10.28.09

ڈاکٹر وزیر آغا سے انٹرویو

Posted in انٹرویوز at 11:38 am by wahabijaz

فطرت سے میری دوستی بہت پرانی ہے ، میں نے اپنی کہانی فطرت کی زبانی سنی ہے اور مجھے معلوم ہے کہ ہر

wazir agha

ڈاکٹر وزیر آغا

کہانی کا آخری تار اس مٹی کے خمیر میں گندھا ہوتا ہے جہاں سے انسان کے اندر کی کائنات کی تعمیر ہوتی ہے ۔۔۔۔ کائنات کی مخفی طاقتوں کے اسرار میرے دل کے اندر یونہی ہولے ہولے بسیرا کرتے گئے اور انہوں نے مجھے تخلیق کی شکتی دی ۔ اس شکتی نے میرے ہاتھوں میں قلم اور میرے ذہن کو اجالے دیئے ۔۔۔ میں میلوں چلا ۔ کبھی راستے اپنی منزلوں سے گزرگئے تو کبھی منزلیں ہی اپنے راستوں کا تعین نہیں کرپائیں میں نے نفس کے صحراﺅں میں عرفان کے دریاﺅں کی کھوج لگاتے ہوئے کبھی اطمینان کے سرابوں پر دھیان نہیں دیا ۔۔ کہ میں تو ایک ایسا گیانی تھا جس کی ریاضت اس سنسار میں آنے سے پہلے ہی مدتوں ذات اور لاذات کے عمیق ساگروں کی شناور رہی تھی ۔

ایک دن اپنی جنم پتری دیکھتے دیکھتے وہ زریں وادی مل ہی گئی جہاں میرا جنم ہوا تھا اور یہ بالکل وہی استھان تھا جہاں پہلی بار دھوپ چمکی تھی اور کرنوں کا اترتا پگھلتا سونا نگاہوں میں سکھ کے سپنے بوگیا تھا ۔ اس سفر میں میرے ہم قافلہ نے جگہ جگہ پڑاﺅ ڈالے اور ہر پڑاﺅ پر اگلی منزل کےلئے تیاری کی ۔

کچھ دوست جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے اور جنہوں نے ابھی بھی درد کے اس رشتے کو ٹوٹنے نہیں دیا میری تنہائیوں کے ازلی رفیق ہیں ۔۔۔ہر روز سورج کی پہلی کرن صبح صبح میری دہلیز پر آکر مجھ پر ایک نئے دن کا انکشاف کرتی ہے ۔۔ شام کے آوارہ پنچھی ہر تھکے ہوئے جھونکے کے ساتھ مجھے کچھ بیتے دنوں کی یاد دلاتے ہیں ۔

شفق کے پیلے مٹیالے بادل تو میرے دیرینہ دوستی کا حق آج تک ادا کرتے آئے ہیں ۔۔۔۔۔ سمندروں پر برسنے کے بعد میری اور آتے ہوئے کبھی میں نے ان بدلیوں سے شکایت نہیں کی کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ سمندروں کی پیاس بڑی خوفناک ہوتی ہے ۔۔۔۔وقت کے ”اوراق“ پر زمانے نے میرا نام کندہ کراتے سمے ”وزیر آغا “ لکھا تو میں نے کسی شاعرانہ سابقے لاحقے کی ضرورت اس لئے محسوس نہیں کی کہ مجھے نام اور دام سے زیادہ کام کے پیرہن میں اپنی صدائیں اچھی لگیں ۔ اور آج جبکہ زندگی نے میرے خدو خال پر واقعات کے اساطیر آباد کرلئے ہیں میرا عقیدہ اس حوالے سے مستحکم ہو چلا ہے کہ مجھے صرف اور صرف تخلیق کی آبیاری کرنی ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔

٭میرے سامنے آپ کی ایک تحریر ہے جس پر 1970ءکا زمانہ درج ہے یہاں لکھا ملا کہ ادباءنے تخلقیات ہی کو نہیں چھوڑا بلکہ مطالعہ کو بھی خیرباد کہہ دیا آج اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد اس سوال کی اہمیت کئی حوالوں سے بڑھ گئی ہے کیا آپ تفصیل میں جانا پسند کریں گے ۔

ڈاکٹر وزیر آغا

وزیر آغا

ڈاکٹر وزیر آغا :۔ دراصل تخلیق کار کے لئے جہاں مشاہدہ ضروری ہے وہاں مطالعہ بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے یہ مطالعہ کئی طرح کا ہوتا ہے یہ ایک تو کتابوں کا مطالعہ ، ادب ہے ،مذہب ہے ،علوم و فنون ہے اور دوسرا مطالعہ کائنات اور فطرت کا ہے ، یہ دیکھیں کہ جو کائنات کے اسرار ہیں اس کی تو ضیح کیسے ہوگی اور ان اسرار کے ساتھ ہم کس حد تک منسلک ہیں۔۔۔۔ پھر یہ کہ ہمارے علاوہ باقی جو چیزیں ہیں یہاں پر ان کی رسائی کائنات تک اس طرح نہیں ہوتی اور نہ ان کے اندر یہ روشنی ہے کہ وہ کائنات کے باب میں کوئی رائے قائم کرسکے بلکہ ان کا تو یہ ہے کہ وہ اپنا چہرہ اوپر کرکے آسمان پر ایک نظر بھی نہیں ڈال سکتے انسان نے جب آسمان پر نگاہ ڈالی تو اس کا نقطہ نظر اتنا وسیع ہوگیا کہ وہ سوال قائم کرنے لگا کہ یہ جو کائنات ہے یہ ایسے تو نہیں آگئی اس کا بنانے والا بھی کوئی تو ہوگا ۔ یہاں سے بات چلی اور چلتی گئی ۔

تو یہ تفکر کا خزانہ انسان کو ملا جو لوگ حیوانی طورپر زندگی بسر کرتے ہیں پیدا ہوتے ہیں ،کمائی کرتے ہیں ، اورزندگی گزار کر چلے جاتے ہیں وہ زندگی کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی دیکھ نہیں پاتے ۔۔۔۔

جیون کا یہ سارا سفر اتنا پیچدار ، اتنا تہہ در تہہ اور پرت در پرت ہے کہ اس عمل کےلئے ایک زندگی نہیں بلکہ کئی زندگیاں درکار ہیں نا بچہ ہر چیز کو حیرت سے دیکھتا ہے اور اس کے بارے میں جاننا چاہتا ہے لیکن جب ہم بڑے ہوجاتے ہیں تو حیرت منہا ہوجاتی ہے اور یہ چیزیں ہمیں اس طرح نظر آتی ہیں جیسے برسوں کی دیکھی ہوئی ہیں لیکن جو سیاح باہر سے آتا ہے اس کو وہ کچھ نظر آجاتا ہے جو ہمیں نظر نہیں آتا تو عالم یا شاعر ہر چیز کی کنہہ تک پہنچنا چاہتا ہے ،جاننا چاہتا ہے اور یہ سفر تیز رفتاری کا نہیں بلکہ آہستہ روی کا تقاضا کرتا ہے ۔

٭ کیا ابہام کا تعلق ایسے الفاظ کے استعمال سے ہے جن سے سوالات کے چشمے پھوٹیں یا پھر سوالات بھی شاید منطق کی سطح سے آگے نہ جانے دیں تو آیا ابہام کا تعلق ایسے لفظوں سے ہے جہاں سے قاری اور خود شاعر کو ایک چکا چوند کا احساس ہو اور کیا ابہام اور مبہم ہونے میں کوئی فرق بھی ہے ؟

ڈاکٹر وزیر آغا :۔ بہت فرق ہے اب دیکھئے نا کہ اگر پانی کا ایک گلاس ہے اس میں آپ گردوغبار ڈال کر اسے ہلاتے ہیں تو آپ کوتہہ نظر نہیں آئےگی اور اس کو ابہام کہہ کر یہ کہا جائے کہ اس میں بڑی گہرائی ہے گہرائی تو آپ نے خود ہی ختم کردی ۔ جتنا شفاف پانی ہوگا اتنا ہی آپ اس کی گہرائی میں جاسکیں گے تو ابہام کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جو گفتگو ہورہی ہے یا جو کچھ لکھا جارہا ہے اس میں ایک گنجلک کیفیت ہو۔۔ یہ نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کی تہہ تک پہنچنے اور اندر اتر نے کی کوشش کریں تواس ساری سچویشن کو ہم اپنی حسیات کی مدد سے گرفت میں لینے کی کوشش کرتے ہیں

٭ اور وہ سب کچھ ۔۔جوماﺅرائے حسیات ہیں ؟

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ میں اس کی جانب آرہا تھا کہ بہت کچھ جو ماوارئے حسیات ہیں وہاں پر آپ کیسے پہنچیں گے اور وہ خود مبہم بھی ہے اب اس میں ایک مثبت انداز سے ابہام ہیں ایک وہ جو از خود پیدا کردہ ہے یہ جوبات آپ نے تخلیقات کے ضمن میں پوچھی ہے ہمارے ہاں بہت سے لوگ جدید حسیت کے نام پرجو کچھ لکھتے ہیں اسے جان بوجھ کر ابہام کی نذر کر دیتے ہیں ۔

٭ یعنی مبہم تر بنا دیتے ہیں ۔

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ اور جناب یہ بتانے کی کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں تو گہرائی بہت زیادہ ہے ایسی گہرائی جس تک آپ نہیں پہنچ سکتے ۔ یہ ایک مصنوعی عمل ہے مسئلہ یہ ہے کہ تخلیق کو تو شفاف ہو نا چاہیے اور شفافیت بھی اس طرح کی کہ جیسے جیسے آپ اس کے اندر اپنے آپ کو مرکوز کریں آپ کےلئے دروازے کھلتے چلے جائیں ۔ ابہام پھر بھی موجود ہے ایک پردے کے بعددوسرا پردہ تیسرا پردہ چو تھا پردہ ۔۔۔۔ اور اگر آپ نے پردوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک گدلی فضاءقائم کرلی تو آپ کےلئے آگے جانا بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہوجائےگا ۔

٭ اب یہاں ایک سوال ابھرتا ہے کہ ایک پیچےدہ عمل جو فرد کے اندر یعنی انتہائی داخل میں ہورہا ہے اور خیال یا

wzir agha3

ڈاکٹر وزیر آغا

عمل کا یہی نظام دوسری جانب کائناتی اسرار کے ایک ایسے سلسلے سے جڑا ہوا ہے جو آسانی سے گرفت میں آنے کا نہیں اب اس کےلئے جن علامتوں کی تشکیل ہوگی وہ علامتیں ازخود اس پیچےدہ عمل کے نتیجے میں مبہم ہوتی چلی جائےنگی ۔

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ ابہام جیسا کہ میں نے کہا مثبت بھی ہے اور منفی بھی منفی وہ کہ جو آپ کے تجس کی تکمیل نہ کرسکے اور مثبت یہ کہ آپ کےلئے دروازے کھلتے چلے جائیں ۔

یہ جو اچھی تخلیق ہوتی ہے آپ کو روکتی نہیں ہے وہ آپ کا تناظر وسیع کرتی چلی جاتی ہے کسی بھی بڑے تخلیق کار کا کوئی شعر پڑھ لیں تو معنی نہیں بلکہ معانی کے سلسلے آپ کو نظر آئیں گے بڑے عالم یا دانشور جب بات کرتے ہو تو سطح پر ایک معنی ہوتا ہے لیکن زیر سطح بے شمار رنگ بکھرے ہوتے ہیں ۔

٭ اور یہاں ابہام کا وہ تصور سامنے آتا ہے جہاں سے حسن کی نئی سے نئی دھندلائی ہوئی وادیاں منتظر رہتی ہیں ۔

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ ویسے دیکھا جائے تو ہر چیز مبہم ہے کیونکہ اگر پوری طرح شفاف ہو جائے تو اس میں کچھ رہےگا نہیں ۔۔۔ یہ دھندلاہٹ ایک طرح سے ضروری ہے یہ مبہم ہونا اس کی خوبی اور خوبصورتی ہے یہی چیز تجسس کو بڑھاوا دیتی ہے اور آپ آگے جانے کےلئے ہمہ وقت بے قرار رہتے ہیں ۔

٭ یعنی ایک طرح سے قاری کےلئے بھی اپنے ذہن کو تھوڑا بہت تھکانا پڑتا ہے ۔

ڈاکٹر وزیر آغا:۔آپ نے بڑا اچھا کہا قاری کا ذہن کو تھکانا ۔۔ اور دراصل یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے تخلیق کار اورقاری

ایک دوسرے کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔

اب مثلاً شعر کے سطحی معنی سے گزر کر آپ شعر کے اندر سفر کرتے ہوئے معانی کے سلسلے آباد کرتے ہیں تو آپ کا سفر جاری ہوجاتا ہے یہ ابہام موجود ہے لیکن اس طرح کا ابہام جو راستے دکھاتا ہے اور آپ کو حتمیت کی طرز پر نہیں آنے دیتا دیکھا جائے تو کوئی چیز حتمی نہیں ہے انسان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ ہر سوال کا ایک جواب چاہتا ہے لیکن ایک جواب نہیں ہوتا ۔ جواب تو ان گنت ہیں ۔۔ کسی بھی زمانے میں اہم ترین کام سوال ہے ۔ آپ نے سوال اٹھایا اب جوابات تو آتے رہیں گے اور صدیوں تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا ۔

٭ ادیب کی بقاءکس بات میں ہے ؟

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ ادیب کی بقاءاس بات میں ہے کہ وہ اردگرد کے ماحول کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دے۔ (میں جس زاویے سے بات کررہا ہوں یقیناً آپ سمجھ رہے ہونگے ) ادیب کی اپنی خواہش ہے اپنے آپ کو دریافت کرنے کی ، کائنات کو دریافت کرنے کی ، اور وہ ایک جمالیاتی حظ کی تلاش میں ہے ۔۔۔۔۔ وہ بھول جائے کہ یہ چیزلکھو نگا تو پاپولر ہوگی وہ لکھونگا تو شہرت ملے گی ۔۔۔۔۔ یہ بات ادبی اقدار کے منافی ہے ۔ ادیب کو چاہیے کہ وہ لکھے اور اس لئے لکھے کہ لکھے بغیر وہ رہ نہیں سکتا ۔ ایک ایسی روشنی جو اس کے اندرہےجسے وہ خود اپنی گرفت میں لینے کےلئے سرگرداں ہیں وہ جاننا چاہتا ہے یہ طرح سے جیسے ہومر کی اوڈیسی ہے سفر ہے اندر کا بھی باہر کا بھی ۔

