسین صاحب سے مل لوں جو ابھی ابھی لاہور سے پہنچے ہیں۔ انتظار صاحب کو تو آپ جانتے ہوں گے جو اردو افسانے میں گنگا جمنی تہذیب کے سب سے بڑے امین ہیں ان کے ہمراہ حمید اختر صاحب ہیں، وہ حمید اختر جن کے قلم سے غیر منقسم ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کا دفتر حرکت و عمل کی سرخیاں کشید کرتا تھا ۔ ہمیں لینے کے لیے پروفیسر انیس زیدی اور مختیار احمد ائیرپورٹ پر پہلے سے موجود ہیں۔
اس وقت ہمیں کراچی آرٹس کونسل پہنچ کر اس تقریب کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں شرکت کرنی ہے کراچی کی وسیع اور طویل و عریض سڑکوں سےہوتے ہوئے آرٹس کونسل کے دروازے تک پہنچے ہی تھے کہ اس یادگار سبھا کے ایک محبوب کردار کالا چشمہ چمکائے ہر دم مستعد اور جاذب نظر محمد احمد شاہ پرتپاک قہقہے اور سگریٹ کا دھواں بکھیرتے بکھیرتے گلے لگ گئے۔
اسی دوران کجلائی ہوئی سندرتا کے نین جھکاتی شایدہ کنول نے احمد شاہ کے دفتر تک ساتھ دیتے ہوئے کانفرنس کے لیے ہونے والی تیاریوں کے سلسلے میں آرٹس کونسل کے رت جگوں سے اجمالاً سیڑھی سیڑھی آگاہی بخشی۔ پڑھنا جاری رکھیں→

مجلہ خیابان شعبہ اردو جامعہ پشاور کی آن لائن اشاعت پر مبارک باد


آہنگ ادب پشاور مجلہ خیابان کی آن لائن اشاعت پر شعبہ اردو کے تمام اساتذہ خصوصا مدیر جناب بادشاہ منیر بخاری کو مبارک باد پیش کرتی ہے۔ جن کی انتھک محنت اور خلوص کی بدولت یہ مجلہ بین الاقوامی سطح پر  اردو ادب کےحوالے  سےشعبہ اردو کی نمائندگی کر نے میں کامیاب ہوا۔ ہماری دعا ہے کہ یہ مجلہ اسی طرح ترقی کی منازل طے کرتا رہے ۔ 

آمین

امن اور ادب


Peace_dove_svgاس وقت دنیا نئے سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کی لپیٹ میں آنے والی ہے سرمایہ داری کے تیروں نے تیسری دنیا کے خوابوں تک کو چھلنی چھلنی کرنے میںکوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ انسان دوستی ، اخوت ، رواداری اور مروت کے جذبوں کی امانت کے لیے ’’سمجھوتہ ایکسپریس ‘‘ کو کچھ عرصہ قبل سلگتی ، سسکتی کراہوں اور بھیانک اندھیروں میں جھونک دینے کے دلدوز سانحے پر بھی شرپسندوں کو تسلی نہیں ہوئی تو انہوں نے نئے محاذ کھول دیئے اور اب ہند پاک کے ایک گہرے سماجی ، ادبی اور ثقافتی معانقے کے بعد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کچھ وحشی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے پھر سے انہیں جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں۔
میرٹ ہوٹل اسلام آباد اور تاج ہوٹل بمبئی میں لگی آگ کو پورے برصغیر میں پھیلانے کے خطرناک عزائم اب سیاست کی زبان پر کھل کر آنے لگے ہیں۔ ایسے میں ادیب پر ایک بہت بڑی ذمہ داری آ پڑی ہے ۔ اسے ایک ایسے انقلاب کی طرف لوگوں کو لے جانا ہے جہاں ہم آہنگی ، پرانی قدروں اور مشترکہ روایات کا اتہاسک سنگھم ہو یعنی اس راستے کی طرف پیش قدمی جہاں انقلابی طاقتیں امن کی داعی ہیں اور جن کے دل میں درد اور انسانیت پر گہرا اعتقاد ہے اور ادیب تو دراصل ابتداء ہی سے جنگ کے مقابلے میں امن کے کیمپ کا علم لہرائے کھڑا ہے اس کی زبان تو ہمیشہ انسانیت کے گیت گنگناتی رہی تو ہمیشہ محبت کے جگنوؤں سے دلوں میں رشتوں کے تقدس کے دیپ جلاتا رہا ۔ پڑھنا جاری رکھیں→

احمد فراز کی یاد میں


انجمن کا دوسرا جلاس اگست دو ہزار آٹھ میں علامہ اقبال ہاسٹل نمبر 9 جامعہ پشاور کے سبزہ زار میں شام کے وقت منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت جناب حنیف خلیل صاحب نے کی۔ سیکرٹری وہاب اعجاز نے کچھ انتظامی مجبوریوں کی بنا پر اس انجمن کا نام یونیورسٹی ادبی فورم سے تبدیل کرکے آہنگ ادب رکھنے کی تجویز پیش کی تمام ممبران نے اس تجویز کی تائید کی اس لیے انجمن کا نام تبدیل کرکے آہنگ ادب رکھاگیا۔
اجلاس کی کاروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے صاحب صدر نے احمد فراز کی شخصیت اور ان کی خدمات پر مختصahmad-faraz

