آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

خورشید ربانی کا خواب نگر

جب آنگن میں بیری کے پیڑ پتھر کے عذاب سہنے لگیں ، جب محبوب کی یاد غزل کے بے معنی حرفوں میں معنی بھرنے آئے ، جب ٹوٹا ہوا پتا اور بکھرا ہوا خواب درد کی جوت لگائے ، جب آفتاب مثالِ ماہ شبِ سیاہ کا سفر اختیار کرے ، جب آنکھوں میں کسی خیال کی خوشبو سے وصلِ یار کے خواب جاگنے لگیں ، جب انسان کی سلگتی سوچتی نسلوں کو پہچان کا غم کھانے لگے ، جب کسی کی باتوں اور یادوں کی خوشبو سے تنہائی کا شہر بسایا جانے لگے ، جب دل کے ٹھنڈے میٹھے چشمے پر اِک دوشیزہ پانی بھرنے آئے ، جب کسی کے فیضِ نگاہ سے شہر بھر میں پذیرائی ملنے لگے ، جب محبوب کے ہجر کی تیز ہوا سے کوئی پتا پتا بکھر جائے، جب فکر وخیال کی مشعل کو دامنِ شعر ہوا دینے لگے ۔۔۔ محبت کے پرانے راگ کو کوئی استاد گانے لگے ، شجر پکے پھلوں کو پھینکنے لگیں ، اندھی سوچوں کے ہاتھ پر کوئی اُجلے حرفوں کا عصاءرکھنے لگے تو یہ سارے تصویری پیکر ”کفِ ملال“ جیسے شعری مرقعے کو وجود میں لانے کا سبب بن جاتے ہیں۔
جس طرف اقبال کی شاعری کا محور و مرکز ”اسلام کا نشاةثانیہ “ فیض کا ”اشتراکیت“ ن۔ م راشد کا ”جنس “ ، ناصر کاظمی کا ”ہجرت“ مجید امجد کا ”ہمدردی “ او ر افتخارعارف کا ”واقعہ کربلا اور اہل بیت کی محبت“ ہے اسی طرح ”کفِ ملال “ کے نرم دمِ گفتگو ، گرم دم ِ جستجو خالق ” خورشید ربانی “ کا سرچشمہ  تخلیق اور مرکز ِفکر و احساس” تنہائی “ ہے جس سے دیگر ضمنی احساسات ، تصورات اور استعارات یعنی اُمید و بیم ، یاد آوری ، خواب اور چراغ وغیرہ کے سوتے پھوٹتے ہیں۔
یہ حقیقت تو آئینہ ہے کہ ہجر کی کلفتوں یا وصال کی راحتوں کو وجود میں لانے کا واحد سبب ”محبت کا جذبہ “ ہے۔ کفِ ملال کے بلاستعیاب مطالعے سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہنے پاتی کہ خورشید ربانی کے نہاں خانہ دل میں کئی شخصیات ۔۔۔(پیغمبر آخر الزمان، اہلِ بیت و شہدائے کربلا، بنی نوع انسان ، نسوانی پیکر) سے محبت کے چراغ روشن ہیں ۔ آخر الذکر شخصیت جسے کبھی وہ ”شاہزادی“ کے ناموں سے یاد کرتے ہیں ، اس ساری شعری کائنات کو خلق کرنے کی باعث ہے ہمارے شاعر کو تنہائی کا تحفہ اور ہجر کی سوغات اُسی نے بخشی ہے جسے پانے یا نہ پانے کی آس اور یاس پہ مبنی نفسی کیفیات سے شاعر اِ س تخلیقی سفر کے دروان گزرتا ہے لیکن ”کفِ ملال “ کے خاتمے پر یہ اندوہناک انکشاف ہوتا ہے کہ دائمی جدائی تو شاعر کا مقدر ہو چکی ہے ایسے میں واحد سرمایۂ  ہستی کے طور پر اُس کے پاس اُس پیکرِ ناز کی ”یادیں “ رہ جاتی ہیں جن کی رنگین و شوخ پنسلوں سے تخیل کے کینوس پر خوش منظر تصویریں (Images)کھینچنے میں ہی شاعر کو اپنی بقا کے آثار نظرآتے ہیں اور اس عملِ مصوری کو انہوں نے ”کفِ ملال“ کے صفحات میں ”خواب“ سے تعبیر کیا ہے۔
یہ کہانی کا وہ ذرا سا پلاٹ ہے جسے اُنہوں نے بڑی چابکدستی اور مہارت سے 124صفحات پر پھیلا کر 12منظومات ، 10ہائیکو اور غزل کے263اشعار کے ذریعے ہم تک پہنچانے کا جتن کیا ہے ۔ اب وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ:


