اکیسویں صدی میں افکار اقبال کی تفہیم


تحریر: خالد سہیل ملک

alama Iqbal”مصنف نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں مندرجہ بالاموضوع پر منعقدہ سہ روزہ کانفرنس میں ایک مقالہ پڑھا ۔اس مقالے کی تلخیص قارئن کی نذرکی جاتی ہے “

نابغہ شخصیات وہی قرارپاتی ہیں کہ جو وقت کے تینوں زمانوںمیں سانس لیتی ہوںکہ جنہیں ماضی کی تصویراپنی تمام تر توجیہات اور تنائج کی صورت میں دکھائی دیں کہ حال تک پہنچنے کا منطقی ربط بھی معلوم ہو۔حال کے تقاضے بھی ان کی نظر میں سطحی سے زیادہ گہری نظر میں موجود ہوںکہ مستقبل کے رستوں کاتعین کیاجاسکے ۔علامہ اقبال بھی ایسے ہی نابغہ ہیں کہ انسانی تاریخ کے ہر باب سے ان کی نظر گزری ہے کہ جنہوں نے زمانہ حال کے حالات کو نہ صرف سمجھا بلکہ آنے والے وقتوں کو بھی اپنی نگاہ دروں بیں سے دیکھا ،پرکھا اور سمجھا ہے ۔مسلہ یہ رہا ہے کہ علامہ کو ایک خواب دیکھنے پر ہی مکمل کرلیا گیا۔ابھی ان میں بہت سے امکان باقی تھے مگر ان کی فکر کو اس سے آگے دیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔ان کے فلسفہ خودی سے بات آگے بڑھائی ہی نہیں گئی ۔خودی اور بے خودی کے ان کے فلسفے میں بے شک بہت کچھ ہے لیکن علامہ تو اس سے آگے بھی بہت کچھ کہہ گئے ہیں کہ جسے درخوراعتنا ہی نہیں سمجھا گیا۔اقبال کی شاعری کا تو جواب شاید ہی اردو شاعری کی تاریخ میں کوئی دے سکے لیکن ان کے خطبات کی مثال بھی تو ہمارے ہاں کسی کے پاس نہیں ہے۔جس میں انہوں اس زمانے میں ہی عالم اسلام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔امام ابوحامد الغزالی کی جانب سے اجتہاد پر لگائی جانے والی پابندی کو اقبال نے اٹھانے کی ضرورت کو محسوس کیا تھاکہ اس دور میں جو پابندی لگائی گئی تھی وہ پابندی بجاتھی کہ بہت سے مشتشرکین کی جانب سے اجتہاد کے نام پر بہت سے ایسی باتیں سامنے آگئی تھیں کہ جو اسلام کی روح کے منافی تھیں ۔قرآن مجید جو کہ ایک بہت ہی تہذیبی زبان میں نازل ہوا ہے ۔جس کی تفہیم کے لیے اس زبان پر ویسا ہی عبور لازمی ہے،مشتشرکین عربی زبان کی اس بلندی پر تفہیم میں چوک جاتے تھے کہ جہاں مسائل جنم لیتے ہیں ۔مگر علامہ نے یہ سوال اٹھایا کہ ایک عنصر کہ جو اسلام کے عین مطابق ہے ۔کہ جس کی ضرورت بھی محسوس کی جارہی ہوتو اسے کیونکرمعطل رکھا جاسکتا ہے ۔ہاں اجتہاد کوعمل میں لانے کے لیے ضابطہ اخلاق اور مجتہد کے لیے شرائط وہی ہوں کہ جو ہونی چاہئیںمگر اجتہاد کا دروازہ کھلنا ضروری ہے ۔ اقبال کے نذدیک آج کے انسان کو اجتہاد کی ماضی کے سب ادوار سے زیادہ ضرورت ہے کہ زندگی میں ارتقاءکا عمل پہلے کی نسبت بہت تیز ہے ۔تبدیلیاں سرعت کے ساتھ ظہور پذیر ہیں ۔سائنس اور علوم وفنوں کے نئی حقیقتوں سے انسان کو روشناس کروادیا ہ گیاہے ۔ ایسی حالت میں قرآن کہ جو آخرت تک سب سے بڑا سچ اور سب سے ویلڈ تحریر ہے ،قرآن کو اس کی سپرٹ کے ساتھ سمجھ کر ہی تشکیک سے مسلمان کو نکالا جاسکتا ہے۔قرآن کونئے انداز اور زمانے کی نئی حسیات کے ساتھ سمجھنے کے لیے اجتہاد بہت ضروری ہے۔اقبال نے اس سوچ کو چیلنج کیا کہ مشاہد ہ ہی سچ ہے اور آئیڈیا سچ نہیں ،آئیڈیا اسی وقت حقیقت یا سچ ثابت ہوسکتا ہے جب وہ آئیڈیا بجائے خود مشاہدے میں تبدیل نہ ہوجائے ۔ اقبال نے تو یہاں تک کہہ دیا فورس آف آئیڈیا ہی سب کچھ ہے کہ آئیڈیا ہی سب سے بڑی قوت ہے کہ وجود سے بھی زیادہ مظبوط اور طاقت ور ہے ،کیونکہ خدا بھی مشاہد نہیں ہے بلکہ آئیڈیا ہے گویا اقبال نے جو کہا کہ گاڈ از آئیڈیا تو اس کے تناظر میں یہی فلسفہ تھا کہ جسے بہ الفاظ دیگر ایمان بھی کہاجاسکتا ہے ۔اقبال کے نذدیک آئیڈیا ایک فکری ودیعت ہے کہ یقین کی حد کو چھولیتا ہے ۔اللہ کی واحدانیت بھی تو مشاہدہ نہیں بلکہ آئیڈیا ہی کی ایک یونیٹی ہے ۔علامہ کے مطابق احساس اور فکر کا نام ایمان ہے ۔ایمان فکر کو دسپلن کرتا ہے ۔شریعت اور اسوہ حسنہ ﷺایمان کے ساتھ مل ایک چوکٹھا مرتب کرتے ہیں۔یہ فریم جو اس کائنات پر محیط ہے اور اس کائنات کامقصد بھی ۔ اس چوکٹھے میں توتصور ابھرتا ہے اس کا پروٹوٹائپ ماڈل اقبال کے نذدیک رسالت ہی ہے ۔ایمان صرف لفظوں کا محتاج نہیں بلکہ برکات وحی کے لطف لینے کا نام ہے ۔یہ سلسلہ تو علامہ کے نذدیک زبانی ،قلبی اور روحانی کیفیت کے ملاپ سے جنم لیتا ہے ،اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے اس حد تک راسخ نہ کرلیا جائے کہ جس حد پر کوانٹم تھیوری کے قانون کو مانا اور سمجھا جاتا ہے کہ جس تھیوری کی بنیاد پر دنیا کا نظام چل رہا ہے اور چلایا جارہا ہے ۔اقبال دنیا میں پھیلے فساد کی جڑ اس بے کلی یا بے چینی کو قراردیتے ہیں کہ جو انسان کو کسی اور سلسلے کے لیے ودیعت ہے

