کچھ لوگ انکشافِ ذات کے لیے ماہرینِ نفسیات سے رجوع کرتے ہیں۔ بعض گوتم کی طرح جنگلوں میں نکل جاتے ہیںچند ایک طوطے سے فال نکلواتے ہیں اور کئی ایک تو قیافہ آشناؤں اور دست شناسوں کے آگے دھونی رماتے نظر آتے ہیں۔ لیکن میں نے اس گھمبیر و گنجلک مسئلے کے آسان اور سستے حل کے لیے دیوار پر لٹکتے آئینے کا رُخ کیا ۔ پھر کیا تھا، میرے ہی عکسِ ہزار جہت نے مجھے اپنے خدوخال کے نشیب و فراز کی کچھ چھپی، کچھ اَن چھپی داستانِ ہزار قسط یوں سنانی شروع کر دی:
ٍ اونٹ کی طرح اردو کے پروفیسر کی بھی آپ کو کوئی کل سیدھی نہیں ملے گی ۔ اُس کی نشست و برخاست اُس کی گفت و شنید اور اُس کے عادات و خصائل میں ایک ایسی مضحکہ خیزندرت اور خودپسندانہ جھلک پائی جاتی ہے کہ دور سے آپ اُسے پہچان لیں گے۔
اس کے حُلیئے اور لباس میں آپ کو ایک مجنونانہ بے پروائی ملے گی اور بالوں کی صورتِ حال کو تو دیکھ کر ذوق کا یہ شعر یا د آجائے گا کہ :
خط بڑھا ، کاکل بڑھے ، قلمیں بڑھیں گیسو بڑھے
حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے
مقصد جس کا یہی ہوگا کہ ہم بھی شاعروں کی طرح تخیلی دنیا میں ہر وقت کھوئے رہتے ہیں ہیں۔ اس لیے نیم خود استغراقی اور نیم خود فراموشی کے باعث لباس اور بال بنانے کی طرح دھیان دینے کا موقع ہی نہیں ملا شیروانی جو کبھی اِ س کی پہچان ہوا کرتی تھی عرصہ ہوا اس طبقۂ خاص سے رخصت ہوچکی ہے البتہ شیروانی کی جگہ اب واسکٹ نے لے لی ہے۔ اب یہی سٹیٹس سمبل بن چکی ہے۔ Read the rest of this entry

