ہمارے متعلق


آہنگ ادب نوجوان اہل قلم کی ادبی انجمن ہے جس کی ابتداء شعبہ اردو جامعہ پشاور کے ایم فل سکالرز کی کوششوں سے ہوئی ۔ اس کا پہلا اجلاس جولائی 2008ء میں منعقد ہوا۔ جس میں انجمن کے نام ، مجلس عاملہ کے انتخاب اور منشور پر بحث ہوئی۔ انجمن کا نام پہلے یونیورسٹی ادبی فورم رکھا گیا لیکن کچھ انتظامی مجبوریوں کی وجہ سے اس انجمن کا نام آہنگ ادب رکھا گیا ۔ مجلس عاملہ میں شامل اہل قلم کے کوائف درج ذیل ہیں


اویس قرنی منتظم اعلی ، سرپرست اعلی ایم فل سکالر شعبہ اردو جامعہ پشاور
وہاب اعجاز سیکرٹری ایم فل سکالر شعبہ اردو جامعہ پشاور
محمد اسرار خاموش جائنٹ سیکرٹری ایم فل سکالر شعبہ اردو جامعہ پشاور
نیاز انور سید ممبر ایم فل سکالر شعبہ اردو جامعہ پشاور
سلیمان خٹک ایم فل سکالر شعبہ اردو جامعہ پشاور
سونیا بشیر ایم فل سکالر شعبہ اردو جامعہ پشاور
امین خان تنہا پی ایچ ڈی سکالر شعبہ پشتو جامعہ پشاور
علی آفریدی ایم فل سکالر


مقاصد


آہنگ ادب کے اولین مقاصد میں سے ایک مقصد یہ ہے کہ نوجوان اہل قلم کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں بھرپور مدد دی جائے۔ انجمن کے اجلاس میں جامعہ پشاور کے تمام شعبہ جات کے طلباء کو عام دعوت دی جاتی ہے ۔ تاکہ وہ ان نشتوں میں شرکت کرکے اپنے ادبی ذوق کو جلا بخش سکیں
آہنگ ادب ، ادب اور زندگی اور ادب برائے فن دونوں کی علمبردار ہےادب مسرت کا ذریعہ بھی ہے اور زندگی کا نقاد بھی ۔انجمن کا نصب العین ہے ایسا ادب تخلیق کرنا جو اعلی انسانی قدروں کا ترجمان ہو جس میں تیسری دنیا کے محکوم عوام کی نام نہاد آزادی سے اصل آزادی کی طرف رہنمائی ہو سکے۔ اظہار رائے اور اجتماع اور ضمیر کی آزادی کے حق کے بارے میں لوگوں میں شعور پیدا کیا جا سکے۔
آہنگ ادب کی نشتوں میں تنقیدی اجلاسوں کے علاوہ مزاکروں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے جس میں نوجوان سیاسی ، سماجی ، معاشرتی ، بین الاقوامی موضوعات پر ایک دوسرے سے مباحثہ کرتے ہیں ان مذاکروں کا مقصد نوجوان نسل میں شعور کی روشنی پیدا کرنا ہے
آہنگ ادب کے ممبران کی یہ کوشش ہے کہ اس کا دائرہ وسیع کیا جائے اور ملک کے دوسرے شہروں میں بھی اس کی شاخیں قائم کی جائیں
آہنگ ادب کے ممبران نے ایک آن لائن میگزین کا منصوبہ بھی بنایا ہے جس میں نوجوان لکھنے والوں کی تخلیقات کو شامل کیا جائے گا۔