قلم کی نوک سے پتھر تراش کر ہم نے
یقین جانئیے ہیرے کی قدر کم کر دی


ویسے تو انسان کی تقدیر میں ازل ہی سے احساسِ تنہائی لکھ دیا گیا ہے مگر اکثر مادہ پرست ذہنوں کو تعیشات دُینوی میں انہماک کے باعث اِ س کا احساس و ادراک نہیں ہوتا مگر حساس لوگوں کا معاملہ اِ س کے برعکس ہے اُنہیں قدم قدم پر اُس ازلی و سرمدی تجرید و تفرید کا ناگ ڈستا رہتا ہے جو اِ س زیاں خانۂ ہستی میں حضرتِ آدمؑ کے ساتھ اُترا تھا۔مولانا روم ؒ نے بھی بانسری کے منہ سے یہی صدائے درناک سنی تھی: Read more »

بادشاہ

لفظ ”بادشاہ“ کے ساتھ میرا تعلق تقریباً اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ میری عمر ہے۔ بچپن میں پہلی دفعہ ماں جی کو یہ دعا دیتے سنا تھا کہ ”بیٹا! اللہ میاں تجھے بادشاہ بنا دے“
اُسی دن سے میرے ننھے سے ذہن میں دو باتیں بیٹھ گئیں ۔ ایک یہ کہ اللہ میاں کوئی ایسی ہستی ہے جو لوگوں کو بادشاہ بناتا ہے اور دوسری یہ کہ اماں جی کی یہ خواہش بلکہ حسرت ہے کہ میں بادشاہ بن جاﺅں ۔ بس اُسی دن سے میں ہروقت اسی جستجو میں رہتا کہ کہیں مجھے اللہ میاں مل جائے اور میں اُ س سے کہوں کہ دیکھو! مجھے جلدی جلدی بادشاہ بنا دیں تاکہ میری ماں جی کی دلی خواہش پوری ہو سکے۔
جب میں پانچ سال کا ہوا تو مجھے سکول میں داخل کر دیاگیا ۔ ہماری کلاس میں دوتین انتہائی نالائق اور شریر قسم کے بچے بھی تھے۔ ماسٹر صاحب نے ان کو سدھارنے کی بہت کوششیں کیں ، مارا پیٹا ، سمجھایا بجھایا لیکن وہ جیسے تھے ویسے ہی رہے ۔ ایک دن صبح سویرے اچانک ماسٹر صاحب نے کلاس میں یہ اعلان کر دیا کہ ”آج سے یہ دونوںاس کلاس کے بادشاہ ہیں۔‘ ‘ یہ سنتے ہی میرے چھوٹے ذہن کو دھچکا سا لگا کہ آخر ماسٹر صاحب کو کیاہو گیا ہے کہ ایک طرف تو جو کام اللہ میاں نے کرنا تھا وہ ماسٹر صاحب کر رہے ہیں اور دوسرے یہ کہ انہوں نے اللہ میاں کا کام کرنا شروع کر ہی دیا ہے تو مجھ جیسے لائق اور اچھے بچے کو بادشاہ کیوں نہیں بنا دیتے ۔ سکول سے واپسی پر ایک دفعہ پھر میرا ذہن منصوبے بنانے لگا کہ اگر راستے میں کہیں مجھے اللہ میاں مل گیا تو اُس سے ماسٹر صاحب کی شکایت ضرور کروں گا۔
وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ شعور پختگی کی منزلیں طے کرتا رہا ۔ جمہوریت ، آمریت اور بادشاہت کی اصکافی عرصہ بعد کالج میں ایک دن ہاسٹل کلرک کے ساتھ کسی بات پہ جھگڑا ہوگیا ۔ میں شکایت لے کر سیدھا پرنسپل صاحب کے پاس گیا ۔ پرنسپل صاحب نے پنڈ چھڑاتے ہوئے کہہ دیا کہ
