غزل

غزل


داغ سجدوں کا بر جبیں آیا
بات کرنے کا ڈھنگ نہیں آیا


وہ حسین بھی زُباں کا پکا تھا
”نا“ ، کہا جب تو پھر نہیں آیا


بات اُس نے کہی پہ بن نہ سکی
جب وہ رقیبِ نکتہ چیں آیا


سارے لفظوں میں زباں پر تیری
”تو“ کا اِک لفظِ دلنشیں آیا


اُس کے وعدے پہ میں جو ُمسکایا
وہ یہ سمجھا ، مجھے یقیں آیا


اب افتخار سے گلہ کیا ہے
گھوم پھر کر تو پھر یہیں آیا


افتخار درانی ایڈوکیٹ

One Response »

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s