ر روشنی ڈالی ۔ جس کے بعد فورم کھول دیا گیا۔ جناب امداد صاحب نے احمد فراز کی جامعہ پشاور کے مشاعرے میں شرکت کے حوالے سے اپنی یادیں تمام دوستوں سے شیئر کیں۔ جناب حماد صاحب نے احمد فراز کو لہجے اوراسلوب کا خوبصورت شاعر قرار دیا ۔ جنہوں نے روایت کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جدید موضوعات کو غزل کے پیرائے میں خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
جناب نذر عابد صاحب نے فراز کو فیض کے بعد اردو کا سب سے بڑا شاعر قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ فراز جیسا شاعر ہماری سرزمین پر پیدا ہوا۔ ان کی مزاحمتی شاعری اور اپنے مقصد کے لیے ان کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا گیا
وہاب اعجاز خان نے احمد فراز کو ایک روایت پسند شاعر قرار دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان کی انفرادیت اور جدت پسندی کا بھی حوالہ دیا ۔ جس کی بدولت وہ ہر طبقے کا شاعر ہے۔ انہوں نے فراز کے تصور عشق پر بھی روشنی ڈالی جو کہ اپنے عہد کے دوسرے شعراء سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔
>یہ غزل دین اسی غزال کی ہے
جس میں ہم سے وفا زیادہ تھی
دن منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسا
اور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا
جناب نیاز انور نے احمد فراز کی وفات کو ادب کے لیے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا ۔ جناب اویس قرنی نے احمد فراز کے حوالے سے کئی دلچسپ واقعات سنائے جس میں ان کی شخصیت میں موجود مزاح کے پہلو کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ صاحب صدر نے اختتامی کلمات میں احمد فراز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فراز کی موت سے شاعری کا ایک دور ختم ہو گیا ہے اور اس دور کو صرف اورصرف فراز کے نام سے ہی پہچانا جائے گا۔ آخر میں ان کی مغفرت کے لیے دعائے خیر کی گئی۔

افتتاحی اجلاس


آہنگ ادب کا افتتاحی اجلاس علامہ اقبال ہاسٹل نمبر 9 کی سبزہ زار میں جناب نذر عابد کی صدارت میں جون دوہزار آٹھ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں انتظامی نوعیت کے معاملات پر بحث ومباحثہ ہوا ۔ اس کے ساتھ ساتھ مجلس عاملہ کے ارکان کا انتخاب بھی عمل میں آیا۔
تنظیم کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے انجمن کے سیکرٹری جناب وہاب اعجاز نے کہا کہ اس تنظیم کا مقصد نوجوان ادیبوں اورقلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی تخلیقی صلاحتیوں کو جلا بخشنا ہے۔ انجمن کا کوئی سیاسی ، مذہبی مقصد نہیں۔ بلکہ اس کا مقصد صرف اورصرف ادب کی خدمت ہے۔ اہوں نے اس نوزائیدہ تنظیم کا نام یونیورسٹی ادبی فورم تجویز کیا جس پر تمام دوستوں نے اتفاق کیا۔جناب اویس قرنی نے انجمن کے اغراض و مقاصد پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ
تنظیم کے ممبران کی یہ کوشش ہوگی کہ اس کی شاخیں یونیورسٹی کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی قائم کی جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ نیاز انور سید، جناب امین تنہا ،، جناب اسرار خاموش کی جانب سے انجمن کے قیام کو خوش آئند عمل قرار دیاگیا۔ اس کے علاوہ فیصلہ کیا گیا کہ انجمن کا اجلاس ہر مہینے کی کسی بھی تاریخ کو بلایا جائے گا۔ جناب اسحاق وردگ کو تنظیم کے منشور پر غور و غوص کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جناب حماد صاحب نے اس کاوش کو سراہا اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کی یونیورسٹی میں موجود دوسرے شعبہ جات کے قلمکار ساتھیوں کو اس انجمن میں خصوصی نمائندگی دی جائے اس کے علاوہ ادبی نشتوں کے ساتھ ساتھ فائن آرٹ ، سائنس ، عمرانیات جیسے موضوعات پر مذاکرے کرائیں جائیں کیونکہ ادب کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے۔

sir-sabir

ڈاکٹر صابر کلوروی

 اجلاس کے دوسرے حصے میں شعبہ اردو جامعہ پشاور کے سابق چیرمین اور معروف ماہر اقبالیات جناب صابر کلوروی کے حوالے سے ایک نشست کا احتتام کیا گیا اس موقع پر تمام شرکاء محفل نے جناب صابر کلوروی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔انہیں صوبہ سرحد کا اعلیٰ پائے کا ماہر اقبالیات قرار دیاگیا۔ مجلس میں ان کی شخصیت کے روشن پہلوؤں پر بھی بات کی گئی ۔ اجلاس کے اختتام پر صاحب صدر نذر عابد نے اختتامی کلمات میں صابر صاحب کے لیے دعا مغفرت کی اور کہا کہ صابر صاحب کی اچانک موت سے ادب میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کو پر کرنا ناممکن ہے۔