بے کلی کوموجب راحت بنا
بے قراری باعث عزت بنا

اور ایسا اسی وقت ممکن ہے کہ جب ایمان کو تصدیقاً بالقلب کے درجے تک پہنچایا جاتا ہے جوکیفیت پیغمبر ﷺ کے صحابہ کرام کومیسر تھی۔اب ایسی بنیادوں باتوں کو سمجھنے کے لیے اجتہاد کتنا اہم اور موثر کردار ادا کرسکتا ہے یہی وہ سوچ تھی جو علامہ نے اپنے خطبات کے ذریعے اسلام کے ماننے والے اعلیٰ اذہان تک منتقل کرنا چاہی ۔افسوس کہ اقبال کی شاعری کی دلفریبی اتنی شاندار ہے کہ ان کی شاعری نے اپنے سرور میں ان کے خطبات کو بڑے عرصے تک دبائے رکھا ۔اکیسویں صدی میں ان کے خطبات کی تفہیم بالخصوص اسلامی معاشرے اور بالعموم ساری دنیا کے لیے کسی انٹی بائیوٹک سے کم نہیں ہے ۔مسلمان خود اپنے آئین کو توقلبی طور سمجھ نہیں سکا کہ اس کا خدا کے ساتھ ایگریمنٹ کیا ہے ۔ اسے اگر خلیفہ کا درجہ دیا گیا ہے تو اس خلافت کے تقاضے کیا ہیں ۔اقبال تو اسلام کو پنی شیا ۔یا اکسیر سمجھتے ہیں تمام تر انسانیت کے لیے ۔ماضی قریب میں جب انسان کو فزیکل بینگ تصور کیا جاتاتھا تو انسان کی سیلف یا سول کی تفہیم بھی مشکل تھی ۔نفسیات کے علم نے انسان کو سائیکوفزیکل بینگ قراردیا تو انسان کی سیلف اور کی تلاش کا سفر شروع ہوا۔اقبال بھی انسان کو سائیکوفزیکل بینگ سمجھتے ہیں جو سیلف اور سول کا ملاپ ہے کہ جس کی سیلف اور سول کا ریزن ڈیٹر وہی ایمان ہے کہ جو احساس اور فکر سے جنم لیتا ہے۔انسان نے مادی دنیا کو خود پر اتنا طاری کررکھاہے کہ اس کی سیلف اور سول کی بالیدگی کاسامان کم از کم مادیت میں موجود ہی نہیں جب تک انسان اپنے مقصد حیات کو نہیں پالیتا کہ جس مقصد کے لیے انسان کو اس دنیا میں بھیجا گیا ہے ۔اس مقصد کو سمجھنے کے لیے دین ہی واحد راستہ ہے اور ادیان میں سب سے جدید دین اسلام ہی ہے ۔ کہ جس میں کتاب اور رول ماڈل موجود ہے ۔اکیسویں صدی شاید ماضی کی صدیوں سے زیادہ حساس صدی ہے انسان تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے وہ کہ جہاں ایک طرف تو دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے تو وہیں مذہب و عقیدے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ مادیت کی دوڑ میں روحانیت کو کچلاجاچکا ہے ۔عقائید میں مکالمہ ختم ہوچکا ہے ۔فساد کے بہانے تلاشے جارہے ہیں ۔ایسے میں علامہ کے افکار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ جسے پھیلا کر ایک امن و آشتی کی فضا قائم کی جاسکتی ہے ۔

