داعی کبیر حضرت رحمان بابا کے مزار پر حملہ ۔۔۔۔ ادبی دنیا لرز اٹھی
لا موثر فی الوجود الا اللہ ۔۔۔۔کا ورد کرنے والے ایک گڈری نشین نے جب اس شام ٹوٹی ہوئی محرابوں سے جھکی ہوئی نظریں اٹھائیں تو اس کے آنسوؤں کے تار نگاہوں کی حدت سے ہوتے ہوئے دلوں کے تاروں سے پیوست ہو چکے تھے اسی استغراق کامل اور ذکر و فکر میں ڈوبا وہ مجذوب اگلے ہی لمحے کہیں ڈوبتے سورج کے سایوں میں گم ہو چکا تھا اور میں خیالوں کے محشرستان میں اس سے اتنا بھی نہ پوچھ سکا کہ بابا کے مزار تک کونسا راستہ رہنمائی کر سکتا ہے لیکن جیسے میرے بولنے سے پہلے ہی اس نے میرے سوالوں پر چپ کی مہر لگا رکھی ہو جیسے وہ کہہ رہا ہو ۔۔۔راستے تو ۔۔۔کب کے ۔۔۔اپنی منزلوں سے بھٹک چکے ۔اور پھر ۔۔۔تم لوگ کس بنیاد پر ۔۔۔اور کونسے راستوں کی تلاش میں نکلے ہو۔
تب ایک جگر پاش احساس ندامت نے آگھیرا اور مجھے لگا جیسے دھرتی کانپ رہی ہے ۔۔۔ جیسے توکل ، ایمان ، تخلیق اور اخلاص و محبت کی استہزاء پر وہ لرزہ براندام ہو چکی ہے۔۔۔ پھر یوں لگا جیسے وہ زمین زادوں کے زندہ لاشے دیکھ کر تڑپ رہی ہو جو اپنی تمدن ، تہذیب اور قدروں کی پائمالی میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ عرفان و آگہی کے جادہ پیماؤں کے مزاروں پر بھی شیطنیت اور حیوانیت کے ننگے ناچ سے باز نہیں آئے تب میں نے سوچا کہ زمین کیوں نہیں کانپے گی ۔۔۔۔ آسمان بھی تو کتنا بدل چکا ہے ۔۔۔ حضرت رحمان بابا کے مزار کی بے حرمتی پر پوری ادبی دنیا لر ز اٹھی ہے اس وقت جبکہ ہر بچہ ، بڑا ، نوجوان اور بوڑھا سراپا احتجاج ہے آہنگ اد ب پشاور اور قلم لٹریری مومنٹ مردان نے تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا اس اعلان کے بعد ملک بھر کے ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں نے آہنگ کے دوستوں سے برابر رابطہ رکھا اور حضرت رحمان بابا کی روح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے جذبات و احساسات سے آگاہ کیا۔ Read the rest of this entry