”بیٹا گزارا کرو یہ کلرک تو بادشاہ ہے۔ اب اس کے ساتھ کیا کریں“
”یہ سنتے ہی ماضی کی ساری فلم دماغ میں تیزی سے گھومنے لگی ۔ ماں جی کی دعا والا بادشاہ ، ماسٹر صاحب کے بادشاہ ، پرنسپل صاحب کا کلرک بادشاہ ، ایران ، سعودی عرب اور اردن کے بادشاہ ۔۔۔۔۔“
ذہن میں طرح طرح کے سوالات نے سر اٹھانا شروع کر دیا مثلا اگر ہمارے ملک میں جمہوریت ہے ، تو یہ بادشاہ کہاں سے آگئے ؟ اور اگر بالفرض شہنشاہیت ہے تو پھر ایک ہی بادشاہ ہونا چاہیے تھا۔ اتنے ڈھیرسارے بادشاہوں کابھلا ایک ہی ملک میں کیا کام ؟
ان سوالات نے مجھے اتنا الجھا دیا کہ لفظ ”بادشاہ“ کے معنی ہی مجھے مشکوک نظر آنے لگے ۔ کیا ان سب لوگوں میں کوئی قدر مشترک بھی ہے ، اگر ہے تو وہ کونسی ہے ، جس کی بنا پر یہ سارے ”بادشاہ “ کہلاتے ہیں۔
اسی ادھیڑ بن میں لائبریری کی طرف جانکلا ، مختلف لغات کنگالے ، اگلے دن اردو کے پروفیسروں سے بھی پوچھتاپھرا لیکن مسئلہ جہاں تھا وہیں رکا رہا ۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔
عملی زندگی کاآغاز ہو اتو درجنوں بلکہ سینکڑوں نئے بادشاہوں کے ساتھ تعارف نصیب ہوا۔ دوستوں کی بے تکلف محفلوں میں کسی کا ذکر خیر آجاتا تو دوست کہتے ”یار چھوڑو وہ تو بادشاہ آدمی ہے۔”
میں سوچ میں پڑ جاتا کہ اگر وہ عام آدمی ہے تو بادشاہ کیسے بن گیا اور اگر بادشاہ ہے تو عام آدمی کیسے ہوا؟ بادشاہ آدمی میں کم از کم کچھ تو فرق ہو نابھی چاہیے تھا۔
ایک روز اچانک اشفاق احمد کی طرح میری کسی ”بابے“ سے سرِ راہ ملاقات ہو گئی ۔ بس اندھے کو کیا چاہیے ۔۔۔دو آنکھیں ۔ میں نے فوراً سوال داغ دیا۔
”بابا! یہ بادشاہ آخر ہوتا کیا ہے؟“
بابے نے لاپرواہی سے میری طرف دیکھے بغیر ہی جواب جڑ دیا۔
”جو کرتا ورتا کچھ نہ ہو مگر لیتا سبھی کچھ ہو۔“
یہ سنتے ہی گویا میرے چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ آنکھوں پر سے پردے دفعتاً چھٹ گئے ۔ پورا معاشرہ بے نقاب ہوگیا ۔ ہر طبقے اور ہر فرد کی اصلیت کھل گئی ۔ اپنےماحول میں جس پر بھی میری نظر پڑی وہ مجھے کسی نہ کسی حوالے اور کسی نہ کسی حد تک بادشاہ ہی نظرآیا ۔ میں چکرا سا گیا۔
”اف میرے خدا! اتنے ڈھیر سارے بادشاہ اور رعایا سرے سے ندارد!“
بھاگم بھاگ میں ماں جی کے پاس پہنچا اور کہا،
”اماں جی !آئندہ کے لیے میرے بادشاہ بننے کی دعا نہ کیجیے گا“
ماں جی بڑی حیران ہوئیں:
”کیوں بیٹا! کیا ہوا؟ خدا نہ کرے کہ تُو بادشاہ نہ بنے“
میں فوراً بول پڑا:”اماں جی! پھر وہی بادشاہ، ایک دفعہ کہہ تو دیا