قلم کے دھنی ، حیران خٹک


تحریر: بلیاز خاکساربنوسے
HIRAN KHATTAKکسی نے کیا خوب کہاہے کہ مال ودولت اور دنیا کی چیزیں انسان کو مفت میں بھی مل سکتی ہیں لیکن علم وادب کے حصول کیلئے انسان کو خود محنت کرنی پڑتی ہے۔یہ بات کسی حد تک صحیح ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے اور مشاہدے اور تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ کہ اگر کسی خاندان کے آبا واجداد میں عالم ،فاضل اور ادیب گزرے ہوں تو ان کے علم وفضل کا اثر بھی ایک زمانے تک جاری رہتا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال پشتونوں کے ایک بڑے معزز اور علمی وادبی موتیوں سے بھرپور قبیلے خٹک کابھی ہے۔اس قبیلے میں خوشحال خان خٹک جیسے نابغہ روز گار اور متنوع الصفات شخصیت نے جنم لیا ہے جو دوسری کئی صفات رکھنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے مصنف ہو گزرے ہیں،بلکہ پشتو ادب میں شاید ہی کوئی دوسرا ادیب ہوجس نے خوشحال خان کی طرح نظم ونثر کی متعدد بلند پایہ تصنیفات چھوڑی ہوں۔انہیں دور حاضر کے ادباءنے صحیح طور پر د پختو پلار(بابائے پشتو ) تسلیم کیا ہے خوشحال خان خٹک کے عہد میں اور اس کی وفات کے بعد بھی اس قبیلے میں ایسی ایسی شخصیات پیدا ہوئیں جو آسمانِ علم ادب کے درخشندہ ستارے ہیں جن کی پشتو ادب کے ساتھ ساتھ اردو ادب کیلئے بھی اَن گنت خدمات ہیں۔انہی درخشندہ ستاروں میں ایک ستارہ حیران خٹک بھی ہیں جن کے ابا واجداد کاشت کے لحاظ سے بنجر اور معدنیات کے لحاظ سے مالا مال علاقے کرک سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کی جنم بھومی ضلع بنوں کازرخیز علاقہ ہے۔9ستمبر1955ءکو پیاوداد خان خٹک کے گھر میں آنکھ کھولنے والے دلاور خان گیارہ سال کی عمر میں دلاور خان سے حیران خٹک کے نام سے مشہور ومعروف ہوئے یعنی گیارہ سال کی عمر سے حیران خٹک کے دل ودماغ میں شعر وشاعری کے جذبے نے انگڑائی لی۔ابھی پانچویں جماعت میں تھے کہ شعر وشاعری کا شغف رکھتے تھے۔ 1969ءمیں سکول میں”کاروانِ ادب”کے نام سے ایک ادبی اور ثقافتی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی اور حیران خٹک اس کے جنرل سیکرٹری چنے گئے اس تنظیم نے طلباءمیں ادبی شعوراُجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا جن کے روح روا ںحیران خٹک تھے۔ایک اور اصلاحی تنظیم جو” معماران ملت “کے نام سے بنائی گئی تھی اس میں بھی حیران صاحب کا کردار ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔حیران خٹک زمانہ طالب علمی ہی سے ادبی وثقافتی اور اصلاحی تنظیموں سے وابستہ رہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم پر بھی بھر پور توجہ دی اور گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان سے نمایاں پوزیشن میں ایم ایس سی اکنامکس کی ڈگری حاصل کی۔پشاور میں کچھ عرصہ ایک فلاحی تنظیم میں خدمات سر انجام دینے کے بعد پریس انفارمیشن میں پہلے “کاروان”اور پھر ایک سرکاری رسالے “اباسین”کے مدیر مقرر ہوئے۔آپ کی زیر اِدارت اباسین کامیابی کی بلندیوں کو چھونے لگا۔جس کا ثبوت اس دور کے وہ رسالے ہیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں ۔عظیم صوفی شاعر رحمٰن بابا اوربابائے پشتوخوشحال خان خٹک پر ضخیم نمبرات کی اشاعت آپ کاایک ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔حیران خٹک کا تصنیفی وتالیفی کام بہت زیادہ ہے جس کا احاطہ یہاں ممکن نہیں تاہم چینی لوک کہانیوں (ڈاور قوم کی کہانیاں)کا پشتو ترجمہ،حافظ محمد ادریس کے پشتو ناول “پیغلہ”کا اردو ترجمہ دوشیزہ اور افغانستان کے حالات پر پشتوشاعری کی کتاب”وینے بھیگی سپرلے بہ راشی”وغیرہ ایسی کتابیں ہیں جو محتاجِ تعارف نہیں۔حیران خٹک آج کل بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کے عہدے پر ملک وقوم کی خدمت کا جذبہ لیکرایک نہایت ہی فرض شناس اور ذمہ دار افسر کے طور پر اپنے کام میں مصروف ہیں ۔اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دنیائے علم وادب سے بھی اپنا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیںاور اپنی قومی زبان اردو میں نظم ونثر میں اپنی فن کے موتی بکھیر رہے ہیں۔ان کی پشتواور اردو تحریریں معاصر قومی اخبارات ورسائل میں زیورِطباعت سے آراستہ ہوتے رہتے ہیں۔1971ءمیں نامور پشتو شاعر وادیب مولانا عبید اللہ مجبور سورانی نے ادبی تنقیدی ٹولنہ بنوں کے زیر اہتمام بنوں کے معروف شعرائے کرام کا ایک ادبی تذکرہ”دَبنوں اَدب”کے نام سے شائع کیاتھا۔اس وقت حیران خٹک میٹرک کے طالب علم تھے لیکن اپنے معیاری ادبی شاعری کی وجہ سے ان کا کلام بھی اس کتاب میں شامل کیا گیا۔”بنوں ادب “کے مولف مجبور سورانی اُن کے تعارف کے باب میں اُن کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں”حیران خٹک کی موجودہ شاعری اُن کے روشن مستقبل کی غمازی کرتی ہے۔ اور اگر زمانے اور ماحول نے اس کی بہترین تربیت کی تو حیران صاحب ایک اعلیٰ پائے کے ادیب اور صاحب طرز شاعرثابت ہوسکتے ہیں”مجبور سورانی کی یہ پیشن گوئی واقعی درست ثابت ہوئی اور حیران خٹک نے ایک صاحب طرز اور عمدہ صاحب اسلوب کے شاعر کے طور پر ادبی دنیا میں اپنا ایک مقام پیدا کیا۔اُن کی ادبی تربیت میں نامور شاعر ،ادیب اور چالیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ومو¿لف سرفراز خان عقاب خٹک کا بڑا ہاتھ ہے۔کیونکہ آپ ابتداءمیں انہی نابغہ ¿ روزگار شخصیت سے اپنی شاعر ی کی اصلاح کرواتے تھے۔حیران خٹک بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور غزل کیلئے جن تہذیبی شائستگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ اُن کے کلام میں موجود ہے۔لفظوں کے استعمال کا سلیقہ ،جذبے اور فکر کو پُراثر انداز میں قاری تک پہنچانے کا شعور اُن کی شاعری کا وہ جوہر ہے جس نے اُن کی غزل میں نکھار پیدا کیا ہے۔اُن کی شاعری میں رومانیت بھی ہے اور موسیقیت بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُن کا کلام نامو رگلوکاروں کی آواز وں میں ریکارڈ ہوا ہے ۔خصوصاً بنوں کے مرحوم گلو کار قسمت خان کی آواز میں آپ کی جو غزلیں ریکارڈہوئی ہیں وہ عوامی حلقوں کے ساتھ ساتھ خواص میں بھی خاصے معروف ومقبول ہیں۔اپنے ایک شعر میں اپنے دل سے یوں مخاطب ہیں۔

چہ ھغہ نہ رازی دَ چا سہ وس دے
زڑگیہ سہ اوکڑم زما سہ وس دے

یعنی محبوب اگر یہاں آنا نہیں چاہتے تو اس کو یہاں آنے پرآمادہ کرناکسی کے بس کی بات نہیں۔اے دل میں کیا کرسکتا ہوں میں خود بھی بے بس ہوں ۔ایک اور شعر میں اپنے زندگی کے شب وروزکا ذکر اس طرح کرتے ہیں۔

پہ سنگ کے مِ چہ نشتہ نن قرار دَ زندگی
پیکہ پیکہ بہ خود خکاری بازار دَ زندگی

(ترجمہ)یعنی آج کل میری زندگی بے رونق ہے اوراس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ میرا محبوب میرا ہم نشین نہیں ہے۔اپنی بہترین اور عمدہ غزل گوئی کےساتھ ساتھ حیران خٹک کی نظم گوئی بھی منفرد انداز کی حامل ہے۔اُن کی نظموں میں قومی درد ،نوجوانوں کیلئے ایک تحریک اورخدمت وطن کا درس پایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حیران خٹک کو ہم بہترین غزل گو شعراءکے ساتھ ساتھ ساتھ بہترین نظم گو شعراءکے صف میں بھی کھڑا کرسکتے ہیں۔اُن کی شاعری پر اثر ہے اور ہم اُنہیں کامیاب شاعر کہہ سکتے ہیں ۔حیران خٹک کی شاعر ی کے ساتھ ساتھ اُن کی نثری تخلیقات بھی فنِ اثر سے بھر پورہیں ۔وہ ہر موضوع پر لکھ سکتے ہیں۔

تبصرہ: برقی صحافت (ٹی وی جرنلزم)