اب سائنس نے جو ترقی کی ہے اس میں کائنات اکبر اور کائنات اصغر دونوں کا مطالعہ شامل ہے اور دونوں کی کوئی حد نہیں ہے اور آپ کو دونوں طرف سفر کرنا چاہے۔۔۔۔۔ اگر ایک سوال کے ایک ہی جواب کے ساتھ خود کو باندھ لیا تو پھر آپ کی ترقی رک جائےگی ۔

٭شعر کی بات چلی تو جہاں تک شعر کا تعلق ہے کیا یہ سوالات کو جنبش دیتا ہے یا احساسات کو ۔۔۔۔ یہ بھی ایک مسئلہ ہے کبھی کبھی سننے میں آ جاتا ہے کہ یہ منطقی آزمائش کا نہیں بلکہ تخلیقی انکشاف کا ایک وسیلہ ہے ۔۔۔۔۔

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ شعر آپ کو کئی سطحوں پر مطمئن کرتا ہے اور لطف دیتا ہے مثلاً ایک تو یہ تو یہ کہ تناظر کو وسیع کرتا ہے اب تناظر کے دو پہلو ہیں ایک خارجی اور دوسرا باطنی ۔۔۔ جو شعراءخارجی تناظر سے کام رکھتے ہیں جسے انگریزی میں ڈسکرپٹیو یعنی بیانیہ شاعری کہتے ہیں اور دوسرے وہ جہاں مکالمہ اندر سے پھوٹتا ہے یہ جو اندر کی دنیا ہے یہاں سے اسرار کھلتے چلے جاتے ہیں میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس ضمن میں کسی ایک طرف جھکنے سے صورت حال کا پوری طرح جائزہ نہیں لیا جاسکتا دونوں چیزیں درست ہیں کائنات اکبر بھی اور کائنات اصغر ہے ۔ آپ چیزیں دیکھیں ان کو مس کریں۔ اب اگر آپ مادی چیزوں سے بالکل الگ ہوتے ہیں تو تارک الدنیا ہوجائیں گے اس حوالے سے میرا خیال ہے کہ اسلام واحد مذہب ہے جو موجود یا موجودگی یا موجودیت کا اقرار کرتا ہے ورنہ لوگ تارک الدنیا ہوجائیں گے مثلاً اس بات کی طرف کھلے اشارے موجود ہیں کہ آسمان کی طرف دیکھو یا زمین پر جو پہاڑ نصب ہیں ان کا مشاہدہ کرو ۔ گویا ان اسرار کی تہہ تک پہنچنے کی بات مذہب نے سب سے پہلے کی ہے ۔

٭گویا دریافت اور بازیافت کا عمل مذہب و فلسفہ اور ادب میں قدر مشترک ہے ۔

ڈاکٹر وزیر آغا:۔شاعر او ر ادیب کی حس اس حوالے سے بڑی شدت کی حامل ہوتی ہے اور وہ اکثر ان تینوں کا احاطہ کرلےتا ہے یہ اس کا کمال کہ وہ چیز یں جو اوروں کو نظر نہیں آتیں اسے نظر آنی شروع ہوجاتی ہیں ۔

٭اور سب سے بڑی بات کہ وہ اسے اظہار کی آفاقیت میں سمو دیتا ہے ویسے کیا یہ درست ہے کہ شاعری سے اس وقت تک لطف اندوز نہیں ہوا جاسکتا جب تک اندر کی موسیقی نہ ہو۔

ڈاکٹر وزیر آغا:۔یہ جتنے فنون ہیں ان کی اپنی ایک موسیقی ہوتی ہے بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ کائنات کی بھی ایک رِدھم ہے اور یہ درست ہے ۔۔۔ ہم باتیں کررہے ہیں لیکن ہمارے اندر کا رِدھم اس میں بھر پور طورپر شریک ہیں ہماری نبضیں ایک خاص رتھمک حالت میں چل رہی ہیں دل کا اپنا رِدھم ہے وہ خون شریانوں میں بھیجتا پھر واپس کھینچتا ہے پھر لحظہ بھر کےلئے رک جاتا ہے پھر شروع ہوتا ہے ۔ پوری کائنات میں یہ عمل ہورہا ہے اور شاعری کی تو بنیاد ہی آہنگ پر استوار ہوتی ہے شاعری تو تخلیق ہی رِدھم سے ہوتی ہے آپ کے اندر ایک موسیقی جنم لیتی ہے اور اس پر پھر الفاظ اترتے چلے جاتے ہیں اور اس کےلئے اس اندرونی آہنگ کا ہونا بہت ضروری ہے نثر کا اپنا آہنگ ہے نظم کا اپنا ۔ میں یہاں مثال دیتا ہوں وہ جو کہتے ہیں کہ کرکٹ کا کوئی کھلاڑی آج کل فارم میں نہیں ہے رنز بنا ہی نہیں رہا تو فارم میں نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ رِدھم میں نہیں ہے آپ ایک خاص ایک رِدھم سے چل رہے ہیں اچانک آپ کا رِدھم ٹوٹ گیا اور آپ گر پڑے بعض لوگوں کو نیند میں چلنے کی عادت ہوتی ہے وہ اوپر سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آتے ہیں اور پھر واپس ہوتے ہیں ۔

ایک دفعہ یہ ہوا کہ ایک سیڑھی کا پتھر سرک گیا تھا اور وہ آدمی جو رات کو نیند میں اترتا تھا اترتے وقت اوپر سے گرا اور موت کے منہ میں چلا گیا دراصل اس کے معمول کا رِدھم ٹوٹ گیا تھا ۔

٭ یہاں مجھے آپ کا انشائیہ ”بارہواں کھلاڑی “یاد آرہا ہے کہ جس میں تماشائی بھی رِدھم میں ہوتے ہیں بگل، ڈھول ڈھمکا ، باجے تاشے بج رہے ہیں بیٹسمین بھی اپنا رنگ جما رہا ہے باﺅلر بھی اپنے کرتب دکھا رہا ہے ۔ فیلڈر، کمنٹریٹر گویا سب ایک دوسرے کے ساتھ اےک مکمل رِدھم کی صورت میں جڑے ہوئے ہیں اور جونہی یہ رِدھم ٹوٹ جاتا ہے تو سب اونگھنے لگتے ہیں ۔

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ قوموں کا بھی یہی مسئلہ ہے مثلاً پاکستانی لوگ ہم آہنگ نہیں ہیں کوئی کچھ کہہ رہا ہے تو کوئی کچھ ۔آہنگ میں آئیں گے تو بات بنے گی ۔

٭ ایک وقت تھا جب مولانا صلاح الدین احمد صاحب کے دم سے آپ کی محفلیں آباد رہا کرتی تھیں آپ کو ان کی ہمنشینی کا شرف حاصل رہا جب وہ چلے گئے تو اس المیے نے آپ کے احساسات کو کچلا تھا اور آپ نے اس موقع پر ایک خط میں لکھا تھا کہ یہ زخم اس قدر گہرا ہے کہ اس کا بھر جانا ایک معجزہ ہوگا اور یہ بھی کہ میں تھک سا گیا ہوں اس اکتاہٹ بھرے لہجے میں آپ نے زندگی کے بے مصرف اور لایعنی ہونے کا بھی کہا تھا ۔۔۔۔ کیا واقعی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ بھی آتا ہے کہ آپ جیسی قدقامت کی شخصیت بھی زندگی کو بے مصرف اور لایعنی خیال کرے ۔

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ جس سے آپ کو بہت زیادہ لگاﺅ ہوتاہے اس کی ناگہانی موت سے آپ کے اندر جو بڑے پیمانے پر شکست و ریخت ہوتی ہے اس سے آپ خود بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور اس کے کافی عرصہ بعد کہیں جاکر اپنے آپ کو مرتب کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں وہی آہنگ والی بات ہے آپ کا اپنا آہنگ ٹوٹ جاتا ہے ۔ مولانا صلاح الدین صاحب سے ایک عجیب قسم کا رشتہ تھا ان کے گزر جانے کی اطلاع مجھے سرگودھا میں ملی اور کیا بتاﺅں کہ وہ جو سفر میں نے کیا سرگودھا سے لاہور تک وہ ایک بے حد کربناک سفر تھا بہت سی باتیں مولانا کی یاد آرہی تھیں بہت اونچے آدمی تھے فکر کے اعتبار سے بھی اور کردار کے حوالے سے بھی ۔

ایک دفعہ سرگودھا میں کوئی تقریب تھی وہ میری کار میں بیٹھ گئے تو ہم چل پڑے جب شاہدرہ سے آگے نکلے تو مولانا ڈرائیور سے کہتے ہیں کار کھڑی کردو اور موڑ دو اس کو کار واپس چل پڑی میں نے سوچا شاید کوئی کاغذ بھول آئے ہوں مال روڈ پر ان کا دفتر تھا ۔

٭ ”ادبی دنیا “کا ؟

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ جی ہاں ادبی دنیا کا ۔۔ مولانا صاحب نے کار سے اتر کر دفتر کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہونے کے بعد روشن دانوں میں سے ایک روشن دان کو کھولا اور کہنے لگے آﺅ جی چلیں میں نے کہا تھا کہ ایک روشن دان کھولنے کےلئے آپ نے واپسی کا اتنا لمبا سفر کھینچا کہنے لگے اس کمرے میں ایک چڑیا اپنے بچوں سمیت رہتی ہے تو اگر چڑیا گئی ہو اور روشن دان بند تو بچے مرجائیں گے اور اگر چڑیا بھی اندر ہو تو سب کے سب مر جائیں گے کیونکہ ہمیں تین چار دن بعد آنا ہوگا ۔۔ اس قسم کی شخصیت تھی ان کی اصل میں بات یہ ہوتی ہے کہ دوسرے کے رخصت ہونے کا جو سانحہ ہے اس کےلئے آپ آہستہ آہستہ تیار ہوتے ہیں لیکن جب تیاری نہ ہو اور اچانک کوئی ایسا سانحہ ہو جائے تو سنبھلنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔

جب سمندر میں سمندری جہاز جارہا ہوتا ہے اور طوفان آ جاتا ہے تو طوفان کے گزر جانے پر وہ جہاز اسی طرح نہیں رہتا جو طوفان سے پہلے تھا اس طرح زندگی میں جتنے طوفان آتے ہیں آپ بدلتے چلے جاتے ہیں ۔

٭ کیا اجزاءکی تبدیلی سے کلٍُ پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ دیکھئے کلٍُ کیا ہے اجزاءکی ترکیب۔۔۔۔۔ اب ایک تو یہ کہ اجزاءاگر بدلیں گے تو کلُ کی صورت بھی بدل جائے گی ۔ صوفیا ءتو اس کو کسی اور نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں یعنی قطرہ اور دجلہ کا تعلق لیکن دوسری جانب دیکھئے کلُ بھی تو متعین تو نہیں ہے اور اجزاءبھی نہیں تو اﷲ تعالیٰ کے بارے میں ایک تصور۔۔۔۔۔ لیکن تصور سے تو وہ ماو را ہے کوئی تصور نہیں ۔۔ ہزارصفات پیش کریں وہ سب سے ماورا ہے آپ کا باطن جتنا روشن ہوگا اتنا ہی قدرت کی وسعتیں اور گہرائیاں آپ پر منکشف ہوتی جائےنگی ۔

٭ کیا جوڑنے کےلئے توڑنا ضروری ہوتا ہے ؟

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ ایک اعتبارسے تو ضروری ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کسی چیز کو توڑ کر دوبارہ جوڑتے ہے تو اس کی ماہیت تبدیل ہوجاتی ہے مثال کے طو رپر آپ نے ایک نظریہ وضع کیا ہے اور وہ نظر یہ آپ پر حاوی ہوگیا جب تک اس نظریہ سے باہر نہیں نکلیں گے باہر نکلنے کا مطلب یہ کہ اس کو توڑتے ہیں اس میں کشادگی لاتے ہیں تو پھر آپ سمجھتے ہیں کہ ایک سطح اوپر اٹھ آیا ہوں ۔

تصوف میں وحدت الشہود کے سلسلے میں یہی بات کی جاتی ہے کہ یہ جوزندگی کے حوالے سے نظریات کی جکڑ ہے اس سے باہر آئیں گے تو ایک نئی سطح پر جڑ جائیں گے ۔

٭اور تخلیقی سطح پر بھی توڑنے جوڑنے کے حساب سے ایک جو کیمیائی عمل ہو تا ہے ۔۔۔۔۔

ڈاکٹروزیر آغا:۔ تخلیقی طو رپر دیکھئے تو اجزاءسامنے کے مشاہدات ہیں اور اندر کی چیزیں آپ کے محسوسات ہیں جب تخلیقی عمل کے دوران آپ جست بھرتے ہیں (جست کا ہونا بہت ضروری ہے )جست کا مطلب ہے پنجرے سے باہر نکل کر پرواز کرنا اور اس وسیع تر دنیا سے تخلیقی عمل کے ذریعے جڑنا یہ جو تخلیق کار ہوتے ہیں ان کے ساتھ اکثر یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک سطح کو توڑ کر دوسری سطح سے رشتہ قائم کرتے ہیں ورنہ دوسرے لوگوں میں تو اکثریت ان کی ہے جن کے اندر کی کی دنےا مکمل طو رپر منجمد ہو چکی ہے ۔

٭ آپ نے اپنی آٹو بائیو گرافی میں اپنے ہمزاد کے ساتھ تصوف کی باریکیوں کو بالکل نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے کچھ گفتگو اس مکالمے کے حوالے سے ہو جائے ؟