کہ میں بادشاہ نہیں بنوں گا۔“
ماں جی ناراض ہوتے ہوئے بولیں:
”اچھا تو بتا، پھر میں تیرے لیے اور کون سی دُعا مانگوں“
میں نے کہا ، میرے لیے ہمیشہ یہی دُعا کیا کرو کہ
”اے اللہ ! میرے بیٹے کو معاشرے اور سماج کا فرض شناس اور محنتی فرد بنا دے۔“
ماں جی نے دل پر بھاری پتھر رکھ کر میری دعا دہرائی اور میں مطمئن ہوگیا !

تحریر: پروفیسر شاہد اسلام

غزل

دھنک ملے تو نگاہوں میں قید رنگ کریں
رم آج رات چلو چاندنی کے سنگ کریں


یہ آئینہ سا میرا دل ہے اس میں سجتی رہو
پھر اس کے بعد تمنا نئی امنگ کریں


بدن تو مل گئے روحوں کی تشنگی بھی مٹے
سو اختیار چلو آج کوئی ڈھنگ کریں


نہیں ہیں فرصتیں آلامِ روزگار سے جب
اب اس کے بعد بتا کیا ترے ملنگ کریں


یہی ارادہ ہے بزمِ سخن سجائیں کہیں
ردیف وار لکھیں قافیہ نہ تنگ کریں

سید انور جاوید ہاشمی (کراچی)

اقبال کا تصورِ خودی

علامہ اقبال نے فرمایا ہے:


خودی وہ بحر ہے جس کوئی کنارہ نہیں
تو آبِ جُو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں


حقیقت یہ ہے کہ خودی ایک بحر بے کنار ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے اسے ایک چھوٹی سی ندی سے زیادہ نہیں سمجھا۔ خودی کیا چیز ہے؟ اس کی وضاحت ایک مرتبہ علامہ اقبال نے ڈاکٹر نکلسن کی خواہش پر کی تھی۔ علامہ صاحب کی وضاحت کا خلاصہ یہ تھا:


”حیات تمام و کمال انفرادی حیثیت رکھتی ہے ۔ ہر موجود میں انفرادیت پائی جاتی ہے ایسی کوئی شے موجود نہیں جسے حیات ِکلّی کہہ سکیں۔ خود خدا بھی ایک فرد ہی ہے لیکن ایسا فرد جس کا عدیل و نظیر نہیں۔ کائنات افراد کے مجموعے کا نام ہے مگر اس مجموعے میں جو نظم و ترتیب ہم دیکھتے ہیں وہ کامل و دائم نہیں ۔ ہمارا قدیم تدریجی طور پر بد نظمی اور انتشار سے نظم و ترتیب کی طرف بڑھ رہا ہے اور کائنات مراتبِ تکمیل طے کر رہی ہے۔ ہنوز مکمل نہیں ہوئی۔فعلِ تخلیق بھی برابر جاری ہے اور جس حد تک انسان کائنات کے اندر ربط و ترتیب پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے اس حد تک گویا وہ خود بھی فعلِ تخلیق میں حصہ لیتا ہے ۔ حیات دراصل ایک آگے بڑھنے والی اور کائنات کو اپنے اندر جذب کرلینے والی حرکت کانام ہے۔ انسان کا اخلاقی اور مذہبی منتہائے مقصود اپنی انفرادی ہستی کو فنا کر دینا نہیں بلکہ اسے قائم رکھنا ہے۔ اور اس کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ انفرادیت پیدا کرے اور زیادہ سے زیادہ بے عدیل بنے۔ پس فرد کا دوسرا نام حیات ہے اور فرد کی اعلیٰ ترین صورت جو اس وقت تک معلوم ہو سکی ہے وہ خودی ہے۔“