مصنف : پروفیسرمحمد مصطفی علی سروری

مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل
maazeez.sohel@gmail.com
tv tiltle (1)جدیددور سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کادور ہے اور اس ترقی کا ایک حصہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔جس کے سبب دنیا گلوگل ولیج میں بدل گئی ہے۔ دنیا میں تیزی سے معلومات پیدا ہورہی ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید ذرائع انٹرنیٹ ‘ٹیلیفون ‘ٹیلی ویژن وغیرہ کے ذریعے معلومات بہت تیزی سے بریکنگ نیوز کے عنوان سے دنیا کے ہر حصہ میں پہونچ رہی ہیں جیسے کسی حادثہ کی اطلاع ہو یا کھیل کے مقابلے کی پیشرفت یا دنیا میں کوئی بھی وقوع پذیر ہونے والا ایسا واقعہ جس کی اطلاع میں دوسرے لوگ دلچسپی رکھتے ہوں انہیں فوراً انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا بھر میں منتقل کیا جاتا ہے۔ خبروں کی ترسیل کا کام میڈیا کے ذرائع پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا سے ہورہا ہے۔ پرنٹ میڈیا کی تاریخ کافی قدیم ہے اور اس کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے لیکن الکٹرانک میڈیااپنی بالکل جدید تاریخ رکھتی ہے۔ الکٹرانک میڈیا نے عوام کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے دور حاضر میں پرنٹ میڈیا سے زیادہ الکٹرانک میڈیا کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے کیونکہ اس کی پہونچ اب عوام کے ہاتھوں میں ہوگئی ہے جہاں لیپ ٹاپ اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اسمارٹ فون کی بدولت انسان جب چاہے دنیا سے تعلق پیدا کرسکتا ہے اور دنیا بھر کی معلومات سے رسائی حاصل کر سکتا ہے۔گذشتہ ایک دہائی میں زندگی کو متاثر کرنے میں الیکٹرانک میڈیا خاص طور سے ٹی وی جرنلزم نے بھی اہم رول ادا کیا ہے چاہے وہ کسی واقعے کی رپورٹنگ ہو یا کسی سیاسی ‘سماجی پہلو پر گفتگو ہو مختلف نیوز چینلز اپنے انداز میں نیوز کو پیش کرنے لگے ہیں اور لوگوں کی مخصوص انداز میں ذہن سازی کرتے ہوئے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہندوستان میں جب کبھی کہیں بم دھماکہ ہوتا ہے مخصوص قسم کے نیوز چینلز فوری شک کی انگلی کسی مسلم تنظیموں سے جو ڑ دیتے ہیں اور مختلف نام نہاد ماہرین اس واقعہ کی ایک انداز میں تشہیر کرنے لگتے ہیں لیکن جب اصل تحقےقات سامنے آتی ہیں تو ان دھماکوں کا ذمہ دار کوئی اور ہی ہوتا ہے ۔ ہندوستان اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں میڈیا کے ذریعے پروپگنڈہ عام کرنے کا جو رجحان چل پڑا ہے اسے ٹی وی دیکھنے والے عام ناظرین تک تجزیے کے ساتھ پیش کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے ۔نیوز ایک سماجی امانت ہوتی ہے اور اسے سماج تک بغیررد و بدل کے پیش کرنا صحافتی قدر کہلاتی ہے۔ دنیا کے ہر پیشہ کی طرح نیوز کو عوام تک پہونچانا بھی ایک اہم پیشہ ہے جو صحافی پیشہ صحافت سے وابستہ ہوکر کرتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں رپورٹنگ کے کیا تقاضے ہیں اور نو آموز صحافی کیسے ان تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے اور اپنے آپ کو ایک بہتر نیوز کاسٹر ‘ نیوزرپورٹر اور الیکٹرانک جرنلسٹ بنا سکتا ہے اس کے لئے اسے اس پیشہ سے متعلق معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور میڈیا کی بڑھتی مقبولیت اور حیدرآباد کی اردو یونیورسٹی میں قائم شعبہ ماس میڈیا میں زیر تعلیم طلبائے صحافت کی تدریسی ضرورت کے لئے اردو میں یہ کام حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک جواں سال صحافی اور صحافت کی تدریس سے وابستہ پروفیسر مصطفی علی سروری اسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ جرنلزم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد نے اپنی تصنیف ” برقی صحافت ” کے ذریعے کیا ہے ان کی اس کتاب کو میڈیا کے حقائق سے پردہ اٹھانے والی ایک اہم کتاب تسلیم کیا جارہا ہے اور اسے الکٹرانک میڈیا اور برقی صحافت کی تکنیک سے واقفیت کے موضوع پر یک اہم تصنیف کہا جاسکتا ہے۔
برقی صحافت(ٹی وی جرنلزم) پروفیسر مصطفی علی سروری کی ایک اہم تصنیف ہے جو اردو طلبائے صحافت کو پیش نظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔ کتاب کا انتساب انہوں اردو میڈیم کے طلباء کے نام معنون کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب کے پیش لفظ میں فاضل مصنف نے الکٹرانک میڈیا کی مقبولیت اور اس میڈیاکی اعتباری سے متعلق لکھا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں→