ڈاکٹر وزیر آغا:۔میں نے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے سلسلے میں اپنی آٹو بائیو گرافی میں لکھا ہے میراہمزاد یاہمدم مجھ سے سوال کرتا ہے یہ وحدت الوجود کیا چیز ہے میں اس سے کہتا ہوں کہ آسمان سے اگر بارش کا قطرہ گرتا ہے اور سمندر میں جذب ہوتا ہے تو یہ وحدت الوجود ہے پھر وہ کہتا ہے کہ جز کلُ کے اندر جا کر خود کو ضم کر دیتا ہے ۔۔۔ وحدت الشہود کی یہ صورت ہے کہ آسمان سے بارش کا قطرہ گرتا ہے اور وہ سمندر کی تہہ میں تیرنے والےسیپ میں پڑتا ہے اور موتی بن جاتا ہے اب موتی سمندر میں جذب نہیں ہوتا وہ الگ ہی رہیگا اور پورا سمندر اس موتی میں منعکس ہوگا اس لئے وحدت الشہود والے کہتے ہیں کہ ہم گدلے آئینے ہیں عبادت سے ، ریاضت سے اپنے آپ کو تنزیہی طور پر اتنا آگے لے جائیں کہ پوری کائنات منعکس ہوجائے تخلیق کار کو بھی اس سانچے میں ڈھال لیں تو وہ بھی صرف جذب نہیں ہوتا کیونکہ اس کے حصول کا طریقہ کار ہی الگ ہے ایک بہترین مثال یہاں واقعہ معراج کی دی جاسکتی ہے کہ درمیان میں دو کمانوں کا فاصلہ رہا لیکن جذب نہیں ہوئے وہاں سے اکتاب نور کر کے واپسی ہوئی اور دنیا کو بدل کر رکھ دیا ۔

٭ آپ نے سمندر اور دریا کا حوالہ دیا

قاسمی صاحب نے کہا تھا ”میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاﺅنگا “ لیکن ایک طرح سے گویا آپ کا ماننا ہے کہ ”جہاں دریا سمندر میں ملے دریا نہیں رہتا “۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ آپ بلندی سے دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ ساری دنیا کے دریا سمندر میں جارہے ہیں لیکن بیک وقت دریا بھی جارہے ہیں اور سمندر بھی انہیں لے رہا ہے ۔ سمندر بھی اپنی جگہ پر قائم ہے لیکن دریا نے بھی اپنی شناخت نہیں کھوئی۔

٭ بہت بڑی بات کررہے ہیں آپ ۔۔۔۔

ڈاکٹر وزیر آغا:۔ اور کبھی کبھی تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ دریا سمندر کے ہاتھ ہیں ۔

٭ ڈاکٹر صاحب بہت خوبصورت گفتگو ہورہی ہے ایک آخری سوال ۔۔ جس سٹیج پر اس وقت آپ موجود ہیں یہاں سے آپ زندگی کو کس زاویے سے لے رہے ہیں میرا مطلب پوری کائنات کی زندگی سے ہے ؟

ڈاکٹر وزیر آغا :۔میں سمجھتا ہوں کہ زندگی ایک بہت ہی حسین تجربہ ہے اور انسان کو اسے قبول کرنا ہوگا ،کرنا چاہیے اس کے سارے دکھوں اور خوشیوں سمیت ۔۔۔۔۔ اور یہ تجربہ کسی کسی کو حاصل ہوتا ہے انسان جو تخلیق ہوتا ہے تو یہ ہزاروں سپرمز میں ایک ریس لگی رہتی ہے کوئی ایک سپرم اس ریس میں اپنی منزل کو پہنچتا ہے یہ محض اتفاق ہے کہ ہم اور آپ یہاں موجود ہیں اور یہ بحیثیت مسلمان ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا فیصلہ اوپر ہوا ہے لیکن ہے تو یہ میرا تھن دوڑ اس دوڑ میں ہم کہاں پہنچتے ہیں کچھ پتہ نہیں ۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ بہت ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں زندگی ملی لیکن جب کہیں کشت وخوں کے مناظر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ زندگی کو کتنا ارزاں کردیاگیا ہے حالانکہ اتنی قیمتی چیز ہے کہ اس کو کیا نام دیا جائے میرے ایک عزیز دوست تھے شمس آغا ۔ ہم عمر بھی تھے اُس وقت میرے خیال میں ان کی عمر 22 برس تھی وہ بہت حساس تھے ایک دن کہنے لگے کہ یہ زندگی بسر کرنے کے قابل نہیں اور اب خودکشی ہی اس کا حل ہے ۔۔۔ میں نے اسے بڑا سمجھایا بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کا ساتھ دونگا لیکن دس سال بعد مطلب یہ تھا کہ دس سال بعد اس کو سمجھ آجائےگی تو یہ خودکشی کی بات نہیں کرےگا ۔ میں نے اس سے یہی کہا کہ یہ اتنی خوبصورت چیز ہے اور آج بھی کہتا ہوں کہ اتنا حسین تجربہ ہے اگر اس کو آپ ایک میکانکی روبوٹ کی طرح گزاریں تو الگ بات ہے لیکن اگر ایک زندہ شخصیت کے طور پر گزاریں تو اس کے پرت بہت ہیں لوگ کہتے ہیں ہم نے زندگی دیکھی بھئی زندگی کو کون دیکھ سکتا ہے زندگی تو اتنی بے انت ہے صرف یہ زندگی نہیں جو آپ کو عمر حاصل ہے بلکہ ایسے کروڑوں بھی ملے تو آپ بہت ساری چیزوں کا احاطہ نہیں کرسکتے جو موقع اﷲ تعالیٰ نے عطاءکیا ہے اس لمحے کو ضائع کرنا نہیں ہے ۔ اور میں تو کہتا ہوں کہ جسٹ ٹو لائف۔

اویس قرنی

10.12.09

ہمیں یہ امید وہ پکاریں

Posted in مضامین at 6:48 pm by wahabijaz

کراچی کے ڈاکٹر۔۔۔۔۔ کانفرنس ہال میں دو گھنٹے کی تاخیر سے پہنچے تو دروازے پر ان سے مدبھیڑ ہوتے خیریت پوچھی کہنے لگے ”جس روٹ سے آتاہوں اس طرف آپ بہت۔۔۔ہیں آج مجبوراً راستہ بدلناپڑا اس لئے دیر ہوگئی“ ۔۔۔پتہ نہیں اس وقت میں نے دل کے اندر اٹھتے سلگتے سوالات کے شعلوں کو کس طرح قابو میں رکھا بہرحال دوسرے ہی لمحے اپنے جملے کی وضاحت، معافی اور ان کے چہرے پر ہوائیاں دیکھ کر جانا کہ قصور ان کا بھی نہیں اس وقت میڈیا بھی کراچی کو یوں پیش کررہا تھا جیسے کراچی ہاتھوں سے نکلا کہ نکلا۔
پھر بمبئی بم دھماکوں پر وہ اودھم مچا کہ اس کے سامنے ٹریڈ سنٹروں کی تباہی کا شور دب کر رہ گیا۔۔۔۔ اگلے روز میریٹ ہوٹل کی باری تھی اس کے بعد ہوتے ہوتے بدی کے راگ نے مکمل طور پر آسمان کو گھیر لیا ۔اور نیکی کے بادل پتہ نہیں کس دیس سدھار گئے۔۔۔۔ کالی رات کی تو ہر بات کالی ہی ہوتی ہے اس سیلاب آہن و آتش میں مخلوق خدا امن چین اور سکون کا نام تک بھول گئی کیونکہ بہت جلد وہ لمحہ بھی آیا جب اس مٹی کا حسن اس کا فن بھی محفوظ نہیں رہا۔۔۔۔ وہ اس سرزمین پر برے دن تھے جس میں سب سے زیادہ مزاحمت ہمارے قلمکاروں نے کی تھی اور شاید سب سے زیادہ نقصان بھی انہیں کو اٹھانا پڑا وہ بدستور کتاب محبت کو سینے سے لگائے ایسے عالم میں انسانیت کے نغمے ترتیب دینے میں مصروف تھے جب انسانیت کی تذلیل اپنی انتہاﺅں کو چھونے لگی تھی دوسری جانب صورتحال بد سے بد تر ہوتی گئی اور ایک دن کچھ پیغامات سے یو ں لگا جیسے بالآخر پشاور کے ادبی ادارے بھی اس آگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں صبیح احمد کے پیغام میں ”ادبی بےٹخ“ کی سرگرمیاں معطل ہونے کی طرف واضح اشارہ تھا۔
اس کے بعداردو سائنس بورڈ کے در و دیوار بھی اس اندھیکار کی لپیٹ میں آگئے اور ادبی اداروں کو تالے لگنے شروع ہوگئے لیکن وحشی قوتوں کے آتنکی حملوں کا انت نہ ہوسکا اگلے روز حلقہ ارباب ذوق کے فرید کی ہمشیرہ اپنے معصوم سپنوں کی دھنک لئے دل کی آخری دھڑکن اور زندگی کی آخری سانسوں تک بچوں کوتہذیب کی الف ب سکھاتے اس مکروہ اور بھیانک طوفان کے ریلے میں گزر گئیں ابھی اس واقعہ کے زخم دیواروں پر تازہ تھے کہ اس معصوم روح کے جواں سال منگیتر کو بھی آسیہ گیٹ پر ہونے والی ہولی میں نہلا دیاگیا حلقہ کے رو دادنگار محمدیاسین کے کئی فیملی ممبر عورتیں اور بچے باڑہ گیٹ پر اسی گھناﺅنی بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے اور جواں فکر شاعر زکریا امرکے چچازاد بھائی فیصل دارالخلافے کے سپیشل برانچ میں جان پر کھیل کر بہت سوں کی زندگیاں تو بچا گئے لیکن خود جیون کیفنشنگ لائن عبور کرتے ہوئے دلوں میں جانکاہ صدمے چھوڑ گئے اور ہمارے دوست حلقہ کے سیکرٹری اسحاق وردگ کے بھائی ارمان وردگ تاحال ہسپتال کی چھت کی کڑیوں کو گھورتے گھورتے اپنے حافظے کی کڑیاں درست نہیں کرپائےمغائرت مخاصمت اور درندگی کے اس جھکڑ میں انقلابی دانشور قلمکار اور قام پرست افضل خان لالاکے گھر ،حجرے اور خاندان پر جو گزری اس خونچکاں داستان کےلئے کوئی اور وقت اٹھا رکھئے ۔
اس بیچ کتنوں نے دیش چھوڑا اور کتنوں نے دنیا کو ۔۔۔۔کچھ پتہ نہیں چلا انہی دنوں سرحد کے اس پار ترقی پسند دانشور ڈاکٹر قمررئیس صاحب کے گزرجانے پر آہنگ ادب کے سیکرٹری وہاب اعجاز سے رابطہ کیا تو وہ بنوں کے بد ترین کرفیو سے نکلنے کی راہ ڈھونڈ تے پائے گئے وہ پشاور ضرور پہنچے لیکن واپسی کاسفر اس قدر آسان نہ تھا اسی شام ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر کو ڈھونڈا تووہ اسلام آباد کے ریسیکیو15 پر حملے سے چند ثانئے پہلے نکل آئے تھے لیکن حواس بحال کرنے میں انہیں بہت دیر لگی۔۔۔ دیرِ میں آہنگ کے دوستوں سے رابطہ کرنا چاہا تو جواب ندارد۔۔۔۔۔۔ میدانوں اور پہاڑوں میں یکساں سطح پر بر بریت نے اپنا خوفناک دہانہ کھول رکھا تھا بارشوں کے بعد بادلوں نے بھی اس سرزمین سے رخ پھیر لیا تھا کیا پشاور کیا مردان کیا ڈی آئی خان اور کیا وزیرستان ۔۔۔۔انہی دنوں سوات کے مرغزاروں کو چھوڑنے پر مجبور قافلے دکھوں کی گھٹڑیاں لئے لاکھوں کی تعداد میں راتوں رات نکل پڑے تو حالات اور بھی گمبھیر ہو گئے اب اگر کوئی چیز آسان تھی ارزاں تھی واضح تھی سامنے تھی تو وہ موت تھی۔۔۔۔۔ اور موت کہاں نہیں تھی اس گھاٹی کے پیچھے، اس منظر کے عقب میں، اس موڑ سے آگے ،اس گھر کی دہلیز پر ،اس ٹیلے کی اوٹ میں، اس گلی کے نکڑ پر ،اس کیمپ کی تنہائی میں ،اس چوراہے کے بیچ میں ،اس ہوٹل کی میز پر، اس سڑک کے سٹاپ پر ،اس اخبار کی سرخی میں ،اس رسالے کے سرورق پر، اس دن کی تاریکی میں ،اس رات کی سیاہی میں، اس جنگل میں اس صحرا میں ۔۔۔۔ہر جگہ سفاک جابر اور غیر مہذب توانائی کوبرا بنے پھن پھیلائے گلے کٹائے کلیوں کو شاخوںسے توڑتے خون چوستے کچلتے مسلتے اپنی پوری شقاوت کے ساتھ علم وفن قلم اور کتاب، تہذیب اور تمدن کا جنازہ نکالنے پر مصر تھی۔۔۔۔۔ اخلاق کی موت روحانیت کی موت سیاست کی موت تمدن کی موت۔۔۔۔۔۔۔۔ فضائیں مردہ گوشت کی بو ادھ جلی ہڈیوں اور خاکستر لاشوں کی سیلن سے متعفن ہوچکی تھیں اور سڑک پر سے گزرتے ہجرت کرتے قافلے کسی نامعلوم منزل کی آخری حد پر اپنے خوابوں کو زہر دے کر سلا چکی تھیں ایسے میں اگر احساس تھا تو صرف ایک حزن کا، ایک درد کا ایک خلا کا ،ایک جمود کا ،ایک گہری اداسی کا ،ایک یاسیت کا ،اور جب کوئی حوصلہ دینے والا نہ رہا تب ایک رات دل کو ٹٹولنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔خدا جانے دل کہاں تھا اور دماغ کہاں پر ۔۔درد کو دوا بناکر خون دل میں انگلیاں ڈبو کر تخلیق کی آبیاری کرنا پڑی کہ ابھی ادب کی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ میرے پاس کوئی لحاف نہیں تھا جس سے تہذیب کی اس برہنگی کو چھپاتا ،کوئی وارنش نہیںتھا جس سے چہروں کو انوپ روپ میں زمین زادوں کو پھر سے لوٹاتا، حتیٰ کہ رونے کےلئے آنسو بھی نہیں تھے صرف ایک سنتا پک روح تھی یا پھر ایک دکھدائک قلم ،اس بیچ اسی قلم سے” اگلی بار “ ”تصویر“ جنازوں کی موت  آخری قسط۔۔۔۔اور آئڈنٹفیکشن جیسے افسانے نکلے تو یہ دراصل ان ہی شاموں کی تحریر کردہ ہیں جنہوں نے دو ہفتے قبل” ہمیں یہ امید وہ پکاریں “جیسا مضمون ان صفحات کو دیا اور آج اسی مضمون کا ایک اورٹکڑا ادب نامے کا حصہ بننے جا رہا ہے۔
میرے دوستو! آﺅ کہ درد کے اس طوفان کے آگے ہمیں نے بند باندھنا ہے۔
میرے رفیقو! آﺅ کہ تم نے اور میں نے اس روز جنم لیا تھا جب محبت کے دریا نے دل کے صحراﺅں میں پھول کھلائے تھے۔
میرے دوستو آﺅ کہ ہم مہکتے بادلوں کی آنکھوں سے ٹپکنے والے وہ قطرے ہیں جنہیں نفرت کے بیج کی تہہ میں سے کوند کر گزرنا ہے۔
آﺅ کہ آگ کے اس دریا کو ہمیں نے عبور کرنا ہے۔
آج تک کسی سائنسدان نے یہ جنگ نہیں جیتی ابھی تک کسی سیاست نے ایٹم سے کم نعرہ نہیں لگایا ابھی تک کوئیفصل زمین زادوں کی سطح تک نہیں اتری۔
آﺅ کہ اس شہر کو پھر سے بسائیں یہاں کی کھیتیوں میں پھر سے ماہیوں کا رس اگائیں ہم ہی اس دھرتی کا احساس ہیں ہم ہی اس بستی کے نغمے ہیں۔