اقبال کے نزدیک خودی اپنی تمام جلوہ آرائیوں کے ساتھ اس کائنات میں اپنا اظہار چاہتی ہے اس کی اصل روح روحانی ہے اقبال فرد کی ترقی کے لیے خودی کی تربیت پر بہت زور دیتے ہیں کیونکہ اس کی تربیت انسان کی زندگی کا حقیقی نصب العین ہے۔
جس دور میں اقبال نے آنکھ کھولی وہ مسلمانوں کے لیے ابتلاءاور تکالیف کا دور تھا ۔ دنیا میں مسلمان جہاں کہیں بھی تھے غلامی کی زنجیر پہنے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کے علاقوں کو یورپی اقوام نے کالونیاں بنا رکھا تھا۔ مسلمان حوصلہ ہا ر چکے تھے اور حالات سے ناامید ہوگئے تھے ۔ لیکن شاعرِ مشرق قطعاً ناامید نہیں تھے ۔ آپ کے خیال میں مسلمانوں کی پستی اور زوال کا سبب خودی کو بھولنا تھا۔ شاعرِ مشرق کے نزدیک خودی کا مطلب غرور تکبر کرنا نہیں نہ ہی اپنے آپ کو بڑا سمجھنا خود ی ہے بلکہ خودی کامطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو پہچان سکے ۔ دوسرے لفظوں میں خودی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر جو صلاحیتیں اور قابلیتیں موجود ہیں اُن کو پہچاننا اور ان کا صحیح استعمال ہے۔
انسان اشرف المخلوقات ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جبکہ باقی ساری کائنات کو انسان کے لیے پیدا کیا ۔ یہ انسان کا کام ہے کہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو استعمال کرکے تسخیرِ کائنات کا کردار ادا کرے ۔ علامہ اقبال مسلمانوں سے فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے جبکہ خودی اس کو استعمال کرنے کا نام ہے۔


خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے


خودی کے ارتقاءکے لیے اقبال کے نزدیک دو چیزیں ازبس ضروری ہیں ایک استحکامِ خودی اور دوسرے اس کا اجتماعی مقصد سے ہم آہنگ ہونا۔ چنانچہ اقبال نے ”اسرار خودی“ اور ”رموز بے خودی“ میں ان دونوں مقاصد پر بحث کی ہے۔ آپ کے نزدیک فرد کو اپنی امکانی صلاحیتوں کو اس طرح نشوونما دینی چاہیے کہ جماعت بھی زیادہ سے زیادہ ارتقاءکر سکے۔ آپ کے نزدیک شانِ یکتائی پیدا کرنے کے لیے خودی کو تین منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے ان میں اتباع شریعت ، ضبطِ نفس اور نیابت الہٰی شامل ہیں۔
آپ کے مطابق نیابتِ الٰہی دنیا میں انسانی ارتقاءکی آخری منزل ہے جو شخص اس منزل پرپہنچ جاتا ہے اس دنیا میں خلیفہ اللہ ہوتا ہے ۔ اگر انسان کا اپنے اللہ پر ایمان مضبوط ہو تو اس کی خود مضبوط ہوتی ہے۔ اگرانسان کا اللہ کے ساتھ رشتہ مضبوط ہو تو وہ ہر کام کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔


بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی


حکیم الامت بہادری کو بھی خودی کی ترقی کے لیے ضروری گردانتے ہیں۔ اگر انسان بہادر ہو ۔ حق بات کہنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس کی خودی ترقی کے منازل طے کرتی ہے۔ فرماتے ہیں:


آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی


اقبال نے ان فلسفیانہ مذاہب کی تردید کی ہے جو بقا کے بجائے فنا کو انسان کا نصب العین قرار دیتے ہیں ۔ یہ مذاہب انسان کو بزدلی سکھاتے ہیں کیونک حیات کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے یعنی مادّہ وہ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اور مادّہ کا مقابلہ کرکے اُسے جذب کرلینے کے بجائے اس سے گریز کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ علامہ اقبال کے خیال میں خوف کی بجائے بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ انسان میںصرف خوفِ خدا ہونا چاہیے۔ تب انسان میں خودی کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے۔


وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات


شاعرِ مشرق کے نزدیک خودی مسلسل جدوجہد کی حالت کا نام ہے شخصیت کی بقاءاسی حالت کے باقی رہنے پر منحصر ہے اگرچہ یہ حالت قائم نہ رہے تو لازمی طور پر تعطل یا ضعف دستی کی حالت طاری ہوجاتی ہے اور یہ چیز علامہ کے نزدیک خودی کے لیے زہر ہے۔ جبکہ جدوجہد ہی دراصل زندگی ہے۔ فرماتے ہیں۔


عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے


رومی کی طرح اقبال بھی نظریہ ارتقا کا حامی ہے اس کے عقیدے کے مطابق انسان جمادی نباتی اور حیوانی مدارج سے گزر کر انساینیت کے موجودہ مرتبے پر فائز ہوا ہے۔ مگر یہ اس کی آخری منزل نہیں ہے ابھی اسے اور آگے بڑھنا اور ملکوتی درجے پر پہنچنا ہے انسان ملکوتی اور حیوانی عناصر کا مجموعہ ہے ملکوتی عنصرکا دوسرا نام خودی ہے اور اسی کی تربیت انسان کی زندگی کا حقیقی نصب العین ہے۔ اقبال نے عرفانِ خودی اور تعمیر خودی پر بہت زور دیا ہے اور درحقیقت ان کی ساری شاعری کا لُبّ لبُاب عرفانِ خودی اور تعمیر خودی  ہے۔

تحریر : پروفیسر محمد اقبال خان

غزل

نیند سے پہلے ہی آنکھوں میں پھرا کرتی ہے
یہ مرے خواب کی تعبیر بھی کیا کرتی ہے


بجھ نہیں سکتا کسی طور مرے دل کا چراغ
روشنی اس میں محبت کی ہوا کرتی ہے


ماں تیری قبر سے آتی ہوئی سنتا ہوں صدا
مجھ کو معلوم ہے تُو اب بھی دُعا کرتی ہے


ٹوٹ جاتی ہے وہیں ہجر کی ڈوری شاہد
اُس کے آنے کی جوامید بندھا کرتی ہے

شاہد زمان کوہاٹ

درد کا دارو

ڈاکٹر صاحب! اگر آپ کے پاس اس درد کا کوئی علاج نہیں تو آپ مجھے نشے کی یہ گولیاں کیوں دے رہے ہیں؟ پتہ نہیں آپ مجھے فریب دے رہے یا اپنے آپ کو۔۔۔۔۔
نہیں ڈاکٹر صاحب! مجھے شعور کی سطح پر اس درد کو محسوس کرنے دیجئے کیونکہ میں نے آج تک دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کی محض اداکاری ،بھونڈی حرکتیں یا صاف کہیں تو صرف کرتب دکھائے ہیں۔
آپ یہ گولیاں دے کر سمجھتے ہیں مجھے آرام ملے گا لیکن یہ آپ کی خوش فہمی ہے ایک نفسیاتی معالج کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اس کے پاس بہت ساری گھتیوں کو سلجھانے کا ہنر ہوگا لیکن آپ کی ساری باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر رہی ہیں آپ تو یہ بھی جانتے ہیں مجھ جیسے مریض بہت ساری چیزیں شعور نہیں بلکہ لا شعور کی سطح پر محسوس کرتے ہیں اور یہ تو مجھے ابھی معلوم ہوا کہ آپ میری کہانیاں اپنی زمانہ طالب علمی سے پڑھتے آئے ہیں۔
تو میں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ہوں کی وہ ساری کہانیاں ایسے ہی لمحات کی دین ہیں جب میں ماورائے شعور زندگی کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا لیکن شعور میں آتے ہی مصلحت کے ہاتھوں اپنا قلم روک لیتا تھا شعور کا یہ سپاہی میرے لڑکپن سے اپنا سونٹا لیے میرے ذہن اور میرے ادراک کے دروازے پر پہرا دیتا رہا ہے قبل اس کے کائنات کے کسی چھپے ہوئے خزانے کی کنجی میرے ہاتھ لگتی یہ سپاہی آگے بڑھ کر میری نگاہوں کو اس منظر میں بھٹکا دیتا جو صرف سامنے دکھائی دیتا ہے جو سب کو یکساں نظرآتا ہے اور جس نے گویا میری تلاش کا راستہ روکا ہوا ہے، آپ کی یہ گولیاں کھا کر میں بے مزہ تو نہیں ہوتا لیکن میں صرف اپنے بارے میں آپ کی خام خیالی یا آپ کے بارے میں آپ کی غلط فہمی دور کرانا چاہتا ہوں، آپ ہی نے تو ایک دن کہا تھا کہ درد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وقت بھی جن کا مرہم نہیں ہوسکتا پھر کیوں ہم دونوں اس درد کی دوا بننے کا انتظار کریں ، میں جانتا ہوں کہ قدرت نے انسان کو اذیت اور مشقت میں پیدا کیا ہے ممکن ہے آپ میرے خیالات کو کوئی اورمعنی دیں لیکن آپ شاید سوچ بھی نہیں سکتے کہ اپنی پیدائش کے وقت میں صرف اس لیے رویا تھا کہ مجھ سے میری ماں کی اذیت دیکھی نہ گئی ڈاکٹر صاحب! آپ بہت ضد کرتے ہیں دوائی دینے میں۔ ۔۔۔ سمجھا کریں نہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔۔۔۔ Read more »