تذکرہ ایک رنگوں بھری شام کا


تحریر : اویس قرنیawes

ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کا فون آیا کہ آج کی شام تو ڈاکٹر نذیر تبسم کے نام ہے یہ بیچ میں بادلوں کے جام کہاں سے چھلک پڑے۔ ۔۔۔ میں نے کہا نذیر تبسم کی بھی طرح طرح کے موسموں سے دوستی ہے ، پتہ نہیں کب کہاں سے کسی پھوار کے جھونکے اٹھکیلیوں پر اتر آئیں ۔ پھر ہم نے خانہ فرہنگ ایران کا راستہ لیا جہاں ڈاکٹر نذیر تبسم کو تمغہ امتیاز ملنے کی خوشی میں احباب کی محفل سجی تھی ۔ اباسین آرٹس کونسل کے بینر تلے منعقدہ اس نشست کی صدارت پروفیسر قبلہ آیاز کررہے تھے جبکہ مہمان خصوصی امریکہ سے آئے ہوئے افسانہ نگار داؤد حسین عابد تھے، رنگوں بھری اس شام میں تلاوت کی سعادت راقم الحروف کے حصے میں آئی ، پروگرام کے پہلے حصے میں نظام کی چوکی مشتاق شباب نے سنبھالی تھی۔ ڈاکٹر نذیر تبسم کی صاحبزادی صدف نذیر نے اپنے مضمون میں نہایت نپے تلے انداز مین اپنے والد صاحب کی شخصیت اور ان کی پدرانہ شفقتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کسی تشنگی کا احساس نہیں ہونے دیا ، فاروق جان بابر آزاد نے صاحب شام کو منظوم خراج تحسین پیش کیا ، پروفیسر بادشاہ منیر بخاری نے نذیر تبسم کی شاعری اور شخصیت کے ان گنت پہلوئوں پر نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی، غیغم حسن ، شکیل نایاب ، اسماعیل اعوان اور اظہار اللہ اظہار اشعار کے گلدستے لیے فضائ کو مہکاتے رہے ، اویس قرنی بھی کچھ نئی کچھ پرانی سطرح جمع جوڑ کے محبت کے قافلے مین شامل ہو گئے ، تقریب کے دوسرے حصے کی نظام ناصر علی سید کی منتظر تھی تھی جن کے آتے پروگرام نے ایک اور رنگ بدلا، ابھرتے ہوئے خاکہ نگار خالد سہیل ملک اب ادبی خاکے کے فن میں بھی طاق ہونے لگے ہیں ، انہوں نے نذیر تبسم کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بے پناہ داد بٹوری۔ یوسف عزیز زاہد نے اپنے دیرینہ دوست کو ایک طویل نثرانے کا نذرانہ دیا، مہمان خصوصی حسین عابد گزرے بیتے افسانوں کے درپن میں نذیر تبسم کو ڈھونڈتے ہوئے بہت پیچھے چلے گئے ، حسام حر نے سفر و حضر کی رفاقت اور ماہ و سال کے بدلتے مناظر و تناظر مین نذیر تبسم کی ایک نئی تصویر بنانے کی کوشش کی ۔ آغائے یوسفی نے علم و ادب کی اس چھتر چھایا مین کچھ لمحوں کی بیٹھک کو اپنی خوش نصیبی قرار دیا۔ صدر مھفل ڈاکٹر قبلہ آیاز نے تمغۂ امتیاز ملنے پر ڈاکٹر نذیر تبسم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے پشاعر کے قلم قبیلے کے لیے اعزاز قرار دیا، اس تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی ۔ آخر میں ڈاکٹر شفیع اللہ خان ( بابا جی ) نے دعائیہ کلمات کے ساتھ مہمانان گرامی کو محفل مین شالیں اوڑھائیں یوں یہ خوشگوار شام اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔

سرّی ادب اور ابن صفی‘مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں دو روزہ سمینار


رپورتاژ: محمد عبدالعزیز سہیل رسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد
maazeez.sohel@gmail.com
2013-10-23 10.45.22مولانا آزادنیشنل اردو یونیورسٹی اردو زبان و تہذیب کے شہر حیدرآباد میں 1998ء میں قائم کی گئی۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں اردو ذریعے تعلیم سے روایتی اور فنی کورسز میں تعلیم کے مواقع ختم کردینے کے بعد اردو میں حصول تعلیم کی یونیورسٹی کو شدت سے محسوس کیا گیا تھا۔ چنانچہ اردو یونیورسٹی کے قیام کا مقصد اردو زبان کا فروغ ،اردو زبان میں روایتی‘ فنی اور فاصلاتی تعلیم فراہم کرنا اور تعلیم نسواں پر خصوصی توجہ دینا قرار پایا۔ اس یونیورسٹی کا ایک فعال شعبہ مرکز برائے اردو زبان‘ادب وثقافت ہے جس کے ڈائرکٹر پروفیسر خالد سعید ہیں۔اس شعبے کا مقصد اردو زبان و ادب کی جمالیاتی و تہذیبی اقدار کا تحفظ کرنا اور تاریخی شعورو آگہی کی نشوونما کرنا ہے۔اس شعبے کی سرگرمیوں میں اردو زبان اور اس کی تہذیب سے متعلق سمینار ‘سمپوزیم‘ ورک شاپ‘،توسیعی لیکچر وادبی سرگرمیوں کا انعقاد ،تصویری گیلری کا اہتمام،کتب خانہ چلانا اور کتابوں کی اشاعت عمل میں لانا شامل ہیں۔شعبے کی سرگرمی کے حصے کے طور پر شعبے کی جانب سے مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد میں 23اور24اکٹوبر 2013ء کو ایک عظیم الشان سمیناربعنوان ’’سرّی ادب اور ابن صفی‘‘ کا کامیاب انعقاد عمل میں لایاگیا۔ اس سمینار کی دو ماہ قبل سے تشہیرجاری تھی اور ملک اور بیرون ملک ابن صفی کے چاہنے والوں اور ان کے فن کے ماہرین کو مدعوکیا گیا تھا۔
آج سے دو تین دہائی قبل اردو کے بیشتر قاری ابن صفی کے ناولوں کو بڑے ذوق سے پڑھتے تھے۔ اور کئی لوگ ابن صفی کے ناول پڑھتے پڑھتے اردو داں بن گئے تھے۔ ان ناولوں کی چاشنی اور دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ پرانی کتابوں کی دکانوں پر یہ ناول یومیہ کرایہ پر دئے جاتے تھے اور لوگ ہر ماہ ابن صفی کے نئے ناول کا انتظار کرتے تھے۔ اردو کے کئی ڈائجسٹ تھے جو ہر ماہ پابندی سے ابن صفی کے ناول شائع کیا کرتے تھے۔ اور ابن صفی کی تحریر کے ساتھ ان کے تخلیق کردہ لافانی کردار کرنل فریدی ‘سارجنٹ حمید اور عمران وغیرہ لوگوں کے دلوں میں رچ بس گئے تھے۔ لیکن امتداد زمانہ‘ ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر کی ترقی فلموں اور سیرئیلوں کا فروغ اور وقت کی کمی اور اردو سے عمومی دوری نے آج یہ عالم کردیا کہ ہماری نئی نسل ابن صفی کے نام اور ان کے کارناموں سے واقف نہیں ہے۔ اسی طرح ادبی حلقوں میں بھی اکثر یہ موضوع زیر بحث رہا کہ جاسوسی ادب جسے سری ادب کہا جاتا ہے ہمارے اردو ادب کا حصہ ہے یا نہیں۔ ابن صفی کی بازیافت ‘ان کے مقام کا تعین اور سری ادب کی ادبی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اردو یونیورسٹی میں اس سمینار کا اہتمام کیا گیا۔ اور ابن صفی کے شریک کار پروفیسر مجاور حسین رضوی کو بطور مہمان سمینار میں مدعو کیا گیا۔
23اکٹوبر بروز چہارشنبہ 10.30بجے صبح مولانا آزاد یونیورسٹی حیدرآباد کے آڈیٹوریم نظامت فاصلاتی تعلیم میں سمینارکا افتتاحی اجلاس کا آغازبلال احمد ڈار کی تلاوت قران و ترجمانی سے ہوا۔پرگرام کی نظامت پروفیسر محمودصدیقی نے انجام دی اور مہمانوں کے استقبال کیلئے جامعہ کے طلبہ کو گلدستہ پیش کرنے کی دعوت دی ۔اس کے بعد انہوں نے استقبالیہ کلمات کیلئے پروفیسر ایس ایم ۔رحمت اللہ رجسٹرار نے اپنے تعارفی خطاب میں کہا کہ کسی بھی زبان کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سائنسی تعلیم اس میں فراہم نہ ہو۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآبادمیں اردو زبان میں سائنسی تعلیم کے حصول کا موقع تھا ۔اور اب آزادی کی نصف صدی گذر جانے کے بعد مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی شکل میں یہ سہولت پھر شروع ہوئی ہے۔ اور یونیورسٹی کے بڑھتے شعبے اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ یونیورسٹی روایتی اور فنی تعلیم اردو میں دینے کی اہل ہے۔ پر وفیسرمحمد میاں وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے عثمانیہ یونیورسٹی سے متعلق جوبات’’ تھی‘‘ اسے’’ ہے ‘‘میں تبدیل کرتے ہوئے ٹکنیکل کورسس کی تعلیم کو اردو زبان میں شروع کیاہے۔ ابن صفی پر یہ سمینار خوش آئیند بات ہے۔سرّی ادب کے ذریعہ ابن صفی نے لوگوں کی دلچسپی کو اردو زبان و ادب سے جوڑدیا اور ان میں ادبی ذوق پیدا کیاجس کی وجہہ سے انکے ناولوں کو آج بھی بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔
2013-10-23 11.23.59اردو ادب کے فروغ میں ابن صفی کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔رجسٹرار صاحب کی تقریر کے بعد پروفیسر نسیم الدین فریس صدر شعبہ اردو نے مہمانوں کاانفرادی طور پر تفصیلی تعارف پیش کیا۔ اور کہا کہ ابن صفی کی ناولوں نے ہر فرد کو متاثر کیا ہے ہمارے شیخ الجامعہ ریاضی کے ماہر ہیں لیکن وہ بھی ابن صفی کے چاہنے والوں میں شامل ہیں۔ سمینار کے روح رواں پروفیسر خالد سعید نے کہاکہ سمینار انعقاد کے مقصدکے طور پر’’ ابن صفٖی کے ادبی مرتبے کے تعین ‘‘کی کوشش کی جائیگی فن داستان گوئی کے تناظرمیں جاسوسی ادب بھی خصوصاََابن صفی کے ناولوں کی شعریا ت مرتب کی جاسکتی ہیں۔سمینار کے انعقاد کیلئے شیخ الجامعہ نے منظوری دی اور اپنے تاثرات کو بھی بیان کیا۔اس سے قبل بھی ابن صفی پر جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اور دہلی اردو اکیڈمی کی جانب سے پاپولر ادب پر سمینارمنعقد ہوچکے ہیں۔ارود بک ریویو،اردو اکیڈمی آندھرا پردیش نے بھی ابن صفی کے فکر وفن پر خصوصی گوشے شائع کئے ہیں.اس سمینار کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان سے راشد اشراف صاحب اور اٹلانٹا سے امین صدر الدین بھیانی صاحب کا response ای میل کے ذریعہ موصول ہوا۔راشد اشراف ایک ویب سائٹس ابن صفی سے متلق چلا رہے ہیں۔ہم نے اس سمینار کے ذریعہ ریسرچ اسکالرس ،ادب دوست اوراساتذہ کو ایسا پلیٹ فار م فراہم کیا ہے جس کے ذریعہ انہیں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملے۔جملہ 73مقالے موصول ہوئے جن میں سے اردو کے 52اور انگریزی کے 5 مقالوں کو منتخب کیا گیا۔ پڑھنا جاری رکھیں→

