غزل

غزل

خدا سے برسرِ پیکار ہیں ہم
یہ جو رسوا سرِ بازار ہیں ہم

شکایت غیر کی بے جا کریں گے
خود اپنی راہ کی دیوار ہیں ہم

اُسے دشمن بنایا ، دوست تھا جو
جو تھا دشمن ، اُسی کے یار ہیں ہم

سہارا تھے کبھی اوروں کے لیکن
خود اپنی دوش پہ اب بار ہیں ہم

ابھی تو موت کو آنا پڑے گا
بہت مدت ہوئی بیمار ہیں ہم

ہمیں سچ بولنے کی خوئے بد ہے
اگرچہ نوکرِ سرکار ہیں ہم

شناسا تھے سبھی ، جب کام کے تھے
ہوئے تنہا ، جو اب بے کار ہیں ہم

پروفیسرشاہد اسلام تنہا  گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں

One Response »

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s