شہر پشاور

شہر پشاور

میں نے قلم ہاتھ میں لیا تو شہر کا شہر میرے ساتھ تھا تب ایک موڑ پر مجھے اور میرے ساتھیوں کو یاد آیا کہ اس شہر کے قہوہ خانوں میں جو قصے حیرت کے پیالوں میں گھوما کرتے تھے وہ قصے میرے ادیب اور میرے شاعر نے مجھے دیئے تھے وہ قصے اس نے میری روایت کی ہزاروں سال کی نیکیوں کے بعد مجھے بخشے تھے۔
آﺅ دوستو !ہم پھر سے انہیں کہانیوں کی تلاش میں نکلتے ہیں جنہیں دیس نکالا ملا تھا ہم انہیں پھر سے اس شہر کے حجروں میں ستاروں کی بارات میں لابٹھائیں گے۔
تم جانتے ہو دوستو ہماری زبانیں تو انہی ماہو ں کی ملگجی خوشبوﺅں سے پھوٹی تھیں۔
یہی وہ شہر جہاں سے رحمان بابا نے عرفان کی شہنائیوں کو سرمدی چشموں میں ڈھالا تھا جب شہر میں نغمے بہتے تھے ان نغموںمیں قوس قزح کے کتنے رنگ یوں ٹھہر جاتے تھے کہ سبھی رنگ اورسبھی آوازیں گھوم پھر کر اےک ہی سرُ کے گداز کی تصویر بن جایا کرتی تھی اس شہر نے فارغ جیسے انقلابی کو سلاخوں کے پیچھے بھی اپنی آغوش میں لے رکھا تھا فارغ وہی تھا جس کے قلم نے ہند اور سندھ کے تنفس کو بحال رکھنے کےلئے شمال سے نئے خون کا نذرانہ پیش کیا تھا یہ وہی شہر ہے جس نے اپنا پردہ امیر حمزہ بابا سمندر خان سمندر یوسف رجاچشتی مختارعلی نیئر شوکت واسطی انصرلدھیانوی دوست محمد خان کامل رضا ہمدانی پریشان خٹک اور خاطر غزنوی جیسے گہرے اور گھنے ابر پاروں کی صورت میں ڈھک لیا تھا۔
یہیں پر غنی خان اجمل خٹک قلندر مومند احمد فراز جوہر میر اور سیف الرحمن سلیم نے غم حیات کی شفق میں گلگوں رنگ بھرے تھے۔
یہیں کہیں کسی کٹھیا کے قریب دائرہ ادبیہ کا وہ مہربان درخت ہمارا منتظر ہوگا جس کی چھاﺅں میں ہم نے عہد رفتہ سے رشتہ جوڑنا ہے۔
یہیں کہیں کسی دریا میں اولسی ادبی جرگہ کا بجرہ محبت کی لہروں پر بہتا ہوا ملے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہی راہوں میں کہیں بائیں بازو پر کسی انقلابی کی آواز ابھرنے والی ہے ادھر کہیں دائیں کنارے پر صبر کی پٹیاں کرتے دوائے درد دل لئے مولوی جی کے محبوب ہاتھوں کا دلاسہ نئی پرواز کی طرف بڑھاوا دینے آئے گا۔

پشاور

پشاور

میرے دوستو! آﺅ کہ ہم دھنک کے وہی رنگ ہیں جنہوں نے اس شہر کی صبحوں اور شاموں میں دلفریب ذائقے بانٹے ہیں۔
آﺅ اس یقین کے ساتھ کہ یہ شہر ہمیں جانتا ہے۔
میرے بزرگوں نے اس شہر کے پہلے دروازے پر ادیبوں اور شاعروں اور صوفیوں کی سنڈکیٹ بناکر مضبوط مورچوں کا شیرازہ استوار کیا تھا تو دوسری جانب میرے دوستوں نے انہی بزرگوں کی اشیربادسے پر یڑناپاتے ہوئے تخلیق کی ملائمت سے تہذیب کے نئے پرستان آباد کئے۔
یہی وہ دنیا ہے جس کے سینے میں ارباب ذوق کا دل محبت کی روح بن کر اس کے پورے وجود کو تابناک کروٹوں کی حرارت دئیے ہوئے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کل شام جب میرے دوست وردگ کا پیغام ملا کہ حلقہ کو حالات کھائیوں سے بچانے کےلئے پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا کہ کوئی بھی غلطی ہمارے احساس کا بھی گلا دبا سکتی ہے تو میں نے کہا قدم کتنا ہی آہستہ کیوں نہ ہو پر اس سفر کو رکنا نہیں ہے اور میرے لئے تو اس پیغام میں کوئی نئی بات بھی نہیں تھی کہ یہ فکر تو کافی عرصے سے میری پریشانیوں کی دامن گیر رہی تھی۔ شاید اس وقت سے جب میرے رفیق صبیح نے مجھے ”بیٹخ“کے دروازے بند رکھنے کو کہا تھا اور میں نے بناکسی وضاحت کے نامرادی کی آہ لے کر اس کے گھر کی دہلیز سے واپسی کا راستہ لیا تھا اور راہ ادب کے مسافر اپنی بوریا بستر لئے ”سخن سرائے“ کے مقامات تبدیل کرتے گئے۔
یا شاید اس سے بھی پہلے جب خبر ملی کہ پوری ”دس کہانیوں “کی راہ تکتی ڈولیوں کے باراتی حزن وملال کی مجسم پرچھائیاں بن کر لوٹ گئے تھے اور ”خانہ فرہنگ “کے دروازوں نے بھی ”اردو سائنس بورڈ “کی مانند اپنے لبوں کو سی لیا تھا اورادبی اکٹھ کے کہاروں نے برداشت کے حقے کھینچ اپنی بگھیا کووقت کی ندیا کے دھاروں میں ڈال کر سی حرفیوں کا بھرم قائم رکھا۔
یا شاید اس سے بھی آگے جب اٹک سے آگے ”امن میلے “کے شہر سے لوٹتے سمے شہر کے راستوں نے واپسی کے سفر کو کسی نہ ہونے والے کفارے کاگناہ بناکر ہر آس کو یاس میں بدل ڈالنے والے معبود جابجاکھڑے کر رکھے تھے اور مجھے اس جنونی معرکے میں جس کافیصلہ بہت جلد ہونے والا تھا(یہی زیادہ سے زیادہ صبح کاذب تک) اپنے شہر کے ماجد سرحد ی مرحوم یاد آئے جنہوں نے اس پوری تحریک کے دوران اپنے جذبوں کی صورت میں اپنے ہم قافلہ کا لہو گرمائے رکھا تھا اسی ادھیڑ بن اور افراتفری کے اندھیرے میں لاہور سٹیشن کی کشادگی او زندہ دلی کی خبر لینے گیا تو بے اختیار کرشن چندر کے دوست شاہد ٹی ٹی یاد آگئے جنہوں نے کرشن کی کہانی کے ایک ہندو کردار کو تقسیم کے فسادات میں پناہ دی تھی راوی کی لہروں کو وہ کہانی ضرور یاد ہوگی کیونکہ بیج ناتھ نے اسی راوی سے گزر کر سرحدوں سے بہت آگے خود کو موت کے منہ میں ڈال کر ایک مسلمان بچے کی جان بچائی تھی اس کوشش میں بیچ ناتھ کو اپنے ہم مذہبوں کی گولیاں ضرور لگی تھیںلیکن اس نے خود کو ڈھال بناکر بچے کو اپنے ہاتھوں میں یوں اٹھایا ہوا تھا جیسے بعد میں ابولکلام آزاد سجادظہیر راجندرسنگھ بیدی فیض ابراہیم جلیس منٹو کرشن اور ساحر نے فسادات کے ریلے میں سے بلندیوں کی طرف پرواز کرتے تخلیق کی خوشبوﺅں کو قتل ہونے سے بچایا تھا اور دھرتی کی فضاﺅں میں ”چاند اور ستاروں“ ”امنگوں اور ترنگوں“کی اندردھنش کو نئے رنگ اورنئے معانی عطا کئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن مجھے لگتا ہے جیسے یہ پیغام مجھے اس وقت ملا تھا جب میں نے ممبئی کی بھڑکتی ہوئی آگ کو بحیرہ عرب کے ساحلوں تک براہ راست پہنچنے والے سیل فونوں پر سنا تھا تب آلہ آباد دہلی اور علی گڑھ سے آتی ہوئی ہوائیں باوجود اپنی تھاپنا کے زیریں سطح پر صبر کی تلقین کرتی پائی گئیں اور مےں نے اس روز خوشبیر سنگھ شاد اور خلیق انجم قدوووائی علی احمدفاطمی اور ڈاکٹر نارنگ کو جس روپ میں دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ دروازے کھلے رہیں گے۔
اس روز پدم بھوشن پروفسیر گوپی چند نارنگ کی آواز سب پر بھاری تھی ان کا مانناتھا کہ” میں اس دھرتی کا بیٹا ہوں جہاں آنے کےلئے میرا من بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے کہ یہ محض ایک ٹریولنگ نہیں بلکہ یہ تو وہ سفر عشق ہے جسے اردوکے نام پر صدیوں نے میرے خمیر اور ضمیر میں آباد رکھا ہوا ہے یہ نظم کہ جو ابھی ناتمام ہے اور جسے آگے جاکر اپنی تکمیل کرنی ہے اس کے بیچ میں چھوٹے چھوٹے مصرعوںکی اصلاح کی گنجائش تو نکلا کرے گی کہیں لہجہ زیادہ ابھرا ہوگا تو اسے دبانا پڑے گا کہیں لفظوں کو گرانا ہوگا کہیں کوئی مصرعہ بہت آگے نکل گیا ہوگا تو اسے اپنے مقام پر دوبارہ لانا ہوگا کہیں کوئی سپنا کوئی خیال بہت پیچھے رہ گیا ہو تو اسے اپنا خون جگر دے کر سینچنا ہوگا کہیں کوئیحرف گر رہا ہو تو اسے کسی دوسری جگہ قرینے سے لانا ہوگااور کہیں کسی
ا فسانے کا انجام بے جان بے تاثیر اوربے معنی ہو تو اسے ایک خوبصور ت مو ڑ دے کر فوری کلائمکس کے بعد سمیٹنا ہوگا۔
دیکھو اس نظم کے دو مطلع ہیں بیچ میں وزن میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے لیکن اس نظم کا دل ایک ہے اس کی زبان ایک ہے اس کا آہنگ ایک ہے اور اس کے نغمات کا منبع ایک ہے اور جب تک یہ منبع ایک ہے تب تک گنگا اور جمنا اور راوی اور سندھ کے کناروں پر گلاب کھلتے رہیں گے اور یہ گلاب یہاں سے وہاں جاتے فضاﺅں میں گھلتے حضرت امیر خسروؒ کے حلقے کو عقیدتوں کے تعطر میں لیں گے اور وہیں سے دیوالی کی دعاﺅں کے دیپ جلائے دیوتاﺅںکی ملاطفت کا دوشالہ لئے واپس آئیں گے اس لئے میرے دوستو! تم کبھی ملول و حزیں نہ ہوناکہ یہ آگ ہمیشہ ہمیں نے بجھائی ہے۔
ان آندھیوں کے مقابل ہمیشہ ہمیں نے چراغ جلائے ہیں اس وقت بھی جب جلیانوالہ میں جنرل ڈائر کی مشین گنوں نے نہتے ہندوستانیوں کو بھون ڈالا تھا اور ہمارے قلمکاروں نے شہید بھگت سنگھ کے خون کی حرمت کی قسم کھاتے ہوئے آنے والے دنوں میں ہر تخریب اور تناﺅ کے ننگے پن کو اپنے خون جگر سے تخلیق اور تعمیر کی نئی پوشاک دے کر سیاست کے داغدار چہرے کو با حجاب بنایا تھا۔ اور پھر دوستو جب ہماری روحوں نے آزادی کا اظہار کےا ہے تو پھر ہم بند ہو کے کیو ںرہیں آﺅ بتادیں دنیا کو کہ یہ نغمے اب نہیں رک سکیں گے کہ یہی وہ شہر ہے جہاں لفظ سے محبت کرنے والوں کے جھمگٹ آیا کرتے تھے اپریل 1965ءکی وہ رات جب فیض جوش عندلیب شادانی ،زیڈاے بخاری ،قاسمی قتیل ،قمر جلالوی ،نظم اکبر آبادی، ناصر کاظمی ، ظفر اکبر آبادی ،حفیظ ،اختر انصاری اور صوفی تبسم اسی بستی میں اکٹھے ہوئے تھے اور چاندنی رات محو حیرت اپنے ستاروں کو زمین پر جگمگاتے ہوئے دیکھ کر فیصلہ نہیں کر پارہی تھی کہ حقیقی روشنی کہاں پر ہے اور یہ کہانی ایک شام ہمیں خاطر دانے سنائی تھی ۔۔۔
کچھ یاد ہے اس شہر کے چندن قہقہے کیسی کیسی خلاﺅں کو پر کرتے رہتے تھے ایک ”دفعہ یوسفی“ کے قلمی خدو خال کو دیکھنے کےلئے مشتاق آنکھوں نے کتنے لمحے وقت سے کاٹ کاٹ کرداستان گو کے سنگ گزار ے تھے کتنی ہی بار طالع ”مسعود کو ”انور“ کی آواز نے بے تحاشا گداگدا کرحزن کی ہر لکیر کو پر امید مسکراہٹوں سے ہموار کےا تھا یہ انور کبھی دھوپ میں شطر نجی بنا کرتا تو کبھی شام کا لمس لے کر شفقی۔۔۔۔۔۔۔۔
باڑہ گلی کے بادل اسی موسم میں اسی شہر میں آکر ہمیں بلایا کرتے تھے میرے دوست وردگ ۔۔۔ تمہیں یقیناً صابر کلوروی صاحب یاد آئے ہونگے جنہوں نے انہی شاہراہوں پر ہماری پیٹھ تھپتپھائی تھی اور ہمیں صبر اور برداشت کے ڈیوے دے کر مستقبل کے راستے دکھائے تھے محبتوں کی انہی راہوں سے ہوکر ایک دن ”بھوپال کے محسن “ملے تو میں نے پوچھ ہی لیا ذراسنو تو ان کا جواب کیا تھا مسکراتے ہوئے کہنے لگے میں بھوپال کا نہیں ”احسان کا محسن“ ہوں میں نے کہا آپ پشاور کے احسان کی بات کررہے ہیں کہنے لگے آپ کے احسانات ہم پر بے تحاشا ہیں میں نہیں سمجھ پایا تو زینہ زینہ وہاں گئے جہاںسے قاسمی اور راشد اور خاطر اور حمزہ ہواﺅں کے دوش پر پورے ایشیا کو نئی صبحوں کی سلامی دے رہے تھے ۔۔۔۔کہہ رہے تھے کہ تم لوگ کبھی فراز سے نشیب کی طرف آتے ہی نہیں کیونکہ تم پہاڑوں کی اولاد ہو تمہارے ابدال محض ہند اور سندھ کے شاہ نہیں تھے وہ تو دلوں پر راج کرتے رہے تھے مجھے ان کی باتوں سے بڑی تسلی ملی ۔۔۔۔۔وردگ تمہیں یاد ہے اسی شہر کی ایک شام تھی جب دلفریب ناصر کی من بھاون اداﺅں نے لفظوں کی کیا ریوں سے خراماں خراماں گزرتے ہمیں نامعلوم مسرتوں کی دوستی میں لیا تھا اور وہ دن جب ہمارا قافلہ شہر کے مضافات میں سے ہوتا ہوا اس گاﺅں پہنچا تھا جب ہم نے ان کی کتاب کا گھونگھٹ اٹھایا تھا اور شباب اور نذیر ،نذر عابد اور تنویر ،فاروق بابر اور تاجور ، عتیق اور صبیح ،سجاد اور حماد، رانی اور سنی ، اظہار اور اسماعیل ،عزیز اور سعید اور طارق اور شوکت نے پرندوں کے لوٹ آنے تک اپنی صبحوں اور شاموںکی سلامتی کیلئے دعائیں مانگی تھیں ۔
انہی راستوں میں ہمارے استاد ڈاکٹر ظہور احمد اعوان نے لکھتے لکھتے اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو رقص پےہم سکھایا اور اس کی تصویر کو جمال اور کمال کے نرم ونازک گیتوں کے رنگ دے کر ایسا متحرک رکھا کہ وہ خود ہی اپنے کمال کی مثال بن گئے ۔
آﺅ میرے دوست ،اپنے سبھی بچھڑے ہوئے بکھرے ہوئے دوستوں کو آوازیں دے دے کر بلائیں آﺅ وہاں چلتے ہیں جہاں آج سے عشروں پہلے شاعری کے جھرنوں میں ڈاکٹر اسرار شیر علی باچا اور سلیم راز نے سماج کی لڑھکتی ہوئی وادی کو خشک ہونے سے بچایا تھا اور سیف الرحمان سلیم اور قلندر مومند کی شاعری کی مہجبنیوں نے چیڑھ کے جھومروں کو اپنی کنواری آرزوﺅں کے کانوں میں پہنایا تھا آﺅ وہاں چلیں جہاں ڈاکٹر اعظم کے گیت سائل کے ترانے اور ہمارے آوارہ گرد دوست زبیر حسرت کے فسانے نئے روپ میں جلوہ گر ہونے والے ہیں ۔
میرے دوستو آﺅ ۔۔ سبھی روٹھے ہوﺅں کے ماتھوں کو بوسہ دیں میں مانتا ہوں کہ رات بہت گہری ہے مانتا ہوں کہ ابھی ہماری خواہشوں کی آگے خوف کا تےز دھار خنجر لہرارہا ہے مانتا ہوں کہ پے در پے سانحوں کے آنسوﺅں سے ہماری آنکھیں بھر چکی ہیں مانتا ہوں کہ ابھی ہمیں بہت سے کنوﺅں کو جھانکتے رہتے گزرنا پڑے گا ۔۔یہ بھی مانتا ہوں کہ بہت سارے پھول جواس اندھیکار کی نذر ہوگئے ہیں انہیں اس دھرتی کو سےنچنا تھا لیکن ہمیں مستقبل کی کلیوں کا تحفظ کرنا ہے اور یہ بات مجھے ایک دن کیفی نے بتائی تھی کہ انہیں کلیاں نہ کہو کیونکہ یہی کلیاں تو چمن ساز ہیں ۔
میں نے بھی کچھ پھول اپنے سینے پہ سجا رکھے ہیں تم نے بھی کچھ پھول اپنے دامن میں اٹھا رکھے ہیں آﺅ خوشبوﺅں کے سفیروں ہم تم ساتھ ساتھ چلیں گے ۔۔۔ آﺅ یہ تالے کھول دیں یہ زنجیریں توڑ دیں۔۔۔۔۔ اپنے رفیقوں اور غمگساروں اپنے دوستوں اور بزرگوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر محبت اور امن کی ڈولی لئے وہاں جائیں جہاں کچھ اور پھول کچھ اور شہزادے ہمارے منتظر ہیں ان کے کان ایک نئے آہنگ کے منتظر ہیں وہ آہنگ جو تعزل کی روح اور شعریت کا سازہے وہ آہنگ جس میں دلوں کا سوز اور انسانیت کا درد ہے
آﺅ ۔۔۔۔۔ ابھی دیر نہیں ہوئی ان پربتوں کے اس پار شاید ہمیں اسی روشنی کے نئے امین ملیں مجھے یقین ہے یہ تلاش تلاش لا حاصل نہیں ہوگی ۔۔۔۔کہ تخلیق حسن اور ارتقا کے نئے پرستان اور نئی دنیائیں ہمارا انتظار کررہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر اویس قرنی

09.22.09

آئڈ نٹفکیشن

Posted in افسانے at 1:44 pm by wahabijaz

٭ کیا تم اس شہر کا ذکر کررہے ہو جس کی سڑکیں تمہارے دل کی طرح کالی ہیں

٭ نہیں! میں اس شہر کا کہہ رہا ہوں جس کا دماغ تمہاری کھوپڑی کی طرح خالی ہے

٭ میں پھر کہتا ہوں ۔۔۔۔۔ وہ شہر جیسا بھی ہے پر اس وقت چھوڑ دو ان باتوں کو ۔۔۔۔۔

دیکھو میں درخواست کررہا ہوں ۔۔۔۔ ایک آخری درخواست

چھوڑ دو ان راستوں کو ۔۔۔۔ جو تمہیں جنازوں کی موت کےمزاروں کا نیا مجاور بنانے جارہی ہیں ۔

٭ نہیں ۔۔۔ تم نہیں سمجھ سکو گے ۔۔ تمہیں نہیں پتہ کہ جو لوگ راستوں کو چھوڑ دیتے ہیں راستے بھی ان کو چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔ یہ جو مزار تم دیکھ رہے ہو یہ وہی ہیں جنہیں ان راستوں سے محبت تھی جبھی تو اس کی گودی میں انہوں نے اپنی جانیں دے ڈالیں ۔

٭ اور اگر کوئی راستے سےبھٹکجاتا ہے ؟؟؟

٭ تو ۔۔۔۔ بھٹک جاتا ہے ۔۔۔۔

٭ دیکھو ! میری اس آخری درخواست کو راستوں کے ہیر پھیر میں مت الجھاﺅ ۔۔۔۔تمہیں اس خون کا واسطہ جو ہم دونوں کی رگوں میں بہہ رہا ہے

٭ تم کسِ خون کا واسطہ دے رہے ہو ۔۔۔ اس خون کا جس کی سرخی سے تم نے اس شہر کی سڑکوں پر لیپ کروایا تھا ۔۔۔۔؟ جان لو کہ اس لیپ کے نقوش ابھی تمہارے خون کی طرح سفید نہیں ہوئے ۔۔

٭ جانتے ہو ۔۔ اس واقعہ کے بعد سے میرے اور تمہارے کتنے آدمی گزرگئے؟

٭ جو کچھ کہنا ہے صاف صاف کہہ دو

٭میرا مطلب ہے ۔۔ اس کھیل سے اکتاہٹ سی ہونے لگی ہے۔۔۔ اب اگر صلح کی کوئی ۔۔۔۔۔؟؟؟

٭ یہ بات تم نے اتنی آسانی سے کیسے کہہ ڈالی ۔۔۔ اس واقعہ سے لے کر آج تک ہمارے سرفروشوں کا خون اس شہر کی سڑکوں سے اس گاﺅں کی گلیوں تک پھیلتا ہی چلا آیاہے ۔۔۔۔ اور معلوم نہیں آگے کیا ہوگا لیکن جو بھی ہوگا ۔۔۔۔ اچھا ہی ہوگا

٭ ہاں کسی نہ کسی کے حق میں تو اچھا ہی ہوگا

٭ اچھے یا برے سے اب کیا واسطہ ۔۔ یہ لاوا اب کسی کے روکنے سے نہیں رک  سکے گا کہ یہ اس شہر کی شاہراہوں سے نکلا ہے جس کے راستے یہاں کے ہر گاﺅں اور ہر قصبے میں یکساں سطح پر اترے ہوئے ہیں

٭ یہ راستے یکساں ضرور ہونگے لیکن بیچ راستے میں دریا بھی آتا ہے

٭ اور تم نے یہ بھی تو دیکھا ہوگا کہ اسی دریا میں بل بھی پڑتا ہے

٭ جانتا ہوں لیکن وہ بہت سطحی سطح پر ہوتا ہے

٭ تو پھر اتنی سختی اور کڑواہٹ کس بات کی ؟

٭ سختی تو اسی روز جنمی تھی جب تلخیوں نے یہاں ڈھیرا ڈالا تھا ۔

٭ ان تلخیوں کی بابت میں مانتا ہوں کہ اس قسم کے لوگوں کا یہاں بہت پہلے سے بسیرا تھا۔

٭ کسی نے بتایاتھا کہ اس وقت گاﺅں کا چودھری محض ایک وڈیرا تھا ۔

٭ تمہارا مطلب ہے نواب سے بھی گزرا ہوا تھا ۔

٭ لیکن یہ وقت اس بحث میں الجھنے کا نہیں چلیں ایک کام کرتے ہیں آج سے کوئی نیا دھندا شروع کرتے ہیں ۔

٭ لیکن پہلے ہتھیار رکھے گا کون ؟

٭ کوئی بھی رکھ سکتا ہے ۔

٭ اپنے پاس ؟

٭ تو اور کس کے پاس ؟

٭ تو پھر صلح؟

٭ صلح تو ویسے ہی ہوگی جیسے آٹھ دس مہینے پہلے ہوئی تھی

٭ جانتا تھا ۔

٭ لیکن شایدیہ نہیں جانتے کہ اس صلح پر کتنی بڑی بڑی شرطیں لگی تھیں ۔

٭ کس نے لگائی تھیں ؟

٭ وہی جو ہمیں ۔۔۔۔

٭۔۔۔ تم نہیں جانتے کیا پتہ اس وقت وہ ہمیں ۔

٭ ہاں تم صحیح کہتے ہو وہ اس وقت بھی ہماری آئڈنٹفکیشن کے بارے میں سوچ رہے ہونگے ۔

٭ ویسے سچ پوچھو تو ایک لمبے عرصے سے میری سوچیں بھی کام چھوڑ چکی ہیں ۔

٭ کس حوالے سے ؟

٭وہی اپنی آئڈنٹفکیشن کا دکھڑا ۔۔

٭ لیکن یہ تو بہت معمولی سی بات ہے ۔

٭ ہمارے گاﺅں میں ہمارے بچپن میں کتنے ہی لوگ تھے جو شناختی کارڈ کے بغیر جیتے رہے اور کےا ٹھاٹ سے زندگی سے گزاری ۔

٭ تم نے یاد دلایا ۔۔۔۔۔ جوانی میں ہمارے بڑوں نے شہر کے دروازے پر کھڑے ہوکر گاﺅں والوں کا کتنا والہانہ استقبال کیا تھا

٭ اب کس سوچ میں پڑ گئے ؟

٭ یہ کہ وہ شہر دوبارا نہ بسایا جائے ؟

٭ اور کیا خیال ہے اس گاﺅں کے پنگھٹ اور میلوں کے بارے میں ؟

٭ کیا یاد دلایا یار ۔۔ وہی میلے ناجہاں میں ہر عید پر بابا کے ساتھ آیا کرتا تھا ۔۔۔۔

٭ ہاں وہی پنگھٹ جہاں گاﺅں کی ناریوں کی گاگروں سے رستا ہوا پانی ان کے رخساروں پر گلابی پھوار کی صورت گزرتا چلا جاتا تھا۔۔ اور یار شہر میں تو سر کس بھی لگتی تھی اور جھنڈوں کا میلہ

٭ اور شہر او رگاﺅں میں ساون میں کیسے جھولے پڑتے تھے کوئل کی کوک کے ساتھ موسموں کے دلوں میں ہوک اٹھتے ہی ہم پینگ بڑھاتے جاتے تھے ۔۔۔۔ اسی جگہ بیٹھ کر ایک دن بابا نے مجھے مہاراجہ کے عدل کی کہانی سنائی تھی اس وقت بھول رہا ہوں ورنہ تمہیں ضرور سناتا۔

٭ اور یاد ہے ایک دن جب عزاداری کی محفل سے آگے چپکے چپکے جاکر مندر میں چیخیں ماری تھیں اور سر پر پاﺅں رکھے بھاگ نکلے تھے لوگوں کو ہماری شرارت پر کتنا غصہ آیا تھا ۔

٭ لیکن بھائی میرے کیا واقعی وہ شرارت ہی تھی جسے بعد میں بھی مدتوں غلطی سے ہماری ہی شرارت خیال کیا جاتا رہا

٭ تم ٹھیک کہتے ہو ۔۔۔ دراصل ہم تو اندھیرے میں ڈر کے مارے چیخیں مار کر بھاگےتھے لیکن لوگوں نے اسے کچھ اور سمجھ لےا

٭ تمہیں اگر کچھ یاد آرہا ہو تو یہ ساری کہانی اسی شخص نے بنائی اور پھیلائی تھی جس نے مندر سے واپسی پر بھاگتے ہوئے ہمیں گلے لگایا تھا اور ہماری جیبوں میں ایک ایک اٹھنی رکھی تھی ۔

٭ ہاں اور مجھے تو کچھ اور بھی یاد آرہا ہے ۔۔۔ تم ذرا دماغ پر زور تو دو ۔۔۔ کیا وہ شخص ہمیں مندر جانے سے پہلے کہیں ملا تھا مجھے تو لگتا ہے جیسے اس نے ہمارے بھولے بھالے چہروں کو دیکھ کر ہی ہمیں اندربھجوایا تھا ۔

٭ اچھا مجھے زیادہ یاد نہیں لیکن لگتا ہے جیسے اس وقت کوئی ہمیں ۔۔۔۔۔

٭ ہاں ! جیسے کوئی ہمیں ۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔۔ وہ میں کہہ رہا تھا کہ کوئی ہمیں کتنی ہی لالچ اور کیسی ہی دھمکیاں دے ۔ تم میرا راستہ تبدیل نہیں کرسکتے ۔

٭ توجان لو کہ تمبھی میرا راستہ نہیں روک سکتے

٭ کیا تم نہیں جانتے کہ اس شہر کی آئڈنٹفکیشن میرے نام پر ہے ۔

٭ لیکن تم اس قدر انجان کیوں بنتے ہو اور میری آئڈنٹفکیشن کےلئے کیا تجھے مزید شناختی نشانوں کی بھی ضرورت پڑے گی ؟

٭ تمہارے وڈیروں کی پہنچ اتنی نہیں جتنی کہ میرے نام کی ؟

٭ اور تمہارے نوابوں کا تو پتہ ان چودھریوں کی مانند اسی روز پیلا پڑگیا تھا جب انہیں میری آواز کی دہشت نے جگا کر اصل صورتحال سے آگاہ کروایا تھاجبھی تو وہ اپنے گھسے ہوئے تیروں کو سرکش سمیت پھینک کر ان سے آملے تھے جن کے لالٹین کے سائے تک سے انہوں نے اپنے دروازوں کو بچائے رکھا تھا ۔

٭ بکواس بند کرو ۔۔۔۔ وہ تیر بھی تمہارے ہاں سے ان کے ہاتھوں لگے تھے اور سنو اگر تم ہتھیار نہیں رکھو گے تو کوئی مائی کا لال مجھے بھی اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ اپنی زمین پر کلہاڑی مار کر خود ہی اپنے سر سے پیروں تک کی پیمائش کر والوں ۔

٭ پیمائش کا کیا ہے بھولے میاں ۔۔۔۔ نمائش کی کہو ۔۔۔ تمہارے سر اور پیروں کی نمائش تو ہم بہت پہلے لگا چکے ہیں ۔

٭ ہاں لیکن تمہاری نمائش کا پنڈال اس گز سے بہت کم تر نکلا جس گز سے میں نے عین عید کی نماز میں عید گاہ کے بیچ کی صفیں ماپی تھیں ۔

٭ تمہاری بھی تو چیخیں نکل گئی تھیں ۔۔

٭اب تم اتنے بےوقوف بھی نہیں ہو کہ استہزاء کی چیخوں اور شرارت کے قہقہوں میں فرق نہ کر پاﺅ۔

٭ سنو! وہ ہمیں ۔۔

٭ وہ تو۔۔۔ میں کہہ رہا تھا کہ وہ ہمیں لوٹا دو نا وہ زمین جو میں مانگ ۔۔۔ میرا مطلب ہے جس لئے تمہیں عرصہ پہلے حکم دیا گیا تھا کہ اب یہاں سے نکل جاﺅ لیکن تم بڑے ڈھیٹ ہو ایسے نہیں سدھرو گے ۔

٭ اور مجھے تو لگتا ہے جیسے تمہارے دماغ کی سڑکوں کا ایک اور آپریشن بھی کرنا پڑے گا ۔

٭ میرا دماغ رہے نہ رہے لیکن ابھی تم اس شہر کی از سر نو تعمیر کا سوچو بھی مت کیونکہ ان سڑکو ں کے قہقہے جب تک میرے وجود کا مذاق اڑاتے رہیں گے میری کوشش ہوگی کہ ان قہقہوں کی باچھیں پوری طرح کھول کے رکھ دوں یہاں تک کہ اپنی عقل ڈاڑھ میں مزید گنجائش نہ پاکر وہ خود ہی ایسی حیرت خیزی کے ساتھ خاموش ہو جائیں جیسے کوئی اندھا خواب میں اچانک کسی اندھے کھمبے سے ٹکرا جائے اور اپنے کھسیانے پن سے یوں انجان بنارہے جیسے تم ۔۔بن رہے ہو ۔۔۔۔؟

٭ تمہاری اتنی لمبی تقریر کی کیا تک بنتی ہے ؟ تمہاری اس بک بک کی انٹرنیشنل فورم پر کوئی  ویلیو نہیں بنتی ۔۔۔۔ تم محض لفظوں کا کھیل کھیل رہے ہو ۔۔

٭ اور تم کیا کررہے ہو یہی ناکہ پوری دنیا اور میڈیا کو دھوکے میں رکھا ہوا ہے

٭لیکن اس دفعہ تمہارا یہ فراڈ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا ۔

٭ فراڈ ؟میں کہتا ہوں اگر اس بار تم نے کوئی ایسی ویسی

٭ دیکھو۔۔۔۔ وہ ہمیں

٭ ۔۔۔۔۔فائر۔۔

تحریر ۔ محمد اویس قرنی

09.03.09

فراز کے نام

Posted in انٹرویوز at 5:14 pm by wahabijaz

احمد فراز

احمد فراز

اب اگر تمہارے بارے میں نہ لکھوں تو کس کے بارے میں لکھوں جب بھی تم ہی نے قلم اٹھایا تھا جب غنیم کے لشکر تمہارے گرد محاصرہ تنگ کیے ہوئے تھے اور جب ہنروروں نے اپنے ہنر کا سودا کیا تب بھی تم امید لطف میں کجکلا ہوں کے درباروں میں جانے کے بجائے اپنے ضمیر کا فیصلہ اپنے قلم کی عدالت میں لے گئے تم نے اس بھوکی مخلوق کی آزادی کے جشن میں ان کے ہاتھوں مں کچکول اور ان کے سینوں پر غیروں کی بندوق دیکھ کر انقلاب کا نعرہ بلند لگایا۔ تم نے اس محصور شہر میں اپنی آواز کو گداگری نہیں سیکھائی اور جب ہر چہرہ دو دو ٹکڑوں اور دہرے نقابوں میں تقسیم ہونے لگا اور زندگی کی تصویر جلتے جلتے بالکل کالی ہوگئی تو ایک دن وہ بھی آیا جب تم اس ملک کو چھوڑ کر جلاوطن ہوگئے دیار غیر میں بھی تم بس ایک قلم کی حرمت کو اپنا اثاثہ بنائے رکھا۔

یاد ہے ایک دن جب موسم بدلیوں سے ڈھکا ہو ا تھا مین نے تم سے تمہارے رونے کی بابت پوچھا تھا اور تمہارا جواب تھا۔۔۔

’’میں بہت رویا‘‘

یقیناً جلاوطنی کے ایسے ہی لمحوں میں تمہاری اکیلی راتیں بہت روئی ہوں گی ۔ تم نے شاید ایسی ہی ایک اکیلی رات میں کہا تھا۔

روم کا حسن بہت دامن دل کھینچتا ہے

اے مرے شہر پشاور تیری یاد آئی بہت

تم نے دنیا دیکھی تم ملکوں ملکوں گھومے لیکن پلے پڑھے تو اسی شہر کے گود میں تھے یہ رشتے تم کب چھوڑ سکتے تھے لیکن جب تم جسموں کو پنجروں ، روحوں کو زنجیروں اور کلائیوں کو ہتھکڑیوں کے زخموں میں جکڑا ہوا پایا تو تمہاری آواز روح کے نہاں خانوں سے نکلی اور سبھی محکوم اور مظلوم ستم نصیبیوں کی آواز بن گئی جن کی آنکھوں کے خوابوں کو بھوک کا عفریت چاٹ چکا تھا تم نے افریقہ کے جلاوطن شاعروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر انسانی توقیر کے لیے آواز آٹھائی تم نے ایمسٹر ڈیم میں اذیتوں کے سائے میں لپٹے تاریک وطن سیاہ فام حریت پسندوں کے ساتھ انسان کی تکریم کے ترانوں کو نیا آہنگ بخشا اور بوڑھے نیلسن کے کاندھے پر اپنی آواز کے ہاتھ رکھ کر انہیں حوصلہ دیا کہ یہی درد کی امانت شاید تمہیں بھی وراثت میں ملی تھی ۔۔۔

یہ سچ ہے کہ ہر بھٹکی ہوئی روح کو ایک نہ ایک دن وطن کی مٹی واپس بلا لیتی ہے لیکن یہاں آکر بھی تم نے آمریت کی مہربانیوں کے دھبوں سے اپنے دامن کو صاف رکھا تم نے اپنے زخموں کی نمائش کا بازار نہیں لگایا اور یہی وجہ تھی کہ تم نے عمر بھی کی کھٹنائیوں اور ناآسودگیوں کا سودا کرنے سے انکار کر دیا اس لیے آج ایک تم ہی ہو جو یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہو۔

میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقین ہے مجھے

کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا

تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم

میرے قلم کا سفر رائگاں نہ جائے گا

انٹرویو

وقت کی کتاب سے گزرتے ہوئے ہر پنے پر کئی سوالات سے نمٹنا ہوتا ہے کئی مقامات پر الجھنا ہوتا ہے یہ سوالات بعض اوقات بڑے ہی تلخ ہوتے ہیں ایسا ہی ایک سوال اس وقت میرے من میں ایک الجھاوے کی صورت میں پڑا ہے کہ کیا اکیسویں صدی کا کوئی ضمیر ہے اور اگر کوئی عالمی ضمیر ہے تو آپ اس کو کس زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں ؟
احمدفراز : ۔ اکیسویں صدی میں بھی وہی کچھ ہورہا ہے جو پانچویں اور چھٹی صدی میں ہوتا تھا یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس سو امریکہ اس وقت ہولی سولی دنیا کے ضمیر کا مالک ہے اس کا اختیار ہے جدھر چاہے حالات کا رخ موڑ دے تو ضمیر کہاں ہے ؟ ایسے معاملوں میں ضمیر نہیں ہوتا وِل ہوتی ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ مجھے کیا چاہیے اور اس کےلئے مجھے کیا کرنا ہے تو کیا اکیسویں صدی اور کیا بیسویں صدی ہاں البتہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے کچھ ایسے نظام ابھر ے تھے خصوصاً بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں جس سے زندگی نے بہت کچھ لیا تھا کمیونزم کے نقصانات جو بھی تھے لیکن اس کے ٹوٹنے سے ان قوموں کو بہت نقصان پہنچا جن کےلئے یہی ایک آس تھی اور جب مزدوروں کسانوں پر ظلم ہوتے تو وہ روشنی کےلئے کسی پر اگریسیومومنٹ کی طرف دیکھتے اور اب تو لوگوں کے پاس امید کی آخری شمع بھی نہ رہی اس لئے اس وقت ہر طرف ایک گہری مایوسی پھیل چکی ہے ۔
٭ تو کیا اس راکھ میں امید کی کوئی چنگاری نہیں ہے ؟
احمد فراز :۔ انسان ہمیشہ سے امید کا دامن تھام کر آگے بڑھا ہے اور اس وقت بھی ایسا ہی ہے سو ایک امید بھی ہے کہ شاید خود ایسی قوتیں پھرتازہ ہوں جو وقت کا دھارا موڑ دے یہ پتہ نہیں کہ یہ لیبارٹری کہاں سے کام کرنا شروع کردے یہ لیبارٹری کہیں سے بھی اسٹبلش ہوکر اپنا کام شروع کرسکتی ہے تو ہوسکتا ہے ایسی کوئی صورت نکل آئے کہ حبس کا دم ہی ٹوٹ جائے ۔
٭ مستقبل قریب میں تو ہمیں اس قسم کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ؟
احمد فراز:۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ کچھ عرصے تک تو کچھ بھی نہیں ہوتا لول بی فور سٹروم والی کیفیت ہوتی ہے۔طوفان کس وقت آتا ہے اس کا کچھ پتہ نہیں ہمارے دور میں تو حالات دگرگوں ہی رہے ممکن ہے آنے والی نسلوں کو زمانے کے اوراق پر کچھ نئے نقوش مل سکیں ۔
٭ یہ جو ہمارا ذہنی ،معاشی اور سیاسی بحران ہے اس کی بنیادی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟
احمد فراز:۔ تقسیم ہند کے بعد دیکھئے تو سرحد کے دونوں جانب ایک اور سفر شروع ہوتا ہے لیکن انڈیا کی لیڈر شپ پھیلی ہوئی تھی وہاں ساری بات صرف ایک شخص پر مرکوز نہیں تھی گاندھی جی قوم کے لئے ایک سیمبل کے روپ میں سامنے آئے اسی طرح نہرو تھے اور گورنمنٹ میں جو نچلی سطح کے اختیارات تھے ان میں بھی ایسے بہت سارے لوگ تھے جو کام کرنے والے تھے اور جنہوں نے اس مٹی کےلئے قربانیاں دیں ہمارے ہاں تو پہلے دن سے ہی جاگیرداروں اور نوابوں کے نخرے شروع ہوگئے نواب زادہ لیاقت علی خان سے شروع کیجئے اور آج تک اندازہ لگاتے جایئے کہ اس ملک میں کیا کچھ نہیں ہوا ۔ دوسری بات یہ کہ یہاں کسی سسٹم کو منظور نہیں ہونے دیاگیا انٹروڈیوس ہی نہیں کیاگیا یہاں کانسٹی ٹیوشن بہت بعد میں آیا اور پھر اس کانسٹی ٹیوشن کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی آپ کے سامنے ہے ۔
ابھی تک یہاں زمینداری ختم نہیں ہوئی تو یہ تمام چیزیں اور یہ تمام بیماریاں سٹیٹ کے تشخص کو ختم کردیتی ہیں دوسرے یہ کہ اگر کانسٹی ٹیوشن بنا بھی ہے تو اس پر عمل کس نے کیا تو وہی بات ہے کہ جس کے پاس طاقت ہے وہی سب کچھ ہے اور یہاں سب سے بڑی بد قسمتی یہ رہی کہ چالیس پینتالیس سال ہوگئے ۔ فوج مفت میں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے ٹیکس آپ دیتے ہیں میں دیتا ہوں پیسہ ہم سے لے کر بندوق خریدتے جاتے ہیں تو پ اور جہاز لئے جاتے ہیں آگے جاکر دشمن کے سامنے تو ہھتیار ڈال دیتے ہیں لیکن ہمارے جیسے لوگوں (فرنٹیئر ،بلوچستان اور ملحقہ علاقوں ) کو بمباری کانشانہ بنایا جاتا ہے ۔
اس وقت جو تھوڑی بہت امید پیدا ہوئی ہے وہ یہ کہ وکیل سرجوڑ کر بیٹھنے کے بعد ایک تحریک کی صورت میں اٹھے ہیں اور اب یہ ایک ہمہ گیر تحریک بن رہی ہے خدا کرے کہ موسم اور دوسری چیزیں راستے میں حائل نہ ہوں تو یقیناً یہ سلسلہ آگے جاکر رنگ لا سکتا ہے ۔
٭ اب کچھ بھی ہوجائے عدلیہ پر تو ضرب لگی ہے نا ؟
احمد فراز:۔موجودہ دور کی بنیاد توڑ پھوڑ پر ہے اور عدلیہ کے تو دونوں ستون ان لوگوں نے بالکل کرادیئے تھے یعنی مقننہ اور انتظامیہ تو ان کی جیب میں تھیں اب یہ جو حال ہی میں کبھی کبھی عدلیہ میں کوئی آواز اٹھتی تھی تو اقتدار کے ایوانوں میں خوف کے سائے پھیل جاتے اور پھر یہ سوچا گیا کہ مستقبل میں عدلیہ کی طرف سے ایسے فیصلے ضرور آسکتے ہیں جو حکومت کو ناگوار گزریں یوں انہوں نے حج ہی کو تختہ مشق بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ
”وہ شاخ ہی نہ رہے جس پہ آشیانہ ہے“
ایک اور بدقسمتی یہ کہ ہمارے ہاں تو لوگ قطار اور انتظار میں کھڑے رہتے ہیں ایک شخص کو اصولوں کی پاسداری کے جرم میں ہٹا دیا جاتا ہے وہ بے چارا جان دیتا ہے اور دوسرا سلوٹ کرکے اس کی جگہ لیتے ہوئے کھڑا ہوجاتا ہے ۔ دیکھئے کسی قوم کا کردار صرف اسی قوت بنتا ہے جس میں ہر شخص نہ سہی لیکن کچھ لوگ تو ایسے نکلیں جن کا ضمیر زندہ ہو جو حاکم وقت کے بے جا احکامات کے جواب میں یہ کہنے کی جرات کرسکتا ہو کہ دس از ناٹ یور جاب جو یہ بھی جانتا ہو کہ آج میرے ساتھی کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے کل میرے ساتھ بھی یہی کچھ ہوسکتا ہے لیکن اس کے برعکس یہاں سوچا جاتا ہے کہ کس طرح جمپ کرکے آگے آجائیں ۔
٭ کیا وجہ ہے کہ کئی عشروں سے صرف اسی خطہ یعنی قبائل اور بلوچستان کے ساتھ یہاں کے لوگوں کو بھی ٹارگٹ بنایا گیا ہے ؟
احمد فراز :۔ یہ ایک افسوسناک امر ہے جس کا جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے امریکہ (جو کہتا ہے کہ ہم بھیڑبکریوں کی طرح انسان بھی خریدتے ہیں ) سے سب زیادہ پیسے فوجیوں نے لئے ۔ ہمارے پیسوں سے ہتھیار لئے جاتے ہیں جن کو بعد میں اپنے ہی لوگوں پر آزمایا جاتا ہے اپنا سرمایہ باہر کراتے ہیں جبکہ ہم لوگ تو ہیں ہی گئے گزرے ۔ بھیڑ بکریوں کی طرح جہاں کسی نے چاہا بیچ دیا جہاں چاہا مار دیا جہاں چاہا کسی کے حوالے کردیا ۔آپ نے اگر ملا ضعیف کی کتاب پڑھی جو طالبان کے سفیر تھے اور جس کو پاکستان نے پکڑکر امریکہ کے حوالے کردیا ۔ ان کی کتاب پڑھئے تو رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس کتاب میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ مجھے اس کا دکھ نہیں کہ امریکہ نے میرے ساتھ کیا سلوک گیا گھاﺅ تو اپنے لوگوں نے لگائے ہیں اور خصوصاً ان پاکستانی فوجیوں نے جو تماشبین بنے تھے تو اب بھی یہی صورتحال ہے پہلے لغاری ایمل کانسی کو ان کے حوالے کررہا تھا تو اب مشرف کے دور میں کتنے لوگ کیسے کیسے طریقوں سے غائب کردیئے گئے اس کے اختیار میں نہیں تھا ورنہ یہ تو اسامہ اور ملا عمر کو بھی امریکہ کو دے کر مال کھرا کرلیتے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کے سروں کی قیمتیں لگانے کا کاروبار آج پہلے سے بھی بڑھ کر ہورہا ہے ۔
٭ ماضی میں دیکھا جائے تو یہاں جس دور میں مارشل لاءجرنیلی بندوبست نہیں تھا اس میں بھی آرمڈ فورسز کا اثر جمہوری اداروں پر مسلط رہا ۔
احمد فراز :۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ
لرزے ہے موج مے تیری رفتار دیکھ کر
شروع میں جب آپ کسی چیز کو ہلادیں تو وہ کچھ وقت تک ہلتی رہتی ہے اس کا یہ مومنٹم تھوڑا بہت ضرور رہتا ہے اسی طرح فوج ابتداءہی سے ہمارے اداروں میں اس طرح گھس چکی ہے کہ لوگ ادارے اور وزرائے اعظم تک ان سے ڈرنے لگے کہ پتہ نہیں اندر سے کس وقت کیا ہوتا ہے اور لوگوں کا یہ خوف بجا بھی ہے جب تک اس ملک کی فضاءصاف نہیں ہوگی اور فوج اقتدار چھوڑ کر اپنے اصل مقام کو نہیں پہچانے گی اس وقت تک معاملات ابتر ہوتے جائیں گے اور میرے خیال میں یہ ملک اس حالت میں بھی نہیں رہے گا جیسا کہ اب ہے بلکہ اس کی شکست و ریخت کا پیمانہ وسیع تر ہوتا چلا جائے گا ۔بلوچستان اور صوبہ سرحد کے ان وزیری لوگوں نے اس ملک کی بقاءکےلئے لڑائیاں لڑی ہےں ۔ میں 1949ءمیں کشمیر میں تھا میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا آج اگر پاکستان آزاد کشمیر کا نام لے رہا ہے تو یہ انہی قبائل کی مرہون منت ہے میں نے مشاہدہ کیا کہ ہمارا اپرہیڈ قبائل کے بندوق کی وجہ سے تھا اور پھر جب فوج نے یہ اختیارات اپنے ہاتھ میں لئے تو پھر پیچھے ہی ہٹتے گئے اور بالآخر سیز فائر پر بات ختم کردی ۔
٭ اور اب انہی لوگوں کو اس خطے سے متنفر کیا جارہا ہے ؟
احمد فراز:۔ یہی باجوڑ کے لوگ تھے جنہوں نے قوم کی عزت اور ناموس کےلئے بندوق اٹھائی تھی اور آج ان کے بچوں کو ہوائی جہازوں سے نشانہ بنا کر آگ اور دھویں میں جھونکا جارہا ہے ادھر بلوچستان میں بگٹی پہلا آدمی تھا جو وہاں سے وطن کا پہلا سپاہی بنا تھا اور اس بگٹی کا حشر بھی لوگوں نے دیکھ لیا تو بے حسی کی ایک ایسی ہوا چل پڑی ہے کہ کسی کو یہ احساس ہی نہیں کہ یہ سب کیا ہورہا ہے ؟ ان حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے مستقبل بہت تاریک نظر آرہا ہے ۔
٭ بگٹی صاحب کے انتقال پر آپ نے وہاں کی انتظامیہ کے حوالے سے جو اشعار لکھے تھے کیا وہ ہمارے ساتھ شیئر کریں گے ؟
اے چوبدار میر سپاہ ستم گراں
صد حیف خون یوسف کنعاں فروختی
فرزند خانوادہ نشتر بدی ولے
پندار خویش و دین بزرگاں فروختی
تف بر تواے حریف قباو کلائے زر
خود رافروختی وچہ ارزاں فروختی
٭ سائنس کا شعبہ ہو ،ادب کا یا پریس اور میڈیا کا اس وقت تقریباً تمام بڑی شخصیتیں اور بڑے ادارے معتوب و محبوس ہیں ۔ کیا آپ کسی ادارے کو آزاد پاتے ہیں ؟
احمد فراز: ۔ دراصل 71 ءکے حالات کو بہت جلدیبھلا دیا گیا ۔ جس قسم کے حالات ہیں ان میں یہ لاوا پھوٹے گا اور پھوٹ رہا ہے جرنیلوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک خانہ جنگی کی طرف جارہا ہے اور جنگ تو ہوگی لیکن عوا اور فو ج کے درمیان ۔عالمی منڈی میں طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ دو ایک جرنیلوں کو خریدار جاتا ہے تاکہ ڈھائی تین سو لوگوں پر مشتمل پارلیمنٹ کو ان کے ذریعے خریدا جاسکے ۔
٭ تو کیا لوگ اسی طرح ظلم سہتے رہیں گے ؟
احمد فراز:۔ جب تک کوئی بڑی تحریک نہیں چلے گی اسی طرح ہوتا رہے گا تحریک سے مراد محض مومنٹ نہیں تحریک وہ ہے جس میں مستقل طور پر اپنی دھرتی سے ہمدردی اور محبت کا حوالہ موجود رہتا ہو۔ پہلے زمانے میں تو پےغمبر رہنمائی کیلئے آیا کرتے تھے پھر دیگر مصلحین آئے اس کے بعد مختلف صدیوں میں حالات نے انقلابی شخصیات کو جنما ۔ ان قافلوں میں شعراءبھی شامل رہے اور دانشور طبقہ بھی بیسویں صدی کی سیاست میں ذرا ماﺅزے تنگ کے کردار کو دیکھئے 1947ءمیں تقسیم ہند کا عمل ہوتا ہے یہاں لوگ آزادی کی خوشیوں میں مگن ہیں اور ماوزے تنگ شنگھائی میں لڑائی لڑرہے ہیں ۔لیکن دیکھئے آج چائنہ کس مقام پر کھڑا ہے ۔