اردومیں منی افسانہ


Titleمصنفہ: آمنہ آفرین (رےسرچ اسکالر HCU)حیدرآباد۔
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل(ریسرچ اسکالرعثمانیہ یونیورسٹی)لطیف بازار، نظام آباد ہندوستان
اردو ادب میں نثری تخلیقی ادب کو افسانوی ادب اور غیر افسانوی ادب کے زمرے میں تقسیم کیا گیا ہے۔جسے انگریزی میں فکشن اور نان فکشن کہا جاتاہے۔ افسانوی ادب کی ایک جدید صنف مختصر افسانہ شارٹ اسٹوری یامنی کہانی ہے۔دراصل یہ منی کہا نی اور افسانچہ اردو افسانے کی مختصر ترین صنف ہے۔مختصر افسانہ یا منی کہانی سے متعلق کہا یہ گیا کہ کسی خاص زماں اور مکاں میں پیش آنے والے واقعہ یا باہم مربوط واقعات کا دلکش بیان مختصر افسانہ (منی کہانی)ہے۔ٹکنالوجی اور صنعتی دور میں انسان کی مصروفیت اور تنگی وقت کی وجہہ سے یہ صنف پروان چڑھی۔ کم وقت میں قاری تک کہانی کے ذریعے پیغام پہونچانے کی کوشش منی افسانے کی وجہہ تخلیق ہے۔ زندگی کے مسائل کا یکلخت اظہار بھی اس کے فروغ کا ایک سبب ہے۔ اردو افسانہ کی طرح اردو میں منی کہانی بھی ان دنوں اخبارات اور رسائل کی زینت بن رہی ہے۔ منی کہانی کے فروغ میں اردو رسائل نے بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔اور اردو کے کئی منی افسانہ نگار اس صنف سے وابستہ ہوگئے۔ منی افسانے کے فن اور اس کے آغاز و ارتقاءسے متعلق ایک معلوماتی اور تحقیقی کتاب ”اردو میں منی افسانہ“ کے عنوان سے یونیورسٹی آف حیدرآباد کے شعبہ اردو کی طالبہ آمنہ آفرین نے تحریر کی ہے۔یہ کتاب ان کا ایم فل کا تحقیقی مقالہ ہے۔جسے محترمہ نے بڑی ہی محنت و جدوجہد سے تصنےف کیا ہے۔
کتاب کاپیش لفظ پروفیسر مظفر شاہ میری صدر شعبہ اردویونیورسٹی آف حیدرآبادنے ”دعا گوہوں کہ“ کے عنوان سے لکھا جس میں انہوں نے منی افسانہ کے فن سے متعلق لکھا کہ

”منی افسانہ کا فن اپنے اندر ایک جاذبیت رکھتا ہے۔یہ مختصر ہے اور جامع بھی ایک عمدہ شعر کی طرح اپنے جسم کے اعتبار سے مختصرمگر روح کے اعتبار سے جامع اس صنفِ نثر کا جو فن کار رمز شناس ہوتا ہے وہ کامیاب منی افسانے تخلیق کرتا ہے اور جو نا آشنا ہوتا ہے وہ اپنے ہی فن کا شکار ہوجاتا ہے کالا جادو کرنے والے جادوگر کی طرح۔“(ص ۷)