غزل

کوئی اجنبی خلش ہے کوئی اجنبی چبھن ہے
مجھے بھی خبر نہیں ہے مجھے کون سی لگن ہے


مری عقلِ حیلہ جُو نے کئی شانے توڑ ڈالے
تری زلف میں ابھی تک وہی خم وہی شکن ہے


تری رسمِ بے رُخی کو ترا طرزِ ناز سمجھا
میرے دیدۂ عقیدت میں عجیب بانکپن ہے


کئی روپ میں نے بدلے تری دلبری کی خاطر
تری بے نیازیوں کا وہی طور وہ چلن ہے


مری وسعتِ نظر کی نہیں سرحدیں کہیں بھی
مرا ہر جگہ بسیرا میرا ہر وطن ، وطن ہے


تری دلنشیں غزل ہے کہ پیامِ زیست طاہر
یا کہیں سحر کے دامن سے گری کوئی کرن ہے 

طاہرکلاچوی

اردو کا پروفیسر

کچھ لوگ انکشافِ ذات کے لیے ماہرینِ نفسیات سے رجوع کرتے ہیں۔ بعض گوتم کی طرح جنگلوں میں نکل جاتے ہیںچند ایک طوطے سے فال نکلواتے ہیں اور کئی ایک تو قیافہ آشناؤں اور دست شناسوں کے آگے دھونی رماتے نظر آتے ہیں۔ لیکن میں نے اس گھمبیر و گنجلک مسئلے کے آسان اور سستے حل کے لیے دیوار پر لٹکتے آئینے کا رُخ کیا ۔ پھر کیا تھا، میرے ہی عکسِ ہزار جہت نے مجھے اپنے خدوخال کے نشیب و فراز کی کچھ چھپی، کچھ اَن چھپی داستانِ ہزار قسط یوں سنانی شروع کر دی:
ٍ    اونٹ کی طرح اردو کے پروفیسر کی بھی آپ کو کوئی کل سیدھی نہیں ملے گی ۔ اُس کی نشست و برخاست اُس کی گفت و شنید اور اُس کے عادات و خصائل میں ایک ایسی مضحکہ خیزندرت اور خودپسندانہ جھلک پائی جاتی ہے کہ دور سے آپ اُسے پہچان لیں گے۔
اس کے حُلیئے اور لباس میں آپ کو ایک مجنونانہ بے پروائی ملے گی اور بالوں کی صورتِ حال کو تو دیکھ کر ذوق کا یہ شعر یا د آجائے گا کہ :


