یقینِ خدا ، خدا حافظ!

یقینِ خدا ، خدا حافظ!

آگ ہی آگ چار جانب آگ
کیا بہشتِ وطن کا حال لکھوں
کچھ نہیں میری دسترس میں مگر
چاہتا ہوں چمن کا حال لکھوں
کیوں وہ پھولوں کے سہرے مرجھائے
کیوں خزاؤں نے ڈیرے ڈالے ہیں
رُوح فرسا نسیم کے جھونکے
غم فزا پنچھیوں کے نالے ہیں
سوچتا ہوں تو جان جاتی ہے
کل یہاں کیا تھا اور اب کیا ہے
پیار تھا صحبتیں تھیں میلے تھے
تھے مگر اب نہیں ، سبب کیا ہے
کن بلاؤں میں گِھر گئے ہیں ہم
کون خونخوار حملہ آور ہیں
کہیں لٹکے ہیں سر بغیر بدن
کہیں زنجیر بے بدن سر ہیں
موت کا راج ہے سرِ مُو بھی
زندگی مدارات نہیں رکھتی
بے حسی نے لگا لیے خیمے
رہبری معرفت نہیں رکھتی
رہ گزاروں پہ سوگ سایہ کناں
منزلوں ماتمی قناتیں ہیں
دھند میں کچھ پتا نہیں چلتا
یہ جنازے ہیں یا باراتیں ہیں
نا امیدی کی تیز بارش میں
بھگتی ہر دُعا ، خدا حافظ
جا رہا ہے خدا کے گھر لیکن
اے یقینِ خدا ۔۔۔ خدا حافظ !

شہاب صفدر

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s