ڈاکٹر شہ میری نے شعبے کی طالبہ کی حوصلہ افزائی کی اور اس کتاب کی اشاعت کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور مصنفہ کو مبارکباد پیش کی اور ان کے حق میں دعا بھی دی۔زیر تبصرہ کتاب میں پیش لفظ کے بعد ” حرف چند“ کے عنوان سے پروفیسر بیگ احساس سابقہ صدر شعبہ اردو HCUنے کتا ب پر اپنی رائے ثبت کرتے ہوئے منی افسانہ کے فن پر مختلف زاویوں سے گفتگو کی ہے اور منی افسانہ کو نثری نظم کی طرح اعتبار حاصل ہونے کی بات کہی ہے۔ساتھ ہی کتاب کے محاسن و معائب کو بیان کیا ہے ساتھ ہی منی افسانہ کے فروغ کے سلسلہ میں نیم ادبی فلمی رسالے شمع کے رول کو اجاگر کیا ہے اور مصنفہ سے متعلق لکھا کہ’ ’آمنہ آفرین نے بڑی عرق ریزی سے منی افسانے جمع کیے۔انہوں نے بعض فن کاروں کا ایک ایک افسانہ بھی شامل کیا جو ان کی باریک بینی کا ثبوت ہے۔تحقیقی اعتبار سے اس مقالے کو اس لیے بھی اہمیت حاصلہ ہے کہ یہ منی افسانوں کا ایک بہترین اور مستند انتخاب ہے“(ص10)
فاضل مصنفہ نے ”کچھ اپنی بات“کے عنوان سے ” اردو میں منی افسانے“ کی اشاعت کے مقاصد کو بیان کیا ہے ساتھ ہی اپنے مقالہ کی تیاری میں تحقیقی موادکی فراہمی کے مسئلہ پر گفتگو کی ہے۔ اور منی افسانہ کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔
اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب کے پہلے حصہ میں”اردو منی افسانہ شناخت کا مسئلہ“ کے موضوع پر منی افسانہ کے معنی، جدید صنف،منی افسانہ کا فن ااور ہیت پر مختلف حوالوں سے معلومات فراہم کی ہے اور لکھا کہ

”قصہ پن منی افسانے کا ایک اہم عنصر ہے جسکی وجہہ سے یہ افسانوی صنف کہلاتی ہے اس میں عموماَ حقیقی واقعات ہی کو موضوع بنایا جاتاہے جسکی وجہہ سے پڑھنے والے کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے یہ واقعہ دیکھا یا سنا ہے۔“(ص ۴۲)

فاضل مصنفہ نے منی افسانہ کی شناخت کے مسئلہ پر مختلف ماہرین کی رائے کو شامل کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ” منی افسانہ ایک ایسا کوزہ ہے جس میں ایک دریا بند ہے۔“
باب دوم اردو منی افسانہ آغاز و ارتقاءکے عنوان سے شامل ہیں جس میں انہوں نے منی افسانے کا خالق یا آغاز کرنے کا سہرا سعادت حسن منٹو کے سر باندھا ہے اور لکھا ہے کہ منٹو نے اپنی منی افسانوں کے مجموعے ”سیاہ حاشیے“ کو سب سے پہلے 1948ءمیں شائع کیا تھا اور اس میں ان کا پہلا افسانہ ” ساعت شریں“ ہے“(ص۹۲)
فاضل مصنفہ نے منی افسانہ کا آغاز و ارتقاءسے متعلق کافی اہم معلومات لکھیں ہے اور جو گیندر پال کو بھی منی افسانہ کو رواج دینے والا قراردیا ہے اور دیگر افسانچہ نگاری کے منی افسانوی مجموعے کی تفصیلات دی ہیں۔باب سوم ”اردو منی افسانے کا فن تنقیدی جائزہ“ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے اس میں دوعنوانات دئیے گیے ہیں الف ۔موضوعات، ب۔اظہار کے طریقے ۔موضوعات کے تحت انہوں نے آٹھ الگ الگ حصہ بنائے ہیںاور ہر حصہ میں موضوع کے اظہار کے طریقوں پر بحث کی ہے۔جیسے ۱)فسادات ۲)مذاہب ۳)لڑکیوں کی شادی ۴)انسانی نفسیات ۵) آلودگی ۶)کمپیوٹر ۷)اردو ادب ۸)جدید زندگی کے مختلف پہلو۔ اظہار کے طریقے کے تحت انہوں نے مختلف لکھنے والوں کے طریقہ اظہار کو بیان کیا ہے۔اور اسکو بھی دو حصوں میں بانٹا ہے۔ ۱) علم بیان ۲) مکالماتی انداز بیان۔
آخری حصہ چہارم اردو میں منی افسانہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ الف۔ منی افسانہ نگار اور ان کے منی افسانے ب۔ متفرق منی افسانہ نگاروں کے منی افسانے۔حصہ الف کے تحت جن افسانہ نگاروں کا تعارف اور افسانے پیش کیے گئے ان میں سعادت حسن منٹو، جو گیندر پال، راجندر سنگھ بیدی، قاضی مشتاق احمد،عظیم راہی، نذیر فتح پوری،عبدالعزیز خان، منظور وقار، کوثر صدیقی، علیم صباءنویدی ، رحیم انوار، اقبال انصاری، محمد طارق، بشیر مالیر کوٹلوی، قاسم خورشید،محمد رفیع الدین مجاہد، سلطان آزاد ۔قطب سرشار، نسیم محمد جان، شاہد اختر، فضل امامِ، ضامن علی حسرت، ف س اعجاز ، گلشن کھنہ،مظہر الزماں،رووف خیر،حمید سہروردی، عارف خورشید، اکرام نقاش، نورالحسنین،ساحل احمد کے نام شامل ہیں۔
متفرق منی افسانہ نگاروں کے منی افسانے کے عنوان کے تحت افسانہ نگاروں کے صرف افسانہ شامل ہیں انکا تعارف و دیگر تفصیلات جس طرح سے ”منی افسانہ نگاراورانکے منی افسانے“ میں پیش کیے گئے تھا یہاں صرف نام کے نیچے افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ اس موضوع کے عنوان کوکچھ تبدیل کرنے کی ضرورت تھی جیسے جن افسانہ نگارکا تعارف نہ ہو انکے افسانچہ وغیرہ۔
متفرق افسانہ نگاروں میں ڈاکٹر اشفاق احمد،ڈاکٹڑ نریش، سالک جمیل،بتول فاطمہ، ڈاکٹر وقار انور، اعجاز قریشی، طفیل سیماب،جاوید ندیم،مجتبی نجم، ساحر کلیم،اطہرمعز،خرم سہروردی،ظفر محبوب نگری،محمد آصف،س۔علی۔نقی،اول سرحدی،محمد یحیی خان۔آصف درویش،م۔ناگ، ظفر اقبال کے افسانے شامل کیئے گئے ہیں۔آخر میں کتاب کا اختتامیہ دیاگیا ہے”ساتھ ہی یہ امید بھی کی گئی ہے کہ اردومیں منی افسانہ کا یہ ابتدائی دور ہے۔ یہ صنف آگے چل کر اپنی مقبولیت کے منازل طئے کرے گی“۔
آمنہ آفرین نے اردو میںمنی پر بہترین مواد مہیا کیا ہے جس سے افسانچہ نگاری کے موضوع پر آئند تحقیق کرنے والوں کیلئے راہیں فراہم ہونگی۔ انکی یہ کتاب منی افسانہ پر نہایت ہی اہم ہیں۔ امید کہ آمنہ آفرین کایہ کام سراہا جائے گا۔کتاب کا ٹائٹل دیدہ زیب ہے۔ اس کتاب کی خوب پذیرائی کی جانی چاہیے تاکہ منی افسانہ کے فن کو فروغ حاصل ہو سکے۔