خط بڑھا ، کاکل بڑھے ، قلمیں بڑھیں گیسو بڑھے
حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے


مقصد جس کا یہی ہوگا کہ ہم بھی شاعروں کی طرح تخیلی دنیا میں ہر وقت کھوئے رہتے ہیں ہیں۔ اس لیے نیم خود استغراقی اور نیم خود فراموشی کے باعث لباس اور بال بنانے کی طرح دھیان دینے کا موقع ہی نہیں ملا شیروانی جو کبھی اِ س کی پہچان ہوا کرتی تھی عرصہ ہوا اس طبقۂ خاص سے رخصت ہوچکی ہے البتہ شیروانی کی جگہ اب واسکٹ نے لے لی ہے۔ اب یہی سٹیٹس سمبل بن چکی ہے۔ Read more »

ان سے ملیے!

اگر آپ انسان ہیں تو آپ یقینا کسی گھر میں ضرور رہتے ہوں گے ۔ اپنا نہ سہی کرائے کا سہی اور جہاں آپ کا گھر ہے وہاں کسی پڑوسی کاہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اپنے لیے گھر کا ہونا۔ میرے خیال میں ابھی تک دنیا بھر میں کسی بھی جگہ کوئی ایسا قانون نافذ نہیں کہ آپ اپنی مرضی سے اپنے پڑوسی کا انتخاب کر سکیں۔ ناچار جو بھی پڑوسی آپ کی قسمت سے آپ کے حصے میں آئے اسے من و عن قبول کر لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے ۔ عموماً ہر گھر کی چاردیواریں ہوتی ہیں اور آپ کی ہر دیوار کے ساتھ کم از کم ایک پڑوسی کا ہونا لازمی ہے۔
میرے حصے میں خوش قسمتی سے یا پھر بدقسمتی سے پورے سات پڑوسی ہیں۔ اس کا مجھے ایک فائدہ ہے کہ ہفتے میں بھی سات دن ہوتے ہیں اس لیے ہر پڑوسی کے لیے ایک دن وقف کرنا میرے لیے آسان سی بات ہے۔
یہ میرے گھر کے مشرق میں عین میرے گھر کے سامنے رہتے ہیں ، ان سے اکثر صبح ہی صبح ملاقات ہو جاتی ہے ۔ میں وہمی ہر گز نہیں لیکن تجربے کی بات ہے کہ جس دن صبح ہی صبح ان حضرت کے چہرے کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے بس سمجھ لیجیے کہ وہ دن ہمارا غارت ہو گیا اگر چپلوں کی طرح چہرے کے بھی نمبر ہوتے تو ان کا چہرہ یقینا بارہ نمبر میں شمار ہوتا منہ ان کا ہمیشہ سوجھا ہوا رہتا ہے ۔معلوم نہیں شکل ہی ایسی ہے یا صبح و شام بیوی کے تھپڑ کھا کر منہ سجھا لیتا ہے ۔ پیشے کے اعتبار سے بھی ان کا شمار کسی خاص طبقے میں نہیں ہوتا۔ البتہ آپ انہیں کاروباری کہہ سکتے ہیں۔ ویسے نیک دکھائی دینے کے لیے کبھی کبھی نیک کام بھی کرتے ہیں ۔ محلے کی مسجد بن رہی تھی تو نگرانی کا ذمہ لیا ۔ جب مسجد کی دیواریں مکمل ہوئیں تو ان کے گھر کا غسل خانہ بھی تیار ہو گیا تھا۔ مسجد کے بنتے بنتے ان کے گھر کا حلیہ بھی کافی حد تک تبدیل ہو چکا تھا۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مسجد کی خدمت کے عوض اللہ نے اس کا گھر بھی بنا دیا ۔ خیر جو کچھ بھی ہو ، میں نے رات کو اینٹیں رکھنے کی آوازیں ضرور سنی ہیں۔ اب نامعلوم یہ اینٹیں رات کی تاریکی میں خود آتیں یا فرشتے اٹھا کر لاتے لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ دن کو ان کے گھر کی جانب کوئی اینٹ آتی دکھائی نہیں دی۔ Read more »

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.