٭ مذاہب عالم کو دیکھتے ہوئے اگر میں آپ سے مذہب کے حوالے سے کوئی سوال پوچھوں تو ؟
احمد فراز :۔ انسان کی زندگی میں مذہب کا بہت بڑا رول ہے غور سے دیکھئے تو اکثر مذاہب کے بنیادی اصولوں میں بہت ساری باتیں مشترک نکلیں گی مثلاً کون سامذہب کہتا ہے کہ جھوٹ اچھی چیز ہے دنیا کے سارے مذاہب سچائی کی تلقین کرتے ہیں دیانتداری کی بات کرتے ہیں آپ خدا کو مانتے ہیں ٹھیک ہے اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے کیونکہ اب تو آپ کو سمجھدار ہونا چاہیے یہ نہ ہو کہ خدا کا نام لے کر دھوکہ دہی سے کام لیا جائے لیکن دیکھا جائے تو دنیا میں کسی بھی ملک میں ہمارے لوگ جاتے ہیں تو فراڈ ، اورقانون شکنی میں پکڑے جاتے ہیں یہ اس لئے کہ ہم نے کیر یکٹر کی تعمیر نہیں کی صرف دو چار کاجلز یا یونیورسٹیوں کے بنانے سے قومیں نہیں بنتیںاس کے لئے سسٹم ہوتا ہے جیسے گھر ایک تربیت گاہ ہے اسی طرح ملک بھی ایک ماں کی گود جیسا ہوتا ہے جہاں سے آدمی سیکھنا شروع کرتا ہے ۔
٭ تقسیم ہند کے وقت بہت سارے لکھنے والوں کی ایسی تحریریں سامنے آئیں جیسے وہ اس عمل سے خوش نہیں تھے جیسے فیض صاحب ،انتظار حسین ،ناصر کاظمی ، سعادت حسن منٹو وغیرہ آپ کو ایسا لگتا ہے ؟
احمد فراز :۔ ان کی بات اپنی جگہ درست ہے کیونکہ ان لوگوں نے اس پورے سانحے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن جو لوگ یہاں تھے مثلاً میں پٹھان ہوں اس علاقے کا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ میرا علاقہ تو نہیں بانٹا گیا تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں اس پوری صورتحال کے بارے میں لیکن ہم دوسروں کو الزام ضرور دیتے ہیں ہم جو اپنی اچھائی اور برائی پر کبھی نہیں سوچتے تو باہر والوں پر الزام کیوں دھریں ایک تو یہ کہ خدارا دوسروں کو الزام نہ دو ۔اپنے آپ کو بلیم کریں ۔طاقتور دوسرا نہیں ہوتا آپ کمزور ہوتے ہیں اگر آپ کا کردار اونچا ہے تو خاموشی سے اپنے کردار کو آگے لے جائیں میں نے پہلے بھی بتایا کہ چائنہ نے آزادی کے بعد خاموشی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا نہ کسی ملک سے لڑائی کی خواہش ظاہر کی اور نہ کہیں فوج بھیجنے کے جنون میں مبتلا ہوئے وہ اپنا کام اور اپنے مقاصد کا حصول کرتا رہالیکن ہم نے کیا کیا یہ جو کمزور آدمی ہوتا ہے یہ بڑھکیں بہت مارتا ہے اور یہی حال ہمارا بھی ہے نتیجہ آج سب کے سامنے ہے پاکستان جیتے گا اور ٹیم ہار رہی ہوتی ہے پاکستان جیتے گا اور ہار کے کاغذوں پر سائن ہورہے ہیں تو یہ بڑھکیں چھوڑ دیں اس سے کچھ نہیں بنے گا خاموشی سے بیٹھ کر ہم کوئی تعمیری کام کیوں نہ کریں یہ وژن ہونا چاہیے کہ 2020 ءتک مجھے کیا کرنا ہے اور کیا بننا ہے اور 2020 ءاور پچیس کے درمیان کونسے نئے راستوں کا سفر اخیتار کرنا ہے یہ ہوگا تو بات بنے گی ؟
٭ جس وقت ایک خاص قسم کی مزاحمتی شاعری ہورہی تھی اس دور میں بہت سے لوگ جیلوں میں ڈالے گئے اور کچھ لوگوں پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد فراز :۔ کچھ لوگ جلا وطن ہوگئے ،جیلوں میں ڈالے گئے کسی نے کوڑے کھائے ۔ وہ بھی آمریت ہی کا دور تھا تو جب ہمیں کراچی سے آرڈر ملا کہ سندھ بدر کردیئے گئے ہیں تو میں ہوٹل میں تھا پولیس نے آکے آرڈر دیا او رصبح مجھے ساتھ بٹھا یا تو میں اس وقت سوچ رہا تھا کہ جب اپنے ملک میں ایک کمرے سے دوسرے کمر ے تک جانے پر پابندی ہوجائے وہاں کل کو کچھ بھی ہوسکتا ہے تو وہ وقت تھا جب میں نے سوچا کہ اس ملک کو چھوڑدوں اور میری طرح اور بھی بہت سے دکھی لوگ تھے ایسے بہت سے غریب الوطن لوگ ہوں گے جنہوں نے ان حالات میں ایسا ہی سوچا ہوگا آپ نے مزاحمتی شاعری کی بات چھیڑی تو اب وہ مزاحمتی شاعری بھی نہ رہی اور یہ تو ہم دوچار پاگل لوگ تھے جنہوں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلئے یہ ایک لمبا قصہ ہے ۔
٭ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لفظ ان محسوسات کو پورے طور پر ادا کرنے پر قادر ہوتا ہے جو ہمارے من میں ہوتے ہیں یا ان کیفیات کو گرفت میں نہیں لایا جاسکتاجن کی وجہ سے ہم باربار تشبیہات ، استعارات ،اسلوبیات اور ڈکشن کے جال بچھاتے ہیں ۔
احمد فراز :۔ہر لفظ کے مختلف شیڈز ہوتے ہیں اور ہر زمانے میں وہ اپنے کنٹکسٹ بدلتے رہتے ہیں مقتل ،قاتل اور بسمل وہی لفظ ہیں لیکن غالب کے ہاں ان کے معنی کچھ اور ہوجاتے ہیں اورفیض ان کو الگ رنگوں میں باندھ رہے ہیں ۔ یہ تمام چیزیں حالات کے زیر اثر ہوتی ہیں اور بڑا شاعر وہی ہے جو حالات کے مطابق الفاظ میں نئے معنی پیدا کرتا ہے اور وہی اس کے تلازمات بن جاتے ہیں وہی اس کی تشبیہ اور استعارات بن جاتے ہیں ۔ پھر یہ کہ شاعری میں جو تجربے ہوتے ہیں وہ بری چیز نہیں ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان تجربوں سے زیادہ اپنے مقصد پر نظر رکھنی چاہیے ۔
”آنکھ طائر کی نشیمن پر رہے پرواز میں “
سعادت حسن منٹو نے ایک طرح لکھا تو کرشن چندر نے ایک اور انداز اپنایا لیکن دونوں نے بنیادی طو رپر معاشرتی برائیوں پر قلم اٹھایا تھا ۔ بہر حال ہر شخص کا اپنا نظریہ ہوتا ہے اپنا سٹائل ہوتا ہے اپنی سوچ اور اپنا تجربہ ،اپنی کٹمنٹ اور قابلیت ہوتی ہے اور تمام چیزیں اس کی فکر کے مرکزی نکتے کی تشکیل میں مدد فراہم کرتے ہیں ۔
٭ آپ نے لفظوں ،تراکیب یا موضوعات کے باب میں غالب کی جدت پسندی کا حوالہ دیا جن کو بعد میں آنے والے آگے لے گئے یہ بحث بڑی دلچسپ ہے کیونکہ غالب کے ہاں ہمیں بہت ساری ایسی چیزیں مل جاتی ہیں جو بعد میں دوسروں کے ہاں پھیلی ہوئی شکل میں نظر آتی ہے جیسے فیض صاحب نے لکھا اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ لیکن ترقی پسند تحریک سے بہت پہلے انیسویں صدی میں غالب غزل کے ایک شعر میں مکمل طور پر ایک باغی کے روپ میں نظر آتے ہیں ۔
تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم یہ بہت سے ستم ہوئے
اور یا پھر
کب تک خیال طرہ لیلیٰ کرے کوئی
احمد فراز :۔آپ کی بات درست ہے غالب تو وہ شاعر ہے جنہیں صدیاں تلاش کرتی ہیں وہ کل بھی غالب تھا اور آج بھی غالب ہے بعض لو گ اپنے علاقوں میں اپنی زندگی ہی میں مر جاتے ہیں سانس چلتی رہتی ہے لیکن کوئی ان کو پوچھتا تک نہیں اور یہ لوگ ختم ہو جاتے ہیں یہ جو بڑا شاعر ہوتا ہے اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے کیونکہ ٹائم از دی ٹیسٹ آف کریٹویٹی تو غالب کی کریٹویٹی اتنی زیادہ تھی کہ انہیں اندازہ تھا اور ان کا ماننا تھا کہ میرا چمن تو ابھی بنا ہی نہیں ابھی پتہ نہیں کتنا آگے چل کر ہم غالب کو صحیح معنوں میں دریافت کریں گے ۔
٭ کیا اقبال بھی ان سے انسپائریشن لے رہا ہے ؟
احمد فراز :۔ اقبال بھی بہت بڑا شاعر ہے ان میں پویٹک سنسبلٹی بہت زیادہ تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے ماضی کو زیادہ لیا اور غالب نے مستقبل کو لیکن اقبال ماضی کے ساتھ ایک صحت مند تعلق رکھتا ہے اور اس دور کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس نے ماضی کی عظمت کو یاد کرکے ٹھیک ہی کیا ۔
٭ غالب نے کہا تھا
لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
مانا کہ ایک بزرگ ہمیں ہمسفر ملے
اقبال نے بعد میں آکر کہا
رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑدے
غالب کا خیال تھا کہ
دیر نہیں ،حرم نہیں ،درنہیں آستاں نہےں
بیٹھے ہیں رہگز ر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں
اقبال کہتے ہیں
تنگ آکے میں نے آخر دیر وحرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا ،چھوڑے تیرے افسانے
احمد فراز :۔ہوتا یہی ہے کہ شعراءکا قبیلہ دراصل ایک ہی فیزسے تعلق رکھتا ہے غالب اقبال کے فیز میں بھی آیا اور اقبال غالب کے ہاں ۔ یہ کیفیتیں آتی رہتی ہیں ۔ اپنی اپنی وژن اور طاقت ہوتی ہے اس میں شک نہیں کہ غالب کو ہر ایک نے تسلیم کیا لیکن عبدالقادر بیدل کو دیکھئے تو وہ سب سے بڑا شاعر نظر آئے گا بس یہ کہ وہ اپنی خالص شاعری کے استعاروں میں گم رہاپٹنہ میں ایک نشست کے دوران میں نے بیدل کے حوالے سے کہا تھا کہ ہماری سو کالڈ آزادی پر بہت سارے شاعروں نے نظمیں لکھیں فیض صاحب ،قاسمی صاحب ، اختر الاایمان اور دوسرے شعراءاورسبھی کا مقصد تھا کہ جس صبح کی ہمیں تلاش تھی وہ ابھی نہیں آئی بیدل کہتا ہے
شب رفت ،سحرنہ شد، شب آمد
اب اردو کی وہ ساری نظمیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسری طرف یہ ایک لائن رکھ دیں چونکہ فارسی کا اب وہ چلن نہیں رہا اس لئے بیدل کی وہ توقیر نہیں ہوئی جس کے وہ مستحق تھے ۔
٭ ایک دور طالبعلمی کا بھی ہوتا ہے آپ نے جامعہ پشاور کے شعبہ اردو میں بھی زندگی کے کچھ لمحے گزارے اس دور میں کچھ اپنے بارے میں سوچا تھا کہ آگے جاکر کیا کرنا ہے ؟
احمد فراز :۔ ایک سٹوڈنٹ کی حیثیت سے کہوں تو شروع ہی سے ہم باغی تھے کبھی کبھی استادوں سے بھی لڑ پڑتے تھے وہ کہتے تھے یہ سبق یوں ہے ہم کہتے یوں نہیں یوں ہے تو کلاس سے نکال دیئے جاتے تھے۔ میرے کسی کلاس فیلو سے پوچھئے تو وہ آپ کو بتائے گا کہ زمانہ طالب علمی میں کیا کیا تماشے ہوئے لیکن میں خوش ہوں کہ میں نے شعبہ اردو میں پڑھا ایک باغ میں مختلف پھول ہوتے ہیں شاخیں ہوتی ہیں وہی ہوا آتی ہے وہی پانی ہے لیکن ہر پھول اپنے رنگ رکھتا ہے اور کبھی کبھی صحراﺅں میں بھی آپ کو گل لالہ نظر آجاتا ہے۔
کم سو چا لیکن کچھ تو کیا کم پڑھا مگر کچھ تو پڑھا اگر افسوس ہے تو یہ کہ زندگی کو ہم نے ضائع بھی بہت کیا اس کی بجائے اگر پڑھتے تو ۔۔۔۔۔ لیکن لگتا ہے اگر پڑھتے تو ممکن ہے اور زیادہ خراب ہو جاتے ۔
میراخیال تھا کہ پائلٹ بنوں گا ا اور جہاز اڑاﺅں گا ۔
٭ ایک شاعر کے تخیل کی کرشمہ سازیاں اڑن کھٹولوں سے آگے ہوتی ہے تخیل کے آسمانوں پر کمندیں ڈالتے ہوئے بھی آپ نے زمین زادوں سے رشتہ جوڑے رکھا یہی آپ کی رفعت ہے اور اسی نے آپ کو سرفرازی عطاءکی ۔ ایک آخری سوال اسے دل پشوری ہی سمجھ لےجئے ۔
”مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے“ ”کتنی حقیت کتنا فسانہ “ اگر افسانہ ہے تو یہ افسانہ کب تک رہے گا ؟
احمد فراز :۔ یار میں نے تو کچھ نہیں کہا اگر افسانہ ہے تو بننے دو افسانے کو یہ شگفتہ افسانے تو ہر دور میں بنتے رہتے ہیں ۔
٭٭٭گویا خلقت شہر تو
احمد فراز :۔ کہنے کو فسانے مانگے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے حد سر پھرا آدمی ہے اچھا ہے تو بہت اچھا ضد میں آگیا توساری بساط الٹ دیتا ہے وہ وقت کو سلام نہیں کرتا اس لئے کج کلاہوں کی آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرتا ہے ۔(رحیم گل)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فراز سے بہت سے لوگ دراصل اس لئے خفا ہیں جن میں بھی شامل رہا کہ یہ آتش فشاں کیوں ہے ایش ٹرے کیوں نہیں ۔ موم بتی کیوں نہیں ۔ اس کے بعض نظریات سے نظریاتی بنیادوں پر اختلاف بھی ہو تو کم ازکم اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے مقام پر بڑی استقامت کیساتھ کھڑا رہا اور بولنے کے وقت خاموش نہیں رہا ۔ ایسے لوگوں کو اختلافات کے باوجود ۔۔۔۔۔۔ احترام کا خراج دینا پڑتا ہے ۔(سید ضمیر جعفری

اویس قرنی

Next page