اُردو تحقیق مسائل اور ان کا حل


اُردو تحقیق مسائل اور ان کا حل
شعبہ اُردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کے زیر اہتمام ریسرچ اسکالرس کابین جامعاتی سمینار

تحریر محمد عبدالعزیز سہیل ریسرچ اسکالر ( عثمانیہ یونیورسٹی )

جنوبی ہندوستان میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم کی ایک اہم درسگاہ سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد ہے ۔اس یونیورسٹی کو ہندوستان کی جامعات میں ایک معیاری یونیورسٹی کا مقام حاصل ہے ۔ یہاں کا شعبہ اردو بھی اپنی علمی و ادبی کاوشوں کی بدولت ساری اردو دنیا میں ایک اہم شناخت رکھتا ہے۔ شعبہ اردو کے نئے صدر پروفیسر مظفر شہ میری اردو کے فروغ کے لئے جدت سے بھر پور پروگرام کراتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ” تخلیق 2012 “ کے عنوان سے ریسرچ اسکالر س کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے والا پروگرام کروایا تھا۔ جسے hcu 2بہت پسند کیا گیاتھا۔ 3جولائی 2013ءکو شعبہ اردو میں انہوں نے ” کاوش 2013ئ“ ریسرچ اسکالرس کا بین جامعاتی اردو سمینار ترتیب دیا۔ اور سمینار کا مرکزی موضوع ” اردو تحقیق مسائل اور حل“ رکھا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اردو کے اکثر علاقائی اور قومی سمیناروں اور دیگر ادبی اجلاسوں میں سینئر اساتذہ کو ہی مقالے سنانے کا موقع ملتا ہے۔ اور ریسرچ اسکالرس اس طرح کی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں۔ جامعات میں اردو تحقیقی کام میں مصروف ریسرچ اسکالر س کو سمینار میں حصہ لینے اور اپنا مقالہ پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے کی غرض سے شعبہ اردو نے یہ سمینار رکھا ۔اس سمینار میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، عثمانیہ یونیورسٹی اور سری وینکٹیشورا یونیورسٹی اور دیگر جامعات کے ریسرچ اسکالرس کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ اور اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں بڑے اچھے مقالے پیش کئے اور تحقیق کے موضوع پر عصر حاصل کے مسائل سے بھی آگہی حاصل کرتے ہوئے سمینار کے مقاصد کی تکمیل کو اور اپنی نوعیت کے اس منفرد اردو سمینار کو کامیاب بنایا۔سمینار کے کنوینرس جے محمد شفیع اور محمد عبدالخالق ریسرچ اسکالرس نے پروفیسر مظفر شہ میری صاحب کے مشوروں کی روشنی میں سمینار کے انتظامات کئے۔ اور تمام یونیورسٹیوں کے پروفیسرس کو اپنے ریسرچ اسکالرس کو سمینار میں مقالے پڑھنے کے لئے مدعو کیا۔نظام آباد سے ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گرراج گورنمنٹ کالج اور محمد عبدالعزیز سہیل ریسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد پہونچ گئے۔ شعبہ کے سینئیر اسکالرس کے طور پر ڈاکٹر محسن جلگانوی ایڈیٹر اوراق ادب اعتماد اور ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کو بہ طور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا ۔
شعبہ اردو اسکول آف ہیومانٹیز کے خوبصورت آڈیٹوریم میں ریسرچ اسکالرس صبح سے ہی جمع ہونے لگے۔ پروفیسر مظفر شہ میری ‘پروفیسر محمد انور الدین‘ ڈاکٹر رضوانہ معین ‘ڈاکٹر عرشیہ جبین اور ڈاکٹر نشاط احمد نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اففتاحی اجلاس کا آغاز ہوا۔ شعبہ کی ریسرچ اسکالر غوثیہ بانو نے نظامت انجام دی۔ اور مہمانوں کو شہ نشین پر مدعو کیا۔ مہمانوں کو گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد پروفیسر راما کرشنا راما سوامی وائس چانسلرHCU نے شمع جلا کر 10-30بجے دن سمینار کا افتتاح کیا۔ ۔اس موقع پریہ شعر بھی پڑھاگیا۔
سورج سمجھ کے سارے پرندوں نے غل کیا ….اس نے جلائی شمع تو منظر چمک اٹھے
ا س سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈین ہیومانیٹزپروفیسر امیتابھ داس گپتا نے کی۔ جبکہ بطور مہمان خصوصی ڈاکٹر محسن جلگانوی صاحب ایڈیٹراوراق ادب ،روزنامہ اعتماد حیدرآباد مدعوتھے۔ اس اجلاس کے افتتاحی پروگرام کے خیر مقدمی کلمات اداکرتے ہوئے پروفیسر مظفر شہ میری صاحب صدر شعبہ اردوHCU نے سمینار میں شرکت کرنے والے تمام ہی مہمانوں اور اسکالرس کا دلی خیر مقدم کیا اور علامہ اقبالؒ کا شعر ”پلٹنا جھپٹنا پلٹ کر جھپٹنا ۔ہے خوںگرم رکھنے کا یہ ایک بہانا“ پڑھا۔ اور کہا کہ اردو میں ہر موقع کے لئے کوئی نہ کوئی شعر نکل ہی آتا ہے۔ چنانچہ تحقیق سے متعلق بھی خواجہ الطاف حسین حالی کا شعراس طرح ہے ”ہے جستجو کہ خو ب سے ہے خوب ترکہاں۔اب دیکھئے کہ جاکر ٹھہر تی ہے نظر کہاں“۔ پڑھنا جاری رکھیں→