فطرت سے میری دوستی بہت پرانی ہے ، میں نے اپنی کہانی فطرت کی زبانی سنی ہے اور مجھے معلوم ہے کہ ہر
کہانی کا آخری تار اس مٹی کے خمیر میں گندھا ہوتا ہے جہاں سے انسان کے اندر کی کائنات کی تعمیر ہوتی ہے ۔۔۔۔ کائنات کی مخفی طاقتوں کے اسرار میرے دل کے اندر یونہی ہولے ہولے بسیرا کرتے گئے اور انہوں نے مجھے تخلیق کی شکتی دی ۔ اس شکتی نے میرے ہاتھوں میں قلم اور میرے ذہن کو اجالے دیئے ۔۔۔ میں میلوں چلا ۔ کبھی راستے اپنی منزلوں سے گزرگئے تو کبھی منزلیں ہی اپنے راستوں کا تعین نہیں کرپائیں میں نے نفس کے صحراﺅں میں عرفان کے دریاﺅں کی کھوج لگاتے ہوئے کبھی اطمینان کے سرابوں پر دھیان نہیں دیا ۔۔ کہ میں تو ایک ایسا گیانی تھا جس کی ریاضت اس سنسار میں آنے سے پہلے ہی مدتوں ذات اور لاذات کے عمیق ساگروں کی شناور رہی تھی ۔
ایک دن اپنی جنم پتری دیکھتے دیکھتے وہ زریں وادی مل ہی گئی جہاں میرا جنم ہوا تھا اور یہ بالکل وہی استھان تھا جہاں پہلی بار دھوپ چمکی تھی اور کرنوں کا اترتا پگھلتا سونا نگاہوں میں سکھ کے سپنے بوگیا تھا ۔ اس سفر میں میرے ہم قافلہ نے جگہ جگہ پڑاؤ ڈالے اور ہر پڑاؤ پر اگلی منزل کےلئے تیاری کی ۔
کچھ دوست جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے اور جنہوں نے ابھی بھی درد کے اس رشتے کو ٹوٹنے نہیں دیا میری تنہائیوں کے ازلی رفیق ہیں ۔۔۔ہر روز سورج کی پہلی کرن صبح صبح میری دہلیز پر آکر مجھ پر ایک نئے دن کا انکشاف کرتی ہے ۔۔ شام کے آوارہ پنچھی ہر تھکے ہوئے جھونکے کے ساتھ مجھے کچھ بیتے دنوں کی یاد دلاتے ہیں ۔
شفق کے پیلے مٹیالے بادل تو میرے دیرینہ دوستی کا حق آج تک ادا کرتے آئے ہیں ۔۔۔۔۔ سمندروں پر برسنے کے بعد میری اور آتے ہوئے کبھی میں نے ان بدلیوں سے شکایت نہیں کی کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ سمندروں کی پیاس بڑی خوفناک ہوتی ہے ۔۔۔۔وقت کے ”اوراق“ پر زمانے نے میرا نام کندہ کراتے سمے ”وزیر آغا “ لکھا تو میں نے کسی شاعرانہ سابقے لاحقے کی ضرورت اس لئے محسوس نہیں کی کہ مجھے نام اور دام سے زیادہ کام کے پیرہن میں اپنی صدائیں اچھی لگیں ۔ اور آج جبکہ زندگی نے میرے خدو خال پر واقعات کے اساطیر آباد کرلئے ہیں میرا عقیدہ اس حوالے سے مستحکم ہو چلا ہے کہ مجھے صرف اور صرف تخلیق کی آبیاری کرنی ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔ Read the